Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Amne Alam
Amne Alam

دشمن اور جارح کا فرق

Urdu · 4 min

اللہ نے اپنی حکمتِ امتحان کے تحت دنیا میںانسان کو آزادی دی ہے۔ اس آزادی کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں قائم ہوتی ہیں (طٰہٰ ، 20:123)۔ حتی کہ لوگوں کے درمیان جنگ کی نوبت آجاتی ہے۔ مگر اسلام میںدشمنی اور جنگ دونوں میں واضح فرق کیا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اہل اسلام کو یہ حق نہیں کہ وہ جس کو اپنا دشمن سمجھیں اس کے خلاف وہ جنگ چھیڑ دیں۔ دشمن کے مقابلہ میں اہلِ اسلام کو صرف پُر امن دعوت کا کام کرنا ہے، نہ کہ ان سے جنگ چھیڑ دینا۔ اس سلسلہ میں قرآن میںواضح حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میںفرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (فصلت،41:33-34)۔ گویا اسلام میں دشمن کو پُر امن کوشش کے ذریعہ اپنا دوست بنانا ہے، نہ کہ اس کو دشمن قرار دے کر اس کے خلاف جنگ کرنا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام میں جنگ کی اجازت ہے مگر یہ اجازت صرف ان حالات میں ہے جب کہ اعراض کے باوجود فریقِ ثانی حملہ کردے اور حقیقی دفاع کی صورت پیدا ہو جائے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (22:39) یعنی ان لوگوں کو لڑنے کی اجازت دی گئی جن کے خلاف جنگ کی جاتی ہے اس سبب سے کہ ان پر ظلم ہوا۔ قرآن میں دوسری جگہ جنگ کی اجازت دیتے ہوئے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ یہ فریقِ ثانی ہے جس نے کہ پہلی بار جنگ کی ابتداء کی (التوبۃ، 9:13)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

معلوم ہوا کہ اسلامی تعلیم کے مطابق، جنگ دشمن کے خلاف نہیں بلکہ حملہ آور کے خلاف ہے۔ مسلمان اگر کسی کو اپنا دشمن سمجھیں تو ان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اس کے خلاف حملہ کر دیں۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میںاوّل و آخر جو حق دیا گیا ہے وہ پُر امن دعوت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ متشددانہ جارحیت کے خلاف دفاعی جنگ اسلام میں جائز ہے، مگر وہ بھی اس وقت جب کہ جنگ سے اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہوں۔ پیغمبر اسلام کا عملی نمونہ اس کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content