← Al-Risala October 2016Al-Risala October 2016
اسلام کا رول ماڈل
Urdu · 7 min read
اسلام کا رول ماڈل عملی اعتبار سے توسع کے اصول پر مبنی ہے، نہ کہ توحد کے اصول پر۔ یعنی اسلام کے رول ماڈل کے دو پہلو ہیں۔ ایک، فرد کے اعتبار سے، اور دوسرا، مجتمع (society) کے اعتبار سے۔اسلام کے رول ماڈل کو فکری اعتبار سے سمجھنے کے لئے، یہ اصول بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس اصول کو سامنے رکھ کر اسلام کے رول ماڈل کو متعین کیا جائے تو اس کا تعین نہایت آسان ہوگا۔اس کے برعکس، اس اصول کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو اسلام کے رول ماڈل کو سمجھنا آخری حد تک مشکل بن جاتا ہے۔ اسلام کا رول ماڈل فرد کی نسبت سے ذاتی اختیار (individual choice) پرمبنی ہے۔ اس کے مقابلے میں اجتماعی اعتبار سے اسلام کا رول ماڈل اجتماعی اختیار (social choice) پر مبنی ہے۔ اسلا م کے رول ماڈل کے بارے میں یہ تفریق بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
فرد کے اعتبار سے اسلام کا رول ماڈل یہ ہے کہ ہر فرد مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ اسلام کے آئڈیل کو دریافت کرے، اور اپنی ذات کو اس آئڈیل کے مطابق بنائے۔ مثلا عقیدہ کے بارے میں کامل توحید، رسالت کے بارے میں پیغمبر ِ اسلام کو خاتم النبیین سمجھنا، وغیرہ۔ کسی فرد کا واحد نشانہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ فرد کے بارے میں اسلام کی بتائی ہوئی تعلیمات کو اپنی ذاتی زندگی کے لئے واحد معیار سمجھے ، اور اپنے آپ کو ذاتی اعتبار سے کامل طور پر اس معیار کے مطابق بنانے کی کوشش کرے۔
اسلام کے رول ماڈل کا دوسرا پہلو وہ ہے جو اجتماعی زندگی (social life) سے تعلق رکھتا ہے۔ سوشل لائف کے بارے میں اسلام کا رول ماڈل کسی واحد فارم پر مبنی نہیں ہے، بلکہ وہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) پر مبنی ہے، یعنی کسی وقت خاص میں جو اجتماعی ماڈل عمومی طور پر لوگوں کے لئے قابلِ قبول (acceptable)ہو، اس پر اجتماعی نظام کی تشکیل کرنا۔ گویا اسلام کی تعلیم کے مطابق فرد کے لئے نظریاتی اعتبار سے ایک غیر متغیر معیاری ماڈل ہے۔ اس کے برعکس، اجتماعی زندگی کے لئےاس طرح کا واحد غیر متغیر ماڈل نہیں۔ فرد کے معاملے میں اسلام کا رول ماڈل معیار پر مبنی ہے، اور اجتماعی زندگی کے اعتبار سے اسلام کا رول ماڈل معاشرے کے وسع (acceptability) پر مبنی ہے۔ اسلام کے رول ماڈل کے بارے میں اس دوگونہ اصول کو ماننے کے بعد ہر قسم کے ٹکڑاؤ کا امکان ختم ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ کسی شخص کو اپنی ذات کے معاملے میں کامل اختیار حاصل ہے۔ ہر شخص اپنی انفرادی زندگی میں، بلانزاع ، اپنے اختیار کردہ ماڈل کو اختیار کرسکتا ہے۔
ٹکڑاؤ اور تشدد کی تمام صورتیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں، جب کہ اجتماعی زندگی میں توسع کے بجائے توحد کے اصول کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ کیوں کہ فطرت کے نظام کے مطابق ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ جب ایسا کیا جائے کہ اجتماعی زندگی کے لئےہر حال میں ایک ناقابل تغیر ماڈل کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تو لازمی طور پر ایک گروہ کا دوسرے گروہ سے ٹکڑاؤ پیدا ہوجائے گا۔مثلا حاکم (ruler) اور غیر حاکم (ruled) کے درمیان۔ اجتماعی زندگی کے بارے میں اس اصول کو قرآن میںأَمْرُہُمْ شُورَى بَیْنَہُمْ (42:38) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں شوری کے اس اصول نے ایک باقاعدہ تنظیم (institutionalized form) کی حیثیت اختیار کر لی ہے، جس کو جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فرد کے معاملے میں معیار پسندی اور اجتماعی زندگی کے معاملے میں جمہوریت کا طریقہ عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔ اس طریقہ کو غلط طورپر ویٹیکنائزیشن (Vaticanization)یا مذہب اور سیاست کی علاحدگی کا نام دیا جاتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ طریقہ مذہب اور سیاست کی علاحدگی کا طریقہ نہیں ہے، بلکہ یہ حقیقت کے اعتراف (acceptance of reality) کا طریقہ ہے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے انسانی سماج میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔اس کے مقابلے میں دوسرا طریقہ عملا ناقابلِ عمل طریقہ ہے۔ کیوں کہ مذہب اور سیاست کو ایک کرنے کے نام پر سماج میں ابدی ٹکڑاؤ کا ماحول قائم کرنے کے مترادف ہے۔ ایک ایسا ٹکڑاؤ جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ویٹیکنزم اپنی حقیقت کے اعتبار سے ناممکن کے مقابلے میں ممکن کا آپشن لینے کا نام ہے، نہ کہ مذہب اور سیاست کی علاحدگی کا نام۔
مشن کی حیثیت سے اسلام کا نشانہ فرد ہے ، نہ کہ سسٹم۔ایک لفظ میں اسلامی مشن کا نشانہ فرد کا اسلامائزیشن ہے، سسٹم کو اسلامائز کرنا اسلام کا نشانہ نہیں۔زندگی کے بارے میں اسلام کی اسکیم (scheme of things) یہ ہے کہ ہر فرد کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی شخصیت کا ارتقا کر کے اپنے آپ کو جنتی انسان بنائے۔اسی نشانے کی بنا پر اسلام میں یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ سماج کو شوریٰ کے اصول پر مبنی قرار دیا گیا، یعنی سماجی حقائق (social realities) کی بنیاد پر ۔
سماج میں فطرت کے اصول کے مطابق ہمیشہ مفادات کا ٹکڑاؤ پایا جاتا ہے، سماج میں اگر ایسا ہو کہ ایک گروہ اپنے سسٹم کو معیار کی حیثیت دے کر اسی کی بنیاد پر پورے سماج کی تشکیل کرنا چاہے تو لازما مختلف گروہوں کے درمیان ٹکڑاؤ پیش آئے گا۔ یہ ٹکڑاؤ بڑھ کر نفرت اور تشدد کی صورت اختیار کر لے گی، اور پھر یہ ٹکڑاؤ کبھی ختم نہ ہوگا۔سسٹم کو کسی وحدانی اصول پر قائم کیا جائے توسماج میں کبھی امن قائم ہونے والا نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے نشانے کے مطابق جنتی شخصیت کی تعمیر صرف امن کے حالات میں بنتی ہے، نفرت اور تشدد کے حالات میں نہیں۔
اس بنا پر اجتماعی سسٹم کے معاملے میں اسلام نے پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کے اصول کو اختیار کیا ہے۔ یعنی ایسی پالیسی اختیار کرنا ، جو سماجی امن کی یقینی ضمانت ہو۔اس قسم کی یقینی ضمانت صرف اس وقت ممکن ہے، جب کہ سماج کے معاملہ میں ایڈجسٹمنٹ کا اصول اختیار کیا جائے۔اسلام کی ابتدائی تاریخ میں حدیبیہ اگریمنٹ اسی قسم کے ایڈجسٹمنٹ کی ایک مثال ہے۔ اس وقت پیغمبر ِ اسلام نے یک طرفہ ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر فریقِ ثانی سے امن کا معاہدہ کر لیا، اور پھر اس کے بعدفطری طورپرسماج میں وہ معتدل ماحول قائم ہوگیا، جس کے اندر اسلام کا اصل مشن (Islamization of the individual) کا عمل (process) کامیابی کے ساتھ جاری رکھا جاسکے۔
اس معاملے کو سمجھنا اس وقت زیادہ آسان ہوجا تا ہے جب کہ اس حقیقت کو ملحوظ رکھا جائے کہ اسلام کا مشن پر امن دعوت کا مشن ہے،اسلام کا مشن کسی پولیٹیکل سسٹم کو نافذ کرنے کا مشن نہیں۔ اسلام کا دعوتی مشن صرف اس وقت کامیابی کے ساتھ چل سکتا ہے، جب کہ سماج میں اعتدال کا ماحول ہو۔ اور اعتدال کا ماحول قائم کرنے کی واحد صورت صرف یہ ہے کہ فرد اور اجتماع کے معاملے میں فرق کیا جائے۔ فرد کے معاملہ میں آئڈیل کا اصول اختیار کیا جائے، اور سوشیو-پولیٹیکل سسٹم (socio-political system) کے معاملہ میں جمہوریت کا اصول۔
حقیقت، نہ کہ ظواہر
کعبہ کے اوپر غلاف اوڑھانے کا رواج قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کعبہ کے اوپرپہلا غلاف خود حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اوڑھایا تھا۔ اگر چہ یہ بات تاریخی معیار پر ثابت شدہ نہیں۔
قریش اپنے دور میں کعبہ کو غلاف اوڑھاتے رہے۔ فتح مکہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کا موقع نہیں تھا۔ بعد کو جب مکہ فتح ہوا، اس وقت رسول صلی اللہ علیہ کے لیے موقع تھا کہ آپ کعبہ پر نیا غلاف ڈالیں۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔فتح مکہ کے بعد بھی آپ نے اسی غلاف کو باقی رکھا جو قریش (بالفاظ دیگر مشرکین)نے کعبہ کو اوڑھایا تھا۔
اس کے بعد ایسا ہوا کہ ایک عرب خاتون کعبہ کوخوشبو دینے کے لیے کسی خوشبودار چیز کی دھونی دے رہی تھی۔ اس دھونی دینے کے عمل کے دوران کعبہ کے غلاف کو آگ لگ گئی اور وہ جل گیا۔ اس وقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یمنی کپڑے کا ایک غلاف اس کے اوپر اوڑھایا۔ آپ کے بعد خلفاء کے درمیان اس کی سنت جاری رہی۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اسلام میں حقیقت کی اہمیت ہے، نہ کہ ظواہر کی۔(ڈائری، 1983)