Maulana Wahiduddin Khan
79 min left
0:00

← Al-Risala October-December 2021
Al-Risala October-December 2021

Main Content

Urdu · 79 min read

قرآن میں قیامت کے دن کی ایک حقیقت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ۔ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ۔ وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ ۔ فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ (101:6-9) ۔یعنی پھر جس شخص کےاعمال کا وزن بھاری ہوگا۔ وہ دل پسند آرام میں ہوگا۔ اور جس شخص کے اعمال کا وزن ہلکا ہوگا۔ تو اس کا ٹھکانا گڑھا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میزان کا مطلب تول (scale) ہے۔ یہ ایک تمثیل کی زبان میں ہے۔ یہ ایک کیفیاتی حقیقت (qualitative reality)کو کمیاتی زبان (quantitative term) میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی معنوی با ت کو مادی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ آخرت میں اعمال کا درجہ ان کی معنوی اہمیت کے اعتبار سے ہوگا، معروف قسم کے ترازو اور باٹ سےنہیں۔ کسی آدمی نے جو عمل کیا ہو، اس کا ایک ظاہری پہلو ہوتا ہے، مگر آخرت میں اعمال کا درجہ ان کے معنوی پہلو کے اعتبار سے ہوگا۔ مثلا ایک شخص نے درہم و دینار دیا، اور دوسرے شخص نے نیت کے اعتبار سے بڑا کام کیا۔ آخرت میں اس عمل کا درجہ زیادہ ہوگا، جو نیت کے اعتبار سے بڑا عمل ہو۔

کسی آدمی کا عمل نیت کے اعتبار سے کس درجے کا عمل ہے، یہ صرف اللہ کو معلوم ہے۔ دنیا میں اس کو متعین نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً ایک شخص بہت پیسہ دیتا ہے مگر دکھاوے کے لیے۔اس کے مقابلے میںدوسرا شخص کم دیتا ہے، مگر اس کی نیت خالص ہے۔دنیا میں اعمال کا وزن ظاہر کے اعتبار سے ہوتا ہے، آخرت میں اعمال کا وزن ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا۔ قرآن میں جس تول کا ذکر ہے، وہ آخرت کا تول ہے، جو کہ کیفیت کے اعتبار سے ہوگا، نہ کمیت کے اعتبار سے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ کیفیت کے اعتبار سے کسی چیز کی قدر و قیمت متعین کرنا، دنیا میں ممکن نہیں، یہ صرف آخرت کے میزان میں ممکن ہوگا۔ دنیا میں ہم اس معاملے کو اجمالی طور پر جان سکتے ہیں، نہ کہ متعین صورت میں۔

پہلا قدم

مسلمان لیڈر بڑے جوش سے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیے۔ یہ جملہ گریمر کے لحاظ سے صحیح لیکن معنویت کے لحاظ سے خالی ہے۔ اس لیے کہ موجودہ حالت میں مسلمان، ان کے عوام اور لیڈر دونوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس احساس میں جیتے ہیں کہ وہ دشمنوں کے نرغے میں ہیں، وہ دشمنوں کی سازش کا شکار ہیں۔ ان کے دشمن ان کی ترقی میں روک بنے ہوئے ہیں۔ ہر لکھنے اور بولنے والا آدمی براہ راست یا بالواسطہ اسی نفسیات کا شکار ہے۔ اسی نفسیات کے زیرِ اثر وہ کلام کرتا ہے۔ یہ نفسیات بلاشبہ اس بات کے لیے ایک رکاوٹ ہے کہ مسلمان آزادانہ پلاننگ کریں، اور اپنا مستقبل خود بنائیں۔

اس معاملے میں پیغمبر اسلام کا اسوہ بہت ہی واضح اسوہ ہے۔ آپ کی بعثت ہوئی تو عرب میں ہر طرف بت پرستی کا غلبہ تھا، لیکن آپ نے ایک دن بھی بت پرستی کے خلاف احتجاج میں ضائع نہیں کیا، آپ نے مکمل طور پر آزاد ذہن کے ساتھ اپنی تحریک کی منصوبہ بندی کی۔ یہاں تک کہ آپ نے بت پرستی کے کلچر کو اپنے لیے آپار چیونٹی میں کنورٹ کرلیا۔ مثلا آپ نے بت پرستی کے لیے جمع ہونے والوں کو خدائی پیغام سنانے کے لیے آڈینس کے طور پر استعمال کیا۔برٹش مورخ ای ای کلیٹ نے (Ernest Edward Kellett)درست طور پر کہا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

He faced adversity with the determination to wring success out of failure. (A Short History of Religions by E.E. Kellet, pp. 331-32, Middlesex)

other sourceWords of another person or source

انھوں نے مشکلات کا مقابلہ اس عزم سے کیا کہ وہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں۔ موجودہ زمانے کے جتنے بھی لکھنے اور بولنے والے ہیں، وہ اس اسپرٹ سے محروم ہیں۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ مستقبل کی تعمیر کا پہلا قدم کیا ہوتا ہے۔ ہمارے تمام لکھنے اور بولنے والے اس معاملے میںبے خبری کا کیس بنے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگ شبد جنجال کا کیس بن سکتے ہیں، لیکن مستقبل کی تعمیر کا کیس نہیں بن سکتے۔

اہل کتاب کا رول

قرآن میں بتایا گیا ہےکہ بعد کے زمانے میں آیا ت و انفس کی نشانیاں ظاہر ہوں گی، اور تبیین حق کا ذریعہ بنیں گی (فصلت،41:53)۔ اسی طرح بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی فرعون کی باڈی کو غرقابی کے بعد محفوظ رکھے گا، تاکہ وہ بعد والوں کے لیے نشانی بنے (یونس، 10:92)۔ اسی طرح قرآن میں حضرت ابراہیم کی تاریخ کا حوالہ دیا گیا ہے (الانعام، 6:74)۔ یہ سب واقعات قرآن میں صرف اشارے کی زبان میں ہیں، تفصیل کی زبان میں نہیں۔ تفصیل کے لیے بتایا گیا ہے کہ غیر اہل اسلام کے ذریعے ان کو کھولا جائے گا(النحل، 16:43)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اب سوال یہ ہے کہ وہ کون غیر اہل اسلام ہیں جن کے ذریعے نشانیاں کھولی جائیں گی۔ غور کرنے کے بعد میں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) ہیں۔ اللہ تعالی نے اپنی منصوبہ بندی کے ذریعے ان لوگوں کو پہلے ڈائسپورا میں بھیجا۔ وہاں ان لوگوں کی تربیت ہوئی۔ انھوں نے اہل مغرب کے ساتھ رہ کر جدید علوم میں مہارت پیدا کی۔ اس کے بعد انھوں نے ان موضوعات پر تحقیق کی۔ کھدائی (excavation) کے ذریعے انھوں نے تاریخی معلومات کو اکٹھا کیا۔ یہ گویا غیر اہل اسلام کے ذریعے پچھلی قوموں کے احوال کی دریافت تھی، جو اہل کتاب کے ذریعے انجام پائی۔ یہ معلومات قرآن کے مضامین کو سمجھنے کے لیے بہت زیادہ معاون تھے۔

مسلم علما نے بدقسمتی سے اہل کتاب کے نئے رول کو نہیں سمجھا۔ وہ صرف ان کے خلاف فتوی کی زبان میں لکھتے اور پڑھتے رہے۔ ضرورت ہے کہ مسلم علما اپنے رویے پر نظر ثانی کریں، اور اہل کتاب کے تائیدی رول کو دریافت کرکے ان سے فائدہ اٹھائیں۔ مثلاً یہ کہ اسرائیلی سائنسدانوں نےصحرائی علاقے کو نئےطریقوں کو استعمال کرکے زرعی طور پر ترقی یافتہ بنا دیا۔ اب عربوں کو یہ موقع ہے کہ وہ ان سے استفادہ کرکے اپنے علاقے کو بھی ترقی دیں۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن اور آپسی تعاون کا معاہدہ ہوا ہے۔ 13 اگست 2020 کو یواے ای کے کراؤن پرنس محمد بن زاید نے اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ سے اس معاہدے کا اعلان کیا۔ یہ اہل کتاب سے ان کی اختصاصی فیلڈ میں تعاون کے لیے بہت اہم پیش رفت ہے۔

اخلاقیات پر مبنی سوسائٹی

اخلاقیات پر مبنی سوسائٹی بنانا ہمیشہ سےا نسان کا مطلوب نشانہ رہا ہے۔ اس پر بڑے بڑے دماغ کام کرتے رہے ہیں۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ اخلاقیات پر مبنی سوسائٹی لوگوں کا مطلوب گول تو بنی رہی، لیکن عملا ًایسا کبھی نہیں ہوا کہ کامل معنوں میں اس مطلوب گول پر مبنی ایک باقاعدہ سوسائٹی بالفعل قائم ہوجائے۔

اخلاقیات کا یہ خلا ہمیشہ انسان کی سوچ کا مرکز بنی رہی۔ کارل مارکس نے پہلی بار یہ کیا کہ اخلاقیات کو حکومتی سطح پر نافذ العمل ہونے کا درجہ دے دیا۔گویا اس نے اس گول کو لوگوں کے لیے خارجی دباؤکے ذریعہ قابلِ عمل بنادیا۔ مگر یہ تطبیق صرف مزید تباہی کا ذریعہ بن کر رہ گئی۔حقیقت یہ ہے کہ اخلاقیات انسانی ارادہ اور اختیار کا موضوع ہے، نہ کہ قانون کے زور پر نفاذ (impose)کا موضوع۔ اخلاق کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً مارکس کا نظریہ یہ تھا کہ حکومت کے ذریعےدولت کی مساوی تقسیم کی جائے۔ یہ اخلاقی تصور ہے۔ یعنی آدمی کو کمائی کے بقدر دینے کے بجائے ملک کے ہر شہری کے درمیان دولت کی مساوی تقسیم، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسلم دنیا میں سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب نے کارل مارکس کے اس تصور کو اسلامائز کیا۔ یہ نظریہ مسلم دنیا میں کافی مقبول ہوا۔ اگرچہ عملاً صرف یہ ہوا کہ اس سے مسلم دنیا کو نفرت اور ٹکراؤ کے سوا کچھ اور نہیں مل سکا۔ اخلاقی بنیاد پر دولت کی تقسیم صرف طاقت کے زور پر ہوسکتی ہے۔ لیکن آپ جب بزور لوگوں کے درمیان ایسا کریں گے تو نفرت اور لڑائی کا ماحول پیدا ہوگا۔ کیوں کہ اس تصور کے مطابق، اہل لوگوں کا حق مارا جائے گا، اور نااہل لوگوں کو دولت ملے گی۔یعنی اس طریقے کو آدمی جبرا قبول کرلے تب وہ اس کو دل سے ناپسند کرے گا، بلکہ وہ اس سے نفرت کرے گا۔

حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ اخلاقیات کو تعلیم و تربیت کا موضوع سمجھا جائے، نہ کہ جبری قانون کا موضوع۔فطرت کے مطابق، یہی قابلِ عمل بات ہے۔

الحاد یا ڈی کنڈیشننگ

اپنے تجربے سے مجھے ایک نئی بات معلوم ہوئی جس کو میں نے اِس سے پہلے نہ سنا تھا اور نہ پڑھا تھا۔ وہ یہ کہ انگریزی تعلیم یافتہ نوجوان، لڑکے اور لڑکیاں دونوں، بظاہر غیر مذہبی معلوم ہوتے ہیں لیکن وہ حقیقت میں ’غیر مذہبی ‘ نہیں ہیں۔ زیادہ صحیح لفظوں میں وہ ’غیر روایتی‘ ہیں۔ اُن کے گھر اور ان کے ماحول نے اُن کے اندر اپنے آبائی مذہب کے لیے جو عقیدت پیدا کی تھی، اُس کو جدید انگریزی تعلیم نے ختم کردیا، گویا کہ ان کی فطرت کے اوپر جو روایتی پردہ پڑ گیا تھا، وہ ہٹ گیا اور وہ اپنی اصل فطرت کے قریب آگئے۔

اِس تجربے سے میں نے یہ سمجھا ہے کہ ماڈرن ایجوکیشن کے ادارے اپنی حقیقت کے اعتبار سے ’قتل گاہ‘ نہیں ہیں، بلکہ وہ تطہیر ذہن کے ادارے ہیں۔ اِس نتیجے کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ دراصل ڈی کنڈیشننگ کے ادارے (institutions of deconditioning) ہیں۔ ذہنی تطہیر کے اِس عمل کی بنا پر ایسے لوگ اِس قابل ہوگئے ہیں کہ وہ کسی بات کو زیادہ کھلے ذہن کے ساتھ سمجھ سکیں۔

ایک حدیث کے مطابق، ہر پیدا ہونے والااپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اُس کو اس کے والدین اپنے اپنے مذہب میں ڈھال لیتے ہیں(كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِه)صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385۔یہ ایک مذہبی کنڈیشننگ کا معاملہ ہے۔ یہ مذہبی کنڈیشننگ دعوتِ حق کے مشن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کنڈیشننگ کی ڈی کنڈیشننگ دعوت کی کامیابی کا پہلا مرحلہ ہے۔ موجودہ سیکولر تعلیم کا نظام، ڈی کنڈیشننگ کے اِسی عمل کو انجام دے رہا ہے۔ گویا کہ جن نوجوانوں کے متعلق یہ سمجھا جاتا تھا کہ جدید تعلیم کے بعد وہ مذہب سے پھر گئے ہیں، برعکس طورپر جدید تعلیم نے اُن کو حقیقی مذہب سے قریب کردیا ہے۔ یہ ایک نیا امکان ہے جو جدید تعلیم نے پیدا کیا ہے۔ اِس امکان کو استعمال کرنا، دعوتی منصوبہ بندی کا پہلا اصول ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں فطرت کا یہ اصول بتایا گیا ہے کہ ناپسندیدہ صورت حال میں بھی ایک موقع موجود رہتا ہے (البقرہ،2:216) ۔موجودہ تعلیمی نظام کا یہ پہلو اِسی فطری قانون کی ایک مثال ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عصری تقاضے— چند قابلِ غور پہلو

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا(سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4291) ۔ یعنی اللہ اِس امت کے لیے ہر سو سال کے سرے پرایک شخص کو اٹھائے گا جو اُس کے لیے اُس کے دین کی تجدید کرے گا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:يُبَيِّنُ لَهُمْ أَمْرَ دِينِهِمْ (حلیۃ الاولیاء، جلد9، صفحہ97)۔ یعنی امت محمدی کے لیے ان کے دین كو واضح کرے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ کوئی پُراسرار بات نہیں۔ یہ فطری قانون کے تحت پیش آنے والا ایک معاملہ ہے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کی عمر بہت محدود ہے۔وہ سو سال سے پہلے ہی مرجاتا ہے۔ اِس طرح ہمیشہ ایک کے بعد دوسری نسل آتی رہتی ہے۔ ایک تیار شدہ نسل ختم ہوجاتی ہے، اس کے بعد ایک غیر تیار شدہ نسل پیدا ہوکر اس کی جگہ لے لیتی ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ جس طرح پہلی نسل کو تیار کیاگیاتھا، اُسی طرح دوبارہ اگلی نسلوں کو تیار کیا جائے۔ زوال کایہ عمل ایک مسلسل عمل ہے۔ اور اِس کو انحطاط (degeneration) کہاجاتاہے۔ تجدید اِسی صورتِ حال کی اصلاح کا نام ہے۔

مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس فطری پراسس کے معاملے میں امتِ محمدی کا کوئی استثنا نہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت پر جب زوال کا دور آیا تو بار بار مجددینِ اسلام پیدا ہوتے رہے۔ مثلاً عمر بن عبد العزیز اُموی (وفات 720 ء)، ابن تیمیہ الحرّانی (وفات1328 ء)، شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات1762 ء)، وغیرہ۔ یہ لوگ بجا طورپر مجدد تھے، اور انھوں نے اپنے زمانے کے لحاظ سے تجدید کا کام کیا۔

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ثابت شدہ طورپر اس کےدو دور معلوم ہوتےہیں— روایتی دور (traditional period)، اور سائنسی دور (scientific period)۔ تاریخی ترتیب کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پچھلی صدیوں میں جو مجددینِ اسلام پیدا ہوئے، وہ سب روایتی دور میں پیدا ہوئے۔ انھوںنے روایتی دور میں دین کو انسانی اضافوں سے پاک کرکے ازسرِ نو پیش کیا۔ اب امتِ مسلمہ سائنسی دور میں پہنچ چکی ہے۔ اِس دور کے حالات مکمل طورپر پچھلے دور سے مختلف ہیں۔ اِس فرق کو سامنے رکھتے ہوئے ایک مسلم اسکالر نے کہا تھا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Quran has to be re-revealed today.

مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہاجائے — ضرورت ہے کہ آج قرآن کو دوبارہ ایکسپلین کیاجائے:

Quran has to be re-defined today.

تجدید دین دراصل اِس توضیح ثانی (re-definition) کا نام ہے۔ مجدد وہ ہے جو بدلے ہوئے حالات کو سمجھے اور نئے حالات میں دین کو دوبارہ ایکسپلین کرے۔ یہ کام اپنی حقیقت کے اعتبار سے تجدید (revival) کا کام ہے۔ یہ اصلِ دین کا دوبارہ احیا ہے۔ اس کا کوئی تعلق اُس عمل سے نہیں جس کو موجودہ زمانے میں اصلاح (reformation) یا نظرثانی (revision) کہا جاتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ سائنسی دور میں تجدید کا یہ کام پوری شدت کے ساتھ مطلوب ہوچکا ہے۔ اب جب کہ سائنسی تحقیقات کے مطابق، سائنس داں یہ اعلان کررہے ہیں کہ انسانی تاریخ اپنے خاتمہ (end) کو پہنچنے والی ہے۔ جس زلزلہ کا ذکر قرآن میں کیاگیا ہے(99:1)، اس کے آثار عملاً شروع ہوچکے ہیں۔ یہاں تک کہ اب یہ کہا جانے لگا ہے — قیامت اب زیادہ دور نہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Doomsday is not far.

ایسی حالت میں اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس کو متعین کیاجائے کہ جدید سائنسی دور کی نسبت سے تجدید واحیاکا جوکام مطلوب ہے، وہ کیا ہے۔ اور وہ کیا ہے جس کو جدیدحالات کی نسبت سے تجدیدواحیا کا کام کہا جائے گا۔ قرآن اور حدیث کے حوالے سے اِس کام کی نوعیت کو پوری طرح معلوم کیا جاسکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آفاق اور انفس میں ظاہر ہونے والی نشانیاں

قرآن میںواضح طورپر یہ پیشین گوئی موجود ہے کہ بعد کے دور میں فطرت کی چھپی ہوئی نشانیاں (signs) ظاہر ہوںگی۔ اور یہ ضرورت ہوگی کہ اِن نشانیوں کی روشنی میں خدا کے دین کو از سرِ نو مدلّل کیا جائے۔ یہ ضرورت قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقّ(41:53)۔ یعنی عنقریب مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھلائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر یہ پوری طرح کھُل جائے گا کہ یہ حق ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آفاق اور انفس میںنشانیوں کے ظہور کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔ وہ واضح طورپر موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میںسامنے آچکی ہیں۔ مثال کے طورپر قرآن میں بتایا گیا تھا کہ حضرت موسیٰ کے معاصر فرعون کا جسم خدا نے محفوظ کردیا ہے، اور وہ بعد کے زمانے میں ظاہر ہوگا (یونس، 10:92 ) ۔ اِس آیت کے نزول کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک یہ واقعہ لوگوں کے لیے پراسرار بنا رہا۔ انیسویں صدی کے آخر میں پہلی بار سائنسی ذرائع سے یہ ممکن ہوا کہ فرعون کے اِس جسم کو دریافت کیا جاسکے اور اس کے زمانے کو معلوم کیا جاسکے۔ اِس طرح کی بہت سی نئی حقیقتیں ہیں، جو قرآن کی صداقت کی گواہی دیتی ہیں۔ یہ دورِ جدید کے تجدیدی کام کا ایک حصہ ہے، یعنی اِن نئی دریافتوں کو قرآن کی صداقت کی حیثیت سے پیش کرنا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لسانِ قوم میں دعوت

قرآن کی سورہ ابراہیم میں پیغمبروں کے بارے میں بتایا گیا ہے:وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (14:4)۔ یعنی اور ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، تاکہ وہ ان سے بیان کردے۔دوسرے الفاظ میں، خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھی آیا، وہ اپنی مدعو قوم کی زبان میں کلام کرتا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت میں ’لسان‘ سے مراد صرف زبان (language) نہیں ہے، بلکہ اُس میں کلام کا اسلوب (idiom) بھی شامل ہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی زبان میں کلام کیا۔ یہ آپ کے لیے قوم کی زبان میں بولنا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے زمین اور آسمان کے ملکوت (الأنعام،6:76) سے استدلال کرتے ہوئے مدعو کے سامنے اپنی بات پیش کی، اور حضرت مسیح علیہ السلام نے تمثیل (metaphor) کے انداز میں اپنی بات کہی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ دونوں اسلوب کی مثالیں ہیں، جو اپنے زمانے کے لحاظ سے استعمال کی گئیں۔ موجودہ زمانے میں دعوتی کلام وہ ہے جو وقت کی زبان میں ہو۔ وقت کی زبان کا ایک مطلب داعی کے اپنے علاقے کی زبان ہے۔ پھر یہ کہ موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ اِس لحاظ سے ضروری ہے کہ داعی آج کی انٹرنیشنل زبان میں کلام کرے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، آج کی انٹرنیشنل زبان صرف ایک ہے، اور وہ انگریزی زبان ہے۔

’’لسان‘‘ کے مسئلے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ وقت کے مخاطبین کے اسلوب میں ہو۔ آج کا اسٹینڈرڈ اسلوب وہ ہے جس کو سائنٹفک اسلوب کہاجاتا ہے۔ اگر آج کے انسان کو مخاطب کرنا ہے تو ضروری ہے کہ داعی کا کلام وقت کے اسلوب میں ہو، ورنہ یہ حال ہوگا کہ داعی بظاہر بولے گا، لیکن مدعو کا مائنڈ اس سے ایڈریس نہیں ہوگا۔ ایسے کلام کو دعوتی کلام نہیں کہاجاسکتا۔

سائنٹفک اسلوب کیا ہے اور قدیم روایتی اسلوب کیا تھا۔ قدیم روایتی اسلوب وہ تھا جس میں شعر، ادب، خطابت، رومانیت، تمثیل اور مبالغہ آرائی کی زبان میں کسی بات کے کہنے کو بھی کہنا سمجھا جاتا تھا۔ جذباتی طورپر پُرکشش الفاظ بولنے والے لوگ بھی داد کے مستحق قرار پاتے تھے۔ موجودہ زمانے میں اِس قسم کا اسلوب پوری طرح متروک (obsolete)ہوچکا ہے۔

موجودہ زمانے کا اسٹینڈرڈ اسلوب سائنٹفک اسلوب ہے۔ سائنٹفک اسلوب وہ ہے جو مبنی بر حقیقت اسلوب ہو۔ جس کے الفاظ اور معنی میں کامل مطابقت پائی جائے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ سائنٹفک اسلوب وہ ہے جو پورے معنوں میں علمی اور منطقی (rational) اسلوب ہو۔ موجودہ زمانے میں وہی لٹریچر دعوتی لٹریچر ہے، جو اِس سائنٹفک اسلوب میں لکھا گیا ہو— یہی سائنٹفک اسلوب قرآن کا اسلوب ہے۔

قدیم دور، جدید دور

انڈیا کے انگریزی روزنامہ دی ٹائمس آف انڈیا (20اپریل 1984) میں ایک دلچسپ لطیفہ نقل کیا گیا ہے۔ اس کا عنوان ہے:

other sourceWords of another person or source

Space is not the Limit

"Rakesh's journey into space" says the narrator, was tabled for discussion in our house. Every member of the family was expressing his or her opinion on the subject. Then my youngest daughter asked: "Dad, can I become the first Indian spacewoman?"

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

"Yes dear" replied the grandmother, "you will be the first Indian spacewoman. I will consult Pandit Girdhar Vyas and see what is in store for you in your kundali."

My eldest son, Arun, interjected. "Mom, you should consult the Russian leader, not astrologers."

other sourceWords of another person or source

یہ لطیفہ بتاتا ہے کہ وہ کیا فرق ہے، جو دورِ قدیم اور دورِ جدید کے درمیان ہے۔ قدیم زمانے میں علم نام تھا نجومیوں اور جوتشیوں کی قیاسات کا، مگر موجودہ زمانے میں علم نام ہے مطالعہ اورتجربہ کے ذریعے دریافت شدہ حقیقت کا۔ قدیم زمانے کا انسان سمجھتا تھا کہ واقعات پراسرار اسباب کے تحت ہوتے ہیں۔ مگر آج کا انسان یہ جانتا ہے کہ واقعات معلوم اسباب کے تحت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا ایک تعلیم یافتہ نوجوان خلا (space) کے سفر کے معاملے کو جوتشی سے پوچھنے کے بجائے خلائی سائنس کے ماہرین سے پوچھنے پر زور دیتا ہے۔

جدید انسان کے سامنے اسلام کو پیش کرنے کے لیے اس فکری تبدیلی کا لحاظ کرنا بہت ضروری ہے۔ اسلام اگرچہ پوری طرح ایک سائنٹفک مذہب (scientific religion) ہے۔ مگر اس کو پیش کرنے والے، مذکورہ گرینڈ مدر کی طرح، غیر سائنسی انداز میں پیش کرسکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ایسا ہوسکتا ہے کہ جوالزام حقیقۃً داعی کے سر آنا چاہیے تھا، وہ غیر ضروری طور پر اسلام کے سر آجائے۔

تعلقاتِ انسانی کا اصول

انسانوں کے درمیان تعلقات قائم کرنے کے لیے ہمیشہ ایک جامع اصول درکار ہوتا ہے۔ ایک ایسا اصول جو اپنے ا ور غیر کے درمیان مساوات (equation) کے قیام کی بنیاد بن سکے۔ یہ ایک ایسی ضرورت ہے جس کے بغیر انسانی سماج کو منظّم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

اسلام کی تاریخ میںابتدائی اور معیاری زمانہ وہ ہے جس کو عہدِ رسالت کہاجاتا ہے۔ اِس زمانے میں انسانی تعلقات کی بنیاد جس اصول پر قائم کی گئی تھی، وہ شاہد اور مشہود (البروج،85:3) کی بنیاد تھی۔ یہ دونوں لفظ شہادت (گواہی) سے اخذ کیے گئے ہیں۔ شاہد کا مطلب ہے گواہ (witness)، اور مشہود کامطلب ہے وہ جس پر گواہی دی جائے(witnessed) ۔ شہادت سے مراد دعوت ہے اور شاہد و مشہود سے مراد وہی چیز ہے، جس کے لیے داعی اور مدعو کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان شاہد اور مشہود کی یہ مساوات (equation) عہدِ رسالت اور عہد صحابہ میں قائم رہی۔ اِس کے بعد عباسی سلطنت کا زمانہ آیا، جب کہ دنیا کے بڑے حصے میں ایک مسلم ایمپائر قائم ہوگیا۔ اب شاہد اور مشہود کی یہ سابق مساوات ٹوٹ گئی، اور نئی مساوات حاکم اور محکوم کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ یہی وہ زمانہ ہے، جب کہ مسلم فقہا نے دار الکفر اور دار الاسلام کی اصطلاحیں وضع کیں۔ اِس مساوات کے تحت، دنیا کو دو حصوں میں بانٹ دیاگیا۔ مسلم اکثریت کے علاقے دارالاسلام بن گئے، اور اس کے مقابلے میں غیر مسلم علاقے دار الکفر یا دار الحرب قرار پائے۔

انیسویں صدی عیسوی میںیورپ کی نوآبادیاتی طاقتوں کے ظہور کے بعد یہ مساوات (equation) دوبارہ ٹوٹ گئی۔ اب مغربی تہذیب کے غلبہ کے تحت دنیا میں ڈیموکریسی کا زمانہ آیا۔ سیاست کے جمہوری تصور کے تحت، حاکم اور محکوم کی مساوات بے معنیٰ قرار پائی۔ اُس نے اپنے حق میں فکری اساس کھو دی۔مسلمانوں اور مغربی قوموں کے درمیان بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگیں (crusades) پیش آئیں۔ اِن جنگوں میںمغربی قوموں کو شکست ہوئی، لیکن اِس شکست نے ان کے اندر ایک مثبت نتیجہ پیدا کیا۔ یہ لوگ علم کے میدان میںسرگرم ہوگئے، یہاں تک کہ مغربی یورپ میں پندرھویں اور سولھویں صدی میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو یورپ کی نشاۃِ ثانیہ (renaissance) کہاجاتا ہے۔

اِس کے بعد مغربی دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا۔ مغربی قوموں نے تجارت اور صنعت کے نئے طریقے دریافت کیے۔ یہاںتک کہ عمومی پیمانے پر ایک نئی مساوات (equation) قائم ہوگئی۔ یہ تاجر اور خریدار (trader and customer) کی مساوات تھی۔ اِس مساوات کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے ایک نیا کلچر وجود میں آیا جو خریدار دوست کلچر (customer-friendly culture) کے اصول پر مبنی تھا۔ یہی کلچر آج کی دنیا میں ابھی تک باقی ہے۔

اِس نازک وقت میں مسلمانوں کے ساتھ ایک المیہ (tragedy) پیش آیا۔ وہ حاکم اور محکوم کی سابقہ سوچ سے باہر نہ آسکے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جدید اقتصادیات (economy)کی مین اسٹریم میں شامل نہ ہوسکے۔ اِس پچھڑے پن کی قیمت مسلمانوں کو یہ دینی پڑی کہ وہ موجودہ زمانے میں دہرا نقصان کا شکار ہوگئے۔

جدید حالات سے ہم آہنگ نہ ہونے کی بنا پر ایک طرف یہ ہوا کہ وہ اقتصادیات میں دوسری قوموں سے پیچھے ہوگئے۔ دوسرا اس سے بھی بڑا نقصان یہ تھا کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر ڈبل اسٹینڈرڈ (double standard) کا کیس بن گئے۔ ذہنی طور پر وہ دوسری قوموں کے بارے میں منفی خیالات رکھتے تھے، لیکن ان کا یہ منفی فکر قابلِ عمل نہیں ہوسکتا تھا۔ اپنی مادّی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اُن کو اِنھیں قوموں سے مل کر کام کرنا تھا۔ داخلی طورپر وہ اِن قوموں کے بارے میں منفی ذہن رکھتے ہوئے خارجی زندگی میںاُنھیں مغربي قوموں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا۔ اِس طرح مسلم تاریخ میں پہلی بار ایک سنگین بُرائی پیدا ہوئی۔ یعنی داخلی طورپر منفی رائے رکھتے ہوئےخارجی معاملات میں ان کے ساتھ سمجھوتہ کرکے اپنی مادّی زندگی کی تعمیر کرنا۔ یہ دو عملی یا ڈبل اسٹینڈرڈ کی عمومی حالت تھی۔ اِس قسم کی عمومی دو عملی مسلمانوں کی تاریخ میں اِس سے پہلے کبھی پیش نہیں آئی۔

اِس برائی سے بچنے کا واحد طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے دورِ اوّل کی طرف فکری واپسی۔ یعنی دورِ اول کی طرح دوبارہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کی مساوات (equation) قائم کرنا۔ داعی اور مدعو کی مساوات ہی اسلام کے مطابق، صحیح مساوات ہے۔ اِس مساوات کو دوبارہ قائم کرکے مسلمان موجودہ دو عملی کی بُرائی سے بچ سکتے ہیں اور اِسی کے ساتھ امتِ مسلمہ ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی عمومی ذمے داری کو ادا کرسکتے ہیں، یعنی دعوت الی اللہ کی ذمے داری۔

آئڈیالوجی آف دعوہ

حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت عملاً زندہ نہ رہے اور پھر کوئی شخص اس کو اپنی کوششوں سے زندہ کرے، تو اِس عمل پر اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔مثلاً ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں:مَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 9439)۔ یعنی جس نے میری سنت زندہ کی، یقیناًاس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی، وہ میرے ساتھ جنت میں رہے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس حدیث کوسامنے رکھا جائے اور غور کیا جائے کہ موجودہ زمانے میں وہ کون سی سنت رسول ہے جو آج زندہ نہیں ہے تو بلاشبہ وہ صرف ایک سنت ہوگی، اور وہ دعوت الی اللہ کی سنت ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو دیکھیے تو ان کے درمیان نماز اور روزہ اور حج اور زکاۃ جیسے دینی اعمال بہت بڑے پیمانے پر انجام دیے جارہے ہیں، لیکن صرف ایک دعوت الی اللہ کی سنت ہے، جو آج عملاً زندہ نہیں۔اِس معاملے میں مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ وہ ملّی خدمت یا اصلاح المسلمین کا کام کریں گے اور وہ اس کو دعوت الی اللہ کا نام دے دیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کے رشتے کو زندہ کرنا، اِس معاملے میں سنتِ رسول کو زندہ کرنا ہے۔ لیکن یہ کوئی سادہ کام نہیں۔ یہ بلا شبہ ایک عظیم ترین کام ہے۔ دعوت کی اِس اہمیت کی بنا پر قرآن میں اُس کو جہادِ کبیر (25:52) کہاگیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسلمانوں کے درمیان دعوت الی اللہ کی سنت کو حقیقی معنوں میں زندہ کرنے کے لیے ایک مکمل دعوہ آئڈیا لوجی(ideology of dawah) درکار ہے۔ ایک ایسی آئڈیا لوجی جو اسلام کو جدید علمی اصول پر ثابت شدہ بنائے، جو اُن سوالات کا تشفی بخش جواب دے جو اسلام کے راستے میں ذہنی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

دعوت کا کام ایک ایسے ماحول کا طالب ہے، جہاں داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور تشدد کا مکمل خاتمہ کردیا گیا ہو۔ یہ خاتمہ فریقِ ثانی کی طرف سے کبھی نہیں کیا جائے گا۔ یہ خاتمہ جب بھی ہوگا، وہ داعی گروہ کی طرف سے یک طرفہ طورپر کیا جائے گا۔ اِسی لیے قرآن میں دعوت کا حکم دیتے ہوئے پیغمبر اسلام سے فرمایا گیا: وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ (74:7)۔ یعنی مدعو کی طرف سے تمام زیادتیوں پر یک طرفہ صبرکرو اور پوری طرح مثبت انداز میں دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے نظریات سامنے آئے ہیں جو بظاہر اسلام کے روایتی موقف سے ٹکراتے ہیں۔اِس ظاہری ٹکراؤ نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو اِن جدید نظریات کے بارے میں منفی ذہن میں مبتلا کردیاہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ اِن نظریات کی ایسی توضیح(explanation) کی جائے جو اس معاملے میں مسلمانوں کے منفی ذہن کا خاتمہ کرسکے۔ بصورتِ دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان وہ نارمل تعلقات قائم نہیں ہوں گے جو دعوت کے مثبت عمل کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانے میں شتمِ رسول کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے ایک حساس مسئلہ بن گیا ہے۔ وہ جب بھی کوئی ایسی تحریر پڑھتے ہیں یا تقریر سنتے ہیں، جو اُن کے نزدیک شتمِ رسول کے ہم معنیٰ ہو، تو وہ فوراً مشتعل ہوجاتے ہیں اور تشدد کا عمل شروع کردیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہایت سنگین طورپر دعوتی عمل کے راستے میں رکاوٹ ہے۔

اِس کا سبب یہ ہے کہ جدید تہذیب کے زیر اثر آج تمام غیر مسلم قوموں میں یہ مان لیاگیا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی مطلق معنوں میں انسان کا ایک حق ہے۔ کسی بھی عذر کی بناپر اس کو موقوف نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے ماحول میں مسلمان جب بطورِ خود شتم کے واقعے کو لے کر ہنگامہ شروع کرتے ہیں اور وہ میڈیا کے ذریعے فوراً لوگوں کے علم میں آجاتا ہے، تو لوگ یہ تصور قائم کرلیتے ہیں کہ اسلام آزادیٔ رائے کے خلاف ہے۔ اِس بنا پر اسلام اِس قابل نہیں کہ وہ جدید انسان کا مذہب بن سکے۔

میں ذاتی طورپر شتمِ رسول کو ایک ایسا معاملہ سمجھتا ہوں جس پر مسلمان صرف دو قسم کے رویے کا حق رکھتے ہیں۔ یا تو وہ اس سے اعراض کرتے ہوئے خاموش رہیں، یا دلیل کی زبان میں پُرامن طورپر وہ اس کا جواب دیں۔ اِس موضوع پر میںنے "شتمِ رسول کا مسئلہ" کے نام سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جو 191صفحات پر مشتمل ہے اور 1997 میں نئی دہلی سے شائع ہوچکی ہے۔

تاہم بالفرض اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ شتمِ رسول ایک قابلِ گردن زدنی معاملہ ہے، اور وہ یُقتل حدًّا(بطور حد قتل کیا جائے گا)کا کیس ہے، تب بھی اس کو اِس معاملے میں اجتہاد کرنا چاہیے۔ دعوت الی اللہ کی مصلحت کا تقاضا ہے کہ ایسا شخص اِس معاملے کو الضَّرُورَاتِ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ(الموافقات للشاطبي، جلد5، صفحہ 99)کے خانے میں ڈالے، اور قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت، اس کو موجودہ زمانے میں موقوف(suspended) قرار دے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں مسلمانوں کا منفی ذہن بدستور باقی رہے گا اور وہ دعوت جیسے مثبت عمل کے لیے نااہل (incompetent) قرار پائیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اوپر جن مسائل کا بیان ہوا، وہ براہِ راست طورپر دعوت الی اللہ کی تجدید سے تعلق رکھتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو نئے حالات پیدا ہوئے ہیں، ان کے ریفرنس میں دعوت کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کرنا ہے۔ نئے حالات میں جو نئی رکاوٹیں پیدا ہوئیں ہیں، ان کااِس طرح جواب دینا ہے جو دعوت کے راستے کو دوبارہ کھولنے والا ہو۔ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کی بات کرنا دراصل اِنھیں سوالات کو ایڈریس کرنے کا نام ہے۔ اِس سے کم تر درجے کا کوئی عمل موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کے راستے کو ہموار کرنے والا نہیں۔

اِن مسائل سے صرفِ نظر کرکے اگر کوئی کام کیا جائے اور بطور خود اس کو دعوت الی اللہ کا نام دیا جائے، تو یہ قرآن (3:188)کے الفاظ میں يُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا (چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیےاس پر ان کی تعریف ہو) کا مصداق ہوگا، یعنی ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا جس کو آدمی نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دعوت الی اللہ

دعوت الی اللہ تمام پیغمبروں کا مشن تھا اور خود پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی۔دعوت الی اللہ کا مطلب ہے لوگوں کو اللہ کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا۔گویا دعوت خدائی پیغام کو انسانوں تک پہنچانے کا ایک عمل ہے۔ انبیاء کے لیے اتمام حجت کا جو معیار مقرر کیا گیا وہ صرف یہ تھا کہ وہ خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہنچادیں (النحل، 16:35)۔چنانچہ انبیاء نے اپنی قوم کو قولِ بلیغ میں خدا کا پیغام پہنچایا۔ قولِ بلیغ سے مراد وہ کلام ہے، جو آدمی کے ذہن کو ایڈریس (address) کرنے والا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دنیا کے فطری قانون کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان دوسروں کو صرف باخبر کرسکتا ہے۔ قرآن میںرسول اللہ کے حوالےسے بتایا گیا ہے: تم جس کو چاہو ہدایت نہیں دے سکتے۔ بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے(القصص، 28:56)۔اس آیت کے تحت مفسر النسفی (وفات 710ھ) لکھتے ہیں: لا تقدر أن تدخل في الإسلام كل من أحببت أن يدخل فيه (تفسیر النسفی، جلد2، صفحہ 649)۔ یعنی تم قدرت نہیں رکھتے ہو کہ تم جس کو چاہو اسلام میں داخل کرلو۔ اسی حقیقت کو دوسری سورت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: پس تم یاد دہانی کردو، تم بس یاد دہانی کرنے والے ہو۔ تم ان پر داروغہ نہیں (88:21-22)۔ ان آیات کے مطابق، ہماری ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ کسی انسان کو اپنے دین میں لے آئیں،اور نہ ہی اس کو دعوت کی کامیابی کا معیار بنانا چاہیے۔ بلکہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دوسروں تک خدا کا پیغام حکیمانہ انداز میں پہنچادیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں دعوتی عمل کے لیے جو مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ سب اطلاع اور آگاہی کے معنی میں ہیں۔مثلاً صدع بالامر (الحجر،15:94)یعنی حکم کو کھول کر سنانا۔ تبئینِ ذکر (النحل، 16:44) یعنی نصیحت کو بیان کرنا۔ایذانِ وحی (الانبیاء، 21:109)یعنی وحی کی اطلاع دینا۔ ابلاغ رسالۃ (الاعراف، 7:79)یعنی خدا کا پیغام پہنچانا۔ قص آیات (الاعراف، 7:35) یعنی آیات کو سنانا۔ قرأتِ قرآن (الاسراء، 17:106)یعنی قرآن کو پڑھ کر سنانا۔ تلاوتِ کتاب (العنکبوت، 29:51)یعنی کتاب کو پڑھ کر سنانا۔ انذار و تبشیر (سبأ، 34:28) یعنی خوش خبری دینا اور آگاہ کرنا۔نداء للایمان (آل عمران، 3:193) یعنی ایمان کی پکار لگانا۔ دعوت الی الاسلام (الصف، 61:7) یعنی اسلام کی دعوت۔ تبلیغ ما انزل اللہ (المائدۃ، 5:67) یعنی خدا کے نازل کردہ پیغام کو پہنچانا۔ تذکیر بایام اللہ (ابراہیم، 14:5) یعنی اللہ کے دنوں کو یاد دلانا، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اوراقِ حکمت

1985 کی ڈائری

6 نومبر 1985

قرآن میں اہلِ جنت کے بارے میں آیا ہے کہ وہ با اقتدار بادشاہ کے پاس سچی نشستوں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے ( فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ)54:55۔

Qur'anQuotes the Qur'an

موجودہ دنیا میں آدمی جھوٹی نشستوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ آخرت میں آدمی سچی نشستوں پر بٹھایا جائے گا۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی فریب اور استحصال (exploitation)کے ذریعہ اونچی جگہ پائے ہوئے ہے۔ یہاں ہم کو ایسے لوگوں کے درمیان زندگی گزارنا پڑتا ہے، جو اپنے آپ کو اس کا پابند نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے اختیار کو صرف عدل کے دا ئرے میں استعمال کریں۔

آخرت کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کا کامل اختیار حاصل ہے۔ مگر اس نے اپنے آپ کو اس کا پابند بنا رکھا ہے کہ وہ عدل اور رحمت ہی کے دائرہ میں اپنے اعلیٰ اختیارات کو استعمال کرے ۔ اس سلسلے میں قرآن کے متعلق الفاظ یہ ہیں:كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (6:12) ۔ یعنی اس نے اپنے اوپر رحمت لکھ لی ہے۔اسی کے ساتھ وہ ایک ایسی ہستی ہے، جو اعلیٰ ترین معیاری ذوق رکھتا ہے۔ وہ پرفکٹ سے کم پر کبھی راضی نہیں ہوتا۔ ایسے شہنشاہ کے پڑوس میں جگہ پانا کس قدر پر مسرت اور لذیذ ہوگا اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اللہم انک ملک مقتدر ما تشاء من امرٍ یکونُ فاستعدنی فی الدارین وکُن بی ولا تکن علیَّ وآتنی فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنی عذاب النار ۔

Qur'anQuotes the Qur'an

7 نومبر 1985

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی تقریریں سنیے یا ان کی تحریریں پڑھیے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سوچ تمام تر قومی سوچ ہے۔ وہ خواہ قومی الفاظ بول رہے ہوں یا نظریاتی الفاظ، لیکن ان کی باتوں کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کیجیے تو اس کے اندر سے صرف ’’قومی اسلام‘‘ برآمد ہوگا۔

مسلمانوں کی قومیت اور دوسروں کی قومیت میں بس یہ فرق ہے کہ دوسرے لوگوں کے پاس اپنے اجتماعی تشخص کو بتانے کے لیے اگر قوم کا لفظ ہے تو مسلمان ’’خیر امت‘‘ کا پر فخر لفظ پائے ہوئے ہیں۔ دوسرے کے پاس اگر صرف کتاب ہے تو مسلمانوں کے پاس کتاب کامل ہے۔دوسروں کے پاس اگر ’’نبی‘‘ ہے تو مسلمانوں کے پاس افضل الانبیاء ۔ دوسروں کے لیے جہنم کا خطرہ ہوسکتا ہے مگر مسلمانوں کو یہ خوش قسمتی حاصل ہے کہ ان کے لیے جنت کے بہترین محلات پیشگی طورپر رزرو (reserve) ہوچکے ہیں— آہ، وہ مسلمان جو اپنے آپ کو دینِ خداوندی میں نہ ڈھال سکے، البتہ دین خداوندی کو اپنے آپ میں ڈھال لیا۔

8 نومبر 1985

حادثہ موجودہ دنیامیںہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے۔ مگر کوئی حادثہ، خواہ وہ کتنا ہی سخت ہو، کسی آدمی کو صرف جزئی طورپر نقصان پہنچاتا ہے، وہ اس کو آخری طور پر تباہ نہیں کرتا۔

حادثہ کے بعد جو لوگ کھوئی ہوئی چیز کا غم کریں، وہ صرف اپنی بربادی میں اضافہ کرتے ہیں۔ جو لوگ حادثہ پیش آنے کے بعد بچی ہوئی چیز پر اپنی ساری توجہ لگا دیں وہ از سرِ نو کامیابی کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ آپ کھونے کے باوجود پاسکتے ہیں، بشرطیکہ آپ کھونے کے باوجود پانے کی جدوجہد کرسکیں۔

11 نومبر1985

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے:عَنْ سَخْبَرَةَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ أُعْطِيَ فَشَكَرَ، وابْتُلِيَ فَصَبَرَ، وَظَلَمَ فَاسْتَغْفَرَ، وَظُلِمَ فَغَفَرَ ۔ ثُمَّ سَكَتَ۔ فَقَالُوا:يَا رَسُولَ اللهِ، مَالَهُ؟ قَالَ:أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 6613)۔ یعنی سخبرة کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جس کو دیاگیا پھر اس نے شکر کیا، اور اس کو آزمایا گیا پھر اس نے صبر کیا، اور اس پر ظلم کیا گیا تو اس نے معاف کردیا۔ اتنا کہہ کر آپ چپ ہو گئے۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ایسے شخص کے لیے کیا ہے؟ آپ نے کہا : انھیں لوگوں کے لیے امن ہے، اور وہی لوگ ہدایت یاب ہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ بِمَالِهِ، أَوْ فِي نَفْسِهِ، وَكَتَمَهَا، وَلَمْ يَشْكُهَا إِلَى النَّاسِ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 737)۔ یعنی ابن ِعباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جس کے مال یا اس کے جان میں کوئی مصیبت پڑے، پھر وہ اس کو چھپا لے اور لوگوں سے ا س کی شکایت نہ کرے تو اللہ پر اس کا حق ہے کہ وہ اس کو بخش دے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

12 نومبر 1985

امریکا کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن (Thomas Jefferson, 1743-1826) کا قول ہے کہ تمام صفات میں سب سے قیمتی صفت یہ ہے کہ جہاں ایک لفظ بولنے سے کام چل جاتا ہو وہاں آدمی کبھی دو لفظ استعمال نہ کرے:

other sourceWords of another person or source

The most valuable of all talents is that of never using two words when one will do.

ایک شخص بہت لمبی لمبی تقریریں کرتا تھا۔ اس سے کہا گیا کہ تم مختصر تقریر کیوں نہیں کرتے۔ اس نے جواب دیا: مختصر تقریر کرنے کے لیے میرے پاس وقت نہیں۔

لمبی تقریر کرنے والا بس کھڑا ہو کر بولنا شروع کردیتا ہے، اس کو کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں۔ مگر جب مختصر وقت میں پوری بات کہنی ہو تو مقرر کو تقریر سے پہلے کافی سوچنا پڑے گا۔ وہ مختلف خیالات اور معلومات کو پہلے اپنے اندر ہضم کرے گا۔ پھر ایک سوچی سمجھی تیار شدہ تقریر کرے گا۔ ایسی مختصر تقریر کے لیے ہمیشہ لمبی تقریر سے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

13 نومبر 1985

شیطان کی شیطانی سے بچنا ممکن ہے، مگر انسان کی شیطانی سے بچنا ممکن نہیں۔ کیوں کہ شیطان صرف بہکاتا ہے مگر انسان عملی طور پر آپ کے اوپر حملہ آور ہوتا ہے۔ شیطان صوتی آلودگی (noise pollution) پیدا نہیں کرتا، جب کہ انسان لاؤڈاسپیکر لگا کر شور کرتا ہے، اور آپ کے سکون کو درہم برہم کردیتا ہے۔ شیطان آپ کے اثاثہ پر قبضہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا، جب کہ انسان آپ کے اثاثہ پر ناجائز قبضہ کرتا ہے، اور آپ کو جھگڑے اور مقدمات میں الجھا کر آپ کے سارے تعمیری منصوبہ کو ملیامیٹ کردیتا ہے۔ ابلیس ’’بے سلطان‘‘شیطان ہے۔ مگر انسان وہ شیطان ہے، جس کو وقتی طورپر سلطان بھی دے دیا گیاہے۔

14 نومبر 1985

دنیا میں آدمی کو بہت سی چیزیں حاصل ہیں— اس کا اپنا وجود، اس کا گھر اور جائداد، اس کے دوست اور رشتہ دار، اور دوسرے اسباب اور سامان، وغیرہ۔

یہ جو کچھ انسان کو موجودہ دنیا میں حاصل ہے، ان کے بارے میں دو نقطۂ نظر ہوسکتے ہیں— ایک یہ کہ یہ سب چیزیں ہماری ہیں، ہم ان کے مالک ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہم ان میں سے کسی چیز کے خود مالک نہیں۔ ہر چیز خدا کی ہے۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ سامانِ امتحان کے طورپر ہے، نہ کہ سامانِ ملکیت کے طورپر۔

پہلا ذہن ناشکری کا ذہن ہے، اور دوسرا ذہن شکر گزاری کا ذہن۔ پہلے ذہن کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کا نام کفر ہے، اور دوسرے ذہن کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کا نام اسلام ہے۔ پہلے ذہن کے تحت زندگی گزارنے والے کے لیے جہنم ہے، اور دوسرے ذہن کے تحت زندگی گزارنے والے کے لیے جنت۔

15 نومبر 1985

ظن (گمان)کا مطلب ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی خاص رائے رکھنا، ذہن میں کسی کے بارے میں کوئی امیج بنانا، خواہ وہ اچھا ہو یا برا :

To have a particular opinion about something or someone, to have a picture in the mind.

انسان کو اپنے خالق کے بارے میں اچھاگمان رکھنا چاہیے، اس تعلق سے مختلف احادیث میں رہنمائی کی گئی ہے۔ مثلاً ایک حدیثِ رسول یہ ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ:أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2675، مسند احمد، حدیث نمبر 10782)۔ یعنی ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میںاپنے بارے میں بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتاہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسری روایتوں میں کچھ مختلف الفاظ آئے ہیں۔ چند الفاظ یہ ہیں:

(1) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ (مسند احمد، حدیث نمبر 16016)۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں۔ پس وہ جیسا چاہے میرے بارے میں گمان کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

(2) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2675)۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اور میں اس کے ساتھ ہوں، جب وہ مجھ کو پکارے۔

hadithQuotes a hadith

(3) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، إِنَّ ظَنَّ خَيْرًا فَخَيْرٌ، وَإِنَّ ظَنَّ شَرًّا فَشَرٌّ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 401)۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کےپاس ہوں۔ اگر اس نے اچھا گمان کیا تو خیر ہے، اور اگر اس نے برا گما ن کیا تو برا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

16 نومبر 1985

حضرت بریدہ اسلمی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا:اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، قَالَ:فَقَالَ:وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى(سنن الترمذی، حدیث نمبر 3475) ۔ یعنی اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کیوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور کوئی اس کے برابر کا نہیں ۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس آدمی نے اللہ کا ایک بہت بڑا نام (اسم اعظم) لے کر دعا کی ہے۔ یہ نام لے کر جب سوال کیا جائے تو وہ پورا کیا جاتا ہے اور جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حدیث کے مطابق لوگوں کو تلاش ہوئی کہ خدا کا ’’اسم اعظم‘‘ کیا ہے۔ اس تلاش میں بہت سی دوسری روایتیں بھی ملیں جن میں یہی بات کہی گئی تھی۔ مگر ان روایتوں میں دوسرے ایسے اسماء تھے جو اس حدیث میں نہیں ہیں۔ البتہ لفظ ’اللہ‘ تمام روایتوں میں مشترک تھا، اس سے یہ استدلال (reasoning)قائم کرلیا گیا کہ اللہ ہی اسم اعظم ہے (أَنَّ لَفْظَ اللَّهِ مَذْكُورٌ فِي الْكُلِّ فَيُسْتَدَلُّ بِذَلِكَ عَلَى أَنَّهُ الِاسْمُ الْأَعْظَمُ)تحفۃ الاحوذی، جلد9، صفحہ 313۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس استنباط (inference)کے مطابق لوگ ’’اللہ‘‘ کو اسم اعظم سمجھ کر اس کا وِرد کرنے لگے۔ مگر حدیث کا یہ مطلب نہیں۔ حدیث میں لفظ ’’اسم‘‘ صفت کے معنی میں ہے اس سے مراد کوئی خاص لفظ نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب آدمی اللہ کی صفات عالیہ کو دریافت کرتا ہے اور اس کا اظہار کرتے ہوئے بے تابانہ خدا کو پکارتا ہے تو ایسی پکار ضرور قبولیت کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔

18 نومبر 1985

ایک انسان جب گاڑی کو چلاتا ہے تو اس کا نام بھی چلنا ہے، اور اگر گاڑی کا انجن چلا کر اسے چھوڑ دیں تب بھی وہ دوڑے گی اور اس کو بھی چلنا کہا جائے گا۔ مگر حقیقت میں چلنا وہی ہے جب کہ انسان گاڑی کو چلا رہا ہو(یا ایسی گاڑی ہو جو آٹو پائلٹ (autopilot) نظام سے لیس ہو، جس کو سیلف ڈرائیونگ کار کہا جاتا ہے)۔ کیوں کہ انسان گاڑی کو چلانے کے ساتھ اس کو روکنا بھی جانتا ہے۔ وہ آگے بڑھانے کے ساتھ اس کوموڑنا بھی جانتا ہے۔ جب کہ ڈرائیور کے بغیر جوگاڑی ہو وہ صرف سیدھی دوڑتی رہے گی، یہاں تک کہ کہیں ٹکرا کر ختم ہوجائے گی۔

یہی معاملہ زندگی کے سفر کا ہے۔ زندگی میں کبھی بولنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی چپ رہنا۔ کبھی ضرورت ہوتی ہے کہ آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف ہٹ جائیں۔ کبھی ضروری ہوتا ہے کہ اپنی شرطوں پر اصرار نہ کیا جائے بلکہ دشمن کی شرطوں کو مان لیا جائے۔

زندہ لوگ باڈرائیور گاڑی کی طرح ہیں اور مردہ لوگ بے ڈرائیور گاڑی کی طرح۔ اس دنیا میں صرف زندہ لوگوں کا سفر کامیابی پر ختم ہوتا ہے۔ مردہ لوگوں کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ یک طرفہ طورپر دوڑتے رہیں، یہاں تک کہ کسی چٹان سے ٹکرا کر ختم ہوجائیں۔

19 نومبر1985

پیغمبر اسلام کے حوالے سےقرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے:وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ ۔ وَكَذَلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ (6:52-53)۔ یعنی اور تم ان لوگوں کو اپنے سے دور نہ کرو جو صبح وشام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ ان کے حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ تم پر نہیں اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ ان پر نہیں کہ تم ان کو اپنے سے دور کرکے بےانصافوں میں سے ہوجاؤ، اور اس طرح ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے سے آزمایا ہے تاکہ وہ کہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل ہواہے۔ کیا اللہ شکر گزاروں سے خوب واقف نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حق کے حامل اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جو ظاہر کے اعتبار سے کوئی امتیازی اہمیت نہیں رکھتے۔نیز بے آمیز حق کو اختیار کرتے ہی آدمی نیشنل مین اسٹریم سے نکل جاتاہے۔ یہ چیز بھی اس کو لوگوں کی نظر میں غیر اہم بنادیتی ہے۔ مگر یہ صورت حال باقی رہے گی یہاںتک کہ قیامت آجائے۔ کیوں کہ اس دنیا میں یہی اصل امتحان ہے کہ آدمی غیب (چھپی ہوئی حقیقتوں) کو پہچانے ۔ وہ کسی سچائی لانے والے انسان کو جوہر (خوبی) کی سطح پر پہچانے، نہ کہ محض ظاہر کی سطح پر۔

21 نومبر 1985

قرآن میں مختلف مقام پر بتایا گیا ہے کہ اسرائیل جب مصرمیں آباد تھے تو مصر کا بادشاہ ان کے لڑکوں کو قتل کردیتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ (دیکھیے2:49 ؛ 7:141 ؛ 14:6)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان آیات میں الفاظ بالکل عام ہیں۔ بظاہر ان کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کے تمام لڑکوں کو قتل کروا دیا کرتاتھا۔ مگر ایسا نہیں۔ کیوں کہ اگر وہ تمام لڑکوں کو قتل کرتا تو بنی اسرائیل کی نسل ہی مٹ جاتی۔ اصل یہ ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کے سربرآوردہ خاندان کے لڑکوں کو قتل کرواتا تھا۔ یا ایسے جوانوں کو قتل کروادیتا تھا، جن کے اندر اسے قیادت کی صلاحیت نظر آتی تھی۔

بنی اسرائیل چوں کہ حضرت یوسف کے زمانے میں حکمراں گروہ کی حیثیت رکھتے تھے، اس لیے وہ ان سے سیاسی خطرہ محسوس کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل کے اندر ایسے اعلیٰ افراد نہ ابھریں جو دوبارہ اپنی قوم کو منظم کرسکیں۔

اللہ تعالیٰ نے عمومی انداز میں اس فعل کی غیر معمولی شدت ظاہر کرنے کے لیے اختیار فرمایا۔ یہی دعوت کا اسلوب ہے۔ جو لوگ اس راز کو نہ سمجھیں، وہ بہت سے گہرے معانی کو پانے سے محروم رہ جائیں گے۔

22 نومبر 1985

قرآن میں اہلِ جنت کی صفات میں سے ایک صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ اس دن کی مصیبت سے ڈرتے ہیں جو ہر طرف پھیل پڑے گی۔ وہ اللہ کی محبت میں محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلاتے ہیں۔ (اور یہ کہتے ہیں) کہ ہم جو تم کو کھلاتے ہیں تو صرف اللہ کی خوشی چاہنے کے لیے کھلاتے ہیں۔ ہم تم سے نہ بدلا چاہتے ہیں، اور نہ شکر گزاری۔ ہم اپنے رب سے ایک ایسے دن کے بارے میں ڈرتے ہیں جو بڑی اداسی والا اور سختی والا ہوگا(76:7-10)۔ان آيات کو پڑھ کر ایک صاحب نے کہا کہ ایسے موقع پر یہ الفاظ عربی میں کہنا چاہیے یا اس کو اپنی زبان میں بھی کہا جاسکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ آپ اس آیت کا مطلب نہیں سمجھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب کسی حاجت مند کی مدد کی جائے تو اس وقت زبان سے یہ الفاظ دہرائے جاتے رہیں۔ اس سے مراد الفاظ نہیں بلکہ احساسات ہیں۔ یعنی جب کسی کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے تو آدمی کے دل میں یہ احساس طاری ہونا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان الفاظ کو یاد کرلے اور ہر ایسے موقع پر ان الفاظ کو دہرادیا کرے۔ کبھی زبان سے کچھ الفاظ بھی نکل پڑتے ہیں، مگر اصلاً یہاں جس چیز کا ذکر ہے وہ احساسات ہی ہیں۔

23 نومبر 1985

قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر یہ بات کہی گئی ہے کہ قرآن عربی زبان میں ہے ( بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ )26:196۔

Qur'anQuotes the Qur'an

اس قسم کی آیات کے تحت یہ بحث چھڑ گئی کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ کیوں کہ قرآن میں بہت سے الفاظ غیر عربی ہیں۔ کسی نے کہا کہ قرآن میں 27 الفاظ غیر عربی ہیں۔ کسی نے اس کی گنتی 60 تک پہنچا دی۔ مثلاً حسب ذیل الفاظ:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سَلْسَبِيل، كَوْثَر، سِجِّيل، كَافُور، قَرَاطِيس، رَقّ، مِشْكَاة، سُرَادِق، سُنْدُس، إِسْتَبْرَق، قَسْوَرَة، فِرْدَوْس، تَّنُّورُ ، زَنْجَبِيل، عَبْقَرِيّ ِ، وغیرہ۔

علما کی بڑی تعداد اس طرف گئی کہ جب قرآن کا یہ دعوی ہے کہ وہ عربی زبان میں ہے تو اس میں غیر عربی الفاظ نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ مذکورہ قسم کے فارسی، رومی، حبشی، نبطی، ہندی وغیرہ الفاظ کی موجودگی کی عجیب عجیب تاویلیں کی گئیں۔ مثلاً کہا گیا کہ یہ الفاظ اصلاً عربی ہی کے تھے۔ کچھ دنوں کے بعد وہ عربی زبان سے مخفی ہوگئے۔ پھر قرآن نے دوبارہ ان کو عربی میں داخل کیا۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

یہ سب غیر ضروری تاویلات ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہر زبان میں دوسری زبان کے الفاظ شامل ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ زبان وہی رہتی ہے۔ مثلام ٹامس پائلز (Thomas Pyles) کی ایک کتاب ہے جس میں اس نے انگریزی زبان کے آغاز و ارتقا سے بحث کی ہے۔ اس کا نام ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The Origins and Development of the English Language

اس کتاب میں اس نے ہندی، لاتینی، فرانسیسی، روسی، جرمن وغیرہ زبان کے بہت سے الفاظ کی فہرست دی ہے جو انگریزی میں مستعمل ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ الفاظ اگرچہ ابتدا میں دوسری زبانوں کے تھے۔ مگر جب وہ انگریزی میں شامل ہوگئے تو وہ انگریزی ہوگئے، اور انگریزی پھر بھی انگریزی رہی:

But English remains English.

25 نومبر 1985

ایک شاعر کا شعر ہے:

ابھی بھولے نہیں ہم خالد و طارق کے افسانے

فتوحاتِ صلاح الدین ابھی روشن ہے دنیا میں

اس قسم کے اشعار اور اس قسم کی تقریروں اور تحریروں سے ہماری جدید تاریخ بھری ہوئی ہے۔ ہر آدمی جو اٹھتا ہے وہ یہیں سے اپنے کلام کا آغاز کرتا ہے کہ — ہم نے ایک ہزار برس تک دنیا پر حکومت کی ہے— ہم نے روم و ایران کی سلطنتوں کے پر خچے اڑا دئے۔ ہم نے ہندوستان سے لے کر فرانس تک اسلامی اقتدار کا جھنڈا گاڑ دیا، وغیرہ وغیرہ۔

موجودہ زمانہ میں تمام دنیا کے مسلمانوں کا ذہن یہی ہے۔ آج کا ہر شخص اس اسلامی تاریخ کو بطور اسلام جانتا ہے، جس نے فتح وغلبہ حاصل کیا۔کوئی بھی شخص نہیں جو اس اسلام سے واقف ہو جس نے اقوام عالم کو دعوت و رحمت کا مخاطب بنایا۔ جس نے مکہ میں ہر قسم کے مظالم کے باوجود صبر واعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ جو حدیبیہ کے موقع پر پسپائی کی پالیسی اختیار کرنے پر راضی ہوگیا۔ جس نے خانہ کعبہ میں سیکڑوں بت دیکھے مگر اس کو برداشت کرتا رہا۔ تاکہ وہ انسانوں کو خدا سے قریب کرسکے۔

یہ صورت ِ حال نہایت تشویش ناک ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان گزری ہوئی تاریخ میں اٹکے ہوئے ہیں، وہ زندہ خدا کو پانے میں ناکام رہے۔ ان کے پاس ’’حال‘‘ کا کوئی سرمایہ نہیں، وہ صرف ’’ماضی‘‘ کی یادوں کے بل پر جی رہے ہیں۔

26 نومبر 1985

المنجد ایک مشہور عربی لغت ہے۔ اس کو ایک عیسائی عالم لویس معلوف (1867-1946) نے تیار کیا ہے۔ اس کو موجودہ زمانے میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ حتی کہ وہ عربی مدارس اور اسلامی اداروں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لغت بن گیا۔

اس لغت میں متعدد مقامات پر عیسائی ذہن کی ترجمانی ہے۔ مثلاً ایک عربی لفظ ’’الطلقاء‘‘ ہے۔ یہ طلق کی جمع ہے۔ اس کے معنی آزاد کے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح ِمکہ کے بعد وہاں کے مشرکین سے فرمایا تھا:اذْهَبُوا فَأَنْتُمْ الطُّلَقَاء (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 412)۔ یعنی جاؤ، تم سب آزاد ہو۔اس کے بعد مکہ کے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ وہ لوگ تھے، جنھوں نے پیغمبر اسلام کو اپنے وطن سے نکالا تھا، اور آپ کے خلاف بار بار لڑائیاں چھیڑیں تھیں۔ عام رواج کے مطابق، بلاشبہ وہ لوگ جنگی مجرم (prisoners of war) تھے۔ لیکن جب پیغمبر اسلام نےان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ بلکہ ان کو پورے طور پر آزاد کردیا۔ یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔یہ سلوک دیکھ کر وہ لوگ بہت متاثر ہوئے۔اس کے بعد مکہ کے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔

مگر المنجد میں الطُّلَقَاءکا مفہوم ان الفاظ میں دیاگیا ہے:

الذین اُدخلوا فی الاسلام کُرهاً (وہ لوگ جو اسلام میں زبردستی داخل کیے گئے)۔

Qur'anQuotes the Qur'an

ظاہر ہے کہ الطُّلَقَاء کا یہ مفہوم اس کے اصل مفہوم کا بالکل الٹا ہے۔ اس طرح کی اور بھی غلطیاں المنجد میں پائی جاتی ہیں۔ مگر مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں عربی کا کوئی ایسا لغت تیار نہیںکیا جو المنجد کی جگہ لے سکے۔ اس لیے ان غلطیوں کے باوجود عملاً اس کا رواج ہے۔ یہی معاملہ موجودہ زمانے میں لغت کے علاوہ دوسرے علوم کا بھی ہوا ہے۔

27 نومبر1985

حدیث میں ہے :مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی زمزم کا پانی جس مقصد کے لیے پیا جائے وہ پورا ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسری حدیث ہے:لَا يجْتَمع مَاء زَمْزَم ونار جَهَنَّم فِي جَوف عبد أبدا(الفردوس بماثور الخطاب، حدیث نمبر 7799)۔ یعنی زمزم کا پانی اور دوزخ کی آگ ایک انسان کے پیٹ میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔

hadithQuotes a hadith

اس بنیاد پر فقہا نے زمزم کے آداب مقرر کیے ہیں۔ فتاوی عالم گیری میں ہے کہ زمزم کا پانی خود اپنے ہاتھ سے نکالا جائے اور قبلہ کی جانب رخ کرکے خوب سیر ہو کر پیا جائے اور ہر سانس پر نظر اٹھا کر بیت اللہ کو دیکھے اور بچا ہوا پانی اپنے منہ اور جسم پر مل لیا جائے اور ہوسکے تو کچھ اپنے جسم پر بھی ڈال لے۔ مسلمانوں نے بعد کے زمانے میں ہر چیز کو ’’مسئلہ‘‘ بنادیا۔ حتی کہ زمزم پینے کو بھی۔ مسائل زمزم اس سے بھی زیادہ ہیں جتنا اوپر نقل ہوئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

29 نومبر 1985

ہر شخص یا ہر قوم کی زندگی میں ایسی کوئی چیز ہوتی ہے، جس کو وہ سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ہر دوسری چیز اس کے ماتحت ہوتی ہے۔ ہر دوسری چیز کے بارے میں اپنے رویہ کا فیصلہ اس کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔موجودہ زمانے میں تمام قوموں کا حال یہ ہے کہ ان کے لیے ان کا قومی مفاد (نیشنل انٹرسٹ) سپریم بنا ہوا ہے۔ ہر دوسری چیز نیچے ہے، اور قومی مفاد ہر چیز کے اوپر۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی حالت بھی ہے۔ انھوں نے بھی اپنے قومی مفاد کو اپنی زندگی میں سب سے اونچا مقام دے دیا ہے۔

مسلمان اگر چہ اس کے لیے اسلامی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً دوسرے لوگ اگر قومی مفاد کا لفظ بولتے ہیں تو مسلمان ملی مفاد کا لفظ بولتے ہیں۔ دوسروں کے پاس اگر قومی غیرت کا لفظ ہے تو مسلمانوں کواسلامی حمیت اور دینی غیرت کا لفظ ملا ہوا ہے۔ دوسرے لوگ جس کو قومی لڑائی کہتے ہیں اس کو مسلمانوں نے مقدس جہاد کا نام دے رکھا ہے۔

مگر اس سے اصل واقعہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسلامی الفاظ بولنے سے مسلمانوں کی قوم پرستی خدا پرستی نہیں بن جائے گی۔ اہل ایمان کے لیے جو چیز سب سے زیادہ اہم ہونی چاہیے وہ دعوت الی اللہ ہے۔ ہمارے تمام معاملات کو دعوت کی روشنی میں طے کیا جانا چاہیے۔ دعوتی مصلحت کو ہر دوسری مصلحت پر غالب ہونا چاہیے اور دوسری تمام چیزوں کو اس کے ماتحت۔

2دسمبر 1985

ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ گفتگو کا موضوع تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا دین کیا ہے اور صحابہ کرام کا دین کیا تھا۔

میںنے کہا کہ، ایک لفظ میں، ہمارا اور صحابہ کرام کا فرق یہ ہے کہ ہم نفرتِ اقوام پر کھڑے ہوئے ہیں اور صحابہ کرام محبتِ اقوام پر کھڑے ہوئے تھے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے وہ تمام فرق پیداکردیا ہے جو ہمارے اور صحابہ کے درمیان پایا جاتاہے۔

3 دسمبر 1985

ایک نوجوان نے گفتگو کے دوران اپنی شادی کا ذکر کیا۔ انھوںنے کہا کہ میری شادی میرے ماں باپ نے کردی ،مگر میری جو بیوی ہے، وہ مجھ کو پسند نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میںنے کہا کہ سب سے زیادہ پسندیدہ شادی وہ ہے، جو ناپسندیدہ شادی ہو۔ میں نے کہا کہ میرے اس قول کو آپ لکھ لیجیے اور اس کو 20 برس بعد دیکھیے گا۔ کیوں کہ ان الفاظ کی معنویت کو آپ آج سمجھ نہیں سکتے۔ اس کی معنویت آپ کی سمجھ میں اس وقت آئے گی جب کہ میری طرح آپ کے بال سفید ہوچکے ہوں گے۔

4 دسمبر 1985

ایک صاحب سے ہندستان کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ ہندو ایک مظاہر پرست قوم ہے۔ وہ ہر نمایاں چیز کے آگے عقیدت سے جھک جاتی ہے، خواہ وہ پیپل کا درخت ہو یا ہمالیہ پہاڑ، یا اور کوئی نمایاں چیز۔ اپنے اس مزاج کی وجہ سے ہندو قوم بہت جلد کسی کی عقیدت مند ہوجاتی ہے۔آپ کوئی اعلیٰ اخلاقی سلوک کریں۔ کسی برتر انسانی معاملہ کا ثبوت دیں تو ہندو فوراً جھک جائے گا۔ وہ کہے گا کہ آپ تو دیوتا ہیں۔ میں نے اس سلسلہ میں کئی واقعاتی مثالیں دیں۔

5 دسمبر 1985

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار حضرت ام ہانی کے گھر گئے۔ پوچھا کہ کچھ کھانے کے لیے ہے۔ انھوں نے کہا کہ سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا اورسرکہ ہے( كِسَرٌ يَابِسَةٌ وَخَلّ)۔ آپ نے فرمایا: جس گھر میں سرکہ ہو اس کوسالن کے معاملے میں غریب نہیں کہا جاسکتا (فَمَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ)سنن الترمذی، حدیث نمبر 1841۔ اس کے بعد آپ نے سرکہ اور روٹی نہایت شوق کے ساتھ کھایا۔

hadithQuotes a hadith

اسی طرح مختلف روایتوں میں مختلف کھانوں کے بارے میں آپ کی پسندیدگی کا ذکر ہے— مثلاً سرکہ، شہد، روغن زیتون، حلوہ، کدو، گوشت، ککڑی، لوکی، کھچڑی، دودھ، مکھن، کھجور، وغیرہ۔

hadithQuotes a hadith

اس سلسلے میں اہم سوال یہ ہے کہ آپ کے پسندیدہ کھانوں کی فہرست میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں، جو اس وقت کے مدینہ میں رائج تھیں۔ اگر اس سلسلہ کی مختلف روایتوں کو جمع کیا جائے تو رائج کھانوں میں سے کوئی بھی چیز نہیں بچے گی، جو آپ کے مرغوب کھانے کی فہرست میں شامل نہ ہو۔

پھر اگر آپ کو ہر کھانا پسند تھا تو وہ کون سا کھانا ہے جو آپ کو پسند نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پسندیدہ اور ناپسندیدہ کا معاملہ ہی نہیں۔ آپ کے اس قسم کے تمام کلمات میزبانوں کی حوصلہ افزائی کے کلمات ہیں۔ اس وقت مدینہ میں کھانے کے سامان کی کمی تھی۔ اکثر ایسا ہوتا کہ جہاں آپ جاتے اس کے یہاں کوئی ایک سالن ہوتا تھا۔ میزبان شرمندگی کے ساتھ ’’جو کھانا موجود ہو‘‘، وہ لے آتا۔ آپ شرافت کے تقاضے کے تحت فرماتے کہ یہ تو بہترین کھانا ہے، اور پھر شوق سے اس کو کھانے لگتے۔ اس طرح کے تمام کلمات میزبان کی حوصلہ افزائی کے کلمات ہیں، نہ کہ کھانے کے بارے میں اپنی پسندیدگی بتانے کے کلمات۔

6دسمبر1985

عربی زبان کی باریکیوں سے ایک انسان واقف نہ ہو تو کیسی کیسی غلطی کرسکتا ہے، اس کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (3:182)۔ یعنی اور اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ناانصافی کرنے والا نہیں۔ بعض لوگ اس کا مطلب یہ بتاتے ہیں کہ خدا زیادہ بڑا ظالم نہیں، یعنی وہ چھوٹے درجہ کا ظلم کرسکتاہے۔ البتہ وہ بڑے درجہ کا ظلم کرنے والا نہیں۔ کیوں کہ آیت میں ظلام کا لفظ آیا ہوا ہے، جس کا لفظی مطلب ہے بہت ظلم کرنے والا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر آیت کا یہ مطلب نہیں۔ نحو (عربی گریمر)کا یہ اصول ہے کہ نفی (negative)کے بعد جب مبالغہ آتا ہے تو سارا زور نفی (انکارِ عمل)کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں، نہ یہ کہ اللہ بڑا ظلم کرنے والا نہیں۔

7 دسمبر 1985

ایک صاحب کے خط کا جواب دیتے ہوئے یہ چند سطریں لکھیں: اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قیمت کیفیت (quality)کی ہے، نہ کہ کمیت (quantity) کی۔ زندگی کے چند لمحات بھی اگر اللہ كي معرفت میں گزر جائیں تو ،ان شاء اللہ، آخرت میں بھی اللہ کا پڑوس نصیب ہوگا، اور اللہ کے پڑوس ہی کا دوسرا نام جنت ہے(التحریم،66:11)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

9 دسمبر 1985

الرسالہ میں فرقہ وارانہ فساد کے مسئلہ پر جب تبصرہ کیا جاتا ہے تو یک طرفہ طورپر صرف مسلمانوں کی کوتاہی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس پر ایک صاحب نے کہا کہ یہ انداز انصاف کے خلاف ہے۔ آپ کو دونوں طرف کی غلطیاں اور کوتاہیاں بتانا چاہیے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ ظاہری اعتبار سے دیکھنے میںآپ کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر اصلاح اور تربیت کے اعتبار سے یہ غیر مفید بلکہ نقصان دہ ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ یہ پچاس فی صد اور پچاس فی صد کا معاملہ ہے۔ یعنی نصف غلطی ایک فریق کی ہے اور نصف غلطی دوسرے فریق کی ہے ، تو اس طرح فوکس بدل جائے گا۔ مسلمان 50 فی صد یا اس سے کم ہی اپنی کوتاہیوں پر اپنا دھیان جما سکیں گے۔ اس لیے داعی اور مصلح یہ کرتا ہے کہ وہ صرف ایک ہی فریق کی کوتاہیوں کو بیان کرتا ہے تاکہ فوکس نہ بدلے اور اس کی ساری توجہ اپنے احتساب اوراصلاح پر لگ جائے۔

قرآن کا طریقہ یہی ہے۔ چنانچہ وہ فریقِ ثانی کی سازشوں اور مظالم کو غیر مذکور چھوڑ کر صرف مسلمانوں کی کوتاہیوں پر انھیں توجہ دلاتا ہے جس کی ایک مثال احد(3:155) اور حنین (9:25) کے بارے میں قرآن کا تبصرہ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

10 دسمبر 1985

جب بھی کوئی اقدام کیا جائے تو ہمیشہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ نتیجہ خیز (productive) ہے یا نہیں۔ اقدام ہمیشہ کسی نتیجہ کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ محض اقدام برائے اقدام۔

بے فائدہ اقدام نہ کرنا بھی ایک مفید عمل ہے۔ کیوں کہ اس سے قوتیں محفوظ رہتی ہیں اور اس کا امکان باقی رہتا ہے کہ وہ کسی نتیجہ خیز منصوبہ میں استعمال ہوسکیں۔

انسان ہمیشہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔ جب تخریبی کارروائیاں بند ہوتی ہیں اس وقت تعمیری سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ غلط اقدامات کی طرف دوڑانے والے لیڈر اگر خاموش بیٹھے رہیں تب بھی وہ ایک فائدہ پہنچائیں گے۔ وہ قوم کو غلط رخ پر نہ دوڑا کر اسے موقع دیں گے کہ وہ اپنی فطرت کے زور پر مفید اور صالح رخ پر اپنا سفر جاری کرسکے۔

11 دسمبر 1985

خیر الدین پاشا بار بروسہ (Hayreddin Barbarossa, b. 1466) سمندری جہاز رانی کا بہت بڑا ماہر تھا اور نہایت بہادر آدمی تھا۔ اس کو امیر البحر کہا جاتا تھا۔ سولھویں صدی عیسوی میں ترکی کے عثمانی سلطنت کے بحری بیڑے کو جو عظمت حاصل ہوئی اس کا اصل ہیرو یہی شخص تھا۔ کہاجاتاہے کہ خیر الدین باربروسہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا امیر البحر تھا۔اس کی مہارت اور بہادرانہ کارروائیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرق سے مغرب تک ترکی بیڑے کا راج قائم ہوگیا۔

خیر الدین باربروسہ نے تقریباً اسّی سال کی عمر میں جولائی 1546 میں وفات پائی۔اس کو بشک طاشی (Beşiktaş) میں دفن کیاگیا۔ اس کی قبر پر جوکتبہ لگاہواہے اس میں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں— مات امیر البحر

یعنی وہ شخص جو امیر بحر تھا اس کا انتقال ہوگیا۔ یہ ایک واقعی بیان ہے۔ یہ چار سو سال پہلے مسلمانوں کا حال تھا۔ آج کوئی مسلمان مرے تو اس کی قبر پر لکھنے کے لیے اس قسم کے واقعی الفاظ کسی کو نہیں ملیں گے۔بلکہ وہ غیر واقعی قصیدہ خوانی کریں گے، اورکہیں گے کہ مثلاً امیر فضا اس دنیا سے چلا گیا۔ اگرچہ وہ حقیقت کے اعتبار سے ویسا نہ ہو۔ کتنا فرق ہے مسلمانوں کے حال میں اور مسلمانوں کے ماضی میں۔

12 دسمبر 1985

اردو زبان ایک لٹریری زبان کی حیثیت سے مغل دور میں دہلی کے آس پاس علاقے میں ظاہر ہوئی۔ 1835 میں جب فارسی بطور آفیشیل لینگویج کے ختم ہوگئی تو اس کے بعد اردو نے تیزی سے ترقی کرنا شروع کیا۔

یہ زمانہ اتفاق سے وہی ہے، جب کہ دوسری قوموں نے مسلمانوں سے ان کا pride چھینا تھا، اوروہ ان سے لڑنے بھڑنے میں مصروف تھے۔ قدرتی طور پر اس صورتِ حال کا reflection اردو زبان پر ہوا۔ اردو زبان ’’ٹکراؤ‘‘ کی زبان بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو زبان میںکنفرنٹیشن (confrontation) کے مفہوم کو ظاہر کرنے کے لیے بے شمار الفاظ ہیں مگر ایڈجسٹمنٹ (adjustment) کے مفہوم کو بتانے کے لیے کوئی ایک بھی با معنی لفظ نہیں۔

آدمی الفاظ کے ذریعے سوچتا ہے۔ جس زبان میں سوچنے کے لیے adjustment کے ہم معنی لفظ ہی نہ ہو، وہ کیوں کر زیادہ صحت کے ساتھ adjustment کی پالیسی پر غور کرسکتا ہے۔ اردو اسپیکنگ کمیونٹی کی یہی بنیادی کمزوری ہے، جس کی بنا پر وہ ہر جگہ اپنے پڑوسیوں سے لڑ رہے ہیں، خواہ وہ پڑوسی مسلم ہوں یا غیر مسلم۔

13 دسمبر 1985

مَنْ یُوصَفُ بِالخَلِیفۃ

اسلام میں خلیفہ کے تقرر کا کوئی ایک متعین اصول نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر کی صفات (اہلیت) کا پورا علم تھا۔ مگر آپ نے حضرت ابوبکر کو صراحۃً خلافت کے لیے نامزد نہیں کیا۔

حضرت ابوبکر کو عمر کی صفات (اہلیت) کا علم تھا تو آپ نے عمر کو خلافت کے لیے نامزد کردیا اور اس معاملے میں خاموشی اختیار نہیں کی۔ اس کے بعد عمر آئے تو انھوںنے تیسرا طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے اپنے آخر وقت میں چھ آدمیوں کی ایک کمیٹی بنا دی اور اس سے کہا کہ تم لوگ میرے بعد کسی کو خلیفہ بنا کر اس کے نام کا اعلان کردینا۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان امور میں کوئی ایک ہی مقرر اور متعین طریقہ نہیں ہے۔ اصل چیز مصلحت اسلام ہے، نہ کہ کوئی متعین ڈھانچہ۔

14 دسمبر 1985

لوگ اقتدار چھن جانے کے بعد متواضع (modest)بن جاتے ہیں۔ حالاں کہ متواضع وہ ہے، جو اقتدار کی کرسی پر ہو، پھر بھی متواضع بنا رہے۔ اخلاق وہ ہے جو اقتدار پانے کے بعد ظاہر ہو، نہ کہ اقتدار چھننے کے بعد۔

16 دسمبر 1985

رڈیارکپلنگ (Rudyard J. Kipling) مشہور انگریزی شاعر اور ناول نگارہے۔ وہ 1865 میں پیدا ہوا، اور 1936 میں اس کی وفات ہوئی۔

کپلنگ ان لوگوں میں تھا جو جدید مغربی تہذیب کو تاریخ کی آخری ارتقائی تہذیب سمجھتے تھے۔ کپلنگ کے نزدیک یورپ اور امریکا کے ترقی یافتہ سفید فام لوگوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ بقیہ دنیا کو تہذیب کی یہ نعمت پہنچائیں۔ نو آبادیاتی نظام اس کے نزدیک اسی کوشش کی ایک صورت تھی۔ اس کی ایک مشہور نظم ہے، جس میں اس نے اپنے اس نظریے کو سفید انسان کا بوجھ (White Man’s Burden) سے تعبیر کیا تھا:

Take up the White Man's burden

Send forth the best ye breed

Go bind your sons to exile

To serve your captives' need

جب بھی کوئی قوم ترقی کے درجہ پر پہنچتی ہے تو وہ دوسری اقوام پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے اسی قسم کے نظریات وضع کرتی ہے۔ میرے نزدیک مسلمانوں میں اسلامی خلافت کا تصور بھی اسی قسم کےذہن کی پیداوار ہے۔ یہ نظریہ کہ ’’انسان دنیا میں خدا کا خلیفہ ہے‘‘ قرآن و سنت میں کہیں مذکور نہیں، اور نہ صحابہ کے زمانے میں اس نظریےکا ثبوت ملتاہے۔ یہ نظریہ دراصل عباسی دور میں پیدا ہوا، اور اس کا تصور یہ تھا کہ ساری دنیا میں اپنا غلبہ قائم کرنے کے لیے فکری جواز فراہم کیا جائے۔

میرے نزدیک مسلمان خدا کے خلیفہ نہیں، بلکہ وہ خدا کے پیغام بر ہیں۔ انھیں اس تعلیم کو تمام انسانوں تک اس کی قابلِ فہم زبان (understandable language)میں پہنچانا ہے، جو قرآن وسنت کی صورت میں ان کے پاس محفوظ ہے۔

17 دسمبر 1985

مستشرقین نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں سے ایک نوع کی کتابیں وہ ہیں جو ’’اسلامی قوموں کے مطالعہ‘‘ پر لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں میںاستدلال کا طریقہ بڑا عجیب وغریب ہوتا ہے۔ ان میں بعض غیر متعلق واقعات کو لے کر دکھایا گیاہے کہ بعض قوموں (مثلاً الجزائر کے مسلمان) کا اسلام جانور پرستی، شجر پرستی اور ستارہ پرستی سے قریب ہے۔ حتی کہ اسلام اور بت پرستی میں کوئی قابلِ ذکر فرق نہیں۔ بلکہ اسلام بت پرستی ہی کا تتمہ ہے۔

ان مستشرقین کی اکثریت عربی زبان سے برائے نام واقف تھی۔اس لیے انھوں نے اسلام کو سمجھنے میں نہایت احمقانہ قسم کی غلطیاں کی ہیں۔ تاہم خود مستشرقین کے حلقے میں سےگہرا علم رکھنے والے لوگوں نے ان باتوں کی تردید کی ہے۔

پروفیسرAlain نے اس کمی کو محسوس کیا۔ انھوں نے ان مستشرقین کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اگر میں اپنے قلم کو مخاطب کرکے یہ کہوں کہ اے میرے محبوب قلم، اور اس جملہ کو علم الاجتماع کے یہ ماہرین اپنی تحقیق میں شامل کرلیں تو وہ اس جملہ کو روحانیت سے منسوب کردیں گے اور یہ کہیں گے کہ میںنے اپنے قلم میںایک چھوٹا دیوتا دیکھ لیا تھا‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

18 دسمبر 1985

’’اس ملک میں عربی اور فارسی کو کلاسیکی زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ حکومت ان کی ترقی پر کافی رقم خرچ کرتی ہے۔ یہاں کی تقریباً 20 یونی ورسٹیوں میں عربی کا شعبہ موجود ہے۔ ایسے کالجوںکی تعداد درجنوں تک پہنچتی ہے، جہاں عربی تعلیم کا انتظام ہے۔ اس کے علاوہ یہاں بہت بڑے بڑے دار العلوم (بالفاظ دیگر دینی مدارس) قائم ہیں۔ ان کی تعداد سو سے بھی زیادہ ہے۔ وہ کامل آزادی کے ساتھ عربی زبان اوردینی علوم کی اشاعت کا کام کررہے ہیں۔ حکومت کے خرچ پر ایک عربی ماہ نامہ شائع ہوتا ہے۔ ریڈیو میں عربی کا پورا یونٹ قائم ہے۔ یہاں کی وزارتِ تعلیم عربی مدارس کو معقول امداد دیتی ہے۔ ان مدارس میں رہ کر کوئی شخص کسی عربی مخطوطہ کو ایڈٹ کرنا چاہے یا کسی عربی موضوع پر ریسرچ کرنا چاہے تو اس کو تین سو روپیہ ماہوار کا وظیفہ دو سال تک دیا جاتاہے۔ عربی اور فارسی کے دو دو ممتاز عالموں کو حکومت ہر سال سند امتیاز دیتی ہے۔‘‘

اوپر کی عبارت ایک اقتباس ہے۔ یہ باتیں اگر یورپ کے کسی ملک کے بارے میں کہی جائیں تو مسلمانوں کو بہت اہم معلوم ہوگی۔ مگر مسلمانوں کو یہ باتیں اس وقت بے وقعت معلوم ہونے لگتی ہیں، جب انھیں بتایا جائے کہ یہ ہندستان کی بات ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان جب یورپ یا امریکا جاتا ہے تو وہاں وہ بالکل غیر مزاحم (passive)بن کر رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وہاں کے مواقع سے فائدہ اٹھا پاتا ہے اور اس کی اہمیت کو سمجھ لیتاہے۔ مگر ہندستان میں مسلمان شکایت اور احتجاج کے ذہن کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس لیے یہاں انھیں طرح طرح کی مشکلوں سے سامنا پیش آتا ہے۔ وہ ہندستان کے مواقع کی قدر کرنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔

19 دسمبر1985

قرآن (6:12) میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ رکھا ہے ( كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ )۔موجودہ دنیا میں انسان کے پاس اقتدار ہے۔ مگر اس نے اپنے آپ کو رحمت اور عدل کا پابند نہیںکیا ہے، اس لیے موجودہ دنیا فساد اور خرابیوں سے بھر گئی ہے۔مگر آخرت میں سارا اقتدار صرف ایک اللہ کے پاس ہوگا، اور اللہ نے ہر قسم کا مطلق اختیار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو رحمت اور عدل کا پابند کر رکھا ہے۔ اس لیے آخرت کی دنیا سراپا خیر ہوگی۔ وہاں صرف وہی ہوگا جو حق کے اعتبار سے ہونا چاہیے، اور وہ نہ ہوسکے گا جو حق کے اعتبار سے درست نہ ہو— آخرت کی یہ خصوصیت آخرت کو ایک معیاری دنیا بنا دے گی۔ اسی معیاری دنیا کا دوسرا نام جنت ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

21 دسمبر1985

ہر بات کو سمجھنے کے لیے عقل کی ضرورت ہے۔ اگر عقل کو استعمال نہ کیا جائے تو کوئی بات بھی سمجھ میں نہیں آسکتی، حتی کہ قرآن وحدیث کی بات بھی نہیں۔ مثلاً حدیث میںآیا ہے : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ قَالَهَا ثَلَاثًا(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2670)۔ یعنی شدت کرنے والے ہلاک ہوگئے۔ یہ بات تین بار فرمائی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اگر ان الفاظ کو سادہ طورپر بالکل ظاہری معنی میں لے لیا جائے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ہر چیز جس میں شدت کا پہلو ہو وہ ہلاکت کا سبب ہے، اس لیے اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ مثلاً گرمی کے موسم میں روزہ رکھنا۔ مہنگائی کے وقت جانور کی قربانی دینا، وغیرہ۔ مگر حدیث کا یہ مطلب نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث کو صحیح طورپر سمجھنے کے لیے اس میں ایک لفظ کا اضافہ کرنا ہوگا۔ یعنی اس کو اس طرح کہنا ہوگا:’’هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ‘‘ ای المشددون فی غیر موضع التشدید ( وہ لوگ ہلاک ہوگئے جو شدت نہ کرنے کی جگہ پر شدت کا طریقہ اختیار کرتے ہیں)۔

23 دسمبر 1985

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا ایک واقعہ ان الفاظ میں آیا ہے: جَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:الْكُبْرَ الْكُبْرَ(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4520)۔ یعنی کچھ بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ تو ان کے چھوٹے نے بولنا شروع کیا۔ آپ نے فرمایا: اپنے بڑے کو بولنے دو، اپنے بڑے کو بولنے دو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ صرف ادب کی بات نہیں بلکہ حکمت کی بات ہے۔ جو شخص عمر میں زیادہ ہو اس کا علم اور تجربہ بھی زیادہ ہوگا۔ وہ دوسروں سے زیادہ سنجیدہ ہوگا۔ ایسی حالت میں چھوٹوں کو جاننا چاہیے کہ ان کے بڑے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ بولیں۔ یہ ایک اہم اصول ہے جس کا تعلق ایک خاندان کے افراد سے بھی ہے اور پوری قوم سے بھی۔

24 دسمبر 1985

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ایک قول یہ ہے:ما من شاب أكرم شيخاً لسنه إلا قيض الله له عند شيبته من يكرمه(المنتقى من مسموعات مرو للمقدسی، حدیث نمبر 166)۔ یعنی جو نوجوان کسی بوڑھے کی اس کے بڑھاپے کے وقت عزت کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے ایسے شخص کو مقدر کردیتا ہے جو اس کے بڑھاپے کی عمر میں اس کی عزت کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عمل سے سماج کے اندر روایت(tradition) قائم کرتا ہے۔ اگر لوگ اپنے بوڑھوں کی عزت نہ کریں تو ماحول میں بوڑھوں کی بے عزتی کی روایت قائم ہوگی۔ اس کے برعکس، اگر لوگ اپنے بوڑھوں کی عزت کریں تو اس سے ماحول میں بوڑھوں کی عزت کرنے کی روایت قائم ہوگی۔ جس طرح آدمی اپنی بوئی ہوئی فصل کو کاٹتا ہے۔ اسی طرح لوگ اپنے ماحول میں جس قسم کی روایت قائم کریں اس کا ایک حصہ انھیں خود بھی بہر حال بھگتنا پڑتا ہے۔

25 دسمبر 1985

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: مَا أكْرَمَ النِّساءَ إِلَّا كَرِيمٌ وَلَا أهانَهُنَّ إلاَّ لَئِيمٌ(تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد13، صفحہ313)۔ یعنی عورت کی عزت وہی کرتا ہے جو شریف ہو اور عورت کی بے عزتی وہی کرتا ہے جو کمینہ ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان کی شرافت کا معیار وہ سلوک نہیں ہے، جو وہ طاقت ور کے ساتھ کرتا ہے، بلکہ شرافت کا معیار وہ سلوک ہے، جو وہ کمزور کے ساتھ کرتا ہے۔ عورت چوں کہ کمزور مخلوق ہے، اس لیے اکثر حالات میں وہ کسی کے شریف یا غیر شریف ہونے کاپیمانہ بن جاتی ہے۔

26 دسمبر1985

تنقید کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے دلیل کی بنیاد پر تنقید، اور دوسری بے دلیل الزام۔ دلیل کی بنیاد پر تنقید کا حق ہر شخص کو ہے، مگر بے دلیل الزام کا حق کسی کو نہیں۔

ایک شخص اگر کسی کے خلاف بے دلیل الزام لگائے تو وضاحت کے بعد اس کو کھلے طورپر اپنی غلطی کا اعتراف کرلینا چاہیے۔ بے دلیل الزام لگانا اگر غلطی ہے تو وضاحت کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے، اور سرکشی اللہ تعالی کے یہاں ناقابلِ معافی جرم ہے۔

27 دسمبر1985

سموئل گولڈوِن (Samuel Goldwyn, 1879-1974) امریکا کا مشہور فلم پروڈیوسر ہے۔ اس کی کمپنی پیرا ماؤنٹ پکچرس کا رپوریشن کو 1960 میں 13 کرور 10 لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ کا منافع ہوا۔

1913 میں اس نے اپنے دوشریکوں کے ساتھ مل کر اپنی پہلی فلم اسکوا مین (The Squaw Man) بنائی تو اس کے پاس اپنے کارکنوںکو اجرت ادا کرنے کے لیے کافی رقم نہ تھی۔ سموئیل گولڈون اور اس کے ساتھیوں کو جب مالی کمی نے بہت زیادہ پریشان کیا تو انھوں نے طے کیا کہ ان کی فلم کے لیڈنگ ایکٹرڈسٹن فرنم (Dustin Farnum, 1874-1929) کو اس پر راضی کیا جائے کہ وہ اپنی ایکٹنگ کی اجرت لینے کے بجائے کمپنی میں حصہ دار بننے پر راضی ہوجائے۔

گولڈوِن یہ سوچ کر ڈسٹن فرنم کے پاس گیا۔ مگر جیسے ہی انھوں نے اپنی تجویزپیش کی ،اس نے فوراً مطالبہ کیا کہ پوری مدتِ عمل کے لیے میری تمام تنخواہ پیشگی ادا کردی جائے ورنہ میںاس کمپنی میں کام نہیں کروں گا۔ ایکٹر کی یہ رقم کل پانچ ہزار ڈالر ہوتی تھی، جو کہ کمپنی کے اُس وقت کے کل سرمایہ کا 25 فی صد تھی۔

اگر ڈسٹن فرنم کو معلوم ہوتا ہے کہ ’’پانچ ہزار ڈالر‘‘ کی قربانی اس کو ایک ایسے کاروباری ادارے میں 25 فی صد کے بقدر حصہ دار بنادے گی، جس کی آمدنی آدھی صدی کے بعد چودہ کرور ڈالر سالانہ ہوجائے گی تو یقیناً وہ اجرت مانگنے کے بجائے مذکورہ پیش کش کو بخوشی قبول کرلیتا — مگر انسان مستقبل کو نہیں جانتا، اس لیے وہ اتنے دور اندیشی کے فیصلے بھی نہیں کر سکتا۔

28 دسمبر 1985

ہر لفظ کا ایک ابتدائی مفہوم ہوتاہے۔ مگر استعمال سے اس میں وسعت یا فرق پیدا ہوتا رہتا ہے۔ یہ ہر زمانہ میں ہوتاہے۔

مثلاً عربی کا ایک لفظ فتح ہے۔ یہ لفظ جب اشیاء کے لیے بولا جائے تو اس کے معنی سادہ طورپر صرف کھلنے کے ہوں گے۔ مثلاً فتح الباب (دروازہ کھولا)۔ مگر جب یہ لفظ حیوانات کے لیے بولا جائے تو معنی میں فرق پیدا ہوجائے گا۔ اب اس کے معنی صرف کھلنے کے نہ ہوں گے بلکہ کھل کر اچانک نکل پڑنے کے ہوں گے۔ مثلاً ٹڈیوں کا دَل کسی گوشہ سے نکل پڑے تو کہیں گے: فتحت الجراد۔

الفاظ میں استعمال کے اعتبار سے جو وسعت پیدا ہوئی ہے، اس کو جو لوگ نہ جانیں، وہ کسی عبارت کو سمجھنے میں عجیب عجیب غلطیاں کرسکتے ہیں۔

30 دسمبر 1985

مسلمانوں کا ایک پندرہ روزہ اخبار نکلتا ہے ۔ اس کے صفحہ اول پر یہ فقرہ لکھاہوا ہوتا ہے:

مسلکِ اکابر کا ترجمان

یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں کہا گیا ہے:اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ (9:31)۔یعنی انھوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور مشائخ کو رب بنا ڈالا ۔ کوئی شخص ایسا اخبار نہیں نکالتا جس کے اوپر یہ لکھا ہوا ہو کہ ’’مسلک صحابہ کا ترجمان‘‘۔ حتی کہ یہ جملہ اگر کسی سے کہا جائے تو اس کو وہ اجنبی معلوم ہوگا۔ البتہ وہ اس قسم کے الفاظ بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ ’’مسلک اکابر کا ترجمان‘‘ یا ’’مسلک سلف کا ترجمان‘‘ وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس زمانہ میں ہر طرف اسلام کی دھوم ہے۔ مگر لوگوں کے درمیان جس اسلام کی دھوم ہے، وہ ان کا خود ساختہ اسلام ہے، نہ کہ وہ اسلام جو اللہ نے اپنے رسول پر اتارا تھا۔

31 دسمبر 1985

قرآن میں حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال موجود ہے کہ انھوں نے مصر کے غیر مسلم مَلِک (بادشاہ) کے قانون کے تحت غذائی انتظام کے اختیارسنبھال لیے(یوسف، 12:55)۔ اسی طرح تورات میں دانیال نبی کے متعلق مذکور ہے کہ وہ بابل کے غیر مسلم بادشاہ کی وزرا میں داخل ہوگئے تھے (دانیال، 1:19)۔

quoted sourceQuoted from another author or source

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض مسلم مفکرین کا یہ نظریہ سراسر غلط ہے کہ ’’طاغوتی نظام‘‘ میں مسلمان کی شرکت ناجائز ہے۔ اس قسم کے نظریات دراصل غیر مسلم اقوام سے نفرت کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں، وہ خود اسلام کی تعلیمات سے نہیں لیے گئے ہیں۔ یہ نظریات ابتدا میں غیر مسلم حکمرانوں سے نفرت کے نتیجے میں پیداہوئے اور اس کے بعد ان کی تبریر(justification) کے لیے ان کو اسلامی اصطلاحات میں بیان کیا جانے لگا۔

)نئی کتاب اوراقِ حکمت سے انتخاب(

دنیا کے کاروباری اداروں میں ہائر اینڈ فائر (hire and fire)کا اصول چلتا ہے، جنت میں صرف ہائر ہے، فائر نہیں۔

ایک سوال

ایک حدیث ہے: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ المُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الجِبَالِ وَمَوَاقِعَ القَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الفِتَنِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 19)۔ یعنی ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا وہ وقت قریب ہے جب کہ مسلمان کا عمدہ مال بکریاں ہوں گی ، جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور برساتی وادیوں میں چلاجائے گا۔وہ اپنے دین کوفتنے سے بچانے کے لیے بھاگ جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حدیث کا مطلب کیا ہے۔ (مز قرۃ العین، لاہور)

اس حدیثِ رسول میں تمثیل کی زبان میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا، جب کہ انسان کے لیے فتنے سے بچنے کی صورت صرف یہ ہوگی کہ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے سادہ زندگی پر راضی ہوجائے۔ اگر وہ سادہ زندگی سے زیادہ چاہے گا تووہ صرف اس قیمت پر ممکن ہوگا کہ دینی اعتبار سے اس کی ترقی بند ہو جائے۔ اس کے معرفت کا سفر رک جائے۔ اگر وہ سادہ زندگی سے زیادہ چاہے گا، تو وہ صرف اس صورت میں ہوگا کہ وہ اپنی آمدنی کو بڑھائے۔ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ دنیا میں لگائے۔ اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لیے مادی زندگی کے لیے سارا وقت استعمال کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس دنیا میں آدمی کے لیے دنیا پرستی سے بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ وہ لگزوریس لائف اسٹائل (luxurious lifestyle) کو اپنانشانہ بنانےکے بجائے سادہ زندگی ، اونچی سوچ (simple living, high thinking)کا طریقہ اختیار کرے۔وہ اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے، جو اس کو ابدی جنت کامستحق بنائے گا۔اس دنیا میں شیطان سے بچنے کی صرف ایک صورت ہے، اور وہ ہے سادہ زندگی۔ اس کے بجائے آدمی اگر کوئی اور زندگی اختیار کرے، تو وہ شیطان کے فریب سے بچ نہیں سکتا۔ وہ شیطان کے فتنوں کا شکار ہوکر رہے گا۔

ناکامی سے کامیابی کو نچوڑنا سیکھیں

)مولانا وحید الدین خاں کی مثبت فکر ، ایک جائزہ(

یہ مادی دنیا، جس میںانسان اپنی زندگی گزاررہا ہے ،یہاں جب تک انسان کی سانسیں باقی ہیں اسے ہر لمحہ و لحظہ امتحان و اختبار سے گزارا جا رہا ہے۔ یہ ایسا قدرتی عمل ہے جس کو ہرسنجیدہ انسان اپنی زندگی میں دیکھتا اور محسوس کرتا ہے ۔ پریشانیوں اور غم و اندوہ کے لمحات ہر انسان پر آتے ہیں۔ اب زندگی گزارنے کی ایک صورت یہ ہے کہ پریشانی یا دکھ و غم کو زندگی کاوقتی حصہ سمجھ کراسے اگنور کیا جائے، اور آگے کا سفر طے کیا جائے تاکہ نئے راستے اور نئی منزلیں مل سکیں ۔ اس کے برعکس، دوسری صورت یہ ہے کہ ان حزن وغم کے لمحات کو وقتی سمجھ کر اگنور کرنےکے بجائے انہی کے دائرہ میں اپنی زندگی کاٹی جائے اورامیداور روشنی کے سارے راستوں کوبند سمجھا جائے۔اس دوسرے قسم کےانسان کی زندگی فقط افسوس اورحسرتوں کی زندگی ہو گی، ایسا انسان حقیقت پسندانہ زندگی نہیں گزار سکے گا۔ اس حوالہ سے سب سے جامع اور مکمل رہنمائی رسول اللہ کی زندگی میں ملتی ہے ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570 عیسوی میں پیدا ہوئے ۔چالیس سال بعد 610 عیسوی میں آپ کو نبوت ملی ، 622 عیسوی کو آپ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمایا، اور 632 عیسوی میں مدینہ میں آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کا یہ سارا دعوتی سفر عزم و یقین سے بھر پور ایک داستانِ حیات ہے۔مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام، اور آپ کا ساتھ دینے والے بنی ہاشم کو 7 نبوی 615 ء میں مکہ والوں کی طرف سے مکمل معاشرتی مقاطعہ (social boycott) کا سامنا کرنا پڑا اور یہ معاشرتی پابندی (10محرم) نبوت کے دسویں سال تک جاری رہی ۔ یعنی تین سال تک رحمۃ للعالمین اور آپ کے خاندان کو اور آپ کے اصحاب کو شعب ابی طالب کی گھاٹی میں محصور رکھ کر بنیادی حقوق اور ضروری سہولتوں (fundamental and basic rights) سے محروم رکھا گیا ، اورسخت بھوک ، پیاس اورتنگ حالی کی شدت میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔مگر اس مشکل اور کٹھن دور میں بھی رسولِ خداہمیشہ مثبت روش پر قائم رہے، یعنی صابرانہ عمل پر۔ اس دعوتی سفر میں پیش آنے والی مشکلات و مصائب، آپ کے عزم میں کبھی رکاوٹ نہ بنیں اور نہ ہی آپ کو پیغمبرانہ مشن سے ہٹا سکیں۔ اس کی کئی اہم وجوہات میں سے ایک اہم وجہ پیغمبر اسلام کا ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ رہنا تھا ۔

اسی طرح ہجرت کا موقع آپ کی زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔ اس وقت قریش نے آپ کو جان سے مارنا چاہا تھا اور آپ کی مخبری پر سو اونٹ کا انعام مقرر کیا تھا ۔اس مشکل گھڑی میں بھی آپ کی فکر مثبت دائرے میں تھی، اور آپ ہر لمحہ پر امید (hopeful)رہے۔ ہجرتِ مدینہ کے موقع پر سب سے کٹھن لمحہ وہ ہے جب کہ آپ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ غار ثور میں پناہ لیے ہوئے تھے،اور قریش کے لوگ جو آپ کو قتل کرنے کے لیے آپ کی تلاش میں سرگرداں تھے، ننگی تلوار لیے ہوئےغار کے دہانے تک پہنچ گئے۔ اس موقعہ پر حضرت ابو بکر صدیق نے جب ان کے قدموں کو دیکھا تو ان کو تشویش ہوئی ۔ انھوں نے اللہ کے رسول کو بتایا کہ قریشِ مکہ غار کے منہ تک پہنچ گئے ہیں۔ اس مشکل ترین اور اعصاب کو شکست سے دوچار کرنے والے لمحہ پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرامید اور حوصلہ مند رہے ۔ آپ نے حضرت ابو بکر صدیق سے فرمایا : مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللهُ ثَالِثُهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر4663؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2381)۔ یعنی اے ابو بکر ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو ۔ دوسرے الفاظ میں، جب اللہ ہمارے ساتھ ہو تو خوف و حزن کی کیا بات !قرآن حکیم نے اس امید بھرے جملے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے : لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا (9:40)یعنی غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف خود مثبت رہتے تھے، بلکہ دوسروں کو بھی امید دلاتے تھے۔ جب آپ غار ثور سے نکل کر مدینہ جارہے تھے تو آپ کی ملاقات دو اشخاص سے ہوئی، وہ دونوں آپس میں بھائی تھے۔ آپ نے ان دونوں سے نام پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے قبیلے والے ہم دونوں کو ایک ہی نام سے پکارتے ہیں:الْمُهَانَانِ (دو بے عزت آدمی)۔ آپ نے فرمایا:نہیں،تم دونوں باعزت آدمی ہو( الْمُكْرَمَانِ ) ۔مسند احمد ، حدیث نمبر 16691: (بحوالہ مولانا وحید الدین خاں، الرسالہ جون -جولائی 2021، ص 30)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زندگی میں بھی عزم و یقین کا سفروہی لوگ کر پاتے ہیں جومکمل طور پر مثبت (optimistic) خیالات کے حامل ہوں۔ عزم و یقین کا یہ سفر زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق ہے۔ علم کے میدان میں آج تک جتنی کامیابیاں ہمیں نظر آتی ہیں وہ سب اسی امید بھری مسلسل محنت کی وجہ سے ہیں۔ اس سفر میں شبہ یقین (semi-conviction) کے ساتھ کوشش زیادہ اور دیر پا فائدہ نہیں دے گی۔ بلکہ یہاں دائمی یقین سے آگے بڑھتے رہنا ہے ۔ قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے:وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (15:99)۔ یعنی اللہ کی عبادت کرتے رہو، یہاں تک کہ تمھارے پاس یقین آجائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس یقین اور امید کا نمونہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر طائف میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ جب آپ طائف پہنچے، اور وہاں کے لوگوں کو دعوت دین دینا شروع کیا اور سب کو ایک اللہ کی عبادت کےلیے کہا تو طائف کے لوگ بھڑک اٹھے۔انھوں نے اپنے شہر کے لڑکوں کو اکسایا کہ وہ آپ کو پتھر مار کر شہر کے باہر کر دیں ۔ آپ طائف سے باہر ایک باغ میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ روایت کے مطابق، اس وقت خدا نے پہاڑوں کا فرشتہ (ملک الجبال) آپ کے پاس بھیجا۔ ملک الجبال نےآپ سے کہا کہ طائف والوں نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا، اس کو خدا نے دیکھا۔اب اگر آپ اجازت دیں تو میں طائف کے اطراف میں واقع پہاڑوں کو ایک دوسرے میں ملا دوں۔ تاکہ طائف کے لوگ اس میں دب کر ختم ہو جائیں۔ مگر پیغمبر اسلام نے کہا کہ نہیں۔ طائف کی موجودہ نسل نے اگرچہ میری بات ماننے سے انکار کر دیا ہے لیکن مجھے امید ہے کہ طائف کی اگلی نسلیں میری بات کو مانیں گی اور خدا کے راستے پر چلیں گی (بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللهُ مِنْ أَصْلاَبِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللهَ وَحْدَهُ، لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا) صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3231 ، (بحوالہ مولانا وحید الدین خاں، الرسالہ جون- جولائی 2021، ص 27)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اگر پہاڑوں کا فرشتہ اہل طائف کو روند ڈالتا تو آج طائف فقط عبرت کی جگہ ہوتی۔ مگر رحمۃللعالمین نے جس مثبت سوچ اور امید کا اظہار کیا ، اسے اللہ نے بعد میں پورا فرمایا۔چنانچہ اہل طائف فتح مکہ (8ھ) کےبعد اسلام لے آئے۔اس کے بعد یہ لوگ ثابت قدمی کے ساتھ اسلام کی خدمت میں لگے رہے۔ مثلاًصحابی رسول حضرت ابو عبید مسعود ثقفی طائف کے رہنے والے تھے۔ انھوں نے حضرت عمرکے زمانہ میں مسلم فوج کی قیادت کرتے ہوئے فارس (ایران) کے خلاف جہاد کیا اور ہاتھیوں کی فوج کے خلاف زبردست جانبازی دکھائی ،اوربعد میںجنگ کرتے ہوئے قتل ہوئے۔ ان جنگوں نے ایران میں مذہبی جبر کا خاتمہ کیا، اور وہاں اسلام تیزی سے پھیلا۔

غزوہ احد (3 ھ) میں آپ کے چچا حمزہ کو قتل کر کے ان کا کلیجہ (liver) نکال کر چبایا گیا ، مگر آپ نے حضرت حمزہ کے قاتل اور کلیجہ چبانے والی عورت دونوں کو معاف کردیا ، یہاں تک کہ یہ دونوں مسلمان ہو گئے ۔ آپ کو اپنےمحبوب نواسہ حسین کے قتل کی خبر دنیا میں ہی دی گئی (مسند احمد، حدیث نمبر 26524)۔ مگر آپ نے صبر و استقلال اور برداشت کی ایسی مثال قائم کی ، جو ہمیشہ بعد والوں کو رہنمائی اور ہدایت کا سامان بہم پہنچاتی رہے گی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا و حید الدین خاں نے اپنی کتاب "مطالعہ سیرت " (صفحہ 8) میںپیغمبر اسلام کے مثبت ایکٹوزم کا خلاصہ ایک برطانی مستشرق ای۔ ای۔ کلیٹ کےالفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے — پیغمبر اسلام نے دشواریوں کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ وہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں :

other sourceWords of another person or source

He faced adversity with the determination to wring success out of failure.

اگر محفوظ تاریخ (recorded history )کو کھنگالنا شروع کریں تو معلوم ہوگا کہ یہاں سب سے زیادہ تکلیفیں اور مشکلات پیغمبر اسلام کو پیش آئیں ۔ آپ کو بہت ستایا گیا اور ہر طرح سے آپ کو ناکام بنانے کی کوششیں کی گئیں مگر آپ کبھی مایوس نہیں ہوئے اور بلند ہمتی سے اپنے سفر کو کامیابی کے نقطہ عروج (culmination) تک پہنچایا۔

مولانا نےبھی ساری زندگی سیرت رسول کو اپنے سامنے رکھ کر زندگی گزاری ۔آپ کی تمام تحریریں اس کی گواہی دیتی ہیں۔مولانا سنت حدیبیہ کو ایک غیر معمولی اور ناگزیر مثال کے طور پر بیان کرتے رہے، جس سنت حدیبیہ کی عملی روح کو امت تقریباً بھول چکی تھی ۔ مولانا نے اس کو ری ڈسکور کیا اور موجودہ زمانے میں اس معاہدہ کے عملی انطباق کی طرف امت کی رہنمائی کی۔

مولانا خود اس پر یوں رقم طراز ہیں: حدیبیہ کے اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خاص سنت معلوم ہوتی ہے ،اور وہ ہے— حالات سے غیر ضروری طور پر ٹکراؤ نہ کرنا ۔ کسی معاملے کو عزت و وقار کا سوال نہ بنا کر اس کو سادہ حقیقت کے طور پر دیکھنا ۔ جذبات سے اوپر اٹھ کر معاملے کو سمجھنا اور فریق ثانی کی رعایت کرتے ہوئے مسئلہ کو حکیمانہ طور پر حل کرنا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے بعد مولانا عصر حاضر کے تقا ضوں سے باخبر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اب ہم دورِ جدید کے مواقع سے کیسے اور کیوں کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔مولانا کے مطابق، اس طریقِ کار کومثبت اسٹیٹس کوازم (positive statusquoism)کہا جا سکتا ہے ۔ مثبت اسٹیٹس کوازم یہ ہے کہ آدمی وقت کے نظام سے ٹکراؤ نہ کرے، بلکہ وہ یہ کرے کہ وقت کے نظام میں موجودہ مواقع کو دریافت کرکے اُسے استعمال کرے۔

مولانا پر اللہ کا خصوصی کرم یہ تھا کہ مولانا مشکل ترین فکری مرحلوں اور عملی زندگی کی پیچیدگیوں میں بھی مثبت سوچ پر قائم رہتے تھے، مثبت واقعہ رونما ہونے کی امید رکھتے تھے۔ اس پر بہت سی مثالیں مولانا کی زندگی سے عیاں ہوتی ہیں، مگر یہ مضمون اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ مولانا کی زندگی کی آخری اور یونیک (unique) دریافت بھی مثبت خیال و فکر تھی ۔امام و داعی ا سلام مولانا وحیدالدین خاں اپنی آخری دریافت کا بیان یوں کرتے ہیں: اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا کا سفر اس طرح کرے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرہ برابر بھی کوئی منفی خیال نہ ہو ۔ اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں کہ انسان دنیا سے اس طرح جائے کہ اس کا ذہن پوری طرح مثبت ہو ۔ اس دنیا میں سب سے بڑی اچھائی مثبت فکر ہے اور سب سے بڑی برائی منفی سوچ ہے ۔ یہی میری آخری دریافت ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا وحید الدین خان کی وفات سے امت مسلمہ ایک فکری و عملی داعی و امام سے محروم ہوگئی ہے۔ آپ نے خلوص سے علمی اور حقیقی معنوں میں دین اسلام کی دعوت کو عام کرنے میں اپنی ساری زندگی صرف کی ۔اللہ تعالیٰ مولانا کو اپنے قرب خاص سے نوازے اور کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات سے نوازے اور مسلمانوں کو حقیقی معنوں میں داعیان اسلام بننے کی توفیق عطا فرمائے، جو آج دور جدید کی اہم ضرورت ہے۔ یا اللہ ہمیں اپنی موت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما اور اس کے لیے زاد راہ کے طور پر دعوت دین کے کام کو تمام عالم میں منظم انداز سے پہنچانے کی توفیق دے۔ اور مولانا کے اہل و عیال کو صبر کی توفیق دے اور انھیں الرسالہ مشن کو وسعت دینے کی صلاحیت سے مالا مال فرما ۔ (نجم الدین ہمدانی ، گلگت بلتستان)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithhadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it