Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2014
Al-Risala September 2014

وحدت، تنوع

Urdu · 2 min read

وسیع تقسیم کے اعتبار سے، علوم کی دو قسمیں ہیں — علومِ طبیعی (physical sciences) اور علوم انسانی (human sciences)- علوم طبیعی کی بنیاد تجرباتی علم (experimental knowledge) پر ہے، اِس لیے علومِ طبیعی میں قطعیت (certainty)تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے- علومِ انسانی میں تجرباتی علم جیسی بنیاد قابلِ حصول نہیں، اِسی بنا پر یہ صورتِ حال نظر آتی ہے کہ جو لوگ علومِ انسانی کے شعبے میں کام کرتے ہیں، اُن کے درمیان ہمیشہ رائے کا اختلاف پیدا ہوجاتا ہے- علومِ طبیعی کی طرح علومِ انسانی میں قطعیت تک پہنچنا ممکن نہیں ہوتا-

یہی وہ مسئلہ ہے جس کی بناپر اللہ تعالی نے وحی (revelation) کا سلسلہ قائم کیا- مبنی بر وحی علم (revealed knowledge)ہم کو وہ یقینی بنیاد عطاکرتا ہے جو انسانی موضوعات کے معاملے میں ایک مسلّمہ بنیاد (axiom) کی حیثیت رکھتی ہے- وحی کے ذریعے ہم کو ایسے قطعی مسلّمات حاصل ہوجاتے ہیں جن پر غور وفکر کرکے انسانی زندگی کا قابلِ اعتماد نقشہ بنایا جاسکے-

تاہم یہاں ایک فرق ہے- علومِ طبیعی میں ہمیشہ ایک پہلو ہوتا ہے، یعنی یہ کہ ظاہر کے اعتبار سے کسی چیز کا نقشہ (structure) کیا ہے- لیکن علومِ انسانی کا معاملہ اِس سے مختلف ہے- یہاں ہمیشہ چیزوں کے دو پہلو ہوتے ہیں —ایک، اسپرٹ اور دوسرے، فارم(form) - اِسی بنا پر وحی الہی میں چیزوں کیتقسیم دو طرح سے کردی گئی ہے — اسپرٹ اور فارم-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

وحی الہی کے مطابق، اسپرٹ میں وحدت مطلوب ہے- اِس کے برعکس، فارم کے معاملے میں تنوع (diversity) کو مطلوب کا درجہ دیا گیا ہے- اِس تقسیم کے مطابق، تقوی (divine consciousness) کو اسپرٹ کا درجہ دیاگیا ہے، اور عبادت ،اخلاق اور معاملات کے شعبوں میں اصولی طورپر تنوع کو تسلیم کیا گیا ہے-اسلام ایک مبنی بر وحی مذہب ہے- اسلام کے نقشے میں اِسی اصول کو اختیار کیاگیا ہے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content