حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کا مشن صرف ایک ہے اور وہ ہے دعوت الی اللہ، یعنی ہر زمانے میں اور ہر مقام پر اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہنا- قرآن میں یہ بات نہایت واضح ہے- سنتِ رسول سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے- اِس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ اکثر مسلمان دعوت الی اللہ کے کام کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے- اِس کا سبب ایک ’’مگر‘‘ ہے- یہ مگر،قومی مگرہے- موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا عام طورپر یہ حال ہے کہ وہ اپنے قومی مسائل کو لے کر سوچتے ہیں- اِس کے مطابق، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قومیں اُن کے خلاف سازش کرتی رہتی ہیں- یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بناپر وہ دعوت کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے، وہ دعوت کی اہمیت کا اقرار کریں گے، اس کے بعد ایک ’’مگر‘‘ کہہ کر اس کو چھوڑیں گے -
مذکورہ قومی ذہن کی بنا پر ساری دنیا کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ دوسری قوموں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں- دوسروں کے بارے میں ان کی سوچ پوری کی پوری منفی سوچ بن گئی ہے- دوسری قوموں کےلیے اُن کے دل میں صرف نفرت ہے، نہ کہ خیر خواہی، اور یہ ایک واقعہ ہے کہ دعوت کا کام ہمیشہ دوسروں کے لیے خیر خواہی کے جذبے کےتحت ہوتا ہے- نفرت کے جذبے کے ساتھ کبھی دعوت کا کام نہیں کیا جاسکتا-
اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، اِس دنیا میں مسابقت (competition) اور چیلنج کا نظام قائم ہے- مسلمان جن چیزوں کو بطور خود ظلم اور سازش سمجھتے ہیں، وہ سب کے سب اللہ کے اِسی تخلیقی منصوبے کی بنا پر ہیں- یہ صورتِ حال اِس دنیا میں ہمیشہ تھی اور ہمیشہ باقی رہے گی- اِس لیے مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی مفروضہ ’’شکایتوں‘‘ کو اللہ کے خانے میں ڈال دیں، جن کو اب تک وہ دوسری قوموں کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں- ایسا کرنا مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے- مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اِس قومی ذہن سے آزاد کریں، اِس کے بغیر وہ دعوت الی اللہ کی ذمے داری کو ادا نہیں کرسکتے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔