سوانح عمری (biography)لکھنا ایک مشکل آرٹ ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں آدمی یاتو اپنی سوانح عمری خود لکھتا ہے جسے خود نوشت سوانح عمری (autobiography) کہا جاتا ہے۔ جیسے برٹش فلاسفر برٹرینڈ رسل (Bertrand Russell) کی خود نوشت سوانح عمری جو کہ پہلی بار 1967 میں شائع ہوئی۔ یا پھر کسی کی سوانح عمری ایسا شخص لکھتا ہے جو خود اعلی درجہ کی علمی صلاحیت رکھتا ہو۔ مثلا برٹش رائٹر سیموئل جانسن (Samuel Johnson) کی سوانح عمری جس کو جیمس باسویل (James Boswell) نے لکھا جو مسلمہ طور پر اعلی درجہ کی علمی صلاحیت رکھتا تھا۔یہ سوانح عمری پہلی بار 1791 میں چھپی۔
غیر ترقی یافتہ ملکوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ غیر ترقی یافتہ ملکوں میں اب تک چیز وں کا اسٹینڈرڈائزیشن (standardization) نہیں ہوا ہے۔ اسی طرح یہاں سوانح عمری کا بھی کوئی اسٹینڈرڈ قائم نہیں ہوا ۔ کوئی بھی شخص کسی کی سوانح عمری لکھ کر چھاپ دیتا ہے جس کا کوئی علمی درجہ نہیں ہوتا۔ اس طرح کی غیر معیاری سوانح عمری لکھنا غیر ترقی یافتہ ملکوں میں عام ہے جس کا عملا کوئی فائدہ نہیں۔
غیر معیاری سوانح عمری لکھنا اس شخص پر ظلم ہے جس شخص کے نام پر یہ سوانح عمری لکھی اور چھاپی گئی ہے۔ ایسی ہر سوانح عمری صاحب سوانح کا ناقص تعارف ہے۔ اس طرح کا ناقص تعارف کرنا اتنا ہی غلط ہے، جتنا کہ کسی سے بے بنیاد بات منسوب کرنا۔ جو لوگ ایسی سوانح عمری لکھیں وہ یہ رسک (risk) لیتے ہیں کہ علم کی عدالت میں ان سے پوچھا جائے کہ جو کام تمھارے کرنے کا نہیں تھا وہ کام تم نے کیوںانجام دیا۔
لوگ اس بات کو جانتے ہیںکہ اگر ایک شخص کو نماز کے مسائل معلوم نہیں تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ نمازِ باجماعت کی امامت کرے۔ لیکن لوگ اس بات کو نہیں جانتے کہ جس شخص کو تصنیف کے مسائل معلوم نہیں اس کو کسی علمی موضوع پر ہرگز تصنیف نہیں کرنا چاہیے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔