← Al-Risala October 2016Al-Risala October 2016
اسلام اور محبت انسانی
Urdu · 5 min read
ایک بار میں امریکا کے سفر پر تھا۔ وہاں مجھے سینٹ پال چرچ کے ایک پروگرام میں انوائٹ کیا گیا۔ میں نے اسلام اور امن کے موضوع پر تقریر کی۔ تقریر کے خاتمہ پر ایک مسیحی اسکالر نے سوال کیا کہ مسیحیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اپنے دشمنوں سے محبت کرو:
Love your enemy (Matthew 5:44)
انھوں نے کہا کہ آپ قرآن کی کوئی ایسی آیت بتا سکتے ہیں، جس میں اسی قسم کی مثبت تعلیم دی گئی ہو۔ میں نے کہا کہ ہاں ایسی آیت موجود ہے۔ پھر میں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ ۔ (41:34) یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ دشمن سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان سے محبت کرو، خواہ بظاہر وہ تم کو اپنا دشمن نظر آتا ہو۔قرآن میں مزید یہ اضافہ ہے کہ دشمن سے اگر تم برا سلوک کرو تو اس کا نتیجہ منفی ردعمل کی صورت میں ظاہر ہوگا۔اس کے برعکس، اگر تم اپنے دشمن سے اچھا سلوک کرو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن کا ضمیر بیدا ر ہوگا، وہ تمھارے ساتھ اپنے تعلق کو درست کر لےگا۔مزید یہ کہ اگر دشمن کے رویہ کے بنا پر تمھارے اندر منفی ردعمل پیدا ہوتو اس کو شیطان کا وسوسہ سمجھو، اور اپنے آپ کو ہر حال میں یک طرفہ حسنِ سلوک کے اصول پر قائم رکھو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی اسلام کی اصل تعلیم ہے۔اسلام میں اجتماعی تعلق کو صبر کے اصول پر قائم کیا گیا ہے۔ صبر کا مطلب ہے،یک طرفہ حسنِ سلوک۔ یعنی فریقِ ثانی کی طرف سے اگر برا سلوک کیا جائے تب بھی یک طرفہ طور پر اس کے ساتھ اچھے سلوک کا معاملہ کرنا۔
اس تعلیم کے مطابق اسلام میںتشدد کے لئے کوئی عذر، معقول عذر نہیں۔اسلام کی تعلیم کے مطابق اہل ایمان پر فرض ہے کہ وہ ہر حال میں دوسروں کے ساتھ پر امن روش اختیار کرے۔وہ کسی بھی چیز کو عذر بنا کر تشدد کا رویہ اختیار نہ کرے۔اسلام کے مطابق تشدد کی شریعت شیطان کی شریعت ہے،تشدد کی شریعت اسلام کی شریعت نہیں۔اس دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر ہر انسان بشمول مسلم کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ نزاع کے موقع پرامن کا طریقہ چھوڑ کر تشدد کا طریقہ اختیار کرے، لیکن خدا کے قانون کے مطابق اس کا ایسا کرنا اپنی آزادی کا غلط استعمال ہوگا،اور آزادی کا غلط استعمال اللہ کے نزدیک قابلِ قبول نہیں۔ خواہ آزادی کا یہ غلط استعمال مسلم نے کیا ہو یا غیر مسلم نے۔تشدد کا ہر طریقہ اللہ کی دی ہوئی آزادی کا غلط استعمال ہے۔ اجتماعی معاملات میں کسی انسان کے لئے صرف ایک آپشن (option) ہے، اور وہ امن کا آپشن ہے۔اسلام کے مطابق تشدد کوئی آپشن ہی نہیں۔
محبت کا معاملہ صرف اخلاق کا معاملہ نہیں۔ محبت کا تعلق براہِ راست خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے ہے۔ انسان کے بارے میں اس کے خالق کا جو منصوبہ ہے، وہ صرف اس طرح پورا ہو سکتا ہے، جب کہ انسانوں کے درمیان نارمل تعلق قائم ہوں۔ نارمل تعلق کے ماحول میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہر انسان فطرت کی سطح پر اپنی شخصیت کی تعمیر کر سکے۔کسی انسان کو یہ موقع نہ رہے کہ وہ کہہ سکے کہ فلاں عذر کی بنا پر اس کواپنی شخصیت کی تعمیر کا موقع نہیں ملا۔تشدد لوگوں کو عذر کا موقع دیتا ہے۔اس کے برعکس، امن کا ماحول لوگوں کے لئے یہ امکان ختم کردیتا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے مواخذہ کے وقت کوئی عذر پیش کر سکے۔
ذمہ دار کون (Who is to blame?)
موجودہ زمانے میں مسلمان تشدد (terrorism) کے جن واقعات میں ملوث ہیں، ان کے بارے میں ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ واقعات تو رد عمل (reaction) کے طور پر ہو رہے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف جو نا انصافی کی جارہی ہےاس کا فطری نتیجہ ہے کہ مسلمان کے اندر ردعمل کی نفسیات پیدا ہو۔ اور یہ ردعمل بڑھتے بڑھتے تشدد ، حتی کہ خود کش بمباری تک پہنچ جائے۔ مثلا فلسطین میں اسرائیل عربوں پر ظلم کر رہا ہے، ایسی حالت میںعربوں کے اندر اس کا ردعمل پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔
یہ دلیل سر تا سر غیر اسلامی ہے۔اسلام میں رد عمل (reaction) کا کوئی تصور موجود نہیں۔اس طرح کے نزاعی معاملات میں اسلام کی تعلیمات صبر کے اصول پر قائم ہیں۔قرآن کے بالکل شروع میں سورہ المدثر نازل ہوئی۔ اس میں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا : وَلِرَبِّکَ فَاصْبرِ (74:7)۔ قرآن کا بیشتر حصہ ساتویں صدی کے ربع اول میں اترا۔ اس زمانے میں عرب میں ٹرائبل کلچر قائم تھا۔ اس بنا پر اس زمانے میں پیغمبر اور پیغمبر کے متبعین پر ہر قسم کی زیادتیاں کی گئیں۔ مگر قرآن میں ہمیشہ یہ حکم دیا گیا کہ تم صبر کی روش پر قائم رہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صبر کوئی بے عملی کی تعلیم نہیں۔ صبر کا مطلب ہےاللہ کے تخلیقی نقشہ سے مطابقت کرنا۔اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔اس آزادی میں واضح طور پر آزادی کا غلط استعمال بھی شامل ہے۔جس چیز کو ایک فریق ظلم کہتا ہے، وہ دوسرے فریق کے لئے اپنی خداد اد آزادی کا غلط استعمال ہے۔ ایسی حالت میں ظلم کے خلاف شکایت یا احتجاج کرناانسان کے خلاف شکایت یا احتجاج نہیں ہے، بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔اور جب معاملہ خدا کے تخلیقی منصوبے کا ہو تو انسان کے لئے اس کے خلاف پروٹیسٹ کا آپشن نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں انسان کے لئے ایک ہی آپشن ہے، اور وہ ہےمبنی بر صبر پلاننگ۔یعنی ری ایکشن کے بغیر پر امن طور پر حالات کو مینیج (manage)کرنا، تشدد کے بغیر پر امن انداز میں معاملے کا حل تلاش کرنا۔
آخرت وہ دنیا ہے جہاں صرف امر حق میں قیمت ہو، امر غیر حق جہاں بے قیمت ہوکر رہ جائے۔