Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala november 2016
Al-Risala november 2016

موت کا مسئلہ

Urdu · 2 min read

19 نومبر 1994 کو دہلی کے تمام اخباروں کے صفحہ اول کی نمایاں خبر یہ تھی کہ جنرل بپن چندرا جوشی کا دہلی میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر ابھی صرف 59 سال تھی۔ بوقت وفات وہ آرمی چیف کے عہدہ پر تھے۔لمبی سروس کے بعد اب وہ اپنی آخری ترقی کے دور میں پہنچے تھے اور اس وقت سینئر موسٹ سروس چیف کی حیثیت رکھتے تھے۔ 18 نومبر کوگولف کھیلنے کے بعد انھوں نے سینہ میں دردبتایا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بے ہوش ہوگئے۔ فوری طورپر بہترین میڈیکل امداد بہم پہنچائی گئی۔ مگر وہ دوبارہ ہوش میں نہ آسکے۔ بے ہوشی کی حالت ہی میں ان کا خاتمہ ہوگیا۔ جنرل جوشی کے حالات کے ذیل میں بتایا گیا ہے کہ انھیں ایکس سروس مین کا بہت خیال رہتا تھا۔ ہندستان میں ایک سولجر 35 سال کی عمر میں ریٹائر ہوتا ہے اور افسر 48 سال کی عمر میں۔ اس طرح ہر سال فوج سے ستر ہزار آدمی ریٹائر ہوتے ہیں۔ ان کو ان ریٹائر ہونے والوں کی بہبود کی بہت فکر رہتی تھی۔ ان کا قول تھا کہ آج کا سپاہی کل کا ایکس سروس مین ہے: Today’s soldier is tomorrow’s ex-serviceman. جنرل جوشی اگر اور دور تک دیکھ سکتے تو کہتے کہ آج کا سولجر اور ایکس سروس مین دونوں ہی کل کے اعتبار سے آخرت کے باسی ہیں۔ دونوں ہی کو موت کے بعد آخرت کے ٹسٹ پر پورا اترنا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوگا کہ کون کیسا تھا اورکون کیسا۔ کون خوش بخت تھا اور کون بدبخت۔ کون کامیاب تھا اور کون ناکام۔لوگ موت سے پہلے کی زندگی میں الجھے رہتے ہیں، حالاں کہ دانش مندی یہ ہے کہ آدمی موت کے بعد کی زندگی کے مسائل کی سب سے زیادہ فکر کرے۔ لوگ انسانوں کی طرف سے پیش آنے والی باتوں کو اہمیت دیتے ہیں، حالاں کہ حقیقت کا تقاضا ہے کہ خدا کی باتوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ لوگ دنیا کے قانون کی پکڑ سے بچنے کی تدبیریں کرتےہیں حالاں کہ اس سے زیادہ انھیں اس بات کی تدبیر کرنی چاہئے کہ کہیں وہ خدا کی پکڑ میں نہ آجائیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content