قرآن (الملک: 3) میں چیلنج کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی تخلیق میں کوئی فطور (flaw)نہیں۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی کوشش کرے، وہ کائنات میں کسی قسم کے فطور کی نشاندہی نہیں کرسکتا۔ یہ در اصل تخلیق کے حوالے سے خالق کی صفت کا بیان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا خالق آخری حد تک ایک کامل ہستی ہے۔
خدا جب کامل ہے تو اس کا عطیہ کبھی غیر کامل نہیں ہوسکتا۔ یہ ناممکن ہے کہ خدا انسان کو عارضی زندگی دے لیکن ابدی زندگی سے اس کو محروم رکھے۔ وہ انسان کو خواہش (desire) دے، لیکن وہ اس کو فل فلِمینٹ (fulfillment)سے محروم رکھے۔ وہ انسان کو غم دے لیکن وہ اس کو خوشی سے محروم رکھے۔ وہ انسان کو نقصان کا تجربہ کرائے لیکن وہ اس کو یافت کے تجربے سے محروم رکھے۔وہ انسان کو معیار پسند (idealist) بنائے لیکن آئڈیل ورلڈ (ideal world) سےوہ اس کو محروم رکھے۔ وہ انسان کو مستقبل بیں بنائے لیکن وہ اس کو مستقبل سے محروم رکھے۔
تخلیق میں اس قسم کا فرق ہونا، خدا کی کاملیت کے خلاف ہے۔ اور یہ بلاشبہ ناممکن ہے کہ خدا کی کاملیت میںکوئی غیر کامل پہلو موجود ہو۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے لیے خدا کا عطیہ کبھی غیر کامل نہیں ہوسکتا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا ارحم الراحمین ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے استحقاق (deservation) میں کوئی کمی ہو تو خدا اپنی رحمت سے اس کو پورا کردیتا ہے۔ وہ انسان کی عملی کوتاہی کی تلافی اپنی رحمت کے ذریعے کردیتا ہے۔
ایک حدیثِ قدسی میں آیا ہے : أنا عند ظن عبدی بی (صحیح البخاری، حدیث نمبر7405) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کی کمی کو دیکھ کر مایوس نہ ہو، بلکہ وہ خدا کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے دعا کرے کہ اے خدا تو میرے ساتھ میرے عمل کے مطابق فیصلہ نہ فرما، بلکہ تومیرے ساتھ اپنی رحمت کے مطابق فیصلہ فرما۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔