Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala November 2018
Al-Risala November 2018

کفالت کا انتظام

Urdu · 2 min read

حضرت مریم بنت عمران کا ذکر قرآن میں تفصیل سے آیا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت مریم کے ساتھ خصوصی نصرت کا معاملہ کیا۔ اسی میں سے ایک نصرت وہ ہے جس کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:وَکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا (3:37)۔ یعنی زکریا پیغمبر نے حضرت مریم کی کفالت (معاشی ضروریات کا انتظام)کیا۔ قدیم زمانہ زراعت کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں وسائل اس کے پاس ہوتے تھے، جس کے پاس زراعت ہو۔ جو شخص اپنی کفالت آپ کرنا چاہتا تھا، وہ بھیڑ بکری پالنے جیسا کام کرتا تھا۔ جیسا کہ حضرت موسی کے قصے میں مدین کے شیخ کبیر (القصص،28:23)کا واقعہ بیان ہوا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانہ اس اعتبار سے ایک نیا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں صنعتی انفجار (industrial explosion) کی وجہ سے ایک نیا وسیع تر معاشی نظام وجود میں آیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت ہر شخص کے لیے یہ موقع پیدا ہو گیا ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ کام کرکے اپنے لیے معاشیات کا انتظام کرے۔ مثلاً بزنس ، کمپنی کی ملازمت، آفس کی ملازمت، مختلف قسم کے اداروں کی ملازمت، وغیرہ۔ اسی طرح فری لانسنگ کےذریعے کمانے کے بہت سے طریقے وجود میں آئے ہیں۔ آج کل تقریباً ہر شخص اپنے لیے کوئی نہ کوئی روزگار پارہا ہے، جس میںکام کرکے وہ اپنی ضروریات فراہم کرتا ہے، بشرطیکہ اس کے اندر کسی نوعیت کی پروفیشنل صلاحیت موجود ہو۔

یہ آج کے انسان کے لیے شکر کا ایک آئٹم ہے۔ قدیم زمانے میں یہ آئٹم موجود نہ تھا، یا اگر موجود تھا تو بہت زیادہ محدود اعتبار سے۔ موجودہ زمانے میں کامل وسعت کے ساتھ یہ مواقع کھل گئے ہیں۔ اس طرح انسان کی کوششوں کے ذریعہ آج کی دنیا میں شکر خداوندی کا ایک نیا آئٹم پیدا ہوا ہے۔ یہ مختلف قسم کے تاریخی انقلابات کا نتیجہ ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس اعتبار سے اللہ رب العالمین کا شکر کرنا سیکھیں، اور اس طرح اپنے آپ کو مثبت سوچ والا انسان بنائیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content