موت ہر عورت اور مرد پر لازماً آتی ہے۔ موت کا سب سے زیادہ المناک پہلو یہ ہے کہ موت کے بعد دوبارہ موجودہ دنیا میں واپسی ممکن نہیں۔ موت کےبعد انسان کو ابدی طور پر ایک نئی دنیا میں رہنا ہے۔ موت کے بعد صرف بھگتنا ہے، عمل کرنا نہیں ہے۔ انسان ایک بے حد حساس (sensitive) مخلوق ہے۔ انسان کسی سختی کو برداشت نہیں کرپاتا، خواہ وہ کتنی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ ہر عورت اور ہر مرد کو سب سے زیادہ یہ سوچنا چاہیے کہ موت کے بعد اگر اس کو سخت حالات میں رہنا پڑا تو وہ کیسے ان کو برداشت کرے گا۔ اگر انسان یہ سوچے تو اس کی زندگی میں ایک انقلاب پیدا ہوجائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو وہ کہیں گے:الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34)۔ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کیا۔ تکلیف (pain) کی زندگی انسان کے لیے سب سے زیادہ ناقابلِ برداشت زندگی ہے۔ اور تکلیف سے پاک زندگی انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ انسان اگر اس پہلو کو سوچے تو موت اس کا سب سے بڑا کنسرن بن جائے ۔ وہ موت کے بارے میں اس سے زیادہ سوچے گا ، جتنا وہ زندگی کے بارے میں سوچتا ہے۔ موت کا تصور آدمی کے لیے ماسٹر اسٹروک (masterstroke) کی مانند ہے۔ ماسٹراسٹروک کیرم بورڈکی تمام گوٹوںکو اپنی جگہ سے ہلا دیتا ہے۔ اسی طرح اگر آدمی کے اندر موت کا تصور زندہ ہو تو اس کے دماغ کے تمام گوشے ہل جائیں۔ اس کا سوچنا اور اس کا چاہنا، یک سر بدل جائے ۔ اس کی زندگی میں ایک ایسا انقلاب آئے گاجو اس کو ایک نیا انسان بنادے گا۔موت سے غفلت آدمی کو ایک بے خبر انسان بناتی ہے۔ اس کے برعکس، موت کی یاد آدمی کو آخری حد تک ایک باخبر اور باہوش انسان بنادیتی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔