قرآن کی سورہ ص میں ارشاد ہوا ہے: قل ما أسئلکم علیہ من أجر، وما أنا من المتکلفین- یعنی کہو کہ میں اِس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں:
Say, ‘I do not ask you for any recompense for this, nor am I of those who are given to affectation’. (38:87)
قرآن کی اِس آیت میں پیغمبر کی پہچان کے لیے دو موضوعی معیار (objective criteria) بتائے گئے ہیں- یہ دونوں معیار بلاشبہہ کامل طورپر پیغمبر کی زندگی میں موجود تھے، اور یہی واقعہ اِس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ جس شخص نے پیغمبری کا دعوی کیا ہے، وہ بلاشبہہ اللہ کا سچا پیغمبر ہے-
میں اپنے کام پر تم سے اجر نہیں مانگتا — اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں تم سے اجر کا مطالبہ نہیں کرتا- اِس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اِس مشن کو کسی دنیوی غرض کے لیے نہیں شروع کیا ہے، میرے اِس مشن کا محرک (incentive) صرف آخرت ہے، دولت، شہرت، مقبولیت، جیسی چیزیں میرے عمل کا محرک نہیں- یہ بات یہاں بطور دعوی نہیں ہے، بلکہ وہ اِس معنی میں ہے کہ تمھارے سامنے میری پوری زندگی ہے- تم میری زندگی میں کوئی ایسی مثال نہیں پاؤگے جس سے ظاہر ہوتاہو کہ دنیوی نوعیت کی کوئی چیز میرا مقصود ہے- میری پوری زند گی اِس بات کا ثبوت ہے کہ میرا مقصود صرف آخرت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں-
دوسری بات یہ فرمائی کہ میں متکلِّف (تکلّف کرنے والا)نہیں ہوں- یہ دعوی نہیں ہے، بلکہ وہ دلیل ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ میرا لہجہ، میرا بول، میرا اندازِ کلام واضح طور پربتاتا ہے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں، وہ میرے دل کی حقیقی آواز ہے — — یہ معیار جو پیغمبر کی صداقت کو جانچنے کے لیے بتایا گیاہے، وہی بعد کے دور کے داعیوں کے لیے بھی واحد خارجی معیار ہے- سچا داعی وہ ہے جس کے اندر یہ دونوں صفتیں پوری طرح پائی جاتی ہوں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔