Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2015
Al-Risala September 2015

قدرت کا نظام

Urdu · 2 min read

قدرت کا نظام فرق (difference) کے اصول پر قائم ہے- ہر انسان ایک الگ قسم کی امتیازی صفت (distinctive quality) لے کر پیدا ہوتاہے۔ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی اس امتیازی صفت کو دریافت کرے۔ دریافت کرنے کا یہ کام انسان کو خود کرنا پڑتاہے۔ ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس معاملہ میں ذاتی دریافت (self discovery) پر کھڑا ہو۔

ذاتی دریافت کے اس عمل میں سب سے بڑا معاون عنصر (supporting element)یہ ہے کہ انسانی سماج کو مبنی بر میرٹ (merit-based society) بنایا جائے- انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اپنے ماحول میں اس کو مختلف قسم کے کام نظر آتے ہیں ۔ وہ مختلف تجربے کرتا ہے۔ اس تجربہ کے دوران اس کو اشارہ ملتا ہے کہ فلاں کام کو میں زیادہ اچھا کرسکتا ہوں۔ یہ اشارہ اس کے لئے اس بات کا ایک طاقت ور محرک (strong incentive)بن جاتاہے کہ وہ اپنی دریافت کردہ امتیازی صفت کو اپنے عمل کا نشانہ بنائے۔ اس طرح مبنی بر میرٹ سماج میں اپنے آپ ایک خاموش عمل شروع ہوجاتاہے۔ یہ آٹومیٹک چینلائزیشن (automatic channelization)کاعمل ہے۔

اگر آدمی سنجیدہ ہو، اور دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے اپنا محاسبہ (introspection) کرنا جانتا ہو تو وہ نہایت آسانی سے یہ دریافت کرلے گا کہ اس کے لیے زندگی کی جدوجہد میں سفر کرنے کی سمت کیا ہے۔ مثلا ایک آدمی نے بزنس شروع کیا اس میں اس نے دیکھا کہ وہ زیادہ کامیاب نہیں ہورہا ہے، تو اس کو یہ جاننا چاہیے کہ اس کے لیے اپنی صلاحیت کے لحاظ سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ بزنس کے بجائے سروس کے میدان میں چلاجائے۔ اگر آدمی اس طرح اپنا راستہ متعین کرے تو وہ یقینا اپنے لیے اپنے موافق زندگی کی تعمیر میں کامیاب ہوجائے گا۔آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اپنا آزادانہ جائزہ لیتا رہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو دریافت کرے گا اور اپنے آپ کو سماج کا صحت مند ممبر بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.