19 نومبر 1994 کو دہلی کے تمام اخباروں کے صفحہ اول کی نمایاں خبر یہ تھی کہ جنرل بپن چندرا جوشی کا دہلی میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر ابھی صرف 59 سال تھی۔ بوقت وفات وہ آرمی چیف کے عہدہ پر تھے۔لمبی سروس کے بعد اب وہ اپنی آخری ترقی کے دور میں پہنچے تھے اور اس وقت سینئر موسٹ سروس چیف کی حیثیت رکھتے تھے۔ 18 نومبر کوگولف کھیلنے کے بعد انھوں نے سینہ میں دردبتایا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بے ہوش ہوگئے۔ فوری طورپر بہترین میڈیکل امداد بہم پہنچائی گئی۔ مگر وہ دوبارہ ہوش میں نہ آسکے۔ بے ہوشی کی حالت ہی میں ان کا خاتمہ ہوگیا۔ جنرل جوشی کے حالات کے ذیل میں بتایا گیا ہے کہ انھیں ایکس سروس مین کا بہت خیال رہتا تھا۔ ہندستان میں ایک سولجر 35 سال کی عمر میں ریٹائر ہوتا ہے اور افسر 48 سال کی عمر میں۔ اس طرح ہر سال فوج سے ستر ہزار آدمی ریٹائر ہوتے ہیں۔ ان کو ان ریٹائر ہونے والوں کی بہبود کی بہت فکر رہتی تھی۔ ان کا قول تھا کہ آج کا سپاہی کل کا ایکس سروس مین ہے: Today’s soldier is tomorrow’s ex-serviceman. جنرل جوشی اگر اور دور تک دیکھ سکتے تو کہتے کہ آج کا سولجر اور ایکس سروس مین دونوں ہی کل کے اعتبار سے آخرت کے باسی ہیں۔ دونوں ہی کو موت کے بعد آخرت کے ٹسٹ پر پورا اترنا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوگا کہ کون کیسا تھا اورکون کیسا۔ کون خوش بخت تھا اور کون بدبخت۔ کون کامیاب تھا اور کون ناکام۔لوگ موت سے پہلے کی زندگی میں الجھے رہتے ہیں، حالاں کہ دانش مندی یہ ہے کہ آدمی موت کے بعد کی زندگی کے مسائل کی سب سے زیادہ فکر کرے۔ لوگ انسانوں کی طرف سے پیش آنے والی باتوں کو اہمیت دیتے ہیں، حالاں کہ حقیقت کا تقاضا ہے کہ خدا کی باتوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ لوگ دنیا کے قانون کی پکڑ سے بچنے کی تدبیریں کرتےہیں حالاں کہ اس سے زیادہ انھیں اس بات کی تدبیر کرنی چاہئے کہ کہیں وہ خدا کی پکڑ میں نہ آجائیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔