Maulana Wahiduddin Khan
81 min left
0:00

← Al-Risala September 2011
Al-Risala September 2011

Main Content

Urdu · 81 min read

قرآن میں اہلِ ایمان کی ایک بنیادی صفت اِن الفاظ میں بتائی گئی ہے والذین اٰمنوا أشدّ حبًّا للہ (2: 165) یعنی جو لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں، وہ سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھنے والے ہیں۔ قرآن کی اِس آیت میں اہلِ ایمان سے مراد اہلِ معرفت ہیں۔ جو شخص دریافت کے درجے میں خدا کو پائے، وہ ایک صاحبِ معرفت انسان بن جاتا ہے، اور جو انسان صاحب معرفت ہو، اس کے جذبات تمام تر خدا کے ساتھ وابستہ ہوجائیں گے۔ خدا اس کے قلب و دماغ کا واحد مرکز بن جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان اپنی محدودیت کی بنا پر موجودہ دنیا میں خدا کو نہیں دیکھتا، لیکن وہ خدا کی رحمتوں کا ہر آن تجربہ کرتا ہے، اور یہی تجربہ محبتِ الٰہی کا اصل سرچشمہ ہے۔ آدمی کو اِس دنیا میں جو کچھ ملا ہوا، وہ سب کا سب خدا کی رحمت ہے۔ آدمی جتنا زیادہ اِن ملی ہوئی چیزوں پر غور کرے گا، اتنا ہی زیادہ خدا کے ساتھ اس کی محبت بڑھتی چلی جائے گی۔ خدا سے محبت کا سرچشمہ انعام کی دریافت ہے، نہ کہ منعم کا مشاہدہ۔

انسان کو کس نے پیداکیا، خدا نے۔ انسان کو مختلف قسم کی اعلیٰ صلاحیتیں کس نے دیں، خدا نے۔ انسان کے لیے زمین جیسا ایک استثنائی سیارہ کس نے بنایا، خدا نے۔ انسان کے لیے یہاں لائف سپورٹ سسٹم کس نے قائم کیا، خدا نے۔ انسان کی تمام حاجتوں کی تکمیل کا انتظام کس نے کیا ، خدا نے۔ انسان کو وہ دماغ کس نے دیا جو زمین پر رہتے ہوئے ساری کائنات کا احاطہ کرسکتا ہے، خدا نے۔

اِنھیں تمام انعام کے منعم کی دریافت کا نام معرفت ہے۔ کسی انسان کو جب یہ معرفت حقیقی معنوں میں حاصل ہوجائے تو اس کے اندر خدا سے محبت کا سرچشمہ ابل پڑتا ہے۔ اس کے دل کی گہرائیاں خدا کی محبت سے روشن ہوجاتی ہیں۔ خدا کی اطاعت بلا شبہہ ایمان کا تقاضا ہے، لیکن یہ خدا سے محبت کی تصغیر ہے کہ اُس کو صرف اطاعت کے معنی میں لیا جائے۔ اطاعت، خدا سے تعلق کا صرف ایک قانونی اظہار ہے، جب کہ محبت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا پورا وجود خدا کی یاد میں ڈھل گیا، انسان اپنی پوری ہستی کے ساتھ خدا کا اعترافِ کامل کرنے والا بن گیا۔

ایمان اور عملِ صالح

آخرت کی کامیابی کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں— ایمان اور عملِ صالح۔ چناں چہ قرآن میں تقریباً 60 بار یہ الفاظ آئے ہیں الذین آمنوا وعملوا الصالحات یعنی جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیا (وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایمان باللہ کیا ہے۔ ایمان باللہ فقہی اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی اپنی زبان سے یہ کہے کہ آمنتُ باللہ (میں اللہ پر ایمان لایا)۔ لیکن یہ کہنا صرف زبان سے کچھ الفاظ بولنے کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ معرفت (realization) کے بعد اس کے شعوری اظہار کا نام ہے۔ جب آدمی اللہ کے بارے میں سوچتا ہے اور ہدایت کی دعا کرتا ہے تو اُس وقت وہ لمحہ آتا ہے جب کہ اس پر حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے اللہ کو دریافت کرلیا۔ اُس وقت جب اس کی دریافت لفظوں میں ڈھلتی ہے تو اسی کا نام ایمان باللہ ہے۔

عمل صالح کا لفظی ترجمہ نیک عمل ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے عملِ صالح یہ ہے کہ آدمی کی داخلی دریافت خارجی عمل کی صورت اختیار کرلے، یعنی ایمان کے مطابق عمل۔ جس سچائی کو اس نے ذہنی طورپر پایا ہے، وہ سچائی عملی طور (practically) پر اس کی زندگی میں شامل ہوجائے۔ ایمان اور عمل صالح ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ داخلی اعتبار سے اس کانام ایمان باللہ ہے اور خارجی اعتبار سے اس کا نام عمل صالح۔

ایمان اور عملِ صالح بظاہر دو الگ الگ الفاظ ہیں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہی واقعہ کے دو پہلو ہیں، دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں حقیقی ایمان ہوگا، وہاں عملِ صالح بھی ضرور پایا جائے گا۔ اور جہاں حقیقی عملِ صالح ہوگا، وہاں ایمان بھی ضرور موجود ہوگا۔ الفاظ کے اعتبار سے بظاہر دونوں الگ الگ ہیں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق موجود نہیں۔

محبتِ الٰہی کا سرچشمہ

قرآن کی سورہ النحل میںارشاد ہوا ہے واشکروا نعمۃ اللہ إن کنتم إیاّہ تعبدون (16: 114) یعنی تم اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو، اگر تم اللہ ہی کی عبادت کرنے والے ہو۔ اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرنا کوئی سادہ بات نہیں، اِس میں اللہ سے محبت اپنے آپ شامل ہے۔ نعمتوں کااحساس، آدمی کے اندر اس کے دینے والے کے لیے محبت پیدا کرتاہے۔ اس کے بعد آدمی کی زبان سے شکر، یعنی اعتراف (acknowledgement) کا کلمہ نکلتا ہے۔ گویا کہ انعام سے، منعم کے لیے محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور محبت، اعتراف کے کلمات میں ڈھل جاتی ہے۔ اِسی کو شکر کہاگیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِسی حقیقت کو ایک حدیث رسول میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے أحبوا اللہ لما یغذواکم بہ من نِعَمہ (المستدرک للحاکم، رقم الحدیث4716 ) یعنی تم اللہ سے محبت کرواُس کی اُن نعمتوں کی بنا پر جن نعمتوں کا رزق اللہ نے تم کو عطا فرمایاہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس روایت میں ’غذا‘ کا لفظ علامتی معنوں میں ہے۔ یہاںغذاسے مراد ہر قسم کے عطیات ہیں جو اللہ کی طرف سے انسان کو ملے ہیں۔ اِس میں مادّی عطیات (material blessings) بھی شامل ہیں، اور معنوی عطیات (spiritual blessings) بھی۔

قرآن کی مذکورہ آیت اور مذکورہ حدیث رسول پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ احساسِ محبت کا سر چشمہ احساسِ نعمت ہے۔ موجودہ دنیا میںانسان کو جو بھی چھوٹی یا بڑی چیز ملی ہے، وہ سب کی سب، اللہ کی طرف سے یک طرفہ انعام کے طورپر ملی ہے۔ انسان اپنے بارے میں اور خارجی دنیا کے بارے میں جتنا زیادہ سوچے گا، اتنا ہی زیادہ وہ اللہ کی نعمتوں کو دریافت کرے گا۔

انسان جب شعوری طورپر اِن خدائی نعمتوں کو دریافت کرتا ہے تو اُس کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر دینے والے کے لیے محبت کے گہرے جذبات پیداہوجاتے ہیں، پھر یہی محبت ذکر اور شکر اور عبادت کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔

مصلح کی ایذا رسانی

قرآن کی سورہ الاحزاب میں یہ آیت آئی ہے یا أیہا الذین آمنوا لا تکونوا کالذین آذوا موسیٰ فبرأہ اللہ مما قالوا، وکان عند اللہ وجیہاً (33: 69) یعنی اے ایمان والو، تم اُن لوگوں کے مانند نہ بنو جنھوں نے موسیٰ کو ستایا، تو اللہ نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تہمتوں سے بری کردیا اور موسی اللہ کے نزدیک بہت باوقار تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت میں دراصل یہ بتایا گیا ہے کہ کوئی امت جب اپنے دورِ زوال میں پہنچتی ہے تو اس کا کیا حال ہوتا ہے۔ زوال یافتہ نفسیات (degenerated psychology)کی بنا پر ایسے لوگ اپنے خلاف نصیحت اور تنقید کو پسند نہیں کرتے۔ چناں چہ ایسی حالت میں جو اللہ کا بندہ اُن کے درمیان کھڑا ہو کر ان کی کمزوریوں کی نشان دہی کرتا ہے، وہ اس کے دشمن بن جاتے ہیں اور جھوٹے الزام لگا کر اس کو بدنام کرتے ہیں، تاکہ یہ ظاہر ہو کہ خرابی لوگوں کے اندر نہیں ہے، بلکہ خود مصلح کے اندر ہے۔ اِسی نفسیات کے تحت، یہود نے اپنے دورِ زوال میں حضرت موسیٰ کے خلاف بہت سے قصے گھڑے تھے جو اب بھی کتابوں میں موجود ہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن کی اِس آیت کا خطاب دراصل امتِ محمدی کی طرف ہے۔ اِس آیت میں امتِ محمدی کو یہ انتباہ دیاگیا ہے کہ تم پر بھی زوال آئے گا۔ اُس وقت تم ایسا نہ کرنا کہ تم اپنے مُصلح کو قبول نہ کرو اور اپنے عدمِ قبولیت کے جواز (justification) کے لیے ایسا کرو کہ اپنے مصلح کے خلاف جھوٹے الزامات لگاکر اس کو بدنام کرو اور اس طرح یہ ظاہر کرو کہ غلطی تمھاری طرف نہیں ہے، بلکہ مصلح کی طرف ہے۔ یہ سخت گناہ کا فعل ہے۔ جو لوگ ایسا کریں، اُن کواُسی طرح پکڑا جائے گا جس طرح حضرت موسی کے معاصر یہود کو پکڑا گیا۔ قرآن کی اِس آیت میں مصلح کے لیے ایک عظیم خوش خبری ہے، وہ یہ کہ مخالفین کی طرف سے الزام تراشی کی مہم یقینی طورپر ناکام ہوگی، اور آخر کار مصلح کا برسرِ حق ہونا ایک ثابت شدہ واقعہ بن جائے گا، موجودہ دنیا میں بھی اور آخرت کی دنیا میں بھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حرصِ جنت ،خوفِ جہنم

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ سنن الترمذی کے الفاظ یہ ہیں عن أنس بن مالک قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سأل اللہ الجنّۃ ثلاث مرات، قال الجنۃ اللہم أدخلہ الجنۃ. ومن استجار من النار ثلاث مرات، قالت النار اللّٰہم أجرہ من النار (الترمذي، رقم الحدیث 2572 ؛ أخرجہ أیضاً النسائی وابن ماجہ وابن حبّان فی صحیحہ والحاکم)۔ یعنی جس نے اللہ سے جنت مانگی تین بار، جنت کہے گی کہ اے اللہ، تو اس کو جنت میں داخل کردے۔ اور جس شخص نے جہنم سے پناہ مانگی تین بار، جہنم کہے گی کہ اے اللہ، تو اس کو جہنم سے پناہ دے دے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اِس حدیثِ رسول میں تین بار سے مراد تین گنتی نہیںہے، بلکہ تین موقع (occasion) ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو شخص گنتی کے اعتبار سے، اِن الفاظ کو تین با ربول دے، وہ اِس انعام کا مستحق بن جائے گا۔ اِس سے مراد دراصل وہ انسان ہے جس نے جنت اور جہنم کو دریافت کیا، جنت اور جہنم کی سوچ جس کے تفکیری عمل (thinking process) میں شامل ہوگئی۔ جو جنت کا سب سے زیادہ حریص بن گیااور جہنم سے سب سے زیادہ ڈرنے لگا۔ بڑھے ہوئے شعور کی بنا پر جس کا یہ حال ہو گیا کہ وہ سوچنے لگاکہ اگر جنت نہ ملی تو میرا کیاحال ہوگا، اوراگر مجھ کو جہنم میں ڈال دیا گیا تو میں کیسے اس کا تحمل کروں گا۔ پھر اُس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ فرشتوں کے ریکارڈ میں کم ازکم تین بار یہ واقعہ درج ہوا کہ وہ جنت اور جہنم کی یاد میں تڑپ رہا ہے اور اپنی تنہائیوں میں خدا کو پکارتے ہوئے وہ یہ کہہ رہا ہے کہ — خدایا، تو مجھ کو اپنے اُن بندوں میں شامل فرما جن کو تو جنت کا انعام عطا فرمائے گا، خدایا، تو مجھ کو اپنے اُن بندوں میں شامل فرما جن کو تو جہنم کی آگ سے نجات دے گا۔ جس انسان کے اوپر کم از کم تین بار یہ طوفانی تجربہ گزرا، وہ مذکورہ حدیثِ رسول کا مصداق قرار پائے گا۔ اس حدیث رسول میں دراصل ایک حقیقتِ واقعہ کو بیان کیاگیا ہے، نہ کہ کسی قسم کی لفظی گنتی کو۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

جنت عطیۂ خداوندی

تمام حیوانات اپنی ضرورت کے مقام پر چل کریا رینگ کر پہنچتے ہیں۔ مگر اس میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ مچھلی کا استثناہے۔ مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، مگر مچھلی کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ رینگ کر یا چل کر پانی میں پہنچ جائے۔ وہ دریا کے کنارے تڑپتی رہے گی، لیکن خود سے وہ دریا کے اندر نہ جاسکے گی، الا یہ کہ کوئی شخص اس کو اٹھا کر پانی میں ڈال دے۔

یہ واقعہ تمثیل کی زبان میں ایک حقیقت کو بتاتا ہے، اور وہ جنت کا معاملہ ہے۔ کوئی شخص کتنا ہی زیادہ صالح اور متقی ہو، مگر اس کا ذاتی عمل اس کو جنت میں نہیں پہنچا سکتا۔ کسی شخص کا جنت میں پہنچناصرف اُسی وقت ممکن ہے جب کہ اللہ اپنی رحمت کے ذریعے اس کو جنت میں داخل کردے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث میں اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے إنّہ لا یدخل أحداً الجنۃ عملہ۔ قالوا ولا أنت یا رسول اللہ، قال ولا أنا، إلا أن یتغمّدني اللّٰہ بمغفرۃ ورحمۃ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب القصد) یعنی بے شک کسی آدمی کا عمل اُس کو جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ صحابہ نہ کہا، اے خدا کے رسول، کیا آپ بھی۔ آپ نے فرمایا ہاں، الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانک لے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انسانی عمل جنت کی قیمت نہیں۔ انسانی عمل صرف اِس لیے ہے کہ وہ اللہ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرسکے۔ اِسی لیے انسانی عمل میں سب سے بڑی چیز معرفتِ الٰہی ہے۔ معرفتِ الہی میں جو شخص پورا اترے گا، اللہ اس کی طرف متوجہ ہوگا اور اپنی عنایتِ خاص کے تحت اس کے لیے جنت میں داخلے کا فیصلہ فرمائے گا۔ جنت کسی کو اللہ کی عنایت سے ملے گی، نہ کہ اپنے عمل کی قیمت کے طورپر۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا چند سالہ عمل کبھی ابدی جنت کے برابر نہیں ہوسکتا۔ کوئی شخص جو اپنے عمل کو جنت کی قیمت سمجھے، اُس کا معاملہ آخرت میں اُس شخص جیسا ہوگا جس کے پاس صرف ایک پیسہ ہو اوروہ ہوائی جہاز خریدنے کے لیے پہنچ جائے۔

نجاتِ آخرت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحب زادی فاطمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا یا فاطمۃ، أنقذي نفسک من النّار، فإني لا أملک لکم من اللہ شیئاً (صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب في قولہ تعالیٰ وأنذر عشیرتک الأقربین) یعنی اے فاطمہ، اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ کیوںکہ میں اللہ کے مقابلے میں تمھارے لیے کچھ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اِسی طرح حضرت عائشہ کی ایک روایت کے مطابق، آپ نے فرمایا کہ کسی شخص کا کوئی عمل اُس کو جنت میں نہیں لے جائے گا، حتی کہ مجھے بھی نہیں۔ میرے لیے بھی صرف اللہ کی مغفرت اور حمت سے جنت میں پہنچنا ممکن ہوگا (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آخرت میں جنت کا ملنا کسی انسان کے لیے آخری کامیابی کا معاملہ ہوگا۔ یہ عظیم واقعہ صرف خدا کے فیصلے کے تحت انجام پائے گا۔ جنت میں داخلہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ خدا کی قدرتِ کاملہ کا اظہار ہے۔ جنت صرف معترفین کے لیے ہے، یعنی اُن لوگوں کے لیے جو کامل اعتراف کے ساتھ جنت میں داخل ہوں۔ یہ کامل اعتراف حقیقی اعتراف ہوگا، نہ کہ صرف لفظی اعتراف۔

اعترافِ کامل کا یہ احساس کسی انسان کے اندر صرف اُس وقت پیداہوگا جب کہ وہ فی الواقع یہ محسوس کرے کہ جنت مجھے صرف فضلِ خداوندی کی بنا پر مل سکتی ہے۔ جو یہ کہہ سکے کہ خدایا، میں کامل طورپر غیر مستحق تھا۔ یہ صرف تیری غیر معمولی عنایت ہے کہ تونے میرے عدم استحقاق کے باوجود محض اپنے فضل سے مجھے جنت دے دی۔

حقیقت یہ ہے کہ جنت اتنی عظیم ہے کہ کوئی بھی عمل یا تمام انسانوں کا مجموعی عمل بھی اس کی قیمت نہیں بن سکتا۔ جو آدمی جنت کو اِس طرح دریافت کرلے کہ جنت کی ابدی نعمتوں کے مقابلے میں وہ اپنے آپ کو کامل طورپر غیر مستحق سمجھنے لگے، وہی جنت میں داخل ہوگا۔ انسان کا کوئی عمل جنت میں داخلے کا ٹکٹ نہیں بن سکتا۔ جنت میں داخلے کا ٹکٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے غیر مستحق ہونے کودریافت کرلے۔

عافیت کی زندگی

عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَن فُتح لہ منکم باب ُ الدعاء، فتحت لہ أبواب الرّحمۃ۔ وما سُئل اللہ شیئاً یعني أحبَّ إلیہ من أن یسأل العافیۃ (رواہ الترمذي، بحوالہ مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث 2339 ) یعنی تم میں سے جس کے لیے دعا کا دروازہ کھولا جائے، اُس کے لیے رحمت کے تمام دروازے کھول دئے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب دعا یہ ہے کہ بندہ اُس سے عافیت مانگے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دعا دراصل اللہ کے مقابلے میں اپنے عجز کا اظہار ہے۔ عجز کا اظہار ہمیشہ اللہ کی عظمت کے کامل اعتراف سے پیدا ہوتا ہے۔ جو آدمی اللہ کی عظمت کو دریافت کرے، اُس کے نتیجے میں اس کے اندر اپنے بارے میں کامل عجز (total helplessness) کااحساس پیدا ہوتاہے۔ عجز کا احساس جب لفظوں میں ڈھل جائے تو اِسی کا نام دعاہے۔

عافیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میںآدمی کو صحت اور سکون کی زندگی حاصل ہوجائے۔ دنیا کی زندگی میں صحت اور سکون بلاشبہہ سب سے بڑی نعمت کی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی بھی کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کو اِس قسم کی عافیت حاصل ہو۔ عافیت کا حصول انسان کے اپنے بس میں نہیں۔ جس طرح زندگی اللہ کی طرف سے ملتی ہے، اِسی طرح عافیت بھی اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ عافیت کی اِسی اہمیت کا تقاضا ہے کہ آدمی ہر وقت خدا سے عافیت کی دعا کرتا رہے۔

عافیت کا تعلق دولت (wealth) یا مادی سامانِ راحت سے نہیں ہے، عافیت کا تعلق تمام تر ذہنی سکون سے ہے۔ یہ ذہنی سکون کسی انسان کو اللہ کی خصوصی توفیق سے ملتا ہے۔ کوئی انسان ذکر اوردعا اور عبادت اور معرفت کا ثبوت اُسی وقت دے سکتا ہے جب کہ اس کو عافیت کی زندگی حاصل ہوجائے۔ایسی حالت میں یہ کہنا درست ہوگا کہ — اللہ سے مانگنے کی سبب سے بڑی چیز عافیت ہے، نہ کہ دولت یا مادی سامانِ راحت۔

محبتِ الٰہی، اعترافِ الٰہی

اللہ سے محبت ایمان کا جز ہے۔ اللہ سے محبت تمام الہامی مذاہب کی تعلیمات کا حصہ رہا ہے۔ مثلاً موجودہ بائبل، عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید، دونوں میں آیا ہے کہ — خداوند اپنے خدا سے، اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

You shall love the Lord your God with all your heart, with all your soul and with all your mind. (Matthew 22: 37, Deuteronomy 6: 5)

other sourceWords of another person or source

محبت ِ الٰہی کسی پُراسرار چیز کا نام نہیں۔ محبتِ الٰہی دراصل اعترافِ الٰہی کا اعلیٰ درجہ ہے۔ ایک شخص جب اللہ کی دریافت کرتاہے، جب وہ اللہ کی نعمتوں سے شعوری طورپر واقف ہوتا ہے، جب وہ محسوس کرتاہے کہ اس کا وجود اور اس کی پوری زندگی اللہ کے انعامات (blessings)سے بھری ہوئی ہے، اُس وقت فطری طورپر اُس کے اندر اللہ کے لیے شدید محبت (strong affection) کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اِسی حبِّ شدید کا نام محبتِ الٰہی ہے۔

محبتِ الٰہی، رب السماوات والارض سے محبت کا نام ہے۔ ایسی محبت کسی آدمی کے لیے صرف جذباتی تعلق کا نام نہیں ہوتا، اِس کے ذریعے آدمی کی شخصیت میں ایک انقلاب پیداہو جاتا ہے۔ محبتِ الٰہی آدمی کے اندر تمام اعلیٰ صفات پیدا کرتی ہے۔ مثلاً مثبت سوچ (positive thinking) ، انسانوں کے لیے شفقت، توکل اوراعتماد اور حوصلہ، وغیرہ۔

محبت اللہ کی نسبت سے، معرفت کا اعلیٰ درجہ ہے۔ انسان کی نسبت سے معرفت آدمی کے اندر انسان دوست کردار (human-friendly behaviour) پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ دعوت الیٰ اللہ بھی محبت الٰہی کا ایک اظہار ہے۔ جب کسی انسان کو اللہ سے محبت کا تعلق قائم ہوتا ہے توفطری طور پر وہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچائے، یہاں تک کہ اللہ کا کوئی بندہ اپنے رب کی ابدی رحمتوں سے محروم نہ رہے۔

محبتِ الٰہی، عشقِ الٰہی

قرآن اور حدیث میں اللہ کے لیے محبت کا ذکرہے، لیکن قرآن اور حدیث میں اللہ کے لیے عشق کا ذکر نہیں۔ عشقِ الٰہی کا تصور بعد کو عباسی دور میں، صوفیا کے یہاں پیداہوا۔ یہ دراصل غلو (extremism) کاظاہرہ (phenomenon) ہے۔ صوفیا نے بربنائِ غلو یہ نظریہ قائم کیا کہ خدا کے لیے عبادت سر تاسر بے غرض ہونا چاہیے، جنت کی حرص یا جہنم کے خوف سے نہیں۔ اِسی سے صوفیانہ نظریے کی بنا پر عشق کا تصور پیدا ہوا۔ عشق دراصل محبت برائے محبت (love for the sake of love) کا نام ہے۔ عشق کے اِس تصور کا ماخذ خود صوفیا کا اپنا تصورِ عبادت تھا، نہ کہ اسلام کا تصورِ عبادت۔

اللہ سے محبت اسلام میں اعلیٰ ترین مطلوب چیز ہے۔ یہ محبت ذاتِ خداوندی سے عاشقانہ تعلق کی بنا پر نہیں ہوتی۔اسلام کا تصورِ محبت تمام تر انعاماتِ الٰہی (divine blessings) کی بنیاد پر قائم ہے۔ انسان موجودہ دنیا میں خدا کے بے شمار انعامات کا تجربہ کرتا ہے۔ یہ انعامات آدمی کے اندر منعم (giver) کے لیے گہرا قلبی تعلق پیدا کردیتے ہیں۔ اِسی گہرے قلبی تعلق کا نام محبتِ الٰہی ہے۔

عشق گویا کہ فزیکل لَو (physical love) کانام ہے، اور اِس کے مقابلے میں، محبت گویا کہ اسپریچول لو (spiritual love) کانام۔حقیقت یہ ہے کہ انسان، خدا کو اس کے انعامات کے واسطے سے دریافت کرتا ہے۔ انعام کی یہ دریافت (discovery) فطری طورپر آدمی کے اندر منعم کے لیے اعتراف (acknowledgement) کا ذہن پیدا کرتی ہے۔

عبادتِ الٰہی کی اصل یہی اعتراف (acknowledgement)ہے۔ حمد اور شکر اور ذکر جیسے الفاظ اصلاً اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اِسی اعتراف کے مختلف نام ہیں۔ اِس اعتراف میں جب والہانہ قلبی جذبات شامل ہوجائیں تو اِسی کا نام محبت ہے ۔

محبت فطری محبت کا نام ہے، اور عشق غلو آمیز محبت کا نام،اور قرآن اور حدیث کے واضح نصوص کے مطابق، غلو اسلام میں نہیں (لا غلوَّ في الإسلام)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

محبتِ الٰہی، اطاعتِ الٰہی

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ — اللہ سے محبت کا مطلب اللہ کی اطاعت ہے۔اِس کا سبب وہ یہ بتاتے ہیں کہ اللہ کی ذات ایک غیر مرئی ذات (invisible being) ہے، اور ایک غیر مرئی ذات سے محبت جیسا جذباتی تعلق (emotional attachment) پیدا نہیں ہوسکتا ، اُس کی صرف اطاعت ہی کی جاسکتی ہے۔ یہ اطاعت بواسطۂ احکام ہوگی جو ہم کو قرآن اور حدیث کے ذریعے معلوم ہوئے ہیں۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

یہ بات صحیح نہیں۔ کیوں کہ جو بات اللہ سے محبت کے بارے میں کہی جاتی ہے، وہی بات اللہ پر ایمان سے بھی تعلق رکھتی ہے۔اللہ پر ایمان اگر یؤمنون بالغیب کی صورت میں ہوسکتا ہے، تو اللہ سے محبت بھی یحبون بالغیب کی صورت میں یقینی طورپر ممکن ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ ایمان کا معاملہ ہو یا محبت کا معاملہ، دونوں اللہ کی نسبت سے مطلوب ہیں، نہ کہ کسی عام نسبت سے۔ ایمان کا مطلب عقیدہ ہے۔ عقیدہ کا لفظ ایک مرئی چیز (visible entity) کے لیے بھی بولا جاسکتا ہے۔ اُس وقت عقیدہ اپنے عام لغوی مفہوم میں ہوگا۔لیکن جب عقیدہ کا لفظ اللہ کے لیے بولا جائے تو وہ نسبت کے بدلنے کی وجہ سے مافوق عقیدہ (high belief) کے معنی میں ہوگا۔ اِسی طرح، محبت کا لفظ جب اللہ کی نسبت سے استعمال کیا جائے تو وہ مافوق محبت (high love) کے ہم معنی ہوجائے گا۔

انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی سے انسان کا جذباتی تعلق حقیقتاً دیکھ کر قائم نہیں ہوسکتا، بلکہ وہ فکر کے ذریعے تصوراتی سطح (conceptual level) پر قائم ہوتاہے۔ خواہ بظاہر وہ کوئی مرئی چیز ہو یا غیر مرئی چیز، اُس سے انسان کا تعلق ہمیشہ تصوراتی سوچ کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔

انسان کی نفسیات کے اعتبار سے، عقیدہ تصوراتی عقیدہ (conceptual belief) کا نام ہے۔ تصوراتی سطح پر ہی کسی انسان کو اللہ کی معرفت (realization of God) حاصل ہوتی ہے، تصوراتی سطح پر ہی کوئی انسان اللہ سے محبت کرنے والا بنتا ہے، نہ کہ مشاہداتی سطح پر۔

اللہ ہمارے دلوں میں

مولانا عبد الباسط عمری قطر میں رہتے ہیں۔ وہ ہمارے دعوتی مشن سے وابستہ ہیں۔ وہ سی پی ایس (نئی دہلی) میں ہونے والے ہفتے وار لیکچر کو بذریعہ انٹرنیٹ پابندی کے ساتھ سنتے ہیں۔ انھوں نے ہمارے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی کو ٹیلی فون پر اپنا ایک تاثر بتایا ۔ یہ تاثر اُنھیں کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے ’’عرب امارات کے حاکم وبانی شیخ زائد بن سلطان آلِ نہیان کا 2004 میں انتقال ہوا۔ اُس وقت عربی ریڈیو میں شیخ زائد کے اوپر ایک پروگرام آتا تھا۔ اِس پروگرام کا عنوان تھا زائد في قلوبنا (شیخ زائد ہمارے دلوں میں)۔ اِس پروگرام میں لوگ شیخ زائد کی شخصیت اور ان کے کارناموں کو بیان کرتے تھے۔بعض لوگ اپنے تاثرات بیان کرتے وقت رونے لگتے تھے۔ اِس واقعے کو لے کر اب میں سوچتا ہوں کہ اِس دنیا میں ایسا کوئی شخص نظر نہیں آتا جو یہ کہے کہ — اللہ ہمارے دلوں میں ہے۔ کوئی پروگرام ایسا دکھائی نہیں دیتا جس کا عنوان ہو اللہ في قلوبنا (اللہ ہمارے دلوں میں)۔ لوگ اِس پروگرام میں خدا کی نعمتوں کا اور اللہ کی عظمتوں کا چرچا کریں اور اللہ سے اپنی محبت کا اظہار کریں‘‘۔

مومن وہ ہے جو اللہ رب العالمین کو اُس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرے۔ جو شخص اللہ رب العالمین کو اِس طرح اس کی عظمت اور قدرت کے ساتھ دریافت کرے گا، اس کا دل اللہ کی بڑائی سے بھر جائے گا۔ وہ اللہ کی بڑائی میں جینے لگے گا۔ اللہ اس کے دل کا سب سے بڑا سرمایہ بن جائے گا۔ کائنات کی ہر چیز اُس کو اللہ کی یاد دلانے والی بن جائے گی۔ وہ سورج اور چاند میں اللہ کا جلوہ دیکھے گا۔ وہ پہاڑوں اور سمندروں میںآلاء اللہ (wonders of God) کا مشاہدہ کرے گا۔ انسان کی زندگی اور انسان کی موت بھی اس کو اللہ کی یاد دلانے والی بن جائے گی۔

جو اہلِ ایمان اِس طرح اللہ کی عظمتوں میں جینے والے بن جائیں، اُن کا حال یہ ہوگا کہ اُن کی زندگی اللہ کے رنگ میں رنگ جائے گی۔ وہ بولیں گے تو اُن کے بول اللہ کی عظمت والے بول ہوںگے۔ وہ لکھیں گے تو اُن کی تحریر اللہ کی عظمت کے تعارف کے ہم معنیٰ ہوگی۔

خدا کی عظمت

خدا کی معرفت ایمان اور اسلام کی اساس (basis) ہے۔ جتنی اعلیٰ معرفت، اتنا ہی اعلیٰ ایمان۔ اِس معرفت کی تکمیل اُس وقت ہوتی ہے، جب کہ آپ خدا کو اس کے کمالِ عظمت کے ساتھ دریافت کریں۔ ایک بندہ جب خدا کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کا وہی حال ہوتا ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے الذین إذا ذکر اللّٰہ وجلت قلوبہم (8:2) یعنی خدا کی یاد سے اُن کے دل دہل اٹھتے ہیں۔جدید فلکیاتی سائنس (modern astronomy) کا اِس معاملے میں ایک مثبت کنٹری بیوشن (contribution) یہ ہے کہ اس نے خالق کی ناقابلِ قیاس عظمت کا ادراک کرنے کے لیے ایک فریم ورک (frame work) دے دیا ہے۔ اِس فریم ورک کی مدد سے انسان خدا وند ذوالجلال کی ناقابلِ بیان عظمت کا ایک تصور اپنے ذہن میں لاسکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جدید سائنس کئی سوسال سے فلکیات کامطالعہ کررہی ہے۔ 1508 میں دور بین (telescope) کی ایجاد ہوئی، اور 1609میں پہلی بار اٹلی کے سائنس داں گلیلیو (Galileo) نے خلا کا دوربینی مشاہدہ کیا۔ یہ فلکیاتی مشاہدہ برابر بڑھتا رہا۔ پچھلے زمانے میںدور بینی رصد گاہ کسی پہاڑ پر نصب کی جاتی تھی۔ اب خلائی سائنس کا زمانہ آگیا ہے۔ اب انسان نے خلائی رصد گاہ (space observatory) بنالی ہے۔ اِس کے ذیعے کائنات کا مشاہدہ اتنی زیادہ دور تک کرنا ممکن ہوگیاہے جس کی دوری کو صرف سالِ نور (light years) کی اصطلاح میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ اِس طرح خدا کی عظمت کو تصور میں لانے کے لیے ایک نیا وسیع تر دائرہ انسان کے علم میں آگیا ہے۔

اس سلسلے میں ایک تازہ ترین فلکیات دریافت (discovery) سامنے آئی ہے۔ اِس میں بتایا گیا ہے کہ خلا میں نصب الکٹرانک دور بینوں کے ذریعے ایک بہت بڑا بلیک ہول دریافت ہوا ہے۔ یہ بلیک ہول پورے نظامِ شمسی (solar system) کو نگل سکتا ہے۔ نظام شمسی کا دائرہ کتنا زیادہ بڑا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے اِس نظام کا بعید ترین سیارہ پلوٹو (Pluto) ہے جو سورج کے گرد بیضوی دائرے میں چکر لگا رہاہے۔ یہ دائرہ ساڑھے سات بلین میل پر مشتمل ہے۔

مذکورہ بلیک ہول اب تک کے دریافت کردہ تمام بلیک ہول سے زیادہ بڑا ہے۔ اس کا حجم 6 بلین سورج سے بھی زیادہ ہے۔ اِس بلیک ہول کا نام M 87 رکھا گیاہے۔ یہ بلیک ہول ہماری کہکشاں (Milky Way) سے 50 ملین سال نور کی دوری پر واقع ہے

This black hole can eat the solar system

Astronomers have discovered what they say is the biggest ever black hole which weighs the same as 6.8 billion suns and could swallow our entire solar system. According to the scientists, the black hole, identified as M87, is as large as the orbit of Neptune and is by far the largest and most distant galaxy in the nearby universe. As a point of comparison, the black hole at the centre of the Milky Way is 1,000 times smaller than this one which has been observed some 50 million light years away. (The Times of India, New Delhi, Tuesday, January 18, 2011 Page 19)

other sourceWords of another person or source

یہ واقعہ اور اِس طرح کے دوسرے واقعات معرفتِ الٰہی کے لیے عظیم خزانے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ واقعات خدا کی قدرت کو ناقابلِ قیاس حد تک عظیم بنادیتے ہیں۔ جو آدمی اِن واقعات پر سوچے گا، اس کا دل خدا کی عظمت کے تصور سے دہل اٹھے گا، اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔ یہ واقعات ایک انسان کو اپنے بارے میں انتہائی عجز اور خدا کے بارے میں انتہائی قدرت کی یاد دلاتے ہیں۔ اِن واقعات پر غور کرنا بلاشبہہ اعلیٰ معرفت کے حصول کا کائناتی خزانہ ہے۔

معرفت یہ ہے کہ آدمی ایک طرف اپنی محدودیت (limitation) کو جانے اور دوسری طرف وہ خدا کی لامحدودیت کو دریافت کرے۔ اِس دریافت کے نتیجے میں جو کیفیت آدمی کے اندر پیداہوتی ہے، اُسی کا نام معرفت ہے۔ یہ معرفت جس کو حاصل ہو جائے، اس کے لیے گویا دنیا اور آخرت کی تمام سعادتوں کے دروازے کھل گئے۔ یہی وہ خوش قسمت انسان ہے جس کے بارے میں آخرت میں کہاجائے گا کہ — تم جنت کے دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہو، جنت میں داخل ہوجاؤ۔ آج کے بعد تمھارے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی حزن۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

شخصیت کی تعمیر

تجربہ بتاتا ہے کہ انسان بچپن میں معصوم کَلی کی مانند ہوتا ہے۔ لیکن بڑا ہونے کے بعد اس کی شخصیت میںطرح طرح کے بگاڑ آجاتے ہیں۔ مثلاً ضد اور سرکشی وغیرہ۔ شخصیت کی تعمیر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی یا تو اپنی پیدائشی فطرت کو اُسی حالت میں محفوظ رکھے، جس حالت میں وہ ماں کے پیٹ سے نکلا تھا، یا وہ مویشیوں کی طرح جُگالی کا طریقہ اختیار کرے، یعنی بعد کو اس کی شخصیت پر جو مصنوعی پردے پڑ گئے تھے، اُن کو ایک ایک کرکے ہٹانا، یہاںتک کہ اصل فطرت آمیزشوں سے پاک ہوکر سامنے آجائے۔

جدید نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کے دماغ کے تین بڑے حصے ہیں۔ یہ تینوں حصے ہر عورت اور ہر مرد کے دماغ میں پائے جاتے ہیں۔ وہ پیدائشی طورپر ہر انسانی دماغ کا حصہ ہیں۔ وہ تین حصے یہ ہیں

1 - شعوری ذہن (conscious mind)

2 - تحت شعور (sub-conscious mind)

3 - لاشعور(unconscious mind)

تجربہ و تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کوئی بھی خیال جب ایک بار دماغ میں آجائے تو وہ ہمیشہ کے لیے انسانی ذہن (human mind) کا حصہ بن جاتا ہے، اور جیسا کہ معلوم ہے، انسانی ذہن ہی دراصل انسانی شخصیت کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی خیال انسان کے دماغ میں آجائے تو وہ ہمیشہ کے لیے انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ اس کو اپنی شخصیت سے الگ کرنا چاہے تو وہ اس کو الگ کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔

جب کوئی بات انسان کے دماغ میں آتی ہے، خواہ وہ منفی ہو یا مثبت تو وہ سب سے پہلے دماغ کے شعوری حصے میں آتی ہے۔اس کو زندہ حافظہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد آدمی جب رات کو سوتا ہے تو فطری عمل کے تحت اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ وہ بات شعوری ذہن سے چل کر ذہن کے تحت شعور میں پہنچ جاتی ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس خیال کے اوپر آدمی کا شعوری کنٹرول صرف پچاس فی صد رہ جاتا ہے۔ پچاس فی صد وہ اس کے شعوری کنٹرول سے باہر ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ اگلی رات کو سوتا ہے تویہ خیال مزید سفر کرکے ذہن کے لاشعور حصے میں پہنچ جاتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس کے بعد یہ خیال آدمی کے شعوری کنٹرول سے پوری طرح باہر ہو جاتا ہے۔

یہی روز مرہ کے افکار جو انسان کے ذہن میں آتے ہیں، وہی اس کی شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔ جیسے افکار ویسی شخصیت۔ مثبت افکار سے مثبت شخصیت بنے گی۔ لیکن اگر یہ افکار منفی افکار ہوں تو انسان کی شخصیت بھی منفی بنتی چلی جائے گی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ سب سے بُری شخصیت منفی شخصیت ہے اور سب سے زیادہ اچھی شخصیت وہ ہے جو مثبت شخصیت ہو۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ مثبت شخصیت کی تعمیر کس طرح کی جائے۔

اس کا طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی منفی خیال آدمی کے ذہن میں آجائے تو وہ اس کو پہلے ہی مرحلے میں ختم کردے۔ خصوصی تدبیر کے ذریعے اُس کے منفی پہلو کو مثبت پہلو میں تبدیل کرلے۔ مثلاً وہ غصہ ہو تو فوراً معاف کردے تاکہ اس کا غصہ انتقام کی صورت اختیار نہ کرنے پائے۔ کسی کی ترقی اُس کو پسند نہ آئے تو اُسی وقت وہ اس کو نظر انداز کردے تاکہ وہ اس کی شخصیت میں حسد بن کر شامل نہ ہوسکے، وغیرہ۔ہر منفی خیال کے ساتھ فوراً ہی تصحیح (correction) کا یہ عمل کرنا چاہیے۔ اگر اس میں دیر ہوئی تو جلد ہی ایسا ہوگا کہ وہ آدمی کے تحت شعور میں چلا جائے گا اور پھر کچھ عرصے بعد وہ اس کے لاشعور میں داخل ہوجائے گا۔ اور جب ایسا ہوگا تو وہ آدمی کی شخصیت کا اس طرح لازمی حصہ بن جائے گا کہ آدمی چاہے بھی تو وہ اس کو اپنی شخصیت سے جُدا نہ کرسکے۔

لوگ عام طورپر ایسا نہیں کرتے اور اس کی یہ بھیانک قیمت ادا کر رہے ہیں کہ ہر ایک، خوبصورت کپڑوں کے پیچھے ایک منفی شخصیت کی لاش لیے ہوتا ہے۔ منفی شخصیت دراصل جہنمی شخصیت ہے۔ جو عورت یا مرد اس ہلاکت خیز انجام سے بچنا چاہتے ہوں ان کو چاہیے کہ وہ مذکورہ عملِ تصحیح کو اپنی روزانہ کی زندگی میں شامل کرلیں۔ اس کے سوا اس مسئلے کا کوئی اور حل موجود نہیں۔

بڑھاپے کی عمر

قرآن کی سورہ فاطر میںاللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا أولم نعمّرکم ما یتذکر فیہ من تذکر (34: 37) یعنی کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی کہ جو شخص یاد دہانی حاصل کرنا چاہے، وہ اس میں یاددہانی حاصل کرسکے۔ اِس مفہوم کی متعدد روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ملاحظہ ہو فتح الباري، کتاب الرقاق، باب من بلغ ستین سنۃ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حدیث میں آیا ہے کہ جس آدمی کو لمبی عمر یا بڑھاپے کی عمر ملے، اس کے پاس اللہ کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ آدمی کے اوپر پہلے بچپن کا دور آتاہے، اس کے بعد جوانی کا دور آتاہے، اس کے بعد بڑھاپے کا دور آتا ہے۔ بڑھاپے کا دور موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے آخری دور ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد جو مرحلہ آتاہے، وہ موت کا مرحلہ ہے، نہ کہ کوئی اور مرحلہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس اعتبار سے بڑھاپا گویا کہ موت کی پیشگی اطلاع (prior notice) کی حیثیت رکھتاہے۔ بڑھاپے میں جسم کے تمام اعضا (organs) کمزور ہوجاتے ہیں، حتی کہ بعض اعضا اپنا کام کرنا بند کردیتے ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ موت کا وقت قریب آگیا۔ وہ گویا کہ موت کی جبری یاددہانی (compulsory reminder) ہیں۔ بڑھاپا آدمی کو قبر کے کنارے کھڑا کردیتاہے۔

اگر آدمی کا ذہن بیدار ہو تو بڑھاپے کی عمرکو پہنچ کر وہ سوچنے لگے گاکہ اب بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ میری موت واقع ہو اور میں اللہ کے سامنے حساب کتاب کے لیے حاضر کردیا جاؤں۔ اِس طرح بڑھاپے کے تجربات آدمی کو جھنجھوڑتے ہیں، وہ اس کو آخرت کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ بڑھاپا آدمی کو بتاتا ہے کہ موجودہ دنیامیں تمھارا سفر اب ختم ہوچکا۔ اب تمھیں لازماً اگلے دورِحیات میں داخل ہونا ہے اور حشر کی خدائی عدالت کا سامنا کرنا ہے — بلا شبہہ وہ انسان سب سے زیادہ بد بخت انسان ہے جس کوبڑھاپے کا زمانہ ملا، لیکن وہ اس سے یاددہانی حاصل نہ کرسکا، وہ بدستور غفلت میں رہا، یہاں تک کہ وہ اِسی حال میں مرگیا۔

انسانی تاریخ کے چار دور

Four Phases of Human History

خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کے مطابق، انسانی تاریخ کے چار دور ہیں۔ یہ چار ادوار گویا کہ انسانی معرفت کے چار ادوار ہیں۔ یہ ایک طویل ربانی سفر ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ انسان خدا کی معرفت (realization of God) حاصل کرے، تاکہ اُس کو خدا کی ابدی جنت میں قیام کی سعادت حاصل ہوسکے۔

معرفت کیا ہے۔ معرفت خدا کی دریافت کا نام ہے جو بلاشبہہ سب سے بڑی حقیقت ہے۔ خدا سب سے زیادہ ظاہر بھی ہے، اور سب سے زیادہ مستور(the most obvious, the most unknown) بھی۔ معرفت کے حصول کے لیے انسان کو ایک پورا سمندر پار کرنا ہوتا ہے۔ جو لوگ اِس سمندر کو پار کرنے کا ثبوت دیں، وہی صاحب معرفت ہیں، اور انھیں کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ ابدی جنتوں میںداخل ہوں۔

جنت کی قیمت—معرفت

قرآن کی سورہ الذاریات میںاللہ تعالیٰ نے فرمایا وما خلقت الجنّ والإنس إلاّ لیعبدون (51: 65)یعنی میں نے جن اور انسان کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ میری عبادت کریں۔ مجاہد تابعی (وفات 722 ء) نے حضرت عبد اللہ بن عباس (وفات 687 ء) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اِس آیت میں عبادت سے مراد معرفت ہے قال مجاہد إلاّ لیعبدون، أي إلاّ لیعرفوني (القرطبی، جلد 17 ، صفحہ 55 ) یعنی اِس آیت میں خدا کی عبادت سے مراد خدا کی معرفت ہے۔ یہی قول ابن جُریج تابعی (وفات 767 ء) سے بھی منقول ہے قال ابن ُ جُریج إلاّ لیعبدون، أي إلاّ لیعرفون (تفسیر القرآن العظیم لإبن کثیر، جلد 4 ، صفحہ 338 )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس سلسلے میں ایک متعلق روایت بعض کتابوں میں آئی ہے۔ بعض محدثین نے اِس روایت پر اس کی سند کے اعتبار سے کلام کیا ہے۔ لیکن سترھویں صدی عیسوی کے مشہور فقیہ علی بن محمد نور الدین ملاّ علی قاری (وفات 1606 ء) نے کہا کہ لٰکن معناہ صحیح، مُستفاد من قولہ تعالیٰ وما خلقتُ الجن والإنس إلا لیعبدون، أي لیعرفوني (کشف الخفاء، جلد 2، صفحہ 1011 ) یعنی اس کا مفہوم صحیح ہے، اور وہ اِس آیت ِقرانی سے ماخوذ ہے وما خلقت الجن والإنس إلا لیعبدون۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس روایت کے الفاظ یہ ہیں کنتُ کنزاً مخفیا فأحببتُ أن اُعرف، فخلقتُ خلقاً فبي عرفوني (کشف الخفاء، رقم 2016 ) یعنی میں ایک مخفی خزانہ تھا، پھر میںنے چاہا کہ مجھ کو جانا جائے، پھر میںنے انسان کو پیدا کیا، پھر انھوںنے مجھے جانا۔

hadithQuotes a hadith

اِس سے اور متعدد دوسرے حوالوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے اصل مقصود یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت (realization) حاصل کرے۔ یہی معرفت تمام انسانی کمالات کا سرچشمہ ہے۔ انسان کو جب حقیقی معنوں میں خدا کی معرفت حاصل ہوجائے تو اِس سے اُس کے اندر تمام خوبیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اور یہی اس کے لیے ہر قسم کے شر سے دور رہنے کا محرک بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معرفت ہی دینِ خداوندی کی اصل روح ہے۔

خدا نے اپنے تخلیقی پلان (creation plan) کے مطابق، اِس دنیا میں معرفت کے حصول کا اعلیٰ ترین انتظام کیا ہے۔ جو شخص اِس معاملے میں سنجیدہ ہو، وہ کبھی معرفت کے حصول سے محروم نہیں رہ سکتا۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، اِس انتظام کے چار درجے ہیں۔ اِس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسانی تاریخ کے چار دور ہیں (phases) ہیں۔ ابتدائی تین دور سے گزرتے ہوئے اب انسانی تاریخ اپنے چوتھے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ اِس کے بعد کوئی پانچواں دور نہیں۔ اِس کے بعد قیامت ہے اور ہر انسان کا اپنے ابدی انجام کے دور میں پہنچ جانا۔ تاریخ کے یہ چار دور حسب ذیل ہیں

1. Realization at the level of unconsciousness

2. Realization at the level of consciousness

3. Realization through partial uncovering of the truth

4. Realization through total uncovering of the truth.

لاشعور کی سطح پر معرفت

قرآن میںابتدائی انسان کے بارے میں جو باتیں بتائی گئیں ہیں، اُن میں سے ایک وہ ہے جس کو ’عہدِ الست‘ کہا جاتاہے، یعنی پہلا خدائی عہد (first divine covenant) ۔ اِس واقعہ کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر سات میں آیا ہے۔ قرآن کی اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے ’’اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھیرایا خوداُن کے اوپر— کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں۔ انھوںنے کہا ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں۔ یہ اِس لیے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اِس کی خبر نہ تھی‘‘ (7:172)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس آیت کے تحت، عبد اللہ بن عباس کی ایک روایت نقل ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں ردّہم في أصلاب أبائہم حتّی أخرجہم قرناً بعد قرن (الرد علی الجہمیۃ لابن مندہ، رقم الحدیث 38)۔ یعنی خدا نے ذریت بنی آدم کو دوبارہ اُن کے آباء کے صُلب میں لوٹا دیااور پھر مختلف ادوار میںوہ ان کو پیدا کرتا رہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا نے آغازِ حیات میں تمام انسانوں کو بیک وقت پیدا کیا، پھر اُن سے مذکورہ عہد لیا۔ یہ عہدکیا تھا۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے، یہ عہد معرفت کا عہد تھا۔ ابن جریر طَبری نے اِس سلسلے میں اپنی تفسیر میں یہ روایت نقل کی ہے قال ابن عباس… ثمّ أخذ عہودہم علی الإیمان والمعرفۃ لہ (جامع البیان عن تأویل آي الفرقان، جلد 9 ، صفحہ 114) یعنی ذریتِ آدم کو پیدا کرنے کے بعد خدا نے اُن سے ایمان اور معرفت کا عہد لیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اپنی معرفت کو ہر انسان کے لاشعور میں داخل کردیا۔ اب ہر انسان جو پیدا ہوتا ہے، وہ لاشعور کی سطح پر معرفتِ خداوندی کو لے کر پیدا ہوا ہے۔ اِس معاملے میں کسی عورت، یا کسی مرد کا کوئی استثنا(exception) نہیں۔

مگر تاریخ بتاتی ہے کہ آغاز ِ حیات سے اب تک بہت کم لوگ ایسے نکلے جو اپنے اِس لاشعور کو پڑھیں، جو اپنی فطرت کی اِس داخلی آواز کو سن سکیں۔ اِس فطری معاملے کی بنا پر ایسا تو ہوا کہ ہر شخص کسی نہ کسی درجے میں حق کا متلاشی (seeker) بنا، لیکن بہت تھوڑے افراد کو چھوڑکر، کوئی بھی اپنی تلاش کو اس کی آخری منزل تک نہ پہنچا سکا۔

اِس عمومی ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اِس کا جواب قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ القیامہ میں ارشاد ہوا ہے بل الإنسان علی نفسہ بصیرۃ، ولو القیٰ معاذیرہ (75: 14-15) یعنی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر آپ گواہ ہے، خواہ وہ کتنے عُذرات پیش کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس قرآنی بیان سے معلوم ہوا کہ انسان کی اِس ناکامی کااصل سبب عُذرات (excuses) ہیں۔ انسان کی داخلی فطرت ہر موقع پر اس کی خاموش رہنمائی کرتی ہے۔ اِسی فطرت کو قرآن میں داخلی برہان (12: 24)کہا گیا ہے۔ لیکن انسان یہ کرتا ہے کہ وہ ایک عُذر (excuse) لے کر، فطرت کی اِس آواز کو نظر انداز کردیتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مثال کے طور پر ایک شخص کسی زندہ یا مردہ ہستی کو بڑا مان کر اُس کی پرستش شروع کردے گا۔ پھر اُس کا ربانی لاشعور اندر سے اس کو آواز دے گا کہ پرستش تو صرف خالق کا حق ہے، تم مخلوق کی پرستش کیوں کررہے ہو۔ مگر یہاں اس کا ذہن ایک خود ساختہ عذر تلاش کر لے گا۔ وہ کہے گا کہ میںاس زندہ یا مردہ ہستی کو خدا نہیں ماننا، بلکہ ان کو خدا کا مقرب مانتا ہوں۔یہ لوگ خدا کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ میرے لیے خدا کے یہاں وسیلہ بن سکتے ہیں۔ اس لئے میں ان کے آگے جھک کر ان کو راضی کررہا ہوں، تاکہ وہ خدا کے یہاں میرے سفارشی بن سکیں۔

اِس قسم کا عذر بلا شبہہ ایک بے بنیاد عذر ہے۔ وہ ہرگز خدا کے یہاں قبول کیا جانے والا نہیں۔ لیکن بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اِس قسم کے خود ساختہ خیال میں جیتے رہے اور اسی میں مر گئے۔

اسی طرح ایک شخص کسی معاملے میں ایک آدمی کے اوپر غصہ ہوجائے گا۔ وہ اس سے انتقام لینا چاہے گا۔ اب اس کے اندر کی خدائی آواز اس کو پکارے گی اور کہے گی کہ انتقام لیناایک گناہ کا کام ہے۔ تم اُس شخص سے درگزر کا معاملہ کرو اور اس کو معاف کردو۔ مگر اس کا ذہن فوراً ایک عذر تلاش کرلے گا۔ وہ کہے گا کہ ایسے آدمی کو سبق سکھانا ضروری ہے۔ اگر تم اِس وقت خاموش ہوگئے تو وہ اور دلیر ہو جائے گا اور تمھارے خلاف مزید کارروائی کرے گا۔

یہ عذر بھی ایک بے بنیاد عذر ہے۔ ایسا عذر کبھی خدا کے یہاں قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ لیکن بے شمار لوگ اِس خودساختہ عذر میں جیتے ہیں اور اِسی میں مرجاتے ہیں۔

شعور کی سطح پر معرفت

لاشعور کی سطح پر معرفت کا انتظام کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے شعور کی سطح پر انسان کی ہدایت کے لیے دوسرا انتظام فرمایا۔ اب خدا نے معرفت کو منطوق آواز (spoken language) کی صورت میں ظاہر کیا۔ یہ کام خدا کے پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا۔ اِس مقصد کے لیے خدا نے مسلسل طورپر پیغمبر بھیجے۔ اِن پیغمبروں کو خدا نے بذریعہ وحی، معرفت کا علم دیا۔ پھر انھوں نے لوگوں کی قابلِ فہم زبان میں اُن کو زندگی کی اِس حقیقت سے باخبر کیا، تاکہ لوگ شعور کے درجے میں اُس معرفت کو حاصل کرسکیں، جو لاشعور کے درجے میں ان کی فطرت میں پیوست کردی گئی تھی۔

مگر عجیب بات ہے کہ حصولِ معرفت کا یہ دوسرا انتظام بھی انسان کے لیے کافی ثابت نہیں ہوا۔ دوبارہ یہی ہوا کہ انسان، پیغمبروں اور داعیوں کی ساری کوشش کے باوجود وہ ان کو نظر انداز کرتا رہا۔ وہ پیغمبروں کی تمام تر دعوتی جدوجہد کے باوجود شعور کی سطح پر حقیقت کو دریافت نہ کرسکا۔

ایسا کیوں ہوا۔ اِس کا جواب قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ یٰس ٓ میں ارشاد ہوا ہے یحسرۃ علی العباد، ما یأتیہم من رسول إلاّ کانوا بہ یستہزء ون (36: 30) یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو پیغمبر بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا استہزا کرتے رہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Alas for human beings! They ridicule every prophet that comes to them.

کوئی آدمی جب کسی کا استہزا کرتا ہے، یا اس کا مذاق اڑاتا ہے تو اس کا سبب صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے اس کو حقیر سمجھنا۔ چناں چہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم، قدیم عرب میں پیغمبر کی حیثیت سے آئے، تو وہاں کے سرداروں نے کہا لولا نُزّل ہٰذا القرآن علیٰ رجل من القریتین عظیم (43: 31)یعنی یہ قرآن دونوں بستیوں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کے ایک اور بیان سے ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی سورہ الانعام کی چند آیتوں کا ترجمہ یہ ہے ’’اوروہ کہتے ہیں کہ پیغمبر پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو معاملے کا فیصلہ ہوجاتا، پھر انھیں کوئی مہلت نہ ملتی۔ اور اگر ہم کسی فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے، تو اُس کو بھی ہم آدمی بناتے اور اُن کواُسی شبہہ میںڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں۔ اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا، تو اُن میں سے جن لوگوں نے مذاق اُڑایا، اُن کو اُس چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے‘‘ (6: 8-10) ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قر آن کایہ بیان پیغمبروں کی تاریخ پر ایک تبصرہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر پیغمبر بظاہر عام انسانوں کی طرح انسان ہوتا تھا۔ اِس لیے جب خدا اُس پر وحی بھیجتا اور وہ لوگوں سے کہتا کہ مجھے خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے تمھارے پاس بھیجا ہے، تو وہ یہ دیکھ کر اس کو نظر انداز کردیتے کہ تم تو ہم کو ایک معمولی انسان دکھائی دیتے ہو، پھر کیوں ہم تم کو خدا کا پیغمبر مانیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اِس کا جواب مذکورہ آیت میں یہ دیا گیا کہ خدا کے قانون کے مطابق، یہ التباس کا ایک معاملہ ہے۔ امتحان کی مصلحت کی بنا پر اِس دنیا میں ہمیشہ سچائی کے ساتھ ایک شبہہ کا عنصر (element of doubt) موجود رہتا ہے۔ اِس مصلحت کی بنا پر یہی ہوگا کہ خدا کا پیغام کسی غیرمعمولی فرشتے کے ذریعے نہیںدیا جائے گا، بلکہ ایک انسان کے ذریعے دیاجائے گا۔ تم سچائی کو صرف اُسی وقت پاسکتے ہو جب کہ تم شبہہ کے پردے کو پھاڑو اور خالص جوہرِ ذاتی (merit) کی بنیاد پر حق کے داعی کو پہچانو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

معرفت بذریعہ آیاتِ کائنات

اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے معرفتِ حق کے لیے ایک اور انتظام کیا۔ یہ انتظام تھا— خدا کی تخلیق میں چھپی ہوئی نشانیوں کو ظاہر کرنا۔ اِس خدائی منصوبہ کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 41 میں پیشگی طورپر کیاگیا تھا۔ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے ’’مستقبل میں ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میںبھی۔ یہاںتک کہ اُن پر پوری طرح یہ کھل جائے کہ یہ قرآن حق ہے‘‘ (41: 53) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خدا نے اپنے اِس خصوصی منصوبہ کو موجودہ زمانے میں سائنس دانوں کے ذریعے پورا کیا۔ موجودہ زمانے میں سائنس دانوں نے عالمِ طبیعیات (physical world) میں جو دریافتیں کی ہیں، وہ دریافتیں گویا کہ آلاء اللہ کا مشاہداتی اظہار ہیں۔ خدا نے اپنے پیغمبر ابراہیم کو ملکوت السماوات والارض (6:76) کا خصوصی مشاہدہ کرایا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی اِن نشانیوں (sign) کوخود علمِ انسانی کے ذریعے عمومی سطح پر لوگوں کے لیے قابلِ مشاہدہ بنا دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے میں اِس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ راقم الحروف نے بھی اِس موضوع پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ امریکا کے ایک سائنس داں ڈاکٹر کریسی ماریسن (وفات1951 ) نے اِس موضوع پر ایک کتاب شائع کی ہے۔ اِس کتاب کا انگریزی ٹائٹل (Man Doesn’t Stand Alone) ہے۔ اِس کتاب کا عربی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ اِس عربی ایڈیشن کا نام با معنیٰ طورپر یہ ہے اللہ یتجلّٰی فی عصر العلم۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر دوبارہ ایسا ہوا کہ بہت کم ایسے انسان نکلے جو اِس سائنسی انقلاب سے معرفت کی غذا لے سکیں۔ انسانوں کی بہت بڑی اکثریت نے دوبارہ یہ غلطی کی کہ اُس نے انحراف کا ایک طریقہ اختیار کیا اور انسان دوبارہ معرفت کے حصول سے محروم رہا۔

اصل یہ ہے کہ جدید سائنس کے دو شعبے ہیں۔ ایک ہے، نظریاتی سائنس (theoretical science)، اس کا دوسرا شعبہ وہ ہے جس کو انطباقی سائنس (applied science) کہاجاتا ہے۔ نظریاتی سائنس کامل طورپر معرفت کی سائنس تھی۔ اُس کے مطالعے سے انسان، خدا کو اور خدائی حقیقتوں کا علم حاصل کرسکتا تھا۔ لیکن انسان نے نظریاتی سائنس سے یہ خدائی رزق نہیں لیا، وہ بدستور معرفت سے محروم بنا رہا۔

انطباقی سائنس وہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں ٹکنکل سائنس (technical science) کہاجاتا ہے۔ سائنس کی دریافتوں نے ایک نئی ٹکنالوجی دی۔ اِس جدید ٹکنالوجی کے ذریعے نئی مشینیں بنیں، نئی قسم کی بلڈنگیںتیار کی گئیں، نئی قسم کی سواریاں بنیں، نئی قسم کی اشیائِ صرف (consumer goods) وجود میں آئیں۔ سماجی ترقی کا وہ اعلیٰ نظام قائم ہوا جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہاجاتا ہے، وغیرہ۔

مذکورہ قسم کی صنعتی ترقیوں سے جدید انداز کے پُرکشش شہر وجود میںآئے۔ اِن ترقیوں کے نتیجے میں انسان کو عیش اور راحت کا جو سامان ملا، وہ مادی اعتبار سے اتنا پرکشش تھا کہ انسان اس میں کھوگیا۔ انسان نے شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ سمجھا کہ جدید ترقیوں کے بعد اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ وہ اِسی دنیا میں اپنی جنت بنا سکے۔ وہ بعد از موت دورِ حیات (post death period) میں ملنے والی جنت کا انتظار نہ کرے، بلکہ قبل از موت دورِ حیات(pre-death period) میںاپنی جنت بنا کر اُس میں عیش کی زندگی گزارے۔

جدید سائنس، انسان کے لیے معرفت کی روشنی تھی، لیکن انسان اُس سے معرفت کی روشنی حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اِس طرح یہ ہوا کہ خدا نے معرفت کا جو تیسرا دروازہ کھولا تھا، وہ بھی انسان کی نادانی سے اس کے اوپر بند پڑا رہا۔

معرفت بذریعہ فائنل اظہار

خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کے مطابق، انسان سے جو معرفت مطلوب ہے، وہ براہِ راست مشاہدہ کے بغیر مطلوب ہے۔ اِسی بلامشاہدہ معرفت کو قرآن میں ایمان بالغیب (2: 3) کہاگیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اوپر معرفت کے جن تین درجوں کا ذکر کیاگیا، اُن کا تعلق اِسی قسم کی بلا مشاہدہ معرفت سے ہے۔ انسان کی پچھلی تاریخ، معرفت کے اِنھیں تینوں درجات کی تاریخ کا دوسرا نام ہے۔ مگر جب انسان اِس نوعیت کی معرفت کے حصول میںناکام رہے، تو وہ وقت آجاتا ہے جب کہ حقیقت سے پردہ اٹھا دیا جائے، تاکہ انسان اُن حقیقتوں کو براہِ راست طورپر دیکھ لے جن کو وہ بالواسطہ طورپر دیکھنے میں ناکام ہوگیا تھا۔ یہ بات قرآن میں بار بار مختلف انداز سے بتائی گئی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس نوعیت کی چند قرآنی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے

’’اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آپہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔ اور صور پھونکا جائے گا، یہ ڈرانے کا دن ہوگا۔ ہر شخص اِس طرح آگیا کہ اُس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔ تم اِس دن سے غفلت میں رہے، پس ہم نے تمھارے اوپر سے پردہ ہٹا دیا، تو آج تمھاری نگاہ تیز ہے‘‘ (50: 19-22)

Qur'anQuotes the Qur'an

مذکورہ قرآنی آیت میں انسانی تاریخ کے آخری دور (final phase of human history) کا ذکر ہے۔ انسانی تاریخ کے اِسی آخری دور کا دوسرا نام قیامت (Doomsday) ہے۔ حالات بتاتے ہیں کہ اب اِس آخری دورکے ظاہر ہونے کا وقت بالکل قریب آپہنچا ہے۔تمام دنیا کے سائنس داں متفقہ طورپر جس گلوبل وارمنگ (global warming) کی خبر دے رہے ہیں، وہ دراصل گلوبل وارننگ (global warning) ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سائنس دانوں کے مشاہدے کے مطابق، انسانی تاریخ کے خاتمہ کا عمل تیزی سے شروع ہوچکا ہے۔ بہت جلد ایسا ہوگا کہ زمین کے اوپر قائم کردہ لائف سپورٹ سسٹم بالکل تباہ ہوجائے گا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بہت جلد دنیا انسان کے لیے ناقابلِ رہائش (inhabitable) بن جائے گی۔ جدید سائنسی مشاہدہ یہ بھی بتاتا ہے کہ تباہی کا یہ عمل اتنا زیادہ مہلک ہے کہ وہ اب ناقابلِ اعادہ (irreversible) بن چکا ہے۔اب اس کو دوبارہ پیچھے کی طرف لوٹایا نہیں جاسکتا۔

other sourceWords of another person or source

قرآن کے مطابق، دنیا کا آخری خاتمہ اُس وقت ہوگا جب کہ فرشتہ اسرافیل اپنا صور پھونک دے۔ تاہم اِس آخری انجام سے پہلے خدا کچھ نشانیاں ظہور میں لا رہا ہے۔ یہ انسان کے لیے گویا آخری موقع ہے، تاکہ اب سے وہ ہوش میں آئے اور اپنی اصلاح کرکے اپنے آپ کو ابدی جنت کا مستحق بنالے — موجودہ گلوبل وارمنگ اور اُس سے پیدا ہونے والے حالات اِسی قسم کی ایک پری فائنل وارننگ (pre-final warning) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گلوبل وارمنگ دراصل قربِ قیامت کی علامت (sign)ہے۔ قرآن اور حدیث میں اِس علامت کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، سمندر کرۂ ارض کے تین چوتھائی حصے پر محیط ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آئے گا، جب کہ سخت گرمی کے نتیجے میں سمندروں کا پانی کھولنے لگے گا۔ چناں چہ فرمایا وإذا البحار سُجّرت (81: 6) یعنی جب سمندروں کو (آگ سے) بھڑکا دیا جائے گا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

And when the seas are set on fire (81: 6)

قیامت سے پہلے پیش آنے والی اِس حقیقت کو حدیث میں مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إذا کان یوم القیامۃ أدنیت الشمس من العباد (الترمذي، رقم الحدیث 2421) یعنی جب قیامت کا دن قریب آجائے گا تو سورج انسان کے قریب ہوجائے گا۔ سورج کے قریب آنے کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی گرمی قریب آجائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے میں جس سائنسی انقلاب کا ظہور ہوا، وہ خدا کے منصوبے کے عین مطابق تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے نیچر (Nature) میں چھپی ہوئی خدا کی نشانیاں ظاہر ہوں تاکہ انسان اُن سے سبق لے اور خالق کی معرفت حاصل کرکے خالق کی ابدی رحمتوں کا مستحق بنے۔ مگر انسان نے ان چیزوں کو صرف اپنے مادی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اور بظاہر شان دار صنعتی تمدن کی ایک دنیا بنا کر اس میں رہنے لگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صنعتی دریافتوں کا مقصد خالق کی معرفت کا حصول تھا، نہ کہ خود اپنے لیے مادی عیش کی ایک دنیا بنانا۔ یہ سائنسی دریافتوں کا ایک غلط استعمال (misuse) تھا۔ خدا نے اس کو پسند نہیں کیا۔ اِس بنا پر مختلف قسم کی صنعتی خرابیاں (industrial evils) پیدا ہوگئیں۔ مثلاً وہ خرابی جس کو گرین ہاؤس گیس، یا کاربن ایمشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔

کاربن ایمیشن کوئی نیا مسئلہ نہیں، وہ ہمیشہ سے موجود تھا۔ مگر اس سے پہلے یہ تھا کہ خدا کا بنایا ہوا فطری نظام اس کاربن کو اپنے اندر جذب (absorb) کرلیتا تھا۔ اب یہ ہوا کہ خدا کے فطری نظام نے صنعتی کاربن کو جذب کرناچھوڑ دیا۔ انسان کے پاس اِس نظام کا کوئی بدل موجود نہ تھا، اِس لیے انسانی سرگرمیاں دھیرے دھیرے صنعتی کثافت (industrial pollution) کی صورت اختیار کرگئیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا ایک قسم کا گیس چیمبر (gas chamber) بن گئی۔ یہ گویا اِس بات کا اعلان تھا کہ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ دنیا میں بطور خود اپنی ایک جنت بناسکے۔ جس طرح موجودہ عارضی دنیا کی تخلیق خدانے کی ہے، اُسی طرح ابدی جنت کی تخلیق خدا ہی کرسکتا ہے۔ کسی اور کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔

اِس معاملے کا ایک علامتی واقعہ وہ ہے جو حال میں پیش آیا۔ امریکا کی ریاست کیلی فورنیا کے بڑے رقبے میں ہرے بھرے جنگل ہیں۔ اِس جنگل کے کنارے ایک دریا بہتا ہے۔ یہ علاقہ نہایت خوب صورت علاقہ ہے۔ جنگل کے دوسری طرف جدید طرز کا ایک ٹاؤن بنایا گیا۔ اس کی خوب صورتی کی بناپر اس کا نام پیراڈائز (Paradise) رکھ دیاگیا، یعنی جنت۔ یہاں کے لوگ خوشی اور راحتوں کی زندگی گزار رہے تھے۔

اِس کے بعد یہ ہوا کہ جون 2008 میں سخت گرمی کی وجہ سے کیلی فورنیا کے اِن وسیع جنگلوں میں آگ لگ گئی۔ حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود آگ پھیلتی گئی، یہاں تک کہ یہ آگ دریا کوپار (jump) کرکے پیراڈائز ٹاؤن میں داخل ہوگئی۔ 10 جولائی 2008 تک اِس ٹاؤن کے 75 مکانات جل کر تباہ ہوچکے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھبراہٹ میں ٹاؤن کو چھوڑ کر بھاگنے لگے۔

اِس واقعے کی خبر میڈیا میں آچکی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (11جولائی 2008 ) میں اِس واقعے کی رپورٹ حسب ذیل عنوان کے تحت شائع ہوئی ہے

California fires spark evacuation (p. 23).

آگ لگنے کی یہ خبر اِسی پیراڈائز نامی ٹاؤن کے بارے میںہے۔ اِس خبر کا عنوان زیادہ درست طورپر یہ ہونا چاہیے— انسانی ساخت کی مادّی جنت میں آگ

Fire in man-made paradise

امریکا کے پیراڈائز نامی ٹاؤن میں جو آگ لگی ہے، وہی آگ اِس وقت ساری دنیا میں لگی ہوئی ہے اور وہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اِس عالمی آگ کا نام گلوبل وارمنگ (global warming) ہے۔ یہ صورتِ حال، دنیا کی آخری تباہی سے پہلے پیش آنے والی ابتدائی تباہی ہے۔ یہ دنیا کے خاتمہ سے پہلے اُس کے خاتمہ کا آتشیں اعلان ہے۔ یہ جہنم سے پہلے جہنم کا پیشگی رمائنڈر ہے۔ یہ صورتِ حال بتا رہی ہے کہ کاؤنٹ ڈاؤن (count down) آخرسے پہلے کی گنتی (last but one) تک پہنچ چکا ہے۔

خدا نے دنیا کو دو دوروں میں تقسیم کیا تھا — قیامت سے پہلے کا دور، اور قیامت کے بعد کا دور۔ انسانیت کا قافلہ لمبے سفر کے بعد قیامت سے پہلے کے دور کی آخری شام تک پہنچ چکا۔ اِس کے بعد جو چیز پیش آنے والی ہے، وہ قیامت کے بعد کی صبح ہے۔ آنے والے اِس اگلے دن میں لوگ اپنے عمل کا انجام پائیں گے۔ اِس کے بعد کچھ لوگوں کے لیے ابدی جنت ہوگی اور کچھ لوگوں کے لیے ابدی جہنم۔ کامیاب وہ ہے جو ابدی جنت (eternal paradise) میں جگہ پائے، اور ناکام وہ ہے جو جہنم کے ابدی گڑھے (eternal hell) میں ڈال دیا جائے۔

کیا قیامت قریب ہے

دسمبر 2009 میں ڈنمارک کی راجدھانی کوپن ہیگن (Copenhagen) میں ایک انٹرنیشنل کانفرنسہوئی۔یہ کانفرنس صنعتی سرگرمیوں کے ذریعے بڑھتے ہوئے کاربن ایمیشن (carbon emission) کے موضوع پر تھی۔ اِس میں دنیا بھر کے سائنس داں بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

اِس موقع پر سائنس دانوں نے یہ وارننگ دی تھی کہ کاربن ایمیشن پرروک لگانا ضروری ہے۔ کیوں کہ فضائی آلودگی (air pollution) کی بنا پر دنیا اب ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں قیامت کے آنے میں اب صرف دوڈگری کا فاصلہ ہے

other sourceWords of another person or source

Two Degrees to Doomsday (The Times of India, Dec. 5, 2009)

اِس کے بعد سے سائنٹفک جنرل اور میڈیا میں برابر ایسی رپورٹیں چھپ رہی ہیں جو سنگین الارم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کلائمیٹ (climate) کے بارے میں اِن رپورٹوں میں جو بتایا جارہا ہے، اُس سے اندازہ ہوتاہے کہ اب خطرے میں صرف اضافہ ہورہا ہے، اس میں کمی کے کوئی آثار نہیں۔

مثال کے طورپر سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ منطقہ قطب شمالی (Arctic region) میں بھاری مقدار میں جو برف ہے، وہ گلوبل وارمنگ کی بناپر مسلسل تیزی سے پگھل رہی ہے۔ اندیشہ ہے کہ 20 سال کے اندر یہ ساری برف پگھل جائے۔ اس کے بعد بہت بڑی تباہی متوقع ہے۔ کیوں کہ قطب شمالی کی اِس برف کے نیچے بہت بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائڈ(carbon dioxide) اور میتھین (methane) گیس کے ذخیرے موجود ہیں۔

برف کے یہ پہاڑ اگر گلوبل وارمنگ (global warming) سے پگھل جائیں تو ایک طرف یہ ہوگا کہ یہ پگھلا ہوا پانی سمندر میں شامل ہوجائے گا اور سمندر کی سطح خطرناک حد تک اونچی ہوجائے گی۔ اور دوسری طرف یہ ہوگا کہ برف کے نیچے بڑی مقدار میں دبی ہوئی خطرناک گیس باہر آجائے گی اور فضائی آلودگی ہلاکت خیز حد تک بڑھ جائے گی۔

Arctic Melt May Speed Up Climate Change In 20 Years

An irreversible climate “tipping point” could occur within the next 20 years as a result of one release of huge quantities of organic carbon locked away as frozen plant matter in the vast permafrost region of the Arctic, scientists have found. Billions of tons of frozen leaves and roots that have lain undisturbed for thousands of years in the permanently frozen ground of the northern hemisphere are thawing out, with potentially catastrophic implications for climate change, the researchers said. A study into the speed at which the permafrost is melting suggests that the tipping point will occur between 2020 and 2030 and will mark the point at which the Arctic turns from being a net “sink” for carbon dioxide into an overall source that will accelerate global warming. The study also found that by 2020 about two-thirds of the Earth’s permafrost will have melted, releasing an estimated 190 billion tons of carbon dioxide and methane into the air. “Our results show that as the Arctic warms up, frozen carbon will thaw out, releasing carbon into the atmosphere,” said Kevin Schaefer of the US National Snow and Ice Data Centre.

unverifiedAttribution could not be verified automatically

Fear of Warming Peaks As Co2 Emissions At Record High

Paris: Worldwide carbon emissions are at their highest ever levels, stoking fears of a global temperature rise over the “dangerous” two degree Celsius threshold, the International Energy Agency announced on Monday. The world economy’s return to growth in 2010 coincided with a 1.6 gigatonne rise in carbon dioxide emissions, the highest ever recorded jump, the agency said. “This significant increase in Co2 emissions and the locking in of future emissions due to infrastructure investments represent a serious setback to our hopes of limiting the global rise in temperature to no more than two degrees,” said IEA Chief Economist, Fatih Birol. “Our latest estimates are another wake-up call,” Birol said. “The world has edged incredibly close to the level of emissions that should not be reached until 2020 if the two degrees target is to be attained,” he added. Scientists believe that a temperature rise of more than two degree Celsius would represent “dangerous climate change”. The latest figures estimate that 30.6 Gt of carbon dioxide were emitted in 2010, a 5% jump from the previous record year in 2008. (The Times of India, Tuesday, May 31, 2011, Page 21)

other sourceWords of another person or source

دوسری طرف، رپورٹیں بتارہی ہیں کہ انسان کی صنعتی سرگرمیوں میں پچھلے سالوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے، بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں فضا میں کاربن کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کاربن گیس کے فضامیں بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ گلوبل وارمنگ میںاضافہ ہو۔ گلوبل وارمنگ براہِ راست طور پر لائف سپورٹ سسٹم کو برباد کردینے والی ہے۔ مثلاً خالص ہوا نہ ملنے کی وجہ سے بیماری میں اضافہ، گلیشئر کی برف اور قطبین کی برف پگلنے کی بنا پر سمندروں کی سطحِ آب میں اضافہ اور اس طرح کے دوسرے مسائل انسانی زندگی کے لیے سخت تباہ کن ہیں۔ یہ واقعات موجودہ سیارہ ارض کو انسان کے لیے ناقابلِ رہائش (inhabitable) بنا دینے والے ہیں۔

کچھ سائنس دانوں نے اِس خطرناک صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے یہ تجویزپیش کی ہے کہ جلد ہی زمین انسان کے لیے ناقابلِ رہائش ہوجائے گی، اِس لیے ہم کو چاہئے کہ ہم خلائی بستیاں (space colonies) بنائیں، تاکہ مستقبل میں انسان کی منتخب آبادی کو وہاں منتقل کیا جاسکے

opposing viewA view stated in order to be argued against

Unless humans colonize space within the next two centuries, they will become extinct, noted astrophysicist Stephen Hawking has warned adding, “Our only chance of long term survival is not to remain on planet Earth.” In an interview with ‘Big Think’ portal, Hawking said he’s an “optimist” but the next few hundred years had to be negotiated carefully if he human race is to survive. He said, “I see great danger for the human race. There have been a number of times in the past when survival has been a question of touch and go. The Cuban missile crisis in 1963 is one of these. “The frequency of such occasions is likely to increase in the future. We shall need great care and judgment to negotiate them all successfully. But I am an optimist. If we can avoid disaster for the next two centuries our species should be safe as we spread into space.” Hawking has warned that mankind was entering “an increasingly dangerous period of our history”. “Our population and use of the finite resources of planet Earth and growing exponentially along with our technical ability to change the environment for good and ill. “We have made remarkable progress in the last 100 years but if we want to continue beyond the next 100 years our future is in space,” the Daily Mail quoted him as telling the portal. (The Times of India, August 10, 2010, p. 19)

other sourceWords of another person or source

مگر یہ ’’خلائی بستیاں‘‘ محض خیالی بستیاں ہیں،کیوں کہ اِس کا سرے سے کوئی امکان نہیںہے کہ انسان اِس قسم کی خلائی بستیاں بنائے، جہاں لائف سپورٹ سسٹم کے تمام اسباب بشمول پانی موجود ہو اور انسان وہاں منتقل ہوجائے۔ ایسا ہونا کسی بھی درجے میں ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح انسان خود اپنی تخلیق نہیں کرسکتا، اِسی طرح وہ سیارۂ ارض کا کوئی متبادل سیارہ بھی تخلیق نہیں کرسکتا۔ اِس قسم کی باتیں محض شاعرانہ باتیں ہیں۔ اس سے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال بتارہی ہے کہ اب اِس زمین پر انسان کی تاریخ بہت جلد ختم ہونے والی ہے، یعنی بہت جلد وہی واقعہ پیش آنے والا ہے جس کو مذہب کی زبان میں قیامت کہاجاتا ہے۔عجیب بات ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ابھی تو قیامت بہت دور ہے۔ ایسا کہنا صرف اپنے بارے میں غیر سنجیدگی کا ثبوت دینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت کی تمام نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں۔ اب اِس میں کوئی شبہہ نہیں رہا کہ قیامت بہت قریب آچکی ہے۔ ایسی حالت میں اصل کام یہ ہے کہ لوگ توبہ اور استغفار کریں، نہ کہ قیامت کو دور کی چیز سمجھ کر وہ اُس سے غافل بنے رہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسری طرف، جو لوگ خلائی بستی کی بات کررہے ہیں، اُن کو چاہیے کہ وہ اِس قسم کی خیالی باتوں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ وہ اِس معاملے میں اپنی سوچ پر نظر ثانی کریں۔ اگر وہ سنجیدگی کے ساتھ اِس معاملے پر غور کریں تو یقینا وہ جان لیں گے کہ یہ معاملہ مذہبی تعبیر کے مطابق، ایک دورِ حیات کے خاتمہ اور دوسرے دورِ حیات کے آغاز کی خبر دے رہاہے۔ انسانی زندگی کا یہ دوسرا دور وہی ہے جس کو جنت کہا جاتا ہے۔ موجودہ حالات اپنی خاموش زبان میں انسان کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ تمھارے لیے اب صرف ایک ہی آپشن باقی ہے، اور وہ جنت کا آپشن ہے

Paradise is the only option for you.

تعلق باللہ

خدا کو ایک خارجی حقیقت کے طورپر دریافت کرنا کافی نہیں ہے۔ خدا کے ساتھ گہرا تعلق صرف اُس وقت قائم ہوتا ہے، جب کہ آدمی خدا کی رحمتوں کو اپنی ذات کی سطح پر دریافت کرے۔ اِس معاملے کو ایک لفظ میں پرسنلائزیشن آف بلسنگس آف گاڈ (personalization of divine blessings) کہاجاسکتا ہے۔ مثلاً ہر آدمی کو اپنے ماں باپ سے گہرا تعلق ہوتاہے۔ کیوں کہ آدمی یہ سوچتارہتاہے کہ میرے ماں باپ نے میرے ساتھ یہ کیا اور میرے ماں باپ نے میرے ساتھ وہ کیا۔ اِس قسم کی سوچ جب خدا کے بارے میں پیدا ہوجائے تو اِسی کا نام تعلق باللہ ہے۔

موجودہ دنیا اپنے تمام اجزا کے ساتھ خدا کے انعامات کا ظہور ہے۔ سوچنے والے انسان کے لیے اُس کا ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ خدا کے آفاقی انعامات کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دریافت بھی کافی ہے کہ انسان خدا کو اپنا منعم سمجھے ۔ وہ خدا کاشکر کرنے والا بندہ بن جائے، لیکن یہ احساس اُس وقت بہت زیادہ شدید ہوجاتاہے جب کہ انسان اِن نعمتوں کو اپنی ذات کی سطح پر دریافت کرے۔ پہلی دریافت آدمی کو یہ الفاظ دیتی ہے کہ — خدایا، تو نے انسان کے اوپر کتنا زیادہ انعام فرمایا ہے۔ لیکن جب آدمی دوسری نوعیت کی دریافت کا تجربہ کرے تو وہ بے اختیار ہو کر پکار اٹھے گا کہ خدایا، تو میرے اوپر کتنا زیادہ مہربان ہے۔ تونے مجھ کو وہ نعمتیں بھی دیں جن کو میں جانتا تھا، اس کے علاوہ تونے مجھ کو مزید وہ بے شمار نعمتیں عطا کردیں جن کو میں نہ جانتا تھا اور نہ میں اُن کا طلب گار بن سکتا تھا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ اللہ سے گہرا تعلق ہے۔ یہ گہرا تعلق صرف گہری سوچ (deep thinking) کے ذریعے پیدا ہوسکتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ خدا کی نعمتوں کو اپنی ذات کی سطح پر دریافت کرے۔ اِس قسم کی ذاتی دریافت ہی کسی آدمی کے اندر گہرا تعلق باللہ پیدا کرسکتی ہے۔خدا سے اِسی گہرے تعلق کو قرآن میں حبِّ شدید کہاگیا ہے والذین آمنوا أشد حُبًّا للّٰہ (2: 165)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک غیر دانش مندانہ روش

حسن البصری (وفات 110 ھ) اور عمر بن عبد العزیز (وفات 101 ھ دونوں ہم عصر تھے۔ عمر بن عبدالعزیز کے بارے میں تاریخی روایتوں میںآتا ہے کہ ولما ولی عمر بن عبد العزیز الخلافۃ کتب إلی الحسن البصري إني قد ابتلیتُ بہذا الأمر، فانظر لي أعواناً یعینونني علیہ۔ فأجابہ الحسن أما أبناء الدنیا فلا تریدہم، وأما أبناء الآخرۃ فلا یریدونک، فاستعن باللہ۔ (الأعلام للزرکلي، جلد 2، صفحہ 226 )۔ یعنی جب عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنائے گئے توانھوں نے حسن البصری کو خط لکھا۔ اُس خط میں یہ درج تھا کہ مجھ پر خلافت کی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، پس میرے لیے کچھ مدد گار تلاش کیجئے جو اِس کام میں میری مدد کریں۔ حسن البصری نے اس کے جواب میں اُن کو لکھا— جہاں تک اہلِ دنیا کا تعلق ہے، آپ ان کو نہیں چاہیں گے اور جو اہلِ آخرت ہیں، وہ آپ کو نہیں چاہیں گے، اس لیے آپ اللہ سے مدد کے طالب بنئے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

حسن البصری کا یہ جواب بلا شبہہ ان کے اخلاص پر مبنی تھا، لیکن یہ ایک غیر دانش مندانہ جواب تھا۔اِس روش کا یہ نقصان ہوا کہ عمر بن عبد العزیز کو اپنے زمانے کے علمائِ حق کا تعاون حاصل نہ ہوسکا۔ اصل یہ ہے کہ بعد کو جب مسلمانوں کے درمیان ملوکیت کا زمانہ آیا تو علمائِ حق نے ملوک سے دوری کا طریقہ اختیار کرلیا۔ یہ طریقہ بظاہر اخلاص اور تقویٰ پر مبنی تھا، لیکن وہ حکمت پر مبنی نہ تھا۔ کیوں کہ حکمراں کے پاس جو وسائل ہوتے ہیں، وہ افراد کے وسائل سے ہزار گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

حکمت کا تقاضا ہے کہ اِن وسائل کو دین کے لیے استعمال کیا جائے۔ مگر مسلم علماء کے غیرضروری احتیاط کی بنا پر یہ کام نہ ہوسکا۔ مسلمانوں کے پورے سیاسی عہد میں علمائِ کی عام طورپر یہی روش تھی۔ اِس عموم میں صرف چند علماء کااستثنا پایا جاتا ہے۔ مثلاً رجاء بن حیوہ الکندی (وفات 112 ھ) اور قاضی امام ابو یوسف البغدادی (وفات 182 ھ)۔ اِس غلط روایت کا نقصان قدیم تاریخ میں بھی ہوا ا ور جدید تاریخ میں بھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گھر کی الٹی تربیت

میرے والد فرید الدین خاں کا انتقال دسمبر 1929میں ہوا۔ اُس وقت میری عمر تقریباً 6 سال تھی۔ میرے والد اپنے تمام بچوں میں مجھ کو سب سے زیادہ مانتے تھے۔ وہ میرے ساتھ لاڈپیار(pampering) کا معاملہ کرتے تھے۔ اِس بنا پر میں بہت شوخ ہوگیا تھا اور اکثر طفلانہ شرارتیں کیاکرتا تھا۔ شیخ محمد کامل میرے پھوپھا تھے۔ وہ اِس کو دیکھ کر غصہ ہوتے تھے۔ وہ میرے والد سے کہتے تھے کہ — تم اپنے بیٹے کو خراب کرڈالوگے۔

لیکن بچپن میں میرے والد کا انتقال ہوگیا۔ میری والدہ زیب النساء (وفات 1985 ) بتاتی تھیں کہ والد کی زندگی میں میں بہت بولتا تھا، لیکن جب والد کا انتقال ہوگیا تو اچانک میں بالکل بدل گیا۔ میری شوخیاں ختم ہوگئیں۔ اب میں خاموش رہنے لگا۔ یہ میری زندگی کا بہت بڑا واقعہ تھا۔ اگر میرے باپ زیادہ دن تک زندہ رہتے تو یقینی طورپر میں اُسی قسم کا ایک نوجوان بن جاتا جس کو لاڈ پیار سے بگڑا ہوا بچہ (spoilt and pampered child) کہاجاتا ہے۔ بعد کو میری زندگی میں جو حقیقت پسندی اور سنجیدگی آئی، وہ براہِ راست طورپر میری یتیمی کا نتیجہ تھی۔

ایک انسان جب پیدا ہوتا ہے تو ابتدائی طورپر وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن یہ مدت عارضی ہوتی ہے۔ اس کو اپنی بقیہ زندگی والدین کے ماحول سے باہر، دوسروں کے درمیان گزارنی پڑتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کے ساتھ لاڈ پیار کا معاملہ کرتے ہیں۔

اِس لاڈ پیار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ شعوری یا غیر شعوری طورپر سمجھ لیتا ہے کہ مجھ سے محبت کرنے والا وہی ہے جو میرے ساتھ لاڈ پیار(pampering) کا معاملہ کرے۔ لیکن یہ بچہ جب اپنے گھر سے باہر آتا ہے تو دوسرے لوگوں سے اس کو والدین والا لاڈ پیار نہیں ملتا۔ اب وہ ساری دنیا سے بے زار ہوجاتا ہے۔ اِس صورتِ حال نے تمام عورتوں اور مردوں کو شکایت کی نفسیات میں مبتلا کردیا ہے، جب کہ صحیح یہ تھا کہ لوگوں کے اندر دوسرے انسانوں کے لیے محبت کی نفسیات پیداہو۔

زندگی کا سفر

انسان کی زندگی بہتے ہوئے دریا کی مانند ہے۔ دریا کیا ہے، دریا فطرت کا ایک انوکھا ظاہرہ ہے۔ دریا میں یہ ہوتا ے کہ ہر لمحہ اس کے پرانے پانی میں نیا پانی شامل ہوتارہتا ہے۔ اِس طرح دریا کی تازگی مسلسل باقی رہتی ہے۔ اگر کسی دریا میں پانی کا یہ تسلسل باقی نہ رہے تو ایسا دریا اپنی تازگی کو کھودے گا، وہ اپنی صحت بخش صفت کو باقی نہ رکھ سکے گا۔

انسان کے بارے میں بھی فطرت نے یہی طریقہ رکھا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، انسان ایک نسلی تسلسل کا نام ہے۔ کچھ لوگ پیدا ہوتے ہیں، اُن کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کی ایک نئی نسل وجود میں آتی ہے۔ سو سال کے اندر پچھلے پیدا ہونے والے مرکر اِس دنیا سے چلے جاتے ہیں، اور ان کی جگہ نئے پیدا ہونے والے عورت اور مرد لے لیتے ہیں۔ دریا میں اگر پرانے پانی اور نئے پانی کا رپلیس مینٹ (replacement) ہوتا ہے، تو انسان کے اندر یہی واقعہ پچھلی نسل اور اگلی نسل کے رپلیس مینٹ کی صورت میں پیش آتاہے۔

انسانی زندگی میں فطرت نے یہ جو نظام قائم کیاہے، اس کے پیچھے بہت بڑی حکمت ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگلی نسل پچھلی نسل کے تجربات سے سبق حاصل کرے، وہ پچھلی نسل کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر زیادہ بہتر طور پر جاری رکھے۔ اگلی نسل کے لیے پچھلی نسل کا یہی وہ قیمتی عطیہ ہے جس کی بنا پر زیادہ عمر کے لوگوں کو اولڈ اِز گولڈ (old is gold) کہا جاتا ہے۔

مثلاً ایک بوڑھے باپ نے دیکھا کہ اس کا بیٹا بہت ذہین ہے، لیکن اس کے اندر مزاج کے اعتبار سے ایک قابلِ اصلاح چیز پائی جاتی ہے۔ وہ یہ کہ بیٹے کے اندر بہت بڑھی ہوئی خود اعتمادی ہے۔ اِس بڑھی ہوئی خود اعتمادی کی بنا پر اس کو کئی بار نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ باپ نے اپنے بیٹے کو سمجھایا اور کہا کہ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ہر حال میں حقیقت پسند بنے۔ اس نے اپنے بیٹے سے کہا

My son, confidence is good, but over-confidence is equally bad.

یہ نصیحت بیٹے کو اس کی زندگی میں بہت کام آئی۔ اِسی طرح ایک بوڑھے باپ نے دیکھا کہ اس کے بیٹے کے اندر جلد بازی ہے۔ وہ صبر کے ساتھ انتظار کرنا نہیں جانتا۔ باپ نے بیٹے کو اپنے تجربات کے حوالے سے سمجھاتے ہوئے کہا

My son, life is one percent action, and nintynine percent restraint.

باپ کی یہ نصیحت بیٹے کی زندگی کے لیے بہت مفید ثابت ہوئی۔

اِسی طرح ایک بوڑھے باپ نے دیکھا کہ اس کے بیٹے کے اندر استقلال نہیں ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ مل کر دیر تک کام نہیں کر پاتا۔ باپ نے اپنے تجربات کی روشنی میں بیٹے کو سمجھایا اور کہا

My son, maturity is the ability to live with things you can not change.

باپ کی یہ نصیحت بیٹے کے لیے ایک رہنما نصیحت بن گئی۔ اس نے اپنے معاملات پر نظر ثانی کی، اس نے اپنی زندگی کی ازسرِ نو پلاننگ کی اور پھر اس نے اپنی زندگی میں اعلیٰ کامیابی حاصل کی۔

اِن مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگلی نسل کے لیے پچھلی نسل کتنی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اگلی نسل کو پچھلی نسل دانش مندی عطا کرتی ہے۔ وہ اس کو ایسے فارمولے دیتی ہے جو عملی تجربات کے ذریعے صحیح ثابت ہوچکے ہیں۔ اِس طرح پچھلی نسل اگلی نسل کو اِس قابل بناتی ہے کہ وہ دوبارہ وہ غلطی نہ کرے جو پچھلے لوگوں نے کیا اور اس کا نقصان اٹھایا۔

حقیقت یہ ہے کہ اگلی نسل کے لیے پچھلی نسل فطرت کاایک تحفہ ہے، ایسا تحفہ جس کا کوئی بدل نہیں، ایسا تحفہ جو کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

انسان کی زندگی اگر رواں پانی کی طرح ہو، جس میں ہمیشہ پرانے پانی میں نیا پانی شامل ہوتا رہے، تو ایسا پانی ہمیشہ تروتازہ رہے گا، وہ کبھی خراب نہ ہوگا۔ اِس کے برعکس، جو پانی بند گڑھے کی مانند ہو، ا س میں نئے پانی کی آمیزش نہ ہوتی ہو تو ایسا پانی اپنی تازگی کھودے گا، وہ غیر مفید بن کر رہ جائے گا— اِس معاملے میں بہتا ہوا دریا فطرت کی طرف سے ایک صحت بخش پیغام ہے اور انسانی تاریخ کا تجربہ اس کی عملی تصدیق کرتا ہے۔

آخری انجام

اورنگ زیب عالم گیر (وفات 1707 ) کی بیٹی شہزادی زیب النساء بیگم (وفات1701 ) محل میں پیداہوئی۔ شاہانہ ماحول میں اس کی پرورش ہوئی۔ مگر آخر میں وہ بیمار ہوگئی۔ 62 سال کی عمر میں بعض تلخ تجربات کے بعد مایوسی کے عالم میں دہلی میں اس کی موت ہوئی۔ مرنے سے پہلے شہزادی نے اپنے مزار کے کتبہ کے لیے حسب ذیل فارسی شعر لکھا

بر مزارِ ما غریباں، نَے چراغے، نَے گلے نَے پر پروانہ رقصد، نے صدائے بلبلے

یعنی مجھ غریب کی قبر پر نہ کوئی چراغ ہے اور نہ کوئی پھول۔ اِس لیے میرے مزار پر نہ کوئی پروانہ رقص کرتاہے اور نہ کسی بلبل کی آواز سنائی دیتی ہے۔

موت اور آخری انجام کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ہر عورت اورمرد آخر کار اِسی قسم کے انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ ہر پیدا ہونے والے کے لیے آخر کار یہی مقدر ہے کہ وہ بے بسی کے عالم میں مرے اور ہمیشہ کے لیے اِس دنیا سے چلا جائے۔ یہ انجام ہر ایک کے لیے مقدر ہے، خواہ بظاہر وہ دولت واقتدار کے ماحول میں پیدا ہو یا غربت وبے کسی کے ماحول میں۔

کیا انسان اِسی لیے پیداہوا تھا کہ اِس طرح وہ ایک ناکام زندگی گزارے اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے مٹ کر ختم ہوجائے۔ یہ تصور عقل کے بھی خلاف ہے اور فطرت کے بھی خلاف۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی معنویت (meaning) کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ دنیاکو آخرت کی دنیا کے ساتھ ملاکر دیکھا جائے۔ آخرت کی دنیا انسانی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔آخرت کو مانے بغیر انسان کی زندگی سراسر بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ آخرت کا یہ تصور اپنے آپ میں اِس بات کا ثبوت ہے کہ آخرت کا تصور ایک حقیقی تصور ہے۔ وہ کوئی بے بنیاد مفروضہ نہیں۔ آخرت کو مانے بغیر موجودہ دنیا کی کوئی با معنی توجیہہ ممکن نہیں۔ آخرت کا عقیدہ انسان کو ایک بامقصد نشانہ دے دیتاہے۔ آخرت کو ماننے کے بعد، موت سے پہلے کی زندگی بھی بامعنی بن جاتی ہے اور موت کے بعد کی زندگی بھی با معنیٰ۔

سوال وجواب

سوال

عصر حاضر کیا ہے، نیز کیا عصر حاضر کے بعض مظاہر مثلاً عریانیت، وغیرہ کی تردید، عصر حاضر کی تردید کے ہم معنی ہے۔براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں (شارق حسین، نئی دہلی)

جواب

عصر حاضر کی ایک آئڈیالوجی (idealogy)ہے اور دوسری چیزیں وہ ہیں جو ا س کے مظاہر ہیں۔ مظاہر ہمیشہ اضافی (relative) ہوتے ہیں، اِس لیے مظاہر کو دیکھ کر عصر حاضر کو درست طورپر سمجھا نہیں جاسکتا۔ عصر حاضر کی بنیاد اس کی مخصوص آئڈیالوجی پر ہے۔ عصر حاضر کو سمجھنے کے لیے اس کی اِسی آئڈیالوجی کو سمجھنا چاہیے۔

عصر حاضر کی آئڈیالوجی دراصل مذہب کی آئڈیالوجی کے بالمقابل پیداہوئی ہے۔ مذہب کی آئڈیالوجی تمام تر وحی (revelation) پر قائم ہے۔ الہامی مذاہب کی اصل بنیاد تمام تر وحی کا یہی تصور ہے۔ وحی کو مذاہب میں گویا کہ مسلمہ اصول (axiom) کا درجہ حاصل ہے، یعنی عقلی دلیل کے بغیر اس کو برحق تسلیم کرنا۔ یہی تمام الہامی مذاہب کی اصل بنیاد ہے۔

اِس کے مقابلے میں، عصر حاضر کی آئڈیالوجی عقل (reason) پر قائم ہے۔ اِس آئڈیالوجی کے مطابق، کسی بھی تصور کو مسلّمہ کی حیثیت حاصل نہیں۔ ہر تصور کو عقل کی معلوم کسوٹی پر جانچا جائے گا۔ جو چیز عقلی جانچ میں درست ثابت ہو، وہ درست ہے۔ اور جو چیز عقلی جانچ میں درست ثابت نہ ہو، وہ نادرست۔ یہی عصر حاضر کی اصل فکری بنیاد ہے۔

اِس مخصوص آئڈیالوجی کی بنا پر جدید ذہن نے عضویاتی ارتقا (organic evolution) کو حقیقت مان لیا۔ اِس کے مقابلے میں، اس نے خدا کے تصور کو مفروضہ قرار دیا۔ کیوں کہ عضویاتی ارتقا کم ازکم اپنے طریقہ (method) کے اعتبار سے، جدید ذہن کو عقلی نظر آیا۔ اِس کے برعکس، خدا کے تصور کے بارے میں جدید ذہن کا خیال تھا کہ اس کے ثبوت کے لیے کوئی معلوم عقلی بنیاد موجود نہیں۔ عصر حاضر کی اِس آئڈیالوجی میں بلا شبہہ بہت سے علمی نقص موجود ہیں، لیکن عصر حاضر کا تجزیہ کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئڈیالوجی اور مظاہر کے فرق کو سمجھیں۔ وہ یہ غلطی نہ کریں کہ مظاہر کی تردید کرکے وہ یہ سمجھ لیں کہ انھوں نے عصر حاضر کی آئڈیالوجی کو رد کردیا۔

سوال

چند سوالات کی وضاحت مطلوب ہے— اسلام اور مسلمان دونوں کو ایک چیز سمجھا جائے یا ان میں کچھ فرق ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جذباتی اشو پر برطانیہ کے مسلمان بہت جلد بھڑ اٹھتے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے۔ اسلام میں پردے کا تصور کیا ہے نیز کیا اسلام میں عورتوں پر مسجد جانے میں پابندی رکھی گئی ہے۔ کیا کارٹون جیسے معاملے پر بھڑکنا پیغمبر کی تعلیمات میں ہے (رنجنا سین گپتا، نئی دہلی)

جواب

1 - جو آدمی اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے، وہ اکثر ایک مسئلے سے دوچار رہتا ہے، وہ یہ کہ ایک طرف، اسلام کا اسکرپچر (scripture)قرآن ہے۔ اور دوسری طرف، مسلمان ہیں جو اسلام کو اپنا مذہب بتاتے ہیں۔اِس طرح دو حوالوں کی بنا پر مطالعہ کرنے والا کنفیوژن میں پڑ جاتاہے۔ وہ مسلمانوں کے عمل (practice) کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں رائے قائم کرنے لگتا ہے۔ اِس معاملے میں یہ ایک عام غلطی ہے۔ اِس لیے اسلام کے اسٹوڈنٹ کے لیے پہلا رہنما اصول یہ ہے کہ

You have to differentiate between Islam and Muslims. You have to judge Muslims in the light of Islamic teachings, and not vice versa.

اصل یہ ہے کہ اسلام ایک ریلیجس آئڈیالوجی ہے، جب کہ مسلمان ایک کمیونٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسی حالت میں کمیونٹی کواسلام کے تابع کیا جائے گا، نہ کہ اسلام کو کمیونٹی کے تابع کردیا جائے۔

اسلام کے سائنٹفک مطالعے کے لیے یہ ایک بنیادی اصول ہے۔ اِس اصول کو ملحوظ رکھ کر ہی اسلام کے بارے میں درست رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ اگر اِس اصول کو ملحوظ نہ رکھا جائے، تو اسلام کے بارے میں مبنی بر حقیقت رائے قائم کرنا ممکن نہیں۔

2 - برطانیہ میں مقیم مسلمانوںاوردوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے عقائد میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس قسم کی جذباتیت کا سبب بنیادی طورپر صرف ایک ہے، اور وہ اردو زبان ہے۔ برطانیہ کے مسلمان زیادہ تر اردو اسپیکنگ علاقوں مثلاً انڈیا اور پاکستان سے آئے ہیں۔ موجودہ زمانے میں اردو زبان میں جو لٹریچر پیدا ہوا، بعض علاقائی سبب سے وہ زیادہ تر جذباتی اسلوب پر مبنی تھا۔اردو زبان میںشاعری اور انشا پردازی اور خطابت کا بہت زیادہ رواج ہوا۔ اردو ماحول میں تربیت پائے ہوئے یہ لوگ بڑی تعداد میں برطانیہ گئے۔ مزید یہ کہ اس کے بعد ان کا رشتہ اردو اسپیکنگ علاقوں سے منقطع نہیں ہوا۔ اِس علاقے کے شاعر اور ادیب اور خطیب برابر وہاں جاتے رہے۔ اِس طرح برطانیہ میں اردو کلچر برابر فروغ پاتا رہا۔ زیادہ تر یہی اردو اسپیکنگ لوگ ہیں جوجذباتی اشو پر ہنگامہ کرتے رہتے ہیں۔ اِس قسم کے ہنگاموں کا، پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے ادنیٰ درجے کا بھی کوئی تعلق نہیں۔

3 - پردہ (veil) کی موجودہ صورت بعد کے زمانے میں ڈیولپ ہوئی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتوں کے لیے موجودہ قسم کے برقع کا وجود نہ تھا۔ عورتوں کے بارے میں اسلام کا جو اصول ہے، وہ بنیادی طورپر یہ ہے کہ اسلام مخلوط سوسائٹی (mixed society) کے خلاف ہے۔ اسلام اِس کو پسند نہیں کرتا کہ عورت اور مرد دونوں مچھلی کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ مخلوط ہو کر رہیں۔ اسلام کے مطابق، یہ بھی ایک غیر فطری بات ہے کہ عورت اور مرد دونوں کا ورک پلیس (work place) ایک ہو۔ اِسی طرح برہنگی (nudity) بھی اسلامی تعلیم کے مطابق، جائز نہیں۔

اِس معاملے میں اسلام کا جو اصول ہے، وہ یہ ہے کہ عورت اور مرد شادی شدہ زندگی گزاریں۔ عورت جب باہر نکلے تو سادگی کے ساتھ نکلے۔ وجہ اور کفّین کے سوا، اس کا پورا جسم ڈھیلے کپڑوں سے ڈھکا ہوا ہو۔ مسجد میں عورتوں کے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے، البتہ ڈسپلن کی خاطر یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ با جماعت نماز میں عورتوں اور مردوں کی صفیں الگ الگ ہوں۔ عورت کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے

Equal in respect, and different in role.

4 - ڈنمارک کے ایک مقامی اخبار (Jyllands Posten) میں چھپنے والے کارٹون کو مسلمانوں نے جس طرح توہینِ رسول کا مسئلہ بنایا اور اُس پر شدید ہنگامے کیے، اُس کا کوئی بھی تعلق، اسلام سے نہ تھا۔ مذکورہ کار ٹون کی حیثیت تو صرف ایک صحافتی جوک (joke) کی تھی۔ اِس قسم کا جوک موجودہ صحافت میں عام ہے۔ لیکن مسلمانوں نے اِس کے رد عمل میں جس طرح نفرت اور تشدد کا مظاہرہ کیا، وہ بلاشبہہ توہینِ رسول کا ایک فعل تھا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کے زمانے میں بار بار اِس نوعیت کے واقعات ہوئے ہیں، لیکن آپ نے ان کے مقابلے میں صرف ایک روش کا اظہار کیا، اور وہ اِن واقعات کو نظر انداز کرنا تھا۔ چناں چہ میں نے ڈنمارک کے کارٹون کا واقعہ پیش آنے کے بعد ایک آرٹکل لکھا تھا، جو اُسی زمانے میں نئی دہلی کے انگریزی اخبار پانئر (The Pioneer) کے شمارہ 2 مارچ 2006 میں درج ذیل عنوان کے تحت چھپا

Muslims Must Ignore Cartoons

پیغمبر اسلام کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ ہر اُس اقدام سے بچو جس سے اسلام کی امیج خراب ہوتی ہو۔ موجودہ زمانہ آزادیٔ اظہارِ رائے (freedom of expression) کا زمانہ ہے۔ ایسے زمانے میں کارٹون جیسے مسئلہ پر ہنگامہ کھڑا کرنا، یقینی طورپر یہ تاثر پیدا کرے گا کہ اسلام آزادیٔ اظہارِ رائے کے خلاف ہے۔ ایسی حالت میں کارٹون جیسے مسائل پر ہنگامہ آرائی کرنا کسی بھی عذر کی بنا پر جائز نہیں ہوسکتا۔ اگرمسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں، تب بھی اُنھیں کامل اعراض سے کام لینا چاہئے۔ جذبات کا مجروح ہونا، اُن کے لیے اِس معاملے میں کوئی عذر نہیں بن سکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خبر نامہ اسلامی مرکز — 212

1 - کاشمیر دعوہ میٹ (فروری 2011 ) کے بعد کشمیر میں بڑے پیمانے پر دعوہ ورک شروع ہوگیا ہے۔ اِس سلسلے میں 16-17 مئی 2011 کو سری نگر (کشمیر) میں جموں کشمیر پیس فاؤنڈیشن کی طرف سے ایک امن کانفرنس ہوئی۔ اِس کانفرنس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو اور مسلم شخصیات نے شرکت کی۔ اِس موقع پر حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیاگیا۔ خاص طورپر گورنر کشمیر مسٹر این این ووہرا، سوامی اگنی ویش، جی او سی روی تھوگڑے، اور پروفیسر رادھا کمار کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔ اِس کو انھوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا۔

2 - سہارن پور (یوپی) میں ہمارے ساتھی بڑے پیمانے پر دعوتی کام کررہے ہیں۔ اس کی رپورٹ حسب ذیل ہے

پیس ہال میں 29 مئی 2011 کو ایک دعوتی اجتماع میں غیر مسلم بھائیوں کو قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ برائے مطالعہ دیاگیا۔ مسٹر اسوانی نے کہا کہ میں کافی دن سے مولانا وحید الدین خاں کی کتابیں پڑھ رہا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ روحانیت کیاہے، نیز اِس کا علم ہوا کہ آوا گون کا نظریہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔

3 - نیشنل میڈیکل کالج میں 5جون 2011 کو اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونی ورسٹی کی ایک ٹیم آئی۔ اِس موقع پر ٹیم کے لوگوں کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ برائے مطالعہ دیاگیا۔ پروفیسر روساریہ نے کہا کہ ہم کسی مذہبی کتاب کو نہیں مانتے تھے، لیکن اگنو (IGNOU) میں ’’اسلام اور آتنک واد‘‘ کے موضوع پر مولانا وحید الدین خاں کی تقریر سننے کے بعد اب میرے دل میں قرآن اور پیغمبر اسلام کے بارے میں جاننے کا جذبہ پیدا ہوگیا ہے۔ اِس موقع پر پروفیسر ارورا نے خاص طورپر قرآن کا ہندی ترجمہ حاصل کیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

4 - ہندی روزنامہ دینک جاگرن کی طرف سے 8 جون 2011 کو سہارن پور کے سب سے بڑے ہوٹل ’’پنجاب‘‘ میں ایک پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام میں ڈاکٹر محمد اسلم خان کو بطور مہمان بلایا گیا تھا۔ سہارن پور کے دوسرے ہوٹلوں کی طرح، یہاں بھی سی پی ایس سہارن پور کے ساتھیوں نے قرآن کے اسٹینڈ رکھے تھے۔ لوگ یہاں سے قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ خرید کر حاصل کرتے ہیں۔اِس کی شکل یہ ہے کہ قرآن کے ترجمے کا ایک نسخہ (copy) 50 روپئے کا ہوتا ہے۔ اِس میں سے 25 روپئے ہوٹل کا انتظامیہ لیتا ہے اور 25 روپئے سی پی ایس کے لوگوں کو واپس کردیتاہے، تاکہ وہ قرآن کے مزید نسخے خرید کر وہاں رکھ سکیں۔ یہ ایک پریکٹکل طریقہ ہے۔ لیکن پنجاب ہوٹل کے مالک سردار سُرجیت سنگھ نے سی پی ایس کے لوگوں کو 50 روپئے کاپی کے حساب سے پیسے واپس کئے۔ جب اُن سے کہا گیا کہ آپ ہم کو صرف 25 روپئے کے حساب سے پیسے واپس کیجئے، 25 روپئے انتظامیہ کے لیے بطور نفع کاٹ لیجئے۔ اِس پر سردار سرجیت سنگھ اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوگئے۔ انھوں نے انتہائی لجاجت کے ساتھ کہا کہ ’’جس اللہ نے ہم کو اتنی ساری نعمتیں دے رکھی ہیں، ہم اُس اللہ کی کتاب پر منافع لے کر اس کی تجارت کریں، وہ ہم کو ہر گز معاف نہیں کرے گا۔ لہذا، اِس پیسے سے قرآن کے اور نسخے خرید کر اللہ کے بندوں تک پہنچائیے، تاکہ اُن کو روشنی ملے‘‘۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

5 - نظام الدین ویسٹ ایسوسی ایشن (نئی دہلی) کے کمیونٹی سنٹر میں 10 جون 2011 کو ایک لائبریری قائم کی گئی ہے۔ اِس میں گڈ ورڈ بکس کی طرف سے صدر اسلامی مرکز کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابوں کا ایک سیٹ رکھا گیا ہے۔

6 - امریکا کے مختلف مقامات پر الرسالہ مشن کے تحت دعوتی کام ہورہا ہے۔ اِس سلسلے میں حلقہ الرسالہ اور دیگر مقامی اداروں کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے امریکا کا سفر کیا۔ یہ سفر 14 جون 2011 سے 6 جولائی 2011 تک جاری رہا۔اِس سفر میں سی پی ایس (نئی دہلی) کے 8 افراد شریک تھے۔ سفر کے دوران امریکا کے مختلف شہروں اور مختلف اداروں میں صدر اسلامی مرکز کا خطاب ہوا۔ یہ ایک دعوتی سفر تھا۔ اِس موقع پر بڑے پیمانے پر لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا۔ اِس سفر کی روداد ان شاء اللہ سفر نامے کے تحت الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔

7 - قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر بڑے پیمانے پر غیر مسلموں کے درمیان پھیلایا جارہا ہے۔ لوگ خوشی کے ساتھ اس کو قبول کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں اُن میں سے چند تاثرات نقل کئے جاتے ہیں

ک We are very interested in having the copies of translation of the Quran done by Maulana Wahiduddin Khan and look forward to hearing from you in this respect. (Hoda Shafiee Shakib, The International Quran News Agency, Tehran, Iran.)

ک I traveled to Rev. Cliff’s St. Paul’s Episcopal Church in Philadelphia on 25th June, 2011 to hear Maulana Wahiduddin Khan and I must tell you that it was the most inspiring words I have heard. I would suggest going to the Center for Peace and Spirituality website for more information: www.cpsglobal.org. Maulana is preaching and teaching the peace of Islam to Muslims and countless others and literally changing the thinking of thousands of extremists. He is a remarkable holy scholar. (Larry, Pensylvania, USA)

other sourceWords of another person or source

ک On 5th June, 2011, a dinner was hosted at the Taj Hotel in Mumbai where several well-known people of Mumbai including Ms. Nita Ambani were invited. This dinner was hosted by Mumbai-based Wadhwa Builders. Two of my acquaintances were also invited at the event. During dinner time, they shared the table with Ms. Nita Ambani. In the course of their discussion, they offered the English translation of the Quran by Maulana Wahiduddin Khan to Ms. Ambani. She was delighted to receive it and said that it was the best gift she had ever received. In particular she mentioned that Mr. Ambani really appreciated the Maulana’s views on the Babri Mosque verdict which was passed last year. She also said that Mr. Mukesh Ambani really admires the Maulana’s views and they often read his articles. (Ramish Siddiqi, New Delhi)

ک Dear Mr. Khan and friends at CPS International,Warm greetings to you heroes of the peace movement! My name is Thomas Davis, and I am a Christian minister from the US who loves Muslims and works for peace, and I would like to meet with you. I serve full-time with Peace Catalyst International, an organization with a very similar aim as CPS International. Having done a bit of research into your peacemaking work, I am very impressed and would be grateful for the chance to get to know CPS International and to learn more about what you do. I have much love and respect for the glorious Qur’an. Unfortunately, I do not read Arabic. I have numerous Engish translations, but yours is my favorite. While in Delhi, I plan to purchase a box of your Qur’ans to use in educating my Christian friends back in the US, most of whom have never picked up a copy of the Qur’an. (Thomas Davis, USA)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

8 - صدر اسلامی مرکز کا اردو ترجمہ قرآن، مراٹھی زبان میں شائع ہوگیاہے۔ قرآن کے اس مراٹھی ترجمے کوالقرآن پبلیکیشنز، ناندیڑ، مہاراشٹر سے حاصل کیا جاسکتاہے۔ موبائل نمبریہ ہے09767172629

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceopposing viewA view stated in order to be argued againstother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automatically