Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala November 2015
Al-Risala November 2015

سوال وجواب

Urdu · 5 min read

میں ایک طالب علم ہوں اور جدید تعلیم حاصل کررہا ہوں لیکن اسی کے ساتھ دینی معلومات بھی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ ڈیڑھ سال سے پہلےمیں نے آپ کا نام سناتھا لیکن جن کے ذریعہ آپ کا تعارف ہوانھوں نے آپ کا کوئی مثبت ذکر نہیںکیا بلکہ دلخراش واقعات سنائے جو کہ میرے لئے باعث تشویش رہے کہ کیا دین اسلام کا داعی اس قسم کی باتیں کہہ سکتا ہے، کیا ایسا ممکن ہے؟ آپ کے حقیقی تعارف کے بغیر میں ہر وقت شش وپنج میں رہتا تھا ۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ اِن باتوں کی حقیقت کو جاننے کےلیے از خودآپ کی کتابوں کا مطالعہ کروں۔آخر کار اپنے ایک عزیز کی وساطت سے میں نے آپ کی ایک کتاب ’’کاروانِ ملّت‘‘ خریدی۔کتاب مذکور میں ان سب سوالوں کا جواب تھا جس کی وجہ سے میں پریشان ہوچکا تھا۔ وہ منفی تاثرات جو آپ سے متعلق مجھے بتائے گئے تھے ، وہ سب گمراہ کن لگے۔ بعد میں آپ کی کتابوں کا مطالعہ میرے روز مرہ کے شیڈول ایک جزءبن گیا۔ جن کتابوں کا مطالعہ کیا ان میں یہ کتابیں قابلِ ذکر ہیں: کتاب معرفت، عظمت اسلام، تعمیر انسانیت، دعوت اسلام، The Quran for all Humanity, Creation Plan of God ، وغیرہ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اب میں اس خدا کا شکر کرتا ہوں جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کہ میرے خدا کی طرف سے یہ سب ممکن ہوا کہ میں روحِ دین کو سمجھنے کی کوشش کروں۔اِس ’’عُسر‘‘ کے دور میں ’’یُسر‘‘ کا ایک موقع مجھے ضرور ملا جس کو میں نے استعمال کیا۔ آپ کی کچھ باتیں جن کی وجہ سے میری زندگی میں بدلاؤ آیا، وہ مفہوم میں کچھ اس طرحہیں:

غیر مسلم ہمارے دشمن یا حریف نہیں بلکہ وہ ہمارے لیےمدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہذا ہمیں ان سے داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرنا ہوگا۔

یک طرفہ طور پر دکھ درد کو برداشت کرکے ہی ہم اسلام کا پیغام امن ان تک پہنچا سکتے ہیں۔

دین سلامتی کو دین قتل نہ بنائیں۔دین امن کو دینِ جنگ وجدال نہ بنائیں۔

گمراہ کن نعروں سے مسلمانانِ دنیا کے جان، مال اور آبرو کو مباح نہ بنائیں۔

دعوت کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار رہنا، وغیرہ وغیرہ۔

ان جیسی اہم باتوں نے مجھے آپ کی فکر کو اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔اِس دوران میرے ذہن میں بہت سے اشکالات رہے جن کے جوابات جاننا میرے لئے ضروری ہوگیا- امید ہے کہ آپ اپنی حد درجہ مشغولیت کے باوجودذیل کی باتوں میں میری رہنمائی فرمائیں گے:

1- اسلامی حکومت کے قیام کے لئے کیا لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔

2۔ قرونِ اول میں جو فتوحات ہوئیں، مثلاً مصر، روم، ایران وغیرہ، ان کو دفاعی جنگ (defensive war) کہناکیسے ممکن ہے۔

3- ’’نہی عن المنکر‘‘ غیر اسلامی حکومت کے اندر کیسے کیاجائے۔

4۔ دفاعی طریقہ کار سے کیا آج کے دور میں ہم کسی ملک کو زیر کرسکتے ہیں۔( احمد وانی، کشمیر)

کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا، ایک بے حد سنگین بات ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ متعلق شخص کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرے، اور پھر معلومات کے مطابق وہ اپنی رائےبنائے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میرے پاس اتنا وقت نہیں تو اس کو یہ جواب دیا جائے گا کہ پھر آپ کے اوپر فرض ہے کہ آپ ایسے شخص کے بارے میں کوئی رائے نہ بنائیں، بلکہ خاموشی کا طریقہ اختیار کریں۔ آدمی کے اوپر یہ فرض نہیں ہے کہ وہ ہر شخص کے بارے میں ضرور کوئی رائے بنائے، لیکن اگر اس کو کسی شخص کے بارے میں اپنے رائے کا اظہار کرنا ہے تو اس پر فرض ہوجاتا ہے کہ پہلے وہ براہ راست طور پر پوری معلومات حاصل کرے، اور اس کے بعد متعلق شخص کے بارے میں اپنی رائے قائم کرے۔

جہاں تک مذکورہ سوالات کا تعلق ہے۔ یہ سوالات ہماری کتابوں میں زیرِ بحث آچکے ہیں۔ آپ نے مطالعے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اس کو جاری رکھیے، ان شاء اللہ آپ کو تشفی حاصل ہوجائے گی۔

بے ضمیر انسان اور امن پسند انسان میں کیا فرق ہے۔ (مدثر مقبول، کشمیر)

دونوں قسم کے انسان کے درمیان بظاہر مشابہت ہوسکتی ہے۔ مگر داخلی کیفیت (spirit) کے اعتبار سے دونوں کا کیس مکمل طور پر ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ بے ضمیر انسان جو کچھ کرتا ہے وہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے کرتا ہے۔ اس کا کنسرن اپنی ذات ہوتی ہے نہ کہ وسیع تر معنوں میں انسانیت۔ اس کے برعکس،امن پسند انسان کا کنسرن انسانیت عامہ ہوتی ہے۔امن پسند انسان ایک با اصول انسان (man of principle) ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ کرتا ہے، اصول کی بنا پر کرتا ہے نہ کہ ذاتی انٹرسٹ کی بنا پر ۔

دونوں قسم کے انسانوں کی پہچان یہ ہے کہ مفاد پرست انسان کے اندر تضاد پایا جائے گا جبکہ با اصول انسان کی زندگی تضاد سے خالی ہوگی۔ مثلا مفاد پرست انسان قومی معاملے میں ٹکراؤ کی بات کرے گا۔ وہ کہے گا کہ بے انصافی کو ہم برداشت نہیں کرسکتے۔ لیکن اگر کوئی ایسا معاملہ ہو جس میں اس کی اپنی ذات زد میں آتی ہو، جس میں اس کو اپنے لوگوں کا نقصان نظر آتا ہو تو وہ ٹکراؤ کی بات چھوڑ دے گا اورجوش و خروش کے ساتھ امن کے فضائل بیان کرے گا۔

اس کے برعکس، با اصول انسان ہر حال میں امن پسندی کی بات کرے گا۔ خواہ زیر بحث مسئلہ ایک قومی مسئلہ ہو یا ایک ایسا مسئلہ جس میں اس کے اپنے لوگ زد میں آتے ہوں ۔ با اصول انسان ایک قابلِ پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، مفاد پرست انسان کا کردار قابل پیشین گوئی نہیں ہوتا۔ وہ ایک قسم کے معاملے میں ایک رویہ اختیار کرتا ہے، اور اسی قسم کے دوسرے معاملے میں بالکل دوسرا رویہ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content