Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala november 2016
Al-Risala november 2016

موت کا تصور

Urdu · 2 min read

موت (death) کے لفظ کو اگر آپ ڈکشنری میں دیکھیں تو اس میں موت کا مطلب یہ لکھا ہوا ہوگا کہ — زندگی کا ابدی خاتمہ: Permanent cessation of life موت کی یہ لغوی تعریف، موت کی منفی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ آدمی مکمل انسان کی حیثیت سے پیدا ہو، لیکن تھوڑی مدت تک زندہ رہ کر ہمیشہ کے لیے اس کا خاتمہ ہوجائے۔ اس کی تمام آرزوئیں(desires) اور اس کی تمام صلاحتیں اِس طرح مٹ جائیں کہ دوبارہ اُن کا وجود میں آنا ممکن نہ رہے۔ اسلام اِس کے مقابلے میں، زندگی کا مثبت تصور پیش کرتا ہے۔ اسلام کے مطابق، موت زندگی کا خاتمہ نہیں، موت کا مطلب انسان کے لیے اس کے دوسرے دورِ حیات کا آغاز ہے: Death is not the end of life. Death marks the beginning of the second phase of human life. اسلام کے مطابق، انسان کو ابدی مخلوق (eternal being)کے طور پر پیدا کیا گیا، پھر اس کے عرصۂ حیات (lifespan) کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا— قبل از موت دور، اور بعد از موت دور۔ قبل از موت عرصۂ حیات تیاری کی جگہ ہے اور بعد از موت عرصۂ حیات تیاری کے مطابق، اپنا مستقل انجام پانے کی جگہ۔ اِس تخلیقی پلان کے مطابق، آدمی کو چاہیے کہ وہ موت سے پہلے کی زندگی کو تیاری کا دور (preparatory period) سمجھے اور اس کو کامل طورپر تیاری میں گزار ے۔ کیوں کہ موت کے بعد زندگی کا جو دور آدمی کے سامنے آئے گا، اُس میں عمل کرنا نہ ہوگا، بلکہ صرف اپنے عمل کا انجام پانا ہوگا۔ موت کا واقعہ دراصل، زندگی کا پیغام ہے، اور وہ یہ ہے —جو کرنا ہے، اُس کو آج کے دن کرلو۔ کیوں کہ کل کے دن کرنے کا وقت باقی نہیں رہے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.