الرسالہ مارچ 2011 کے مضمون ’’اللہ سے محبت‘‘ میں درج کردہ حدیث: ’’خلق اللہ آدم على صورتہ‘‘ قرآن کی آیت ’’لیس کمثلہ شیئ‘‘ (11: 42) کے خلاف معلوم ہوتی ہے- براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں- (ڈاکٹر محمد افضل منہاس، پاکستان)
’’خلق اللہ آدم على صورتہ‘‘ کی حدیث صحیح البخاری (رقم الحدیث: 6227) میں آئی ہے- اس کی صحت میں کوئی شک نہیں- اصل یہ ہے کہ اِس حدیث میں ’صورة‘ کا لفظ ظاہری صورت (form) کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ صفت (quality) کے معنی میں ہے- خود قرآن میں اللہ کے لیے اِس قسم کے الفاظ آئے ہیں- مثلاً ’وجہ‘ (55: 27) ، اور ’ید‘ (48:10) ، وغیرہ- یہاں بھی یہ الفاظ ظاہری صورت کے معنی میں نہیں ہیں، بلکہ وہ صفت کے معنی میں ہیں-
قرآن اور حدیث دونوں میں جو بات کہی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو خصوصی صلاحیتیں دی ہیں جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں دیں- یہ وہ صلاحیتیں ہیں جو اللہ کے اندر اپنی کامل صورت میں موجود ہیں- مزید یہ کہ یہ اعلی صلاحیتیں اللہ کے اندر اس کی ذاتی صفت کے طور پر ہیں، جب کہ انسان کو جو محدود صلاحیتیں دی گئی ہیں، وہ صرف عطیہ کی حیثیت رکھتی ہیں-
جہاں تک قرآن کی آیت: لیس کمثلہ شیئ (11: 42) کا تعلق ہے، اُس کا صحیح مطلب وہ ہے جو ابو محمد الواسطی (وفات: 1341ء)کے حوالے سے اِن الفاظ میں نقل کیاگیا ہے: لیس کذاتہ ذات، ولا کاسمہ اسم، ولا کفعلہ فعل، ولا کصفتہ صفة، إلا من جہة موافقة اللفظ (القرطبی، 9/16) یعنی اللہ کی ذات جیسی کوئی ذات نہیں، نہ اس کے اسم جیساکوئی اسم ہے، نہ اس کے فعل جیساکسی کا فعل ہے، نہ اس کی صفت جیسی کسی کی صفت ہے، سوا لفظی موافقت کے اعتبارسے-
مثلاً انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو قدرت حاصل ہے، مگر اللہ کی قدرت اور انسان کی قدرت کے درمیان صرف لفظی مشابہت ہے، نہ کہ حقیقی مشابہت-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔