← Amne AlamAmne Alam
کرنے کا اصل کام
Urdu · 7 min
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے موجودہ قسم کی سیاسی ہنگامہ آرائی یا تشد د نہ صرف یہ کہ غیر اسلامی ہے ، بلکہ وہ انتہائی حد تک بے فائدہ بھی ہے۔ قریبی ماضی کی تاریخ اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، بیسویں صدی کے نصف اول میں بیشتر مسلم ممالک مغربی طاقتوں کے زیر اقتدار تھے، خواہ براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر۔ اس کے بعد آزادی کی تحریکیں چلیں۔ آج یہ تمام مسلم ممالک سیاسی طور پر آزاد ہیں۔ ان ملکوں کی تعداد تقریباً 60 تک پہنچ چکی ہے۔ گنتی کے اعتبار سے اقوام متحدہ کے ممبروں میں سب سے زیادہ تعداد مسلم ملکوں کی ہے۔اس کے باوجود عالمی سیاسی نقشہ پر مسلمانوں کا کوئی وزن نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں سیاسی اقتدار ہی سب کچھ ہوا کر تا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں سیاسی اقتدار کی حیثیت ثانوی بن گئی ہے۔ اب تعلیم اور سائنس اور ٹکنالوجی اور اقتہ ادیات کی اہمیت ہے۔ صرف سیاسی طور پر آزاد ہونا آج کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
موجود مسلم ممالک چو نکہ ان غیر سیاسی شعبوں میں دوسری قوموں سے بچھڑے ہوئے ہیں اس لیے عالمی نقشہ میں ان کا کوئی مقام نہیں۔ان کے عوام بھی تک زیادہ تر غیرتعلیم یافتہ ہیں۔ سائنس اورٹکنالوجی میں وہ ا بھی تک مغربی ملکوں کے محتاج ہیں۔ جد یدمعیار کے اعتبار سے انھیں اقتصادی ترقی حاصل نہیں۔ بظاہرسیاسی اقتدار کا مالک ہونے کے باوجود وہ زندگی کے تمام جدید شعبوں میں پچھڑے ہوئے ہیں۔ وہ دوسری قوموں کے مقابلہ میں حدیث کے مطابق، صرف ید سفلی (لینے والا ہاتھ )بنے ہوئے ہیں(صحیح البخاری، حدیث نمبر 5355)۔ آزادی کے باوجودوہ عملاً محکومی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ مزید چشم کشا مثال یہ ہے کہ بہت سے مسلم ملک ہیں جہاں ان کے دعوی کے مطابق مفروضه اسلامی انقلاب آ چکا ہے ۔ مثلاً مصر، پاکستان، ایران، الجزائر ، سوڈان، افغانستان، وغیره۔ مگر اصل مسئلہ کی نسبت سے یہ نام نہاد اسلامی ممالک بھی انہیں سنگین مسائل کا شکار ہیں، جن کا شکار دوسرے مسلم ممالک ہیں، جن کو سیکولر کہا جا تا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کا سبب یہ ہے کہ علمی اور اقتصادی شعبوں میں یہ نام نہاد اسلامی ممالک بھی اتنا ہی پچھڑے ہوئے ہیں جتنا کہ دوسرے سیکولر مسلم ممالک۔ اس لیے آج کر نے کا اصل کام یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کو ان غیر سیاسی شعبوں میں آگے بڑھایا جائے۔اور بلاشبہ یہ سب غیر سیاسی کام ہیں ، ان کا سیاست اور اقتدار سے کوئی تعلق نہیں۔ مزید یہ کہ ان غیر سیاسی کاموں میں عمل کر ناخالص امن کے دائرہ میں ممکن ہے۔ ان میدانوں میں متحرک ہو نے کے لیے نہ نفرت پھیلانے کی ضرورت ہے اور نہ تشد د بھڑکانے کی۔ یہ سارے مثبت نوعیت کے کام ہیں ،ان کا منفی سر گر میوں سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلامی جہاد
جہاد زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ جس چیز کو ہم عمل یا جدو جہد (struggle) کہتے ہیں اسی کا عربی مترادف جہاد ہے۔ جہاد نہ کوئی پر اسرار چیز ہے اور نہ وہ تشدد کے ہم معنی ہے۔ وہ سادہ طور پر بھر پور کوشش کے لیے بولا جانے والا ایک لفظ ہے۔
اردو میں ہم کہتے ہیں کہ جب میں بڑا ہوا اور جدو جہدحیات کے مرحلہ میں داخل ہوا۔ اسی طرح عربی میں کہا جاتا ہے کہبَذَل جُهْدَه ، اس نے اپنی پوری کوشش صرف کی۔ اسی طرح انگریزی میں کہتے ہیں کہ
We must struggle against this prejudice
کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا ایک عام انسانی صفت ہے۔ اس کے لیے جس طرح ہر زبان میں الفاظ ہیں اسی طرح عربی زبان میں بھی الفاظ ہیں۔ جہاد کا لفظ بھی اصلاً یہی مفہوم رکھتا ہے۔ کوشش کے لیے عربی میں سعی ایک عام لفظ ہے۔ لیکن جہاد کے لفظ میں مبالغہ کا عنصر شامل ہے۔ یعنی بہت زیادہ کوشش کرنا۔
البتہ یہاں ایک فرق پایا جاتا ہے۔ جب ہم کوشش یا جدوجہد یا اسٹرگل کا لفظ بولیں تو اس میں ثواب یا عبادت کا مفہوم شامل نہیں رہتا۔ لیکن جہاد کا لفظ جب اسلامی اصطلاح بنا تو اس میں اصطلاحی طور پر یہ مفہوم بھی شامل ہو گیا۔ یعنی کوشش کے معنی اگر صرف کوشش کے ہیں تو جہاد کا مطلب ایک ایسی کوشش کرنا ہے جو عبادت ہو اور جس میں مشغول ہونے پر انسان کو ثواب حاصل ہوتا ہو جیسا کہ قرآن میں آیا ہےوَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ (22:78)۔ یعنی اللہ کی راہ میں کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it