گوپی ناتھ منڈے انڈیا کے مشہور لیڈر تھے- انڈیا کی نئی حکومت میں مرکزی وزیر کی حیثیت سے اُن کا تقرر ہوچکا تھا- 4 جون 2014 کو وہ نئی دہلی میں اپنا عہدہ سنبھالنے والے تھے، مگر اُس سے صرف ایک دن پہلے 3 جون کو نئی دہلی میں روڈ ایکسیڈنٹ کے ایک واقعے میں ان کی وفات ہوگئی- بوقت وفات ان کی عمر 64 سال تھی-
یہ صرف ایک شخص کا معاملہ نہیں- ہر آدمی جو اِس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، خواہ وہ کتنی ہی بڑی پوزیشن حاصل کرلے، اُس کو بہر حال اِس دنیا میں جینے کا محدود وقت ملتاہے- علامتی طورپر اس کو ’’64 سال‘‘ کہہ سکتے ہیں- مگر عجیب بات ہے کہ کوئی بھی شخص شعوری طورپر اِس حقیقت کو نہیں جانتا-
گوپی ناتھ منڈے کے ساتھ جس دن مذکورہ واقعہ پیش آیا، اس وقت وہ ایک وکٹری ریلی (victory rally) میں شرکت کے لیے جارہے تھے، لیکن شرکت سے پہلے ان کی زندگی کا آخری لمحہ آگیا- یہی معاملہ اِس دنیا میں ہر شخص کا ہے- ہر آدمی بطور خود کسی ’’وکٹری ریلی‘‘ میں شرکت کے لیے سفرکررہا ہے، لیکن اپنی مطلوب منزل پر پہنچنے سے پہلے اس کا آخری وقت آجاتاہے- وہ اپنی فتح کا جشن منائے بغیر اچانک آخرت کی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے، ایسی حالت میں جب کہ اس نے آخرت کی دنیا کے لیے کوئی تیاری نہیں کی تھی-
اعدادوشمار کے مطابق، ہر دن ساری دنیا میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی مر جاتے ہیں- ہر مرنے والا اپنے پیچھے ایک خاموش پیغام چھوڑ جاتا ہے- ہر مرنے والا اپنے بعد جینے والوں کو یہ خاموش پیغام دیتا ہے— اے جینے والو، موت کی تیاری کرو- اے دنیا کی تعمیر کرنے والو، آخرت کی تعمیر کی کوشش کرو- اے بے خبری میںجینے والو، اپنے آپ کو باخبر جینے والا بناؤ- اے دنیا میں اپنی حیثیت تلاش کرنے والو، آخرت کی جنت کے لیے اپنے آپ کو مستحق بناؤ-یہی زندگی کی اصل حقیقت ہے- جو لوگ اِس سے باخبر ہوں ، وہی علم والے ہیں اور جو لوگ اس سے باخبر نہ ہوں، اُن کا علم سے کوئی تعلق نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔