← Al-Risala September 2014Al-Risala September 2014
اسٹریٹ دعوة یا دعوة اکسپلوزن
Urdu · 3 min read
جہاں انسان ہے وہاں دعوت ہے— اِس اصول کوالرسالہ مشن کے لوگوں نے مختلف صورتوں میں دریافت کیا ہے۔ وہ ہر ایسے موقع پر پہنچ کر وہاں بک اسٹال لگاتے ہیں جہاں انسان ہوں،اور اس کے ذریعہ وہ قرآن کا ترجمہ اور دوسری کتابیں لوگوں تک پہنچارہے ہیں- انھیں طریقوں میں سے ایک طریقہ وہ ہے جس کو اسٹریٹ دعوة کا نام دیاگیا ہے- الرسالہ مشن کے لوگ مختلف مقامات پر اسٹریٹ دعوة کا یہ طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں- وہ اُس کے ذریعہ دعوت حق کو پھیلانے کا کام کررہے ہیں- اسٹریٹ دعوة کا مطلب ہے روڈ کے کنارے بک اسٹال لگانا اور پرامن اندازمیں لوگوں تک لٹریچر کے ذریعے حق کا پیغام پہنچانا-
اسٹریٹ دعوة کا طریقہ صرف دعوت کا ایک طریقہ نہیں، وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت بھی ہے- سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریقہ تھا کہ آپ عرب کے اسواق میں جاتے اور وہاں لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے- اسواق کا لفظ سوق (بازار) کی جمع ہے- آج کل کی زبان میں اس کو قبائلی تیوہار (Tribal Festival) کہاجاسکتا ہے- اِس موقع پر قبیلہ کے لوگ جمع ہوتے، اور قبائلی رسمیں ادا کرتے- جو لوگ اسٹریٹ دعوة کا کام کررہے ہیں، ان کو، ان شاء اللہ، اِس سنتِ رسول کی پیروی کا ثواب ملے گا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ضرورت ہے کہ اسٹریٹ دعوة کے طریقہ کو ہر جگہ پھیلایا جائے-اسٹریٹ دعوة کے ذریعہ ہرجگہ کے لوگوں تک پہنچا جائے- اسٹریٹ دعوة کے مواقع ہر جگہ موجود ہیں- ہر شہر اور ہر بستی میں اِس طریقہ کو اختیار کیا جاسکتا ہے- اسٹریٹ دعوة، دعوت کی توسیع (extension) ہے- اسٹریٹ دعوة، روڈشو (road show)کا اسلامائزیشن ہے-
موجودہ زمانہ کمیونی کیشن کا زمانہ ہے- اس تقاضہ کے تحت ساری دنیا میں ہرجگہ سڑکیں بنائی گئی ہیں- ان سڑکوں پر رات دن انسانوں کاسفر جاری رہتاہے- ہر وقت لوگ سڑکوں پر متحرک رہتے ہیں- یہ ایک نیا ظاہرہ (phenomenon) ہے- اس کو ہیومنٹی آن دی موو(humanity on the move) کہا جاسکتا ہے-
الرسالہ مشن کے لوگوں نے اس عصری تقاضے کی دعوتی اہمیت کو سمجھا- وہ یہ کررہے ہیں کہ دوسرے ذرائع کے علاوہ سڑکوں کو بھی وہ دعوت کے لئے استعمال کررہے ہیں- جگہ جگہ روڈ کے کنارے وہ بک اسٹال لگاتے ہیں اور اس کے ذریعہ وہ قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر بڑے پیمانہ پر لوگوں کے درمیان پھیلا رہے ہیں- اس طریقے کے امکانات بہت زیادہ ہیں- اس کے عمومی امکانات کو دیکھتے ہوئے اِس کو دعوة اکسپلوزن کہاجاسکتا ہے-
موجودہ زمانہ میں ہر وقت انسانیت کا قافلہ سڑکوں پر رواں دواں رہتا ہے- دعوتی نقطہ نظر سے یہ سارے انسان مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں- ان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ان کو سچائی کا پیغام پہنچایا جائے- سچائی کا پیغام ایک نان پولیٹکل (non-political) اور نان کمیونل (non-communal) پیغام ہے- وہ مکمل معنوں میں ایک پرامن پیغام (peaceful message) ہے- وہ ہر ایک کی اپنی ضرورت ہے- اس مشن کی یہ نوعیت اس کو آخری حد تک بے مسئلہ مشن (no problem mission) بنا دیتی ہے- یہ مشن تمام تر ایک دینے والا مشن (giver mission) ہے، نہ کہ لینے والا مشن-
ضرورت ہے کہ اس طریقہ کو آخری حد تک عام کیا جائے- یہاں تک کہ کوئی گزرگاہ ایسی نہ بچے، جہاں گزرنے والے انسانوں کو سچائی کا پیغام پہنچانے کے لیے ایک بک اسٹال موجود نہ ہو-
دعوت الی اللہ کا کام ایک تخلیقی کام (creative work) ہے- داعی کو اتنا زیادہ با شعور ہونا چاہئے کہ وہ خود سوچے اور خود منصوبہ بنائے- انسانی حالات اتنے زیادہ مختلف ہوتے ہیں کہ اُن کی کوئی گنتی نہیں کی جاسکتی ، اِس لئے کوئی لگا بندھا نقشہ، دعوت کے لئے کافی نہیں ہوسکتا- کارگر دعوت اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے، جب کہ داعی کے اندر خود فکری (self-thinking) کی صلاحیت موجود ہو- وہ حالات کے مطابق نیا نقشۂ کار بنا سکے-