قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن اس لئے بھیجا گیاکہ وہ سارے عالم کے لئے نذیر (warner)بنے۔ ساری قوموں کے لئے نذیر بننا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ قرآن کو ان کی اپنی قابل فہم زبان میں ترجمہ کرکے ان کو پہنچایا جائے۔ یہ اصول خود قرآن سے ان الفاظ میں معلوم ہوتا ہے — پیغمبر کو قوم کی اپنی زبان میں بھیجنا۔ چنانچہ قرآن میں آیا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ (14:4)۔
یہ اللہ کی ایک سنت ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ پچھلے زمانے میں خدا قوموں کو خود ان کی اپنی زبان میں ہدایت بھیجے، اور بعد کے زمانے میں ساری قوموں کو صرف عربی زبان میں ہدایت بھیجے۔ یہ غیرفطری بھی ہے اور اللہ کی سنت کے خلاف بھی۔اس لیے اب امت کا فرض ہے کہ وہ قرآن کو تمام قوموں کی زبانوں میں ترجمہ کرکے ان قوموں تک پہنچائے۔ اس کے بغیر قوموں پر اللہ کی حجت تمام نہیں ہوسکتی۔ پرنٹنگ پریس کے دور میں ایسا کرنا پوری طرح ممکن ہوگیا ہے۔موجودہ زمانے میں پرنٹنگ پریس اور کمیونی کیشن کا سب سے بڑا استعمال یہی ہے۔
مسلمانوں نے عربی زبان میں تو قرآن کے بے شمار نسخے چھاپ کر ہر جگہ پھیلادیے ہیں۔ لیکن یہ کام کرنا ابھی تک باقی ہے کہ دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں قرآن کا قابل فہم ترجمہ تیار کیا جائے، اور اس کو ہر انسان تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ یہاں تک کہ کوئی انسان اس سے بے خبر نہ رہے۔موجودہ زمانے میں یہ کام پوری طرح ممکن ہوچکا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ کے اندر اس کی اہمیت کا شعور پیدا ہوجائے۔ امت مسلمہ کا اصل فریضہ شہادت علی الناس یا دعوت الی اللہ ہے۔ اس کام کی ادائیگی امت مسلمہ پر اسی طرح فرض ہے جس طرح اس پر نماز اور روزہ فرض ہے۔ یہ فریضہ،فرض عین کی مانند ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلم فرد کو اس کام کی ادائیگی میں اپنا حصہ لازماً ادا کرنا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔