Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Al-Risala november 2016
Al-Risala november 2016

کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا

Urdu · 7 min read

اس کا حکم تھا کہ موت کا لفظ اس کے سامنے بولا نہ جائے، مگر ساٹھویں برس پہنچ کر اس کو معلوم ہوا کہ کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکا۔ اسپین کے ڈکٹیٹر فرینکو، کئی دن بیماری سے جنگ کرنے کے بعد آخر کار اس دنیا سے چل بسے۔ فرینکو کا عرصۂ حیات لمبا کرنے کی غرض سے اسپین میں ڈاکٹروں نے جو رات دن کوشش کی اُس سے میڈیکل حلقوں میں بڑی زبردست بحث چھڑ گئی تھی کہ کیا اُس وقت جب کہ قدرت کے تمام قوانین کے مطابق اُن کےحواس جواب دے چکےتھے۔ اُنہیں کچھ ہفتہ پیشتر ہی مرنے دیناچاہیے تھا؟ یا کیا ڈاکٹر اس بات میں حق بجانب تھے کہ ہر قسم کی میڈیکل امداد اُنھیں مہیا کرکے کچھ دیر تک اور جسمانی طورپر زندہ رکھنے کے لئے اُن کے درجہ حرارت کو جزوی طور پر منجمد کردیتے۔ علاوہ بریں کیا یہ بات اخلاقی اصول کے مطابق ہے کہ قوم کے کسی لیڈر کی زندگی مصنوعی طورپر لمبی کرنا چاہیے یا کہ اُسے لمبا کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ میڈیسن کی دنیا میںایک زبردست بحث چھڑنے کا سبب ہوسکتی ہے۔ بہت سے اسکالروں نے اِس موضوع پر بحث کی ہے۔ یہ امر غیر معمولی طورپر اتفاقیہ ہے کہ اِس معاملہ پر ایک کتاب ابھی حال ہی میں شائع ہوئی ہے جس کی تصنیف پر13 سال لگ گئے تھے۔ مشہور مورخ پال مرے کنیڈال نے یہ کتاب فرانس کے 11 ویں بادشاہ لوئی کے بارے میں لکھی ہے جسے مرے 500 برس ہوچکے ہیں۔ لوئی ایک ایسا بادشاہ تھا جو مرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے اُس نے بہت کوشش کی کہ اُس کی زندگی کو طوالت دی جائے۔ فرینکو کی مانند بادشاہ لوئی ایک ایسی قوم بنانے کا ذمہ دار تھا، جس کی مرکزی سرکار بہت مضبوط تھی،مگر قوم اُن کے آنکھ بند کرنے کے بعد انتشار یا خانہ جنگی کا شکارہوسکتی تھی۔ اُسے اس بات کا بخوبی علم تھا، جیسا کہ ہمارے جدید زمانہ کے لیڈروں کو علم ہے۔لوئی کی عمر 58 سال کی تھی جب اُس پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔ اُسے تب اِس امر کا علمہوگیا کہ وہ بہت دیر تک زندہ نہ رہ سکے گا۔ کیوں کہ اُس کے پریوار میں کوئی بادشاہ اپنا 60واں جنم دن نہ منا سکا تھا۔ لوئی کسی محفوظ قلعے میں امن وشانتی سے رہنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اُس نےایک محل میں رہنا شروع کیا جہاں بہت کم لوگوں کو داخلہ کی اجازت تھی۔ اس محل کی طرف جانےوالی سڑکوں پر جنگلے لگا دیئے گئے تھے۔ اور محل کے چاروں طرف خندق کھوددی گئی تھی۔چالیس تیر انداز پتھروں کی دیواروں پر بیٹھے ڈیوٹی دیتے رہتے تھے۔ انھیں حکم تھا کہ اگر کوئی اجازت کے بغیر محل کے نزیک آنے کی جرأت کرے تو اُسے قتل کردیا جائے۔ علاوہ بریں 400 گھوڑسوار دن رات علاقہ میں گشت کرتے رہتے تھے۔ محل کے اندر لوئی بڑی عیش پرستانہ زندگی گزار رہا تھا۔ اُس کے کمرہ میں خوبصورت تصاویر آویزاں تھیں۔ ماہر راگی اپنا راگ سنا کر اُسے خوش رکھتے۔ بڑے بڑے پنجروں میں بند کتّے اور پرندے جو وہاں رکھے ہوئے تھے اُسے بہت پسند تھے۔ زیادہ تر وقت وہ اپنے جسم کو سکوڑے ہوئے قابل رحم حالت میں آرام کرسی پر ہی گزارتا۔ اس کے سامنے ایک خوبصورت باغ تھا جسے وہ اپنے محل کی دوسری منزل سے دیکھتا رہتا۔ اگر چہ وہ جسمانی طورپر کمزور ہوچکا تھا۔ اپنی قوم کی زندگی اور موت اُس کے اختیار میںتھی۔ اس پر بھی وہ فکر مند تھا کہ اپنی رعایا پر یہ امر کیسے واضح کرے کہ وہ سب سے بڑا حکمراں ہے۔ اُس کو سب سے بڑا خدشہ یہ تھا کہ اختیارات کا خواہش مند کوئی امیر، منصب دار اسے ہٹا کر خود اقتدار نہ سنبھال لے اور اُسے اپنے آخری ایام ایک دیوانہ بوڑھے کی مانند گزارنے نہ پڑیں۔ اپنے بڑھاپے میں لوئی ہر ایک پر شبہ کرنے لگا تھا۔ اُسے اپنے پرانے ملازموں پر شک تھا۔ چنانچہ انھیں ہٹا کر اُن کی جگہ اُس نے غیر ملکی بھرتی کرلئے تھے۔ اور پھر ان کواور اُن افسروں کو بھی جو اُس کی حفاظت کے لئے مامور تھے، وہ متواتر تبدیل کرتا رہتا تھا۔ وہ اُن سے یہی کہا کرتا کہ ـ’’قدرت کو تبدیلی بہت پسندہے‘‘۔ سرکار کے کام کاج میں حصہ لینے کے لیے وہ کافی بوڑھا ہوچکا تھا۔ اُسے یہ فکر دامن گیر تھی کہ شاید رعایا اس بات کو بھی بھول جائے کہ وہ ابھی تک زندہ ہے۔ اُس کے ہم عصر ایک مورخ نے اُس کی نسبت تحریر کیاہے: ’’اُس نےیہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ ابھی تک حکمراں ہے ہر قسم کی چال چلی۔ وہ افسروں کو ڈسمس کردیتا اور ان کی جگہ نئے افسر مقرر کردیئے جاتے۔ کسی کی وہ تنخواہ کم کردیتا تو کسی کی تنخواہ میں اضافہ کردیتا۔ اُس نے اپنا وقت افسروں کو مقرر کرنے اور اُن کا بھٹہ بٹھانے میں صرف کیا تھاـ‘‘۔ لیکن یہ سب کچھ کافی نہ تھا۔ 11 واں لوئی ایک عظیم شکاری تھا۔ جانوروں سے وہ بہت انس کرتا تھا۔ اُس نے گھوڑے اور کتّے منگانے کے لیے یورپ بھر میں اپنے نمائندے بھیجے۔ اور مارکیٹ کی قیمت سے بھی زیادہ دے کر اُنھیں خریدا۔ چنانچہ اٹلی، سویڈن اورجرمنی سے گھوڑے اورکتّے آنے شروع ہوگئے۔ وہ اُس کے محل میں پہنچ جاتے،لیکن صحت کیکمزوری کے سبب اس کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ انھیں دیکھ بھی سکے، یا جو لوگ اُن کو خرید کر لائے ہیں اُن سے بات تک بھی کرسکے۔ لیکن اُسے علم تھا کہ سارے یورپ میں اُس کی اس خریداری پر چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ وہ ابھی تک زندہ تھا،اوراپنی صحت بحال کرنے کا وہ اتنا آرزو مند تھا کہ اُس نے اس امر کا حکم دے رکھا تھا کہ موت کا لفظ اُس کے سامنے بولا ہی نہ جائے۔ اُس کا ذاتی معالج اُس کے ایک نوکر کی مانند کام کرتا تھا۔اور بادشاہ کا وہ پسندیدہ بن گیاتھا۔ اُسے 10,000سنہری کراؤن ماہوار دیئے جانے لگے تھے۔ اُس وقت پورے یورپ کے کسی میدان جنگ میں 40 برس کام کرکے بھی ایک فوجی افسر اتنی رقم کما نہ سکتا تھا۔ اگرکوئی شخص اُس کی زندگی میں ایک دن کا بھی اضافہ کرسکے تو وہ اپنا سارا خزانہ لٹانے کو تیارتھا۔ 23 جولائی 1483 ء کو جب اُس کا 60 واں جنم دن نزدیک آنے والا تھا وہ اور بھی فکر مند ہوگیا۔ اُس وقت وہ اتنا کمزور ہوگیا تھا کہ وہ مشکل سے لقمہ اُٹھا کر اپنے منہ میں ڈال سکتا تھا۔ اُس کے دل میں ایک خیال آیا۔ اُس نے ہزاروں سونے کے سکے جرمنی، روم اور نیپلز کے گرجا گھروں اور مذہبی رہنماؤں میں تقسیم کرنا شروع کردیئے۔ اُس نے تین بحری جہاز دےکر اپنے بہترین کپتان ایک جزیرہ میں بھیجا، تاکہ وہاں سے بڑے بڑے کچھوے لائے جائیں۔ اس کو بتایا گیا تھا کہ یہ بحری کچھوے زندگی بخش خواص کے مالک ہیں۔ اسے یاد تھا کہ فرانس کے بادشاہوں کو ان کی تاجپوشی کے وقت ایک خاص قسم کی کریم (cream)کا تلک لگایا جاتا ہے۔ یہ ایک کہاوت ہے کہ یہ کریم 496ء میں قدیم زمانہ کے ایک بادشاہ کو ایک فاختہ نے مہیا کی تھی۔ اور وہ اس کی موت سے چند ہی دن پہلے ایک سنہری رتھ میں پہنچی تھی۔ لوئی نے تمام مذہبی ذرائع کو جو ممکن تھے، اِس امید کے ساتھ اکٹھا کیا کہ وہ زیادہ عرصہ زندہ رہ سکے۔ آخر میں نیپلز کی ایک گپھا سے ایک جوگی اس امید کے ساتھ اُس کے محل میں لایا گیا کہ اس کی پرارتھنا سپھل ہوگی۔ لیکن وہ بے اثر ثابت ہوئی۔ تاہم لوئی اُسے اپنے نزدیک رکھنے کا اتنا خواہش مند تھا کہ اُس نے اپنے وزیر خزانہ کو حکم دے دیا تھا کہ اُس جوگی کے لیے خواہ سارا خزانہ کیوں نہ صرف کرنا پڑے ،ضرور صرفکیا جائے۔ ان تمام کوششوں کے باوجود بادشاہ لوئی پر فالج کا حملہ ہوا، اور 30 اگست کو وہ اس دنیا سے چل بسا۔ اُس کے منہ سے آخری لفظ یہی نکلے:’’میں اتنا بیمار تو نہیںہوں جتنا آپ لوگ خیال کرتےہیں‘‘۔ فرانس کی عوام کو یہ بات بخوبی یاد ہے کہ اپریل 1974 کو صدر جارجز پوپیڈو نے اپنے آخری بیان میں کہا تھا جب وہ کینسر کی وجہ سے مررہےتھے :’’میں اتنا بیمار تو نہیںہوں جتنا آپ لوگ خیال کرتےہیں‘‘۔ اور چند روز بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔آخر کار 11 ویں لوئی کو معلوم ہوگیا کہ کوئی شخص موت سے جیت نہیں سکتا۔ (ماخوذ)

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content