مشہور ٹینس کھلاڑی مارٹینا (Martina Navratilova) طبی مشورے کے لئے ایک ڈاکٹر کے پاس گئی۔ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ تمھارے پھیپھڑے میں کینسر ہوچکا ہے اور وہ اگلے اسٹیج میں ہے۔ ڈاکٹر کی تشخیص (diagnosis)کو بتاتے ہوئے مذکورہ خاتون نے کہا کہ یہ خبر میرے لیے نائن الیون کے برابر ہے: It was such a shock for me. It was my 9/11. خاتون نے یہ بات اِس لیے کہی کہ موت اُس کو بالکل قر یب دکھائی دینے لگی۔ لیکن موت کے بعد کا جو مرحلہ ہے، وہ اِس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ موت، قرآن کے الفاظ میں، اسباب کے کامل تقطّع(البقرۃ 166:) کا نام ہے۔ موت کے بعد اچانک آدمی ایک اور دنیا میں پہنچ جاتاہے جو موجودہ دنیا کے مقابلے میں ہر اعتبار سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت کے بعد اچانک انسان پر دو سنگین حقیقتیں کھل جاتی ہیں— ایک یہ کہ اب موت سے پہلے والے دو رمیں واپسی ممکن نہیں، جہاں اس نے اپنی ایک دنیا بنائی تھی۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد والے دور میں وہ اپنے لیے ایک اور دنیا نہیں بناسکتا۔ یہ احساس آدمی کو ابدی مایوسی اور ابدی حسرت میں مبتلا کردے گا، اور بلاشبہہ ابدی مایوسی اور ابدی حسرت سے زیادہ اذیت ناک تجربہ اور کوئی نہیں۔ موجودہ دنیا کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں اگر ایک چانس کھویا جائے تو اس کے بعد اس کو دوسرا چانس (second chance) مل جاتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ہاری ہوئی بازی کو دوبارہ جیت میں تبدیل کرسکے۔ لیکن آخرت میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ آخرت میںایسا نہیں ہوسکتا کہ آدمی اپنے لیے دوسرا چانس پالے۔ آخرت میں کسی انسان کے لیے دوبارہ کوئی چانس نہیں۔ پہلے چانس یا دوسرے چانس یا تیسرے چانس کا معاملہ صرف موجودہ دنیا میں پیش آتا ہے۔ آخرت کی دنیا مکمل طورپر اِس سے مختلف ہے۔ آخرت میں صرف انجام ہے، وہاں کسی کو دوبارہ نیا آغاز ملنے والا نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔