Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2014
Al-Risala October 2014

تکاثر سے قبر تک

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ التکاثر میں انسان کی ایک عمومی حالت کو ان الفاظ میں بتایا گیاہے: اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۝ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (102:1-2) یعنی زیادہ سے زیادہ کی حرص نے تم کو غفلت میں رکھا، یہاں تک کہ تم قبروں میں جاپہنچے-

Qur'anQuotes the Qur'an

انسان کا حال یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے۔ وہ اِسی عمل میں مشغول رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ وہ دنیا سے اس احساس کے ساتھ چلا جاتا ہے کہ اس نے جس چیز کے حصول کو اپنا نشانہ بنایا تھا، اس کو وہ حاصل نہ کرسکا-

حقیقت یہ ہے کہ مال برائے ضرورت کی ایک حد ہے۔ اِس کے برعکس مال برائے مال کی کوئی حد نہیں۔ اگر انسان ضرورت کے لئے مال حاصل کرنا چاہے تو ایک حد پر پہنچ کر اس کو اطمینان حاصل ہوجائے گا۔ لیکن انسان اگر مال برائے مال کو اپنی زندگی کا نشانہ بنائے تو اس کی طلب کی کبھی کوئی حد نہیں آئے گی۔ انسان بے اطمینانی کی حالت میں جیے گا، اور بے اطمینانی کی حالت میں مر جائے گا-

امریکا کے مشہور دولت مند بل گیٹس (Bill Gates) نے اپنی زندگی کا مقصد یہ بنایا کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرے۔ انھوںنے ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن گئے۔ لیکن آخر میں ان کو محسوس ہوا کہ میری ضرورت تو محدود ہے۔ پھر اس کثیر دولت کا کیا استعمال۔ انھوں نے اپنے ایک لکچر میں کہا کہ:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Once you get beyond a million dollars, it is the same hamburger.

یعنی تم خواہ کتنی ہی زیادہ دولت حاصل کرلو، مگر تمھاری ضرورت تو بدستور وہی سینڈوچ رہے گی- یہ ہر اُس آدمی کا انجام ہوتا ہے، جو زیادہ دولت کمانے کو اپنا نشانہ بنائے- آخرمیں عدم اطمینان کے سوا کچھ اور اُس کے حصے میں آنے والا نہیں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content