مصلح یا مجدد کا جب ذکر ہوتا ہے، تو اکثر لوگ اس کے ذاتی کمالات کو بیان کرنے لگتے ہیں۔ قدیم زمانے سے چوں کہ دنیا میں شخصیت پرستی (cult of individual) کا طریقہ رائج رہا ہے۔ اس لیے یہ طریقہ معیار بن گیا ہے۔ مصلح یا مجدد کا بیان لوگ اس طرح کرتے ہیں، جیسے کہ ایک فرد کے شخصی کمالات کو بیان کرنا ہی اس کا اصل طریقہ ہے۔ چناں چہ اکثر لوگ مصلح یا مجدد کا بیان اس طرح کرتےہیں، جیسے کہ وہ اس کی قصیدہ خوانی کررہے ہیں۔
مگر یہ طریقہ درست نہیں۔ مصلح یا مجدد کا کام یہ ہے کہ وہ حدیث کے الفاظ میں بصیرِ زمانہ ہو، وہ زمانے کے تقاضے کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرے۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مصلح یا مجدد اس بات کا حامل ہے یا نہیں۔ اگر وہ اس بات کا حامل نہ ہو تو مصلح یا مجدد کو یہ مشورہ دینا چاہیے کہ تم سب سے پہلے اپنے آپ کو اس کے مطابق بناؤ۔
مصلح یا مجدد کا کام مفتی کے کام سے مختلف ہے۔ مفتی کا کام یہ ہے کہ وہ مسئلہ پوچھنے والے کو مسئلہ بیان کردے۔ لیکن مصلح یا مجدد کی ذمے داری اس سے زیادہ ہے۔ مصلح یا مجدد کو سب سے پہلے اپنے کو دین کا عالم بنانا ہے۔ اس کے بعد اس کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو زمانے سے باخبر کرے تاکہ اس کی رہنمائی میں زمانے کی رعایت شامل ہو۔ جس آدمی کی رہنمائی میں زمانے کی رعایت شامل نہ ہو، وہ مصلح یا مجدد کا درجہ پانے کے قابل نہیں۔
دین ہمیشہ کے لیے ایک ہے۔ لیکن زمانی حالات بدلتے رہتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ دین کی ابدی تعلیمات کو اس طرح بیان کیا جائے کہ وہ لوگوں کو اپنے حسب حال دکھائی دے۔ اگر دین کو اس طرح بیان کیا جائے کہ وہ لوگوں کو زمانی تقاضوں کے مطابق نظر نہ آئے تو وہ لوگوں کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرے گا۔ اس کے بعد لوگوں کے اندر یہ شوق پیدا نہ ہوگا کہ وہ اس کی پیروی کریں۔ اور اپنی زندگیوںکو اس کے مطابق بنائیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.