Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Ye Hamileen-e-Islam

Urdu · 3 min

یہ حاملینِ اسلام، صلح حدیبیہ کا واقعہ 6 ہجری میں پیش آیا۔ اسی سال کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطرافِ عرب کے حاکموں اور بادشاہوں کو دعوتی خطوط روانہ کیے؛ انہی میں سے ایک خط وہ تھا جو دحیہ قلبی کے ذریعے شاہِ روم ہرقل، یعنی ہیرقل—ہیرکلیس—کے نام بھیجا گیا۔ یہ مسیحی تھا، اور نہایت ذہین اور حقیقت پسند آدمی تھا۔ ہرقل اس وقت فلسطین میں تھا؛ اس زمانے میں عرب کے لوگ تجارت کی غرض سے اس علاقے میں جایا کرتے تھے۔

چنانچہ ہرقل نے تحقیقِ حال کے لیے کچھ عربوں کو بلوایا، جس میں ابو سفیان ابن حرب بھی شامل تھے۔ ہرقل نے ترجمان کے ذریعے ان سے گفتگو کی۔ ایک روایت کے مطابق گفتگو کا ایک حصہ یہ تھا: قَالَ: «اَخْبِرْنِي يَا أَبَا سُفْيَانَ، فَقَالَ هُوَ سَاحِرٌ كَذَّابٌ، فَقَالَ هِرَقْلُ: إِنِّي لَا أُرِيدُ شَتْمَهُ وَلَاكِنْ كَيْفَ نَسَبُهُ فِيكُمْ. قَالَ: هُوَ وَاللَّهِ مِنْ بَيْتِ قُرَيْشٍ، قَالَ: كَيْفَ عَقْلُهُ وَرَأْيُهُ.

» (السيرة النبوية من البداية والنهاية جلد 3، صفحہ 503) یعنی ہرقل نے کہا کہ: "اے ابو سفیان! مجھے محمد کے بارے میں بتاؤ۔ " ابو سفیان نے کہا کہ وہ جادوگر اور جھوٹے ہیں، وہ پیغمبر نہیں۔ ہرقل نے کہا: "میں تم سے ان کی سب و شتم سننا نہیں چاہتا، بلکہ مجھے یہ بتاؤ کہ ان کا حسب و نسب کیا ہے، ان کی سمجھ کیسی ہے، اور ان کی رائے کیسی ہے۔

" ہرقل ایک کافر تھا، وہ کافر ہی رہا اور کافر ہی مرا، مگر اس کو اس سے دلچسپی نہیں تھی کہ کوئی شخص اس کے حریف کے بارے میں برے الفاظ بولے اور وہ اس کو سن کر خوش ہو۔ بلکہ اس کی دلچسپی اس میں تھی کہ وہ جانے کہ جو شخص اس کا حریف بن کر ابھرا ہے، وہ خاندانی شرافت اور ذہنی صلاحیت کے اعتبار سے کیسا ہے، وہ صاحبِ رائے ہے یا نہیں، وغیرہ۔ اس کے مقابلے میں موجودہ حاملینِ اسلام کو دیکھیے؛ ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے حریف کے خلاف کوئی بھی لغو بات سننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ کوئی کمینہ آدمی اگر ان کے مفروضہ حریف کے خلاف جھوٹے مضامین شائع کرے، تو اس کو روکنا تو درکنار، وہ اس کو لطف لے کر پڑھیں گے اور ان کے معتقدین اس کو ہر طرف پھیلائیں گے۔

کیسے عجیب ہیں وہ حاملینِ اسلام، جو حاملینِ کفر کے اخلاقی معیار پر بھی پورے نہ اتریں! کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 38۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.