روایات میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما عرفناک حق معرفتک (روح المعانی، سورة الأنعام: 91) یعنی اے اللہ، ہم اُس طرح تیری معرفت حاصل نہ کرسکے جو کہ تیری معرفت کا حق ہے- اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ما عبد ناک حق عبادتک (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث:1730) یعنی اے اللہ، ہم تیری عبادت اُس طرح نہ کرسکے جس طرح تیری عبادت کرنے کا حق ہے-
معرفت اور عبادت کی اصل حقیقت عجز ہے- کوئی انسان جب معرفت کا اعلی ادراک کرتاہے، یا کوئی انسان جب عبادت کے آخری درجے تک پہنچتا ہے تو وہ یہ دریافت کرتا ہے کہ انسان عاجز مطلق (all-powerless)ہے اور خدا قادرِ مطلق (all-powerful) - یہی دریافت معرفت اور عبادت کا نقطۂ انتہا (culmination) ہے-
معرفت اور عبادت کا ایک پہلو وہ ہے جو انسان کی نسبت سے ہے اور دوسرا پہلو وہ ہے جو اللہ کی نسبت سےہے- انسان کی نسبت سے عارف یا عابد کا احساس ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ وہ معرفت اور عبادت کا حق ادا نہ کرسکا، اور اللہ کی نسبت سے اُس کا احساس ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ اِس سے بلند ہے کہ کوئی انسان کامل طورپر اس کی معرفت اور عبادت کا حق ادا کرسکے-
یہ احساسِ عجز ہر سچے مومن کے اندر لازمی طورپر موجود ہوتا ہے- اِس میں کسی فرد کا کوئی استثنا نہیں، حتی کہ اِس معاملے میں کسی پیغمبر کا بھی کوئی استثنا (exception) نہیں-
یہی وہ مقام ہے جو خالق کو مخلوق سے الگ کرتا ہے- اِس معاملے میں، کسی بھی قسم کی شرکت دین ِ خداوندی میں ناقابلِ قبول ہے- اسلام میں سب سے بڑی حقیقت توحید کی معرفت ہے- توحید کی اعلی معرفت اپنے آپ شرک کی نفی کردیتی ہے- توحید کی اعلی معرفت کے بغیر اعلی مومنانہ شخصیت کی تعمیر ممکن نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔