قرآن کی سورہ البقرہ میں حضرت مسیح کے حوالے سے یہ الفاظ آئے ہیں: وَاٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُس(2:87) یعنی ہم نے عیسی بن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی-
روح القدس کا لفظی مطلب مقدس روح (Holy Spirit) ہے۔ یہ اللہ تعالی کی ایک خصوصی نصرت ہے جو کسی بندے کے اوپر فرشتوں کے ذریعے آتی ہے۔ یہی خصوصی نصرت تھی جو حضرت مسیح پر آئی۔ اِس خصوصی نصرت نے حضرت مسیح کو اِس قابل بنایا کہ وہ اپنے مخالفوں کے ہجوم میں رہتے ہوئے اپنے خدائی مشن کی تکمیل کرسکیں-
روح القدس کا تعلق شخصی طورپر خصائصِ نبوت سے نہیں ہے، وہ حق کے داعی کے لیے اللہ کی خصوصی نصرت کا معاملہ ہے۔ اِس خصوصی نصرت کے استحقاق کا اصول یہ ہے کہ جب کوئی شخص بے آمیز حق کی دعوت کے لیے اٹھے، وہ اِس دعوت کے بارے میں اتنا زیادہ سنجیدہ ہو کہ اپنا سب کچھ اس کے لیے وقف کردے، لیکن قلتِ وسائل کی بنا پر وہ محسوس کرے کہ وہ اپنے مشن کی تکمیل کے معاملے میں آخری حد تک عاجز (helpless) ہوگیاہے-اِس احساسِ عجز کے ساتھ وہ اللہ سے دعائیں کرنے لگے-
مزید یہ کہ خود اللہ کے علم میں یہ بات ہو کہ یہ بندہ واقعی معنوں میں اللہ کے لیے کھڑا ہوا ہے، وہ اپنی طرف سے ساری کوشش کے باوجود واقعةً عاجز ثابت ہو رہاہے-جب اللہ کے علم محیط میں ایک داعی کی یہ حیثیت متحقق ہوجائے تو اُس وقت اللہ اپنے مشن کی تکمیل کے لیے فرشتوں کو یہ حکم دیتاہےکہ اِس بندے کی خصوصی مدد کرو، تاکہ وہ اپنے دعوتی مشن کو اس کی تکمیل تک پہنچا سکے۔ اسی خصوصی نصرت کا نام روح القدس کی تائید ہے-روح القدس، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، نصرت کا معاملہ ہے، نہ کہ کرامت کا معاملہ- (12 جون 2014)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔