ایک عرب شاعر ابو الطیب المتنبّی(وفات: 965 ء) کا شعر ہے — آدمی جو کچھ چاہتا ہے، وہ سب اس کو ملتانہیں۔ ہوائیں اُس رخ پر چلتی ہیں جس کو کشتیاں نہ چاہتی ہوں:
ما کلُّ ما یتمنّی المرءُ یدرکہ تجری الریاحُ بما لا تشتہی السُّفُنُ
اِس شعر میں زندگی کی ایک حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ انسان کے باہر جو دنیا ہے، وہ انسان کی خواہشوں کے تابع نہیں۔ دنیا کا نظام فطرت کے قوانین (laws of nature)کے تحت چل رہاہے، نہ کہ انسان کی خواہشات (desires)کے تحت۔ انسان کو اختیار ہے کہ وہ جس چیز کی چاہے، خواہش کرے، لیکن انسان کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دنیا میں قائم شدہ نظامِ فطرت کو خود اپنی خواہش کے تابع کرلے۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے، وہ یہ کہ وہ اپنی زندگی کا منصوبہ صرف اپنی خواہش کی بنیاد پر نہ بنائے، وہ قوانینِ فطرت کو دریافت کرے اور فطرت کے قانون سے موافقت کرتے ہوئے وہ اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔
اِس سے معلوم ہوا کہ جب بھی کسی شخص یا گروہ کا منصوبہ ناکام ہوجائے تو اس کو پیشگی طورپر یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کی ناکامی کا سبب کسی غیر کی سازش (conspiracy) نہیں، بلکہ اس کی ناکامی کا سبب خود اپنی غلط منصوبہ بندی ہے۔
ناکامی کی صورت میں دوسروں کی شکایت کرنا صرف اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی کا ذمے دار خود اپنے آپ کو سمجھے، نہ کہ کسی دوسرے فرد یا گروہ کو۔ وہ اپنی ناکامی کا سبب اپنی غلط منصوبہ بندی میں تلاش کرے، نہ کہ دوسروں کی سازش میں۔کامیابی کا یہی اصول فرد کے لیے بھی ہے، اور یہی وہ اصول ہے جس پر چل کر اِس دنیا میں کوئی گروہ کامیاب ہوسکتا ہے— اِس دنیا میں کامیابی کا راز فطرت سے موافقت میں ہے، نہ کہ فطرت سے عدم موافقت میں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.