Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2014
Al-Risala October 2014

دلیل یا شوشہ

Urdu · 2 min read

ایک بت پرست شخص سے ایک مسلمان نے قرآن کے حوالے سے کہا کہ آپ غیر اللہ کو حاجت روائی کے لیے مت پکارا کریں۔ کیوں کہ قرآن (22:73) میں بتایا گیا ہےکہ سارے بت مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے، اور اگر ایک مکھی اُن سے کوئی چیز چھین لے تو یہ اُس کو مکھی سے واپس بھی نہیں لے سکتے۔ بت پرست شخص نے جواب دیا کہ ہم لوگ بتوں سے مکھیاں پیدا کرانا نہیں چاہتے۔ اور اگر کوئی مکھی ان بتوں سے کوئی چیز چھین لے جائے تو اِس سے ان کا کیا نقصان ہوتا ہے، وہ تو خزانوں کے مالک ہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بت پرست شخص کی یہ بات دلیل نہیں ہے بلکہ وہ ایک شوشہ ہے۔ قرآن میں جو بات کہی گئی ہے وہ تمثیل کی زبان میں ہے۔ اس کا مقصد، مکھی کا معاملہ بتانا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد مفروضہ اصنام کی کمزوری کو بتاناہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے مفروضہ اصنام کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ وہ بارش برساتے ہیں، وہ انسان کو اولاد دیتے ہیں، وہ انسان کے مسائل کو حل کرتے ہیں۔ یہ سب بے بنیاد مفروضات ہیں۔ اِن مفروضات کی کوئی حقیقت نہیں۔ اِس مثال میں مکھی کا لفظ کمزوری کی علامت کے طورپر آیا ہے، نہ کہ مکھی جیسے ایک حیوان کو بتانے کے لیے-

لوگوں میں اِس طرح کا کمزور استدلال بہت عام ہے۔ لوگ عام طورپر دلیل کا جواب دلیل سے دینا نہیں جانتے۔ وہ اکثر ایسا کرتےہیں کہ دلیل کے جواب میں ایک غیر متعلق مثال بیان کردیں گے۔ وہ صاحب دلیل کے خلاف عیب جوئی کی زبان استعمال کریں گے۔ وہ دعوی کی زبان بولیں گے ، حالاں کہ دعوی کی زبان سے کوئی با ت ثابت نہیں ہوتی-

دلیل کے بجائے شوشے کا طریقہ اتنا وسیع ہے کہ اگر کوئی شخص چاہے تو قرآن او ر حدیث کے معاملے میں بھی، وہ اُس کو استعمال کرسکتا ہے، مگر شوشہ محض ایک جوک (joke) ہے، وہ ہرگز کوئی دلیل نہیں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content