Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala October 2012
Al-Risala October 2012

عقل کا مسئلہ

Urdu · 3 min read

عقل (reason) کیا ہے- عقل خالق کا ایک قیمتی عطیہ ہے- حدیث میں آیا ہے کہ — اللہ تعالی نے سب سے افضل چیز جو پیدا کی، وہ عقل ہے (ما خلق اللہ خلقاً أکرم علیہ من العقل)- حقیقت یہ ہے کہ انسان کے تمام کمالات کا انحصار عقل پر اور عقل کے استعمال پر ہے، عقل کے بغیر کوئی بھی انسانی ترقی ممکن نہیں-عقل نہ ہو تو انسان پتھر کے ایک اسٹیچو کی مانند ہوجائے گا- وہ نہ حق کو حق سمجھ سکے گا اور نہ باطل کو باطل-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عقل بذاتِ خود معیار (criterion) نہیں ہے- عقل، فہم وادراک کی صلاحیت (ability) ہے- عقل کی حیثیت آلہ یا فیکلٹی (faculty) کی ہے، عقل کی حیثیت مستقل بالذات جج کی نہیں- عقل، حقائق سے نتیجہ اخذ کرنے کی استعداد کا نام ہے:

Reason: The intellectual faculty by which conclusions are drawn from premises.

عقل (reason) اور وحی (revelation) کو ایک دوسرے کا حریف بتانا بلاشبہہ ایک غلطی ہے- حقیقت یہ ہے کہ وحی ایک مستقل ذریعہ علم ہے، جب کہ عقل بذاتِ خود کوئی ذریعہ علم نہیں- خود وحی کی صحت پر جب کوئی شخص یقین کرتاہے تو وہ بھی یہی کرتاہے کہ وہ اپنی خداداد عقل کو استعمال کرکے اُس پر غور کرتاہے اور پھر یقین کے درجے میں پہنچ کر وہ وحی کی صداقت کو دریافت کرتا ہے- اِس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ عقل، وحی کی مددگار ہے، نہ کہ وحی کی مدِّ مقابل-

عقل، خالق کی دی ہوئی ایک فطری صلاحیت ہے، عقل کسی کی ذاتی ایجاد نہیں- اِس معاملے میں غلطی کا آغاز یہاں سے ہوا کہ دوسری تمام چیزوں کی طرح عقل کے معاملے میں بھی کچھ لوگوں نے عقل کا غلو آمیز تصور (extreme version) پیش کیا- انھوں نے انتہا پسندی کا طریقہ اختیار کرتےہوئے خود ساختہ طورپر یہ دعوی کیا کہ عقل بذاتِ خود حصولِ علم کا معیاری ذریعہ ہے- مذہبی طبقے نے اِس تصورِ عقل کو درست سمجھ لیا اور وہ غیر ضروری طورپر عقل یا عقلی غوروفکر کو مذہب کا مخالف سمجھنے لگے اور وہ اِس طرح کی غیرعلمی باتیں کرنے لگے کہ —عقل کا دائرہ الگ ہے اور وحی کا دائرہ الگ- عقل کا دائرہ وہاں پر ختم ہوجاتاہے، جہاں سے وحی کا آغاز ہوتاہے، وغیرہ- اصل یہ ہے کہ عقل الگ ہے اور عقل پرستی الگ-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن میں ’عقل‘کا مادّہ (root)تقریباً 50 بار استعمال ہوا ہے- قرآن میں بار بار عقل کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہاگیا ہے کہ اپنی عقل کے ذریعے وحی کی صداقت کو دریافت کرو- مثال کے طور پر قرآن کی سورہ یوسف میں یہ آیت آئی ہے: إنا أنزلناہ قرآناً عربیاً لعلکم تعقلون (2:12) یعنی ہم نے اِس کتاب کو عربی قرآن بنا کر اتارا ہے، تاکہ تم سمجھو:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

We have sent down the Quran in Arabic, so that you may understand (by applying reason).

Qur'anQuotes the Qur'an

اِسی طرح قرآن میں بتایاگیا ہے کہ تم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے نبوت کی صداقت کو دریافت کرو(16: 10)، وغیرہ-انسان کو فطری طور پر مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں- اُنھیں میں سے ایک صلاحیت، عقل ہے- مثلاً پاؤں کے اندر چلنے کی صلاحیت، ہاتھ کے اندر پکڑنے کی صلاحیت، آنکھ کے اندر دیکھنے کی صلاحیت- کان کے اندر سننے کی صلاحیت، وغیرہ- اِسی طرح انسان کو عقل دی گئی ہے جو سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے- اِسی کے ساتھ انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے- انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ اُس کا غلط استعمال کرے، اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کان اور آنکھ کا صحیح استعمال بھی ہے اور اس کا غلط استعمال بھی-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عقل انسان کو اِس لیے دی گئی ہے کہ وہ ڈاٹا (data) جمع کرکے اور پھر حاصل شدہ ڈاٹا کا تجزیہ کرکے صحیح علم تک پہنچنے کی کوشش کرے- تاہم عقل بذاتِ خود علم کا ذریعہ نہیں، اِس لیے عقل صحیح فیصلہ تک بھی پہنچ سکتی ہے اور غلط فیصلے تک بھی- جو لوگ عقل کو بذاتِ خود علم کا ذریعہ سمجھتے ہیں، وہ دراصل عقلی مدرسہ فکر (school of thought) کے انتہا پسند (extremists) لوگ ہیں- ایسے انتہا پسند لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں، حتی کہ خود مذہب اور عقیدے کے دائرے میں بھی-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content