قرآن کی سورہ الفتح میں زمانہ رسالت کے اُس واقعے کا ذکر ہے جس کو معاہدہ حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ اِس معاہدے کے وقت رسو ل اور اصحابِ رسول کو حدیبیہ سے بظاہر ناکام لوٹنا پڑا تھا۔ لیکن اِس معاہدے کے بعد یہ ہوا کہ رسول اور اصحابِ رسول صرف دو سال کے اندر دوبارہ فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہوئے-
ظاہری حالات کے اعتبار سے اصحابِ رسول بوقت معاہدہ سخت پریشان تھے۔ اُس وقت قرآن میں یہ آیت اتری: فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًا (48:27)۔ قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مطلوب فتح (فتح مکہ) اُس وقت ایک بعید فتح کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن اللہ نے اپنی رحمت خاص سے اصحابِ رسول کو ایک فتحِ قریب (near victory) عطا کردی-
یہ فتحِ قریب کیا تھی، اِس کا جواب خود قرآن کی اِس سورہ میں موجود ہے۔ اِس آیت کے الفاظ یہ ہیں: فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَةَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا (48:18) یعنی پس اُس نے اُن پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو ایک قریبی فتح دے دی۔ یہاں فتحِ قریب سے مراد سکینہ ہے اور فتح بعید سے مراد فتحِ مکہ۔ فتحِ مکہ اگر خارجی فتح تھی تو سکینہ ایک داخلی فتح (internal victory)-
سکینہ کے لفظی معنی اطمینان(tranquillity) کے ہیں۔ یہاں سکینہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو ذہنی اطمینان (peace of mind) کہاجاتا ہے۔ یہ سکینہ اللہ کی خصوصی مدد ہے، جو مشکل اوقات میں اہلِ ایمان کے اوپر نازل ہوتی ہے۔ مشکل اوقات حقیقتاً مشکل نہیں ہوتے، بلکہ وہ ایک فطری تاخیر ہے جو منصوبۂ الٰہی کے تحت پیش آتی ہے۔ اِس تاخیر(delay) کو بآسانی گوارا کرنے کے لیے اہلِ ایمان کو اللہ کی طرف سے سکینہ حاصل ہوتا ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کے وقت اصحابِ رسول پر جو سخت حالات گزررہے تھے، اس کو سکینہ کے نزول نے آسان کردیا۔ اللہ کی یہ مدد ہر مومن فرد اور ہر مومن گروہ کے لیے ضرورآتی ہے، بشرطیکہ اس کا کیس حقیقی معنوں میں منصوبۂ الٰہی کے مطابق ہو- (21 اپریل 2014)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔