Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala November 2018
Al-Risala November 2018

دعا، شعور دعا

Urdu · 5 min read

دعا اسلام میں ایک عظیم عمل ہے۔ دعا کے بارے میں حدیث میں مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً بے شک دعا ہی عبادت ہے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3828)۔ایک روایت کا ترجمہ یہ ہے: دعا عبادت کا مغز (مُخّ)ہے(سنن الترمذی، حدیث نمبر 3371) ۔ایک روایت میں یہ ہے:لَا یَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ (مسند احمد، حدیث نمبر 22044)۔ یعنی تقدیر کو دعا ٹال دیتی ہے۔ایک حدیث کا ترجمہ یہ ہے: دعا مومن کا ہتھیار(الدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ)ہے، دین کا ستون ہے، اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر1812)۔ ایک حدیث کےالفاظ یہ ہیں:الدُّعَاءَ یَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ یَنْزِلْ، فَعَلَیْکُمْ بِالدُّعَاءِ عِبَادَ اللہ (مسند احمد، حدیث نمبر 22044)۔یعنی دعا فائدہ دیتی ہے، ان چیزوں میں جو نازل ہوئی ہے، اور ان میں بھی جو نہیں ہوئی، تو اللہ کے بندو، تم ضرور دعا کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر دعا صرف الفاظِ دعا کی تکرار کا نام نہیں ہے۔ بلکہ دعا کے ساتھ دعا کرنے والے کے اندر ایک پراسس شروع ہوجاتا ہے۔ مثلاً بندے اور خدا کے درمیان مناجات، بندے کے اندر رب کی یاد، بندے کی روحانیت میں اضافہ، بندے کے اندر ایمانی ارتقا،اپنے رب سے قربت، وغیرہ۔ اس پورے عمل کو ایک لفظ میں حرکیات دعا (dynamics of dua) کہا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ کبھی اللہ جبریل سے کہہ دیتا ہے کہ اے جبریل میرے بندے کی دعا قبول کرنے میں جلدی نہ کر۔ کیوں کہ مجھے اس کی آواز پسند ہے۔ یعنی بندے کے اندر دعا کا عمل اضافہ پذیر حالت میں جاری ہے۔

قرآن و حدیث کے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا صرف مانگنے اور پانے کا نام نہیں ، بلکہ دعا روحانی ارتقا کا ایک عمل ہے۔ کامیاب دعا وہ ہے، جس کے اندر دعا کا شعور شامل ہو۔ کامل دعا وہ ہے، جو اعلی ذہنی ارتقا کے نتیجہ میں ظہور میں آئے۔ کامل دعا وہ ہے، جس میں بندہ صرف اپنی حاجت کو نہ جانے، بلکہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرے۔حقیقی دعا وہی دعا ہے، جب کہ دعابندۂ عارف کے لیے ایک اعلی تجربہ کی حیثیت اختیار کرلے،جب کہ بندے کا وجود خود بھی دعا میں ڈھل گیا ہو۔

فضیلت کا تصور

کسی عمل کے افضل عمل ہونے کا تصور قرآن میں موجود نہیں ہے۔ قرآن کے مطابق، کوئی عمل اپنی داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے بڑا عمل ہوسکتا ہے، محض فارم کے اعتبار سے کوئی عمل بڑا عمل نہیں۔ عمل پر فضیلت کا ذکر حدیث میں آیا ہے، لیکن وہ زیادہ مستند نہیں۔ خود محدثین کے اعتراف کے مطابق فضلیت کی روایتوں کو زیادہ قابل اعتماد نہیں سمجھا جاسکتا۔

جیسا کہ معلوم ہے محدثین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی روایت کو لینے کے بارے میں بہت زیادہ سخت ہیں۔ مثلاً امام بخاری نے 600,000 حدیثیں جمع کی ، لیکن اپنی مشہور کتاب صحیح البخاری میں انھوں نے ان میں سے صرف کچھ ہزار احادیث کو لیا،جن کی تعداد ابن الصلاح اور النوی کے مطابق 7275ہے۔ مگر فضیلت کی روایتوں کے بارے میں محدثین نے ایسا رویہ اختیار نہیں کیا۔

تیسری صدی ہجری کے مشہور محدث عبد الرحمن ابن مہدی (وفات 198:ھ)نے محدثین کے مسلک کو بیان کرتے ہوئے کہا:إِذَا رَوِینَا، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْحَلَالِ، وَالْحَرَامِ، وَالْأَحْکَامِ، شَدَّدْنَا فِی الْأَسَانِیدِ، وَانْتَقَدْنَا الرِّجَالَ، وَإِذَا رَوِینَا فِی فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ وَالثَّوَابِ، وَالْعِقَابِ، وَالْمُبَاحَاتِ، وَالدَّعَوَاتِ تَسَاہَلْنَا فِی الْأَسَانِیدِ(مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 1801)۔ یعنی جب ہم نے نبی صلى اللہ علیہ وسلم سے حلال و حرام اور احکام کی روایتیں لیں، تو ہم نےاسانید کے معاملے میں سختی سے کام لیا، رجال پر نقد کیا، اور جب ہم نے فضائل اعمال، ثواب و عقاب، مباحات و دعا کی روایتیں بیان کی تو اس کی اسناد میں تساہل سے کام لیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دو قسم کی حدیثوں کے معاملے میں محدثین کا یہ مسلک علمی اعتبار سے ناقابل تسلیم ہے۔ اس لیے کہ جب کسی قول کو حدیث رسول بتایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ قول امت کے لیے یکساں طور پر رسول اللہ کا قول بن جاتا ہے۔ خواہ وہ ایک حکم کے بارے میں ہو یا دوسرے حکم کے بارے میں۔ ایسی حالت میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ حدیث کے معاملے میں اس قسم کی تفریق کو درست قرار دے۔ ایک قسم کی حدیث کے معاملے میں شدت، اور دوسری قسم کی حدیث کے معاملے میں تساہل ۔ جہاں تک میں جانتا ہوں اس تفریق کو درست قرار دینے کے لیے قرآن یا حدیث میں کوئی حوالہ موجود نہیں۔ اصولی طور پر یہ بات بلااختلاف درست ہے کہ رسول اللہ کی تمام حدیثوں کو یکساں معیار پر جانچنا چاہیے۔

حدیث کے معاملے میں اس قسم کا تساہل اختیارکیا گیا تاکہ اس سے لوگوں کو عمل کے لیے ترغیب ملےگی۔ مگر یہ قیاس درست نہیں۔ اس لیے کہ انسانی نفسیات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس سے ان کے اندر الٹا مزاج پیدا ہوگیا۔ ان کے اندر سہل پسندی (easygoing attitude) کا مزاج پیدا ہوگیا۔ یعنی وہ چھوٹے چھوٹے اعمال پر بڑے بڑے انعام کی امید قائم کرنے لگے، جس کو قرآن میں امانی کہا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مزید غور کیجیے، فضائل کی روایتوں میں تساہل کا معاملہ عملاً کس قسم کی روایتوں کے بارے میں آتا ہے۔ وہ اعمال کی داخلی روح کے بارے میں نہیں آتا، بلکہ اعمال کے ظواہر کے بارے میں آتا ہے۔ مثلاً اس طرح کی کتابوں میں جو ابواب ہوتے ہیں، وہ محبتِ خدا کی فضیلت یا رسول کی فضیلت یا دعوت کے لیے باخع (الشعراء، 26:3)بن جانے کی فضیلت کے بارے میں نہیں ہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس کے برعکس ، فضائل اعمال کی روایتیں معمولی قسم کے اعمال کے بارے میں آتی ہیں۔ مثلاً فلاں وقت نماز پڑھنے کی فضیلت، فلاں دن روزے رکھنے کی فضلیت، فلاں کلمہ اتنی بار پڑھ لینے سے جنت مل جائے گی،وغیرہ ۔

٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

اگر کسی شخص کے پاؤں میں کانٹا چبھ جائے تو اس کے بعد وہ ہر لمحہ اس کے درد کو محسوس کرتا رہے گا۔ اِسی طرح انسان کو ہر لمحہ خدا کی کسی نہ کسی رحمت کا تجربہ ہوتا ہے۔ صبح وشام کا کوئی لمحہ بھی اِن تجربوں سے خالی نہیں ہوتا۔ جس آدمی کو خدا کی شعوری معرفت حاصل ہوجائے، وہ ہر لمحہ اِن ربانی تجربات کو محسوس کرتا رہے گا۔ یہ تجربہ ہر لمحہ خدا کی یاد میں ڈھلنے لگے گا۔خدا کی اسی دوامی یاد کا نام ذکر کثیر ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content