رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے موقع پر کہا تھا : انا النبی لا کذب (صحیح البخاری، حدیث نمبر2864)۔ یعنی میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ یہ محض دعوی کی زبان نہیں تھی، بلکہ وہ ایک حقیقت واقعہ کا اعلان تھا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہےجس کا ذکر قرآن (المنافقون1 :)میں موجود ہے۔ اسی طرح جبریل فرشتہ نے ظاہر ہو کر براہ راست طور پر کہا تھا:یا محمد أبشر! فإنک نبی ہذہ الأمة (سیرۃ ابن کثیر، بیروت، 1976، 1/407)۔ یعنی اے محمد ، بشارت ہو، کیوں کہ تم بلاشبہ اس امت کے نبی ہو۔
مگر کسی غیر نبی کو دین کے معاملے میں اس طرح دعوی کی زبان بولنا جائز نہیں۔ کوئی اور شخص نہیں کہہ سکتا کہ میں مہدی ہوں، میں مسیح موعود ہوں، میں مجدد ہوں، وغیرہ۔ حتی کہ کسی شخص کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ کہے کہ میری توبہ، توبہ نصوح ہے، میرا حج، حج مبرور ہے، میں ایک نجات یافتہ انسان ہوں، وغیرہ۔اس قسم کے کلام کا حق صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ کوئی شخص اس قسم کی بات کہے تو وہ بلاشبہ ایک ایسی بات ہوگی، جس کا حق اللہ نے کسی کو نہیں دیا۔
دین کے بارے میں اس طرح کا کلام صرف اللہ عالم الغیب کے لیے سزاوار ہے، اور یہ واقعہ دنیا میں بھی ہونے والا نہیں، یہ صرف آخرت میںہوگا ، جب کہ اللہ رب العالمین اپنے علم کے مطابق، ہر عورت اور مرد کے لیےیہ اعلان کرے گا کہ اس کا درجہ دین میں کیا تھا، اور آخرت میں اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانے والا ہے۔
اس طرح کے دینی معاملے میں خواب یا کشف کا بھی ہرگزکوئی اعتبار نہیں۔ اگر کوئی شخص اس قسم کاکوئی خواب دیکھے یا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے اس نوعیت کا کوئی خواب نظر آئے تو وہ بھی خواب دیکھنے والے کا ایک شخصی معاملہ ہوگا، ایسا خواب ہرگز دوسرو ں کے لیے کوئی حجت نہیں۔ دین کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے،نہ کہ کسی انسان کے قول پر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔