ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:من یرد اللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین، وإنما أنا قاسم واللہ یعطی (صحیح البخاری، حدیث نمبر71) یعنی اللہ جس کے لیے خیر کا ارادہ کرتا ہے، وہ اس کو دین کا فہم عطا کردیتا ہے۔ میرا کا م تقسیم کرنا ہے، اور دینے والا صرف خدا ہے۔اس حدیثِ رسول میں خیر کے عطیے کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ یہ کوئی پر اسرار بات نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ فطرت کے معلوم قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ دین کی گہری سمجھ بلاشبہ بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ نعمت صرف اس انسان کو ملتی ہے جو اس کا استحقاق پیدا کرے۔
دین میں گہری سمجھ کسی کو بلاشبہ اللہ کی توفیق سے ملتی ہے، لیکن اس توفیق کی ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اپنے آپ کو وعایہ (container) بنائے۔ وہ اپنے ذہن کی اس طرح تربیت کرے کہ وہ چیزوں کو اس کے صحیح رخ سے لے، وہ چیزوں کو غلط رخ سے لینے والا نہ بنے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم ایک نعمت ہے جو ہر لمحہ خدا کی طرف سے انسانوں کے اوپر آتی رہتی ہے، لیکن اس نعمت کو وہی انسان اخذ کرپاتا ہے، جس نے پہلے سے اپنے آپ کو اخذ کرنے والا بنایا ہو۔
یہ وہ انسان ہے جو لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ وہ لوگوں کی باتوں سے کوئی برا اثر نہ لے، وہ منفی تجربات کے باوجود اپنے مثبت مزاج کو باقی رکھے۔ اخلاقی برائیاں ہمیشہ سماجی تعلقات کے دوران پیدا ہوتی ہیں۔ سماجی تعلقات کے دوران کوئی انسان اپنے مثبت ذہن کی بنا پر گہری فہم تک پہنچ جاتا ہے، اور کوئی شخص اپنے منفی ذہن کی بناپرحقیقت کے فہم سے دور ہوجاتا ہے۔
خیرکا عطیہ ہمیشہ اللہ کی طرف سے آتا ہے، لیکن اخذ کی صلاحیت وہ چیز ہے جس کوانسان خود اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ جس انسان نے اپنے اندر اخذ کی صلاحیت پیدا کرلی، اس کو ضرور اللہ کی طرف سے خیر کی نعمت ملے گی، اور جس انسان نے اپنے اندر مطلوب صلاحیت پیدا نہیں کی ، اس کو کبھی خیر کی نعمت ملنے والی نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔