آبسیشن (obsession) کا لفظ عام طورپر negative معنی میں لیا جاتاہے۔ مثلا کوئی شخص اپنے فخر کے obsession میں جینے لگے، وغیرہ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ obsession کی دو قسمیں ہیں— wrong obsession اور right obsession۔ جس طرح ایسا ہوتا ہے کہ غلط obsession آدمی کے اوپر چھا جاتا ہے اور وہ right thinking کے قابل نہیں رہتا، اِسی طرح right obsession بھی صحیح موقف کو متعین کرنے کے سلسلہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
right obsession کی ایک مثال یہ ہے کہ مسلمانوں کی پچھلی ہزار سال کی تاریخ میں ایک بات بہت بار دہرائی گئی کہ قرآن وسنت کا اتباع کرو، قرآن وسنت کا اتباع کرو۔ اس طرح قرآن وسنت کا اتباع مسلمانوں کے لیے ایک obsession بن گیا۔ بظاہر یہ ایک right obsession تھا۔ مگر ہزار سال کے دوران ٹریڈیشنل فریم ورک کی بنا پر وہ لوگوں کو right نظر آتا رہا۔ مگر 20 ویں صدی میں جب زمانہ بدلا اور سائنٹفک فریم ورک کا دور آگیا تو مسلم ذہنوں کا یہ آبسیشن دور جدید میں عملاً غیرمتعلق (irrelevant) ہوگیا-اس دور میں جو مسلم رہنما اٹھےوہ بدستور قرآن وسنت کی اتباع پر زور دیتے رہے، لیکن وہ یہ سمجھ نہ سکے کہ اب نئے فریم ورک کا زمانہ آگیا ہے- اب قرآن وسنت کے ساتھ اجتہاد کا اضافہ کرنا ہوگا تب آدمی قدیم آبسیشن سے باہر آکر صحیح انداز میں سوچنے کے قابل ہوگا۔
روایتی طرز فکر کے مطابق انسان صرف ایک ڈائی کاٹومی (dichotomy)میں سوچتا تھا- صحیح اور غلط، right or wrong - مگر موجودہ زمانہ میں یہ ڈائی کاٹومی بدل گئی ہے- اب ایک تیسری چیز وجود میں آئی، وہ تھی حالات کے اعتبار سے غیر متعلق (irrelevant) ہونا۔ قرآن وسنت کی ڈائی کاٹومی بذات خود صحیح تھی۔ مگر یہ آبسیشن موجودہ زمانہ میںغیر متعلق (irrelevant) بن گیا۔ کیوں کہ اب نئے حالات میں قرآن وسنت کا ٹریڈیشنل تصور ناکافی ہوگیا۔ اب ضروری تھا کہ قرآن وسنت میں اجتہاد کا اضافہ کرکے اسلام کو دوبارہ نئے حالات کے مطابق متعلق (relevant) بنایا جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.