Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2015
Al-Risala October 2015

قرآن کا ترجمہ

Urdu · 2 min read

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن اس لئے بھیجا گیاکہ وہ سارے عالم کے لئے نذیر (warner)بنے۔ ساری قوموں کے لئے نذیر بننا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ قرآن کو ان کی اپنی قابل فہم زبان میں ترجمہ کرکے ان کو پہنچایا جائے۔ یہ اصول خود قرآن سے ان الفاظ میں معلوم ہوتا ہے — پیغمبر کو قوم کی اپنی زبان میں بھیجنا۔ چنانچہ قرآن میں آیا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ (14:4)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ اللہ کی ایک سنت ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ پچھلے زمانے میں خدا قوموں کو خود ان کی اپنی زبان میں ہدایت بھیجے، اور بعد کے زمانے میں ساری قوموں کو صرف عربی زبان میں ہدایت بھیجے۔ یہ غیرفطری بھی ہے اور اللہ کی سنت کے خلاف بھی۔اس لیے اب امت کا فرض ہے کہ وہ قرآن کو تمام قوموں کی زبانوں میں ترجمہ کرکے ان قوموں تک پہنچائے۔ اس کے بغیر قوموں پر اللہ کی حجت تمام نہیں ہوسکتی۔ پرنٹنگ پریس کے دور میں ایسا کرنا پوری طرح ممکن ہوگیا ہے۔موجودہ زمانے میں پرنٹنگ پریس اور کمیونی کیشن کا سب سے بڑا استعمال یہی ہے۔

مسلمانوں نے عربی زبان میں تو قرآن کے بے شمار نسخے چھاپ کر ہر جگہ پھیلادیے ہیں۔ لیکن یہ کام کرنا ابھی تک باقی ہے کہ دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں قرآن کا قابل فہم ترجمہ تیار کیا جائے، اور اس کو ہر انسان تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ یہاں تک کہ کوئی انسان اس سے بے خبر نہ رہے۔موجودہ زمانے میں یہ کام پوری طرح ممکن ہوچکا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ کے اندر اس کی اہمیت کا شعور پیدا ہوجائے۔ امت مسلمہ کا اصل فریضہ شہادت علی الناس یا دعوت الی اللہ ہے۔ اس کام کی ادائیگی امت مسلمہ پر اسی طرح فرض ہے جس طرح اس پر نماز اور روزہ فرض ہے۔ یہ فریضہ،فرض عین کی مانند ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلم فرد کو اس کام کی ادائیگی میں اپنا حصہ لازماً ادا کرنا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content