قرآن کی سورہ النساء میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْۗءَ بِجَہَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰۗىِٕکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ ۭ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِــیْمًا حَکِـیْمًا (4:14) یعنی توبہ جس کو قبول کرنا اللہ کے ذمہ ہے وہ ان لوگوں کی ہے جو بری حرکت نادانی سے کربیٹھتے ہیں، پھر جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول کرتاہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
توبہ کا لفظی مطلب ہے لوٹنا۔ یعنی غلطی کرنے کے بعد اصلاح کی طرف لوٹنا۔ قرآن کے مطابق توبہ کی دو صورتیں ہیں، توبہ قریب اور توبہ بعید-قرآن کے مطابق مطلوب توبہ وہ ہے جو توبۂ قریب ہو۔ توبہ بعید اللہ کے نزدیک مطلوب توبہ نہیں۔ توبہ قریب ایمانی حساسیت کی علامت ہے اور توبہ بعید ایمانی بے حسی کی علامت -توبۂ قریب یہ ہے کہ آدمی کے اندر غلطی کرنے کے بعد شدید قسم کی ندامت (repentance) پیداہو۔ وہ فوراً غلطی کے بعد متنبہ ہوجائے۔ اس کے اندر احساس خطا اتنی شدت کے ساتھ ابھرے کہ وہ اس کا تحمل نہ کرسکے کہ غلطی کے بعد اپنی حالت پر مطمئن بنا رہے۔ شدیداحساس خطا کے ساتھ وہ بلاتاخیر غلطی کی تلافی کرنے کی طرف دوڑ پڑے-
غلطی کے مختلف صورتیں ہیں۔ غلطی اگر مادی نوعیت کی ہے تو وہ جلدسے جلد متعلق شخص کے مالی نقصان کی تلافی کرے۔ اور غلطی اگر اخلاقی نوعیت کی ہے تو وہ فوراً بہتر اخلاقی سلوک کے ساتھ اس کی تلافی کی کوشش کرے-اس معاملہ\ میں سب سے زیادہ سنگین صورت وہ ہے، جب کہ غلطی کی نوعیت ایسی ہو، جس میں اس کی ضرورت ہو کہ غلطی کرنے والا متعلق شخص سے مل کر اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور کھلے طورپر اس سے معافی مانگے۔ اس قسم کی توبہ کسی انسان پر بہت شاق گزرتی ہے۔ کیوں کہ اس میں آدمی کی بڑائی ختم ہوتی ہے۔ اس کا برتری کا جذبہ منہدم ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو ایک ایسے شخص کے سامنے چھوٹا بنانا پڑتا ہے، جس کے مقابلہ میں اس نے اپنے آپ کو بڑا فرض کرلیا تھا۔ توبہ کی یہ قسم نفی خویش (self negation) کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اور نفی خویش بلا شبہہ کسی انسان کے لئے سب سے زیادہ سخت بات ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔