ایک بت پرست شخص سے ایک مسلمان نے قرآن کے حوالے سے کہا کہ آپ غیر اللہ کو حاجت روائی کے لیے مت پکارا کریں۔ کیوں کہ قرآن (22:73) میں بتایا گیا ہےکہ سارے بت مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے، اور اگر ایک مکھی اُن سے کوئی چیز چھین لے تو یہ اُس کو مکھی سے واپس بھی نہیں لے سکتے۔ بت پرست شخص نے جواب دیا کہ ہم لوگ بتوں سے مکھیاں پیدا کرانا نہیں چاہتے۔ اور اگر کوئی مکھی ان بتوں سے کوئی چیز چھین لے جائے تو اِس سے ان کا کیا نقصان ہوتا ہے، وہ تو خزانوں کے مالک ہیں-
بت پرست شخص کی یہ بات دلیل نہیں ہے بلکہ وہ ایک شوشہ ہے۔ قرآن میں جو بات کہی گئی ہے وہ تمثیل کی زبان میں ہے۔ اس کا مقصد، مکھی کا معاملہ بتانا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد مفروضہ اصنام کی کمزوری کو بتاناہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے مفروضہ اصنام کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ وہ بارش برساتے ہیں، وہ انسان کو اولاد دیتے ہیں، وہ انسان کے مسائل کو حل کرتے ہیں۔ یہ سب بے بنیاد مفروضات ہیں۔ اِن مفروضات کی کوئی حقیقت نہیں۔ اِس مثال میں مکھی کا لفظ کمزوری کی علامت کے طورپر آیا ہے، نہ کہ مکھی جیسے ایک حیوان کو بتانے کے لیے-
لوگوں میں اِس طرح کا کمزور استدلال بہت عام ہے۔ لوگ عام طورپر دلیل کا جواب دلیل سے دینا نہیں جانتے۔ وہ اکثر ایسا کرتےہیں کہ دلیل کے جواب میں ایک غیر متعلق مثال بیان کردیں گے۔ وہ صاحب دلیل کے خلاف عیب جوئی کی زبان استعمال کریں گے۔ وہ دعوی کی زبان بولیں گے ، حالاں کہ دعوی کی زبان سے کوئی با ت ثابت نہیں ہوتی-
دلیل کے بجائے شوشے کا طریقہ اتنا وسیع ہے کہ اگر کوئی شخص چاہے تو قرآن او ر حدیث کے معاملے میں بھی، وہ اُس کو استعمال کرسکتا ہے، مگر شوشہ محض ایک جوک (joke) ہے، وہ ہرگز کوئی دلیل نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔