قرآن کی سورہ آل عمران میں آیا ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ(3:185)۔یعنی ہر انسان موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے۔ انسان دنیا کے ذائقوں میں جیتا ہے، مگر آخر کار جو ذائقہ انسان کے لیے مقدر ہے، وہ موت کا ذائقہ ہے۔ موت کا ذائقہ اتنا زیادہ تلخ ہے کہ وہ دوسرے تمام ذائقوں کو منہدم کردینے والا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: أکثروا ذکر ہادم اللذات، الموت (سنن الترمذی، کتاب الزہد)۔یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ ذائقہ یا لذت کا لفظ یہاں کسی محدود معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ وسیع تر معنوں میں ہے۔ آدمی ایک لذت پسند مخلوق (pleasure-seeking animal) ہے۔ ہر چیز میں اس کو لذت محسوس ہوتی ہے۔ کھانے پینے میں، اچھا کپڑا پہننے میں، اچھا گھر بنانے میں، اچھی سواریوں پر سفر کرنے میں، تفریح کی مجلسوں میں شریک ہونے میں، شہرت اور اقتدار کی سیٹ پر بیٹھنے میں، وغیرہ۔ اِس قسم کی تمام چیزوں میں آدمی کو بے پناہ لذت ملتی ہے۔ وہ اِن لذتوں میں گم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر وہ حقیقۃً یہ سوچے کہ موت کے آتے ہی اچانک یہ تمام لذتیں اس سے چھن جائیں گی، تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے۔ مثلاً جب کوئی شخص دوسرے انسان کی عیب زنی کرتا ہے تو غیر شعوری طورپر اس کو یہ خوشی حاصل ہوتی ہے کہ میں ایک بے عیب انسان ہوں۔ جب کوئی انسان کسی کو ذلیل کرتاہے تو یہ اس کے لیے اس کی انا (ego)کی تسکین کا باعث ہوتاہے۔ کوئی شخص ناحق طورپر کسی کے مال وجائداد پر قبضہ کرتاہے تو وہ اس کو اپنی ہوشیاری سمجھ کر اطمینان حاصل کرتاہے۔ اِس قسم کی مختلف صورتیں ہیں جن پر عمل کرکے انسان کو خوشی اور فخر(pride)کا احساس ہوتاہے۔ وہ اپنے آپ کو کامیاب انسان سمجھ لیتاہے۔ لیکن اگر اس کو یقین ہو کہ موت کا فرشتہ کسی بھی وقت آئے گا، اور اچانک اس کی زندگی کا خاتمہ کردے گا، اِس حقیقت کا احساس اگر کسی کو حقیقی طورپر ہوجائے تو وہ محسوس کرے گا کہ موت سے پہلے ہی اس کی موت واقع ہوچکی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔