Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2015
Al-Risala October 2015

اچانک موت

Urdu · 2 min read

انڈیا کے سابق پریسڈنٹ ڈاکٹر عبدالکلام 27 جولائی 2015 کو انتقال کرگیے۔ بوقت وفات ان کی عمر 83 سال تھی۔ وہ نئی دہلی سے شیلانگ گیے۔ وہاں ان کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ (Indian Institute of Management) شیلانگ میں ایک سائنسی موضوع پر لکچر دینا تھا۔ پروگرام کے مطابق انھوں نے اپنا لکچر شروع کیا۔ اس وقت ہال میں سامعین اور میڈیا کے لوگوں کی بھیڑ جمع تھی۔

ڈاکٹر کلام بمشکل پانچ منٹ بول پائے تھے۔ اس کے بعد اچانک ان کی زبان بند ہوگئی، اور وہ اسٹیج پر گر پڑے۔ ان کو فوراً اسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر کلام کی موت واقع ہوچکی ہے۔ لکچر کا آخری جملہ جو ان کی زبان سے نکلا، وہ یہ تھا:

It is the destiny of our nation that an Indian brain requires an acknowledgment from a foreign...

موت لازما ہر انسان پر آتی ہے۔ تاہم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موت کسی آدمی پر اس طرح آتی ہے کہ وہ بیمار ہوجائے، یا اس کو کوئی حادثہ پیش آجائے، یا وہ بوڑھا ہو کر مرے۔ لیکن خالق کبھی ایسا کرتا ہے کہ انسان کی موت اچانک آجاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ نہ کوئی آخری وصیت کرسکتا، اور نہ وہ اپنا درد دوسروں سے بیان کرسکتا۔ وہ بالکل نارمل حالت میں ہوتا ہے کہ اچانک اس کی آواز بند ہوجاتی ہے، اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ مر چکا ہے۔

کسی شخص پراچانک موت اس لیے آتی ہے کہ لوگ اس کو دیکھ کر سبق لیں،وہ بے خبری کی زندگی نہ گزاریں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک صحابی رسول عبد اللہ ابن عمر نے ان الفاظ میں بیان کیا: إذا أمسیت فلا تنتظر الصباح، وإذا أصبحت فلا تنتظر المساء (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6416) جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب تم صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content