← Al-Risala October 2014Al-Risala October 2014
قریش کلچر
Urdu · 4 min read
قرآن کی سورہ قریش میں قریش کی نسبت سے اللہ کی ایک سنت بیان کی گئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ اٖلٰفِہِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاۗءِ وَالصَّیْفِ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍ ڏ وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ (106:1-4)یعنی اِس واسطے کہ قریش مانوس ہوئے، جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس، تو اُن کوچاہیے کہ وہ اُس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے اُن کو بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے اُن کو امن دیا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قدیم مکہ میں قبیلۂ قریش کوسرداری کا مقام حاصل تھا۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ وہ کعبہ کے متولی تھے۔ کعبہ کی اہمیت یہ تھی کہ اس میں عرب کے تمام قبائل کے بت رکھے ہوئے تھے، اِس لیےکعبہ تمام عرب قبائل کا مقدس ترین مرکز بن گیا تھا-
قدیم زمانے میں معاشیات کا انحصار زراعت پر تھا، لیکن مکہ میں کوئی زراعت نہ تھی۔ قریش کے لوگ کچھ روایتی سامان کی تجارت کرتے تھے۔ اِس مقصد کے لیے وہ تجارتی اسفار کرتے تھے-اُن کا تجارتی قافلہ سردی کے موسم میں یمن کی طرف جاتا تھا۔ اور گرمی کے موسم میں شام کے علاقے کی طرف۔ قدیم زمانے میں اِس قسم کے قافلوں کو ہمیشہ ڈاکوؤں کا خطرہ رہتا تھا۔ لیکن قریش کے قافلے اِس قسم کے خطرات سے محفوظ تھے، کیوں کہ کعبہ کے خادم اور متولی ہونے کی بنا پر اُن کو عرب کے قبائل میں عزت کا مقام حاصل تھا۔ ایسے موقع پر کسی قریش کی حفاظت کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ رہزنوں سے یہ کہہ دے کہ: أنا من حَرَم اللہ-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قرآن کی اِس سورہ میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ صرف قدیم زمانے کے قریش کا ایک معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ کی ایک سنت کا معاملہ ہے۔ یہ دراصل اللہ کے عطیات کا ذکر کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو ہر زمانے میں مختلف قسم کی سہولتیں عطا فرماتا ہے، تاکہ وہ اللہ کے شکر کرنےوالے بنیں اور اللہ کی عبادت کے تقاضوں کو پورا کریں۔ قدیم زمانے میں قریش کو جو اقتصادی نعمت حاصل تھی، وہ آج کے انسان کو لاکھوں گنا اضافے کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ قدیم زمانے میں کچھ روایتی سامانوں کی صرف محدود تجارت ہوسکتی تھی۔ باربرداری (transportation) کے لیے بھی صرف اونٹ اور خچر کا ذریعہ دستیاب تھا-مگر موجودہ زمانے میں صنعتی انقلاب نے صورتِ حال کو بالکل بدل دیا ہے۔ موجودہ زمانے کو اقتصادی انفجار(economic explosion) کہاجاتا ہے۔ اب تجارت کی بے شمار صورتیں وجود میں آگئی ہیں۔ اب ہر انسان کے لیے کمائی کے لامحدود ذرائع کھل گئے ہیں-
موجودہ زمانے میں اقتصادی ترقی کے جو مواقع پیدا ہوئے ہیں، وہ اتنے زیادہ ہیں کہ قریش کے زمانے کے اقتصادیات (economics) سے اُن کو کوئی نسبت نہیں۔ یہی معاملہ راستوں کے تحفظ کا بھی ہے۔ قدیم زمانے میں اجتماعی تحفظ کا کوئی نظام موجود نہ تھا، ہر شخص اپنے تحفظ کا خود ذمے دار ہوتا تھا۔ اِسی صورتِ حال کی بنا پر قدیم زمانے میں وہ مسئلہ پیدا ہوا جس کو رہزنی (robbery)کہا جاتا ہے-
برطانی فلسفی جرمی بنتھام (Jeremy Bentham d. 1832)غالباً پہلا شخص تھا جس نے اجتماعی تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انگلینڈ میں انیسویں صدی میں پاپولیشن ایکسپلوزن ہوا۔ اس کے بعد وہاں کی سوسائٹی میں جرائم بڑھ گئے۔ اُس وقت وہاں کے ذمے داروں نے محسوس کیا کہ سماجی تحفظ کا باقاعدہ انتظام ہونا چاہیے۔ چنانچہ 1829 میں لندن میں ایک سرکاری تنظیم قائم کی گئی۔ اس کا نام یہ تھا:
Metropolitan Police Services
یہ دنیا میں پولیس کی پہلی سرکاری تنظیم تھی۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے ہر ملک کی حکومت نے اس کو اختیار کرلیا۔ اِسی انتظام کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہم جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو ہم کو یقین ہوتا ہے کہ سرکاری طورپر قائم شدہ پولیس کا انتظام ہماری حفاظت کرے گا، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی۔ یہ انتظام اُس سے لاکھوں گنا بڑا ہے جو قدیم زمانے میں قریش کو کعبہ کے متولی ہونے کی بنا پر حاصل تھا۔ قریش کو قدیم زمانے میں اللہ کی جو نعمت حاصل تھی، وہ موجودہ زمانے کے انسان کو بہت زیادہ اضافے کے ساتھ عطا ہوئی ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے قریش کو جو نوازش محدود سطح پر حاصل تھی، وہ موجودہ زمانے میں لامحدود سطح پر عالمی دائرے میں حاصل ہوگئی ہے۔ اس کا تقاضہ ہے کہ آج انسان زیادہ بڑے پیمانے پر اللہ کا شکر ادا کرے اور زیادہ بڑے درجے میں وہ عبادتِ الٰہی کی ذمے داریوں کو پورا کرے-