دعوت الی اللہ تمام پیغمبروں کا مشن تھا اور خود پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی-دعوت الی اللہ کا مطلب ہے اللہ کی طرف بلانا- دعوت الی اللہ عین وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں انذار وتبشیر کے الفاظ آئے ہیں، یعنی اللہ کی پکڑ سے ڈرانا اور اللہ کے انعام کی خوش خبری دینا-
دعوت الی اللہ کیا ہے، اِس کو دوسرے الفاظ میں اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ دعوت الی اللہ یہ ہےکہ لوگوں کو اللہ کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے آگاہ کیا جائے- لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ خالق نے یہ دنیا کیوں بنائی، اُس نےانسان کو یہاں کس لیے آباد کیا، زندگی کیا ہے اور موت کیا-
یہ سوالات ہر انسان کے لیے بنیادی سوالات ہیں- اِنھیں سوالات کے جواب پر انسانی زندگی کی تشکیل ہوتی ہے- اِنھیں سوالات کے جواب سے یہ متعین ہوتاہے کہ انسان کیا کرے اور کیا نہ کرے- اللہ تعالی نے ہر دور میں اپنے پیغمبر بھیجے اور اُن پر وحی کی- اِس وحی کی روشنی میں انھوں نے ہر دور کے انسانوں کو بتایا کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے- وہ دنیا میں کس طرح زندگی گزاریں کہ وہ اللہ کی پکڑ سے بچیں اور آخرت کے انعامات کے مستحق قرار پائیں-
ہر پیغمبر اپنے بعد الہامی کتاب کی صورت میں یہ ہدایت اپنے زمانے کے لوگوں کو دیتا رہا، لیکن قدیم دور میں یہ الہامی تعلیمات محفوظ نہ رہ سکیں- یہ واقعہ ہر پیغمبر کے بعد بار بار ہوا- آخر کار اللہ تعالی نےاپنے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، اور آپ پر اتری ہوئی تعلیمات کو ایک کتاب کی شکل میں محفوظ کردیا جس کو ہم قرآن کہتے ہیں- اب یہی قرآن نبوت کا بدل ہے- اب امتِ محمدی کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ہر دور میں اور ہر نسل میں قرآن کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاتی رہے- یہ کام اِس طرح موثر انداز میں ہونا چاہیے کہ لوگوں کا ذہن ایڈریس ہو اور وہ اپنے خالق کی منشا کو سمجھیں اور اس کو اپنی زندگی میںاختیار کرسکیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔