← Al-Risala September 2014Al-Risala September 2014
خیر ِ امت یا زوال یافتہ امت
Urdu · 8 min read
حدیث میں امتِ مسلمہ کے بارے میں آیا ہے کہ: لتتبعن سنن من کان قبلکم (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2669) - اِس حدیث کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ تم پچھلی امتوںکے راستے پر چلوگے- اِس حدیث میں دراصل قانونِ زوال کو بتایا گیاہے- اِس کا مطلب یہ ہےکہ امتِ مسلمہ اپنے بعد کے زمانے میں اُسی طرح زوال کا شکار ہوگی جس طرح دوسری امتیں زوال کا شکار ہوچکی ہیں- زوال کا قانون اتنا زیادہ عام ہے کہ اس میں کسی امت کا کوئی استثنا نہیں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی معاملہ قرآن کی دو آیتوں میں اِس طرح بتایا گیاہے: اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُہُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ۙ وَلَا یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْہِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُہُمْ ۭ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یُـحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا ۭ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (57:16-17)یعنی کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے اور اُس حق کے آگے جھک جائیں جو نازل ہوچکا ہے- اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر اُن پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے- اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں- جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتاہے اس کی موت کے بعد، ہم نے تمھارے لیے نشانیاں بیان کردی ہیں، تاکہ تم سمجھو-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِن آیات میں بتایا گیا ہےکہ امتوں میں ’طولِ اَمد‘ کے بعد قساوت پیدا ہو جاتی ہے، یعنی امت کی بعد کی نسلوں میں دینی زوال آجاتا ہے- زوال کا مطلب ہے ظاہری ڈھانچے کا باقی رہنا اور داخلی اسپرٹ کا ختم ہوجانا- مذکورہ آیت میں اِسی حالتِ زوال کو فسق سے تعبیر کیا گیا ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’فسق‘ کے مادّے سے مختلف الفاظ بنے ہیں- اُن میں سے ایک فویسقة ہے جو فاسقة کی تصغیر ہے- چوہیا کو فویسقة اِس لیے کہاجاتاہے کہ وہ اپنے آپ کو بِل میں چھپائے رہتی ہے- اِس سے فاسق آدمی کا کردار معلوم ہوتاہے- فسق دراصل عملی کفر کا نام ہے- فسق اور کفر میں یہ فرق ہے کہ فسق کے کیس میں آدمی زبان سے انکار نہیں کرتا، مگر اپنے عمل سے وہ انکار کی روش پر قائم رہتا ہے- اِس کے برعکس، کفر کے کیس میں آدمی زبان سے بھی انکار کرتاہے اور عمل کے اعتبار سے بھی وہ انکار کی روش پر قائم ہوتاہے-
فسق کا لفظ درست طورپر امت کی حالتِ زوال کو بتاتا ہے- کسی امت پر جب زوال آتاہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ کھلے طورپر اپنے دین کا انکار کرنے لگے- یہود پر جب زوال آیا تو انھوں نے کبھی اِس قسم کا انکار نہیں کیا، اور نہ امتِ مسلمہ کبھی اِس طرح انکار کرے گی- عملاً جو ہوتا ہے، وہ یہ کہ امت کے لوگ خود ساختہ طورپر دین کا ایسا ماڈل بنالیتے ہیں جو اُن کی زوال یافتہ حالت پر پوری طرح منطبق ہوتا ہو، جس میں اُن کو اپنی زوال یافتہ حالت عین دینی حالت دکھائی دے-
اِس خود ساختہ ماڈل کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مبنی براسپرٹ دین کو مبنی بر فارم دین کی صورت میں ڈھال لیا جاتا ہے- قومی سرگرمیوں کو دینی اصطلاح میں بیان کیاجاتا ہے- لوگ عملاً اپنی خواہش پر چلنے لگتے ہیں، لیکن دین کے نام پر کچھ رسمی چیزوں کی دھوم مچا کر وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے دین پر عمل کررہے ہیں- ان کی زندگی پوری طرح دنیا دارانہ ہوتی ہے، لیکن دین کے نام پر کچھ ظاہری کام کرکے وہ مطمئن ہوجاتے ہیں کہ وہ اب بھی پوری طرح دین پر قائم ہیں، وغیرہ-
فسق کو ایک لفظ میں، غیر اسلامی کو اسلامی بنانا (Islamization of non-Islam) کہاجاسکتا ہے- اِس فاسقانہ روش کی آخری صورت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر سرکشی کا مزاج آجاتاہے- دین کے خود ساختہ ماڈل کو اختیار کرکے وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر سمجھ لیتے ہیں کہ ہم اصلِ دین پر قائم ہیں- یہ فرضی یقین (false conviction) اُن کو ہر برائی کے لیے سرکش بنا دیتا ہے- یہ وہ حالت ہے جو ایسے لوگوںکو آمادہ کرتی ہے کہ وہ جس کو اپنا مخالف سمجھیں، اُس کو جڑ سے اکھاڑ نے کے لیے ہر غلط کارروائی کو اپنے لیے جائز ٹھہرالیں-
اصلاح کا طریقہ
مذکورہ قرآنی آیتوں میں سے دوسری آیت یہ بتاتی ہے کہ جب امت کا یہ حال ہوجائے تو اُس وقت اس کی اصلاح کے لیے کیا کرنا چاہئے- آیت کے مطابق، اُس وقت ایک مصلح کو وہی کرنا چاہیے جو ایک کسان کسی مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اختیار کرتاہے، یعنی پہلے زمین کو تیار کرنا اور اس کے بعد اس میں فصل اگانا- اِسی طرح امت کے زوال کے بعد ایک مصلح کو یہ کرنا ہے کہ وہ امت کے اندر دوبارہ معرفتِ دین پیدا کرے، وہ امت کے افراد میں دوبارہ ذہنی بیداری لائے، امت کے افراد جو پیدائشی دین پر کھڑے ہوئے ہیں، ان کے لیے دین کو اُن کی از سرِ نو دریافت (rediscovery) بنادے، وغیرہ-
موجودہ زمانے کے مسلمان مکمل طورپر اِس زوال کی حالت پر پہنچ چکےہیں- ان کے اندر بظاہر کچھ دینی شکلیں دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان کے افراد روحِ دین سے خالی ہیں- یہی وہ مسلمان ہیں جن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اُن کی مسجدیں بھر ہوئی ہوں گی، لیکن وہ ہدایت کے اعتبار سے خالی ہوں گی(مساجدہم عامرة، وہی خراب من الہدى)جامع الأحادیث للسیوطی، 13182- ایک اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بظاہر مسلمان ایک بڑی بھیڑ کی شکل میں ہوں گے، لیکن ان کے اندر ایک بھی خاشع شخص موجود نہیں ہوگا( حتى لا ترى فیہا خاشعا)کنز العمال، 5890- اِن مسلمانوں کے درمیان اصلاحی کام کا آغاز اُن کو خیرِ امت فرض کرکے نہیں ہوسکتا- ان کے درمیان موثر اصلاحی کام صرف اس طرح ہوسکتاہے کہ پہلے ان کو زوال یافتہ امت تسلیم کیا جائے اور پھر بالکل آغاز سے ان کی اصلاح کی منصوبہ بندی کی جائے، یعنی تجویز سے پہلے تشخیص-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآنی سورتوں کی ترتیب
قرآن کی سورتوں کی موجودہ ترتیب کا نہایت گہرا تعلق امت کی اصلاح کے مسئلے سے ہے- جیساکہ معلوم ہے، قرآن کی سورتوں کی موجودہ ترتیب اُن کے نزول کی ترتیب کے مطابق نہیں ہے، بلکہ وہ اس سے مختلف ہے- عمومی طورپر یہ کہاجاسکتاہے کہ مکہ میں قرآن کی جو سورتیں نازل ہوئیں، اُن کو ترتیب میں مصحف کے آخر میں رکھ دیا گیا، اور جو سورتیں بعد کو مدینہ میں اتریں، ان کو ترتیب میں مصحف کے ابتدائی حصے میں رکھ دیاگیا- ترتیب میں یہ تبدیلی اتفاقی نہیں ہے، بلکہ اس کو بالقصد طورپر اختیار کیا گیا ہے-
اصل یہ ہے کہ مکی دور میں جب قرآن اترنا شروع ہوااُس وقت امتِ مسلمہ بحیثیت ’’امت‘‘ موجود نہ تھی- اُس وقت مکہ میں اور اطرافِ مکہ میں دعوت کا کام کیاگیا- اِس کے نتیجے میں لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے، یہاں تک کہ وہ گروہ تیار ہوا جس کو امتِ مسلمہ کہا جاتاہے- گویا کہ مکی دور میں اسلام کا سفر غیر اسلام سے اسلام کی طرف یا غیر امتِ مسلمہ سے امتِ مسلمہ کی طرف ہوا-
لیکن مدنی دور میں یہ ہوا کہ عملاً وہ گروہ وجود میں آگیا جس کو امتِ مسلمہ کہاجاتا ہے- جب امتِ مسلمہ کے نام سے ایک امت وجود میں آگئی تو اب تاریخ کے سفرکی نوعیت بد ل گئی- پہلے یہ ہوا تھا کہ تاریخ کا سفر امتِ غیر مسلمہ سے امتِ مسلمہ کی طرف ہوا تھا، لیکن امت بننے کے بعدایک نیا تاریخی عمل (process) شروع ہوگیا، اور وہ تھا— عروج سے زوال کی طرف یا تشکیلِ امت سے امت کے تنزّل(degeneration) کی طرف-
مکی د ور میں اسلام کی دعوت کا طریقِ کار یہ تھا کہ اسلام کے نہ ماننے والوں کو اسلام کی اہمیت بتا کر انھیں اسلام کی طرف راغب کیا جائے- لیکن مدنی دور کے بعد یہ ہونے والا تھا کہ صرف تین نسل (قرونِ ثلاثہ) کے بعد امت میں زوال کا دور آجائے- قانونِ فطرت کے مطابق، یہ تبدیلی لازم تھی- اِس کے لیے ضرورت تھی کہ امت کے مصلحین کو یہ بتایا جائے کہ امت کے زوال (degeneration) کے بعد امت کے احیاء ِ نو (regeneration)کا طریقِ کار کیا ہوگا-
یہی وہ حکمت ہے جس کی بنا پر قرآن کی سورتوں کی وہ ترتیب اختیار کی گئی جس کو توقیفی ترتیب کہاجاتا ہے- یہ ترتیب اتفاقی نہیں، بلکہ وہ خود فرشتۂ وحی (جبرئیل) کی ہدایت کے مطابق کی گئی- اِس حکمتِ ترتیب میں یہ ہوا کہ عمومی طورپر مدنی سورتوں کو مصحف میں پہلے رکھ دیاگیا ا ور مکی سورتوں کو مؤخر کردیا گیا-اِس ترتیب کی حکمت بالکل واضح ہے- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو وہاں صرف مشرک قبیلے آباد تھے، لیکن جب آپ نبوت کے 13 سال کے بعد ہجرت کرکے مدینہ گئے تو یہاں کی صورتِ حال مختلف تھی- مدینہ کی آبادی کا تناسب اِس طرح تھا کہ دو عرب قبیلےتھے: اوس اور خزرج، اور تین یہودی قبیلے تھے: بنو نضیر، بنو قضاعہ، بنو قینُقاع-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کےمخاطبین میں ایک نیا مخاطب گروہ (یہود) وجود میں آگیا- اب ایسا ہواکہ مسلسل طورپر یہود سے انٹرایکشن ہونے لگا- یہود کے سامنے آپ دینِ اسلام پیش کرنے لگے- یہود کے سوالات کا جواب دیا جانے لگا- یہود، جن کی حیثیت امتِ موسی کی تھی، اُن کے احوال برابر قرآن میں زیر بحث آنے لگے- اِسی کا نتیجہ ہے کہ مدنی سورتوں کا بڑا حصہ یہود ونصاری کے تذکرے پر مشتمل ہے-
یہ یہود ونصاری کون تھے- وہ دراصل دورِ قدیم کی زوال یافتہ امت تھے- یہود ونصاری کے حال میں امتِ مسلمہ کا مستقبل دکھائی دیتا تھا- اِسی لیے قرآن کی مصحفی ترتیب میں مدنی سورتوں کو پہلے کردیا گیا، کیو ں کہ انھیں زوال یافتہ حالات کی روشنی میں وہ لائحہ عمل تیار ہونا تھا جو امتِ مسلمہ کی بعد کی نسلوں کی اصلاح کے لیے درکار تھا-
اِس کا مطلب یہ تھا کہ بعد کی مسلم نسلوں کو خیر امت فرض کرکے کام کا آغاز نہیں کرنا ہے، بلکہ اِس واقعے کو تسلیم کرکے اس کے اندر اصلاح کا کام کرنا ہے کہ یہ امت زوال کے اُس مرحلے میں پہنچ چکی ہے جہاں یہود ونصاری پہنچے تھے- اِس بنا پر اُن کی اصلاح کے لیے وہی اسلوب اختیار کرنا ہے جو قرآن کی سورہ الحدید کی مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے، یعنی پہلے امت میں ذہنی بیداری لانا اور اس کے بعد اس کی عملی اصلاح کرنا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it