مئی 2014 میں انڈیا کا 16واں جنرل الیکشن ہوا- اس الیکشن میں مسلمانوں نے اپنی ساری طاقت لگا دی کہ بی جے پی اس الیکشن میں کامیاب نہ ہونے پائے، جس کو وہ بطور خود اپنا دشمن سمجھتے ہیں- ایک مسلم اخبار نے اس معاملے میں مسلمانوں کے موقف (stand) کو بتاتے ہوئے درست طورپر لکھا ہے کہ اس الیکشن میں تمام مسلمانوں کا واحد مقصد یہ تھا کہ وہ کسی بھی قیمت پر بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روک دیں-
In this election the prime mission of the whole (Muslim) community was to stop BJP from coming to power, at any cost.
مسلمانوں کے تمام چھوٹے اور بڑے رہنما اِس معاملے میں متفق الرائے ہوگئے تھے- لیکن الیکشن کا نتیجہ مسلمانوں کی کوششوں کے بالکل خلاف نکلا- بی جے پی ہمیشہ سے زیادہ بڑی طاقت بن کر ابھری- حتی کہ بی جے پی کا جو لیڈر تمام مسلمانوں کی نظر میں سب سے زیادہ غیر مطلوب (unwanted) تھا، وہی انڈیا کا پرائم منسٹر بن گیا-
مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے اس واقعہ پر تبصرہ کررہے ہیں- مگر سب کا تبصرہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بلا استثنا سیاسی تبصرہ ہے- لیکن اِس معاملے میں سیاسی تبصرہ صرف ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ ہے- صحیح یہ ہے کہ اس واقعہ کو خدائی زاویہ سے دیکھا جائے- اس معاملہ میں خداکے اشارہ کو پڑھا جائے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی مرضی کے عین خلاف پیش آنے والا یہ واقعہ اپنے اندر ایک عظیم خدائی وارننگ رکھتا ہے- وہ مسلمانوں سے کہہ رہا ہے کہ اے مسلمانو، سیاسی طریق کار کو چھوڑو- اور دعوتی طریق کار کو اختیار کرو- سیاسی طریق کار میں تم کو کچھ ملنے والا نہیں کیوں کہ سیاسی طریقِ کار پر کبھی خدا کی نصرت نہیں آتی- البتہ اگر تم دعوتی طریق کار اختیار کرو، تو تم کو وہ سب کچھ مل جائے گا جو تم کو اپنی ملّی زندگی کے لئے اِس دنیا میں درکار ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔