← Al-Risala November 2011Al-Risala November 2011
Main Content
Urdu · 81 min read
انسان کے اندر سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ محبت کا جذبہ ہے۔ انسان جب کسی چیز کو اپنا سب سے بڑا کنسرن (supreme concern) بنائے تو اس کے بعدفطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے محبت کے جذبات اس چیز سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ مذہبی اصطلاح میں اِسی کو ’’معبود بنانا‘‘ کہاجاتا ہے۔ جس چیز سے آدمی سب سے زیادہ محبت کرے، وہی اس کا معبود ہے، خواہ وہ اس کے لیے محبت کا لفظ بولے یا نہ بولے۔
ایمان باللہ یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اِس طرح دریافت کرے کہ اللہ ہی سے اس کو سب سے زیادہ محبت ہوجائے۔ اِسی کو قرآن میں الذین آمنوا أشد حباً للہ (2: 165) کہا گیا ہے۔ جو آدمی اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے لگے، وہی وہ شخص ہے جس نے اللہ کو اپنا معبود بنایا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جس آدمی کے اندر اللہ کے لیے حقیقی محبت پیدا ہوجائے، اُس کے اندر سے یہ محبت مختلف شکلوں میں ظاہر ہونے لگے گی۔ ظہور کی اِنھیں مختلف شکلوں کو قرآن میں حمد اور شکر اور ذکر جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ محبت ہی دراصل تعلق باللہ کی اصل ہے۔ اِس اعتبار سے‘ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ الحمد للہ کا مطلب ہے الحب للّٰہ۔ الشکر للّٰہ کا مطلب ہے الحب للّٰہ۔ اِسی طرح اللہ کے لیے ذکر کثیر کامطلب ہے اللہ کے لیے محبتِ کثیر۔ قرآن میں آیا ہے کہ — اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے (13: 28) ۔ اِس کا مطلب بھی یہی ہے کہ صرف اللہ کی محبت ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے انسان کو حقیقی معنوں میں اطمینانِ قلب عطا ہوتا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Love of God alone gives the peace of mind.
اللہ پر ایمان، اللہ کی دریافت (discovery) سے شروع ہوتا ہے۔ اِسی دریافت کو قرآن میں معرفت کہاگیا ہے۔ حقیقی معرفت وہ ہے جو آدمی کے پورے وجود میں شامل ہوجائے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اِسی سے وہ تمام اعلیٰ مظاہر پیدا ہوتے ہیں جن کو محبت اور شکر اور ذکر جیسے الفاظ سے تعبیر کیاگیا ہے۔
انسان اور جنت
حدیث کی کتابوں میں ایک روایت اِن الفاظ میں آئی ہے لتدخلنَّ الجنَّۃَ إلا مَن أبیٰ، وشرد علی اللہ شِرادَ البعیر (فتح الباری 13/ 268 ) یعنی تم ضرور جنت میں داخل ہوگے، سوا اُس کے جس نے انکار کیا، اور وہ اللہ سے بھاگا جیسے اونٹ بدک کر بھاگتا ہے۔
hadithQuotes a hadith
اللہ نے انسان کو اصلاً جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسان جیسی مکرم مخلوق کا مقام صرف جنت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اور جنت دونوں ایک دوسرے کا مثنّٰی (counter part) ہیں۔ انسان جنت کے لیے ہے، اور جنت انسان کے لیے۔
اللہ نے جنت میں داخلے کے لیے جو شرط مقرر کی ہے، وہ انتہائی حد تک قابلِ عمل ہے، وہ کسی بھی درجے میں انسان کے لیے ناقابلِ عمل نہیں۔ وہ شرط یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جس فطری حالت پر پیدا کیا ہے، اُسی فطری حالت پر وہ جئے اور پھر اِسی فطری حالت کے ساتھ وہ اللہ تک پہنچ جائے (إلا من أتی اللہ بقلبٍ سلیم)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جنت میں داخلے کی واحد شرط یہ ہے کہ آدمی خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت پر قائم ہو۔ وہ خدا کی فطرت سے انحراف نہ کرے۔ یہ خدائی فطرت ہر انسان کو الہام کردی گئی ہے (91: 8) ۔اگر آدمی اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction)سے بچائے، تو وہ یقینی طور پر اپنی اِس فطرت کو پہچان لے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہر انسان کے اندر ضمیر (conscience) موجود ہے۔ یہ ضمیر اِس خدائی فطرت کی ایک داخلی علامت ہے۔ خدا کے پیغمبر اِسی لیے آئے کہ وہ انسان کو اس فطرت سے باخبر کریں، تاکہ جو چیز لاشعور کی سطح پر انسان کے اندر موجودہے، اس کو وہ شعور کی سطح پر دریافت کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان جنت کے لیے ہے، اور جنت انسان کے لیے۔ اِس میں استثنا (exception)صرف اُس شخص کا ہے جو خود ہی اپنے آپ کو بھٹکا کر جنت کے سوا کسی اور منزل کا مسافر بن جائے۔
فقدانِ شعور
کشمیر کے ایک مسلم پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کشمیر کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر میں ہندستانی فوج کی ہیبت ناک موجودگی کشمیر میں کسی تعمیری کام کے آغاز کے لئے مستقل رکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہے
The awesome presence of the Indian army is a permanent obstacle to any constructive work in Kashmir.
میں نے کہا کہ کشمیر کا اصل مسئلہ وہاں ہندستانی فوج کی موجودگی نہیں، بلکہ کشمیر کا اصل مسئلہ خود کشمیریوں کے اندر اسلامی شعور کی غیر موجودگی ہے۔ کشمیر کے لیڈروں نے کبھی کشمیریوں کے اندر اسلامی شعورپیدا نہیں کیا، انھوں نے صرف جذباتی تقریریں کیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیری مسلمان ایک بے شعور قوم بن کر رہ گئے۔
میں نے کہا کہ کشمیر کو جس مسئلے کا سامنا ہے، اس سے ہزاروں گنا زیادہ بڑا مسئلہ تیرھویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یہ تاتاریوں کا وحشیانہ حملہ تھا۔ ا س کے بعد یہ ہوا کہ مسلم دنیا میں ہر طرف تاتاریوں کی سپر ہیبت ناک موجودگی (super awesome presence) دکھائی دینی لگی۔
مگر اس وقت مسلمانوں میںاسلامی شعور زندہ تھا۔ انھوں نے تاتاریوں کو حملہ آور کے بجائے مدعو کا درجہ دے دیا۔ وہ بڑے پیمانے پر تاتاریوں کے درمیان اسلامی دعوت کا کام کرنے لگے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو قوم بظاہر اسلام کی دشمن تھی،وہ اسلام کی خادم بن گئی۔ یہ اسلامی شعور کا معجزہ تھا جو بدقسمتی سے کشمیر کے مسلمانوں کے اندر موجود نہیں۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسئلے کا سبب کہیں اور ہوتا ہے اور آدمی اُس کے حل کے لیے کسی اور جگہ محنت کرنے لگتا ہے۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو پہلا کام یہ ہے کہ بے لاگ جائزہ کے ذریعہ یہ دریافت کیا جائے کہ اِس مسئلے کا اصل سبب کہاں ہے۔ اصل سبب پر محنت کرنے سے مسئلہ حل ہوتا ہے، اور کسی دوسری چیز پر محنت کرنے سے نتیجۃً جو چیز ملتی ہے، وہ مسئلے میں اضافہ ہے، نہ کہ مسئلے کا حل۔
تجسیم کا نظریہ
بعض مذہبوں میں تجسیم (incarnation) کا نظریہ پایا جاتا ہے۔ اِس کو حلول یا وحدتِ وجود بھی کہتے ہیں۔ حلول یا تجسیم کو اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے تجسُّد الإلٰہ فی شکل بشری (العلمانیۃنشأتہا وتطورہا واٰثارہا فی الحیاۃ الإسلامیۃ المعاصرۃ، لسفر بن عبد الرحمن الحوالی) یعنی خدا کا انسانی صورت میں مجسم ہونا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حلول یا تجسیم کا یہ تصور اصلاً ایک فلسفیانہ تصور ہے۔ قدیم فلاسفہ مانتے تھے کہ اِس کائنات کا ایک خدا ہے، لیکن وہ خدا ایک قسم کی اسپرٹ ہے، اس کی کوئی شکل وصورت نہیں۔یہ خدا جب ظاہر ہونا چاہتا ہے تو وہ کسی انسان کی صورت میں مجسم ہوجاتا ہے۔ ہندو مذہب میںاِسی کو ’اوتار واد‘ کہاجاتا ہے۔ اِس تصور کے مطابق، خدا اصلاً ایک غیر شخصی خدا (impersonal god) ہے، پھر وہ مختلف زمانوں میں کسی انسان کی صورت میں متشکل ہوتاہے۔ اِسی کو ہندو مذہب میں ’اوتار‘ کہاجاتاہے۔
اسلام میں حلول یا تجسیم کا یہ نظریہ سر تا سر باطل ہے۔ کچھ صوفیا نے اس باطل تصور کو وحدتِ وجود (monism)کے نام پر اسلام میں داخل کیا، لیکن یہ یقینی طورپر ایک بے بنیاد نظریہ ہے،اسلام میں ایسے کسی نظریے کی کوئی گنجائش نہیں۔
قرآن میں کہاگیا ہے کہ واسجد واقترب (96: 19) یعنی سجدہ کرو اور قریب ہوجاؤ۔ اِس سے معلوم ہوا کہ خدا اور بندے کے درمیان قربت کا واقعہ پیش آتا ہے، یعنی بندہ اور خدا دونوں ایک نہیں ہوجاتے، بلکہ عملاً یہ ہوتا ہے کہ ایک بندہ جب حقیقی معنوں میں ساجد بن جاتا ہے تو وہ نفسیات کی سطح پر خدا کے قرب کا تجربہ کرتاہے۔ خدا کے ساتھ اس کی سرگوشیاں ہونے لگتی ہیں۔ اس کو خدا کی موجودگی (presence of God) کا شدید تجربہ ہوتاہے۔ حدیث کے الفاظ میں، وہ اس طرح عبادت کرنے لگتاہے جیسے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے— خدا اور بندے کے درمیان وحدت کا تصور نہیں، البتہ اسلام میں، خدا اور بندے کے درمیان قربت کا تصور اپنے کامل ترین معنوں میں پایا جاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عیادت کا رواج
آج کل یہ رواج ہے کہ کوئی بیمار ہو تو اس کو دیکھنے کے لیے اس کے دوست اور رشتہ دار ہجوم کرکے اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ پہلے زمانے میں صرف قریبی لوگ عیادت کے لیے آیا کرتے تھے۔ اب کمیونکیشن کی بنا پر لوگ دور دور کے مقامات سے چل کر عیادت کے لیے آتے ہیں اور اس کو اسلام کا جز سمجھتے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک رواج ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
مریض کی عیادت حقیقۃً خیر خواہی کا نام ہے، اور خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی جہاں ہے، وہیں رہتے ہوئے وہ مریض کے لیے اللہ سے دعا کرے۔ دعا بلا شبہہ سب سے بڑی خیر خواہی ہے۔
ہجوم کرکے مریض کے پاس پہنچنا صرف مریض کے مسائل میں اضافہ کرتا ہے۔ اِس قسم کی عیادت کسی بھی درجے میں مریض کے لیے راحت کا سبب نہیں بنتی۔ مریض کی خدمت صرف دو طرح کے لوگ کرسکتے ہیں—گھر والے، یا ڈاکٹر۔
باہر کے جو لوگ مریض کی عیادت کے لیے آتے ہیں، وہ صرف مریض کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں۔ اِس قسم کی رواجی عیادت مریض کی خدمت نہیں ہے، بلکہ وہ مریض کے لیے صرف زحمت ہے۔ایک ہے عیادت برائے مقصد۔ دوسرا ہے عیادت برائے عیادت۔ اگر واقعۃً مقصد کا تقاضا ہو تو ایسی عیادت ایک مطلوب کام قرار پائے گی۔لیکن اگرعیادت برائے عیادت ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہ دین کے اعتبار سے ہے ،ا ورنہ دنیا کے اعتبار سے۔
حقیقت یہ ہے کہ مریض اگر خود کسی کو بلائے تو وہ سفر کرکے اس کے پاس آسکتا ہے، لیکن مریض نے اگر اُس کو بلایا نہ ہو تو عیادت کے نام پر سفر کرکے دور دور کے مقام سے اس کے یہاں پہنچنا، بلا شبہہ ایک غیر مطلوب کام ہے۔ نہ شرعی اعتبار سے اس کا کوئی اجر ہے اور نہ دنیوی اعتبار سے اس کا کوئی فائدہ۔ یہ صرف پیسے اور وقت کا ضیاع ہے، اِس کے سوا اور کچھ نہیں— عیادت بطور ضرورت عیادت ہے، اور ضرورت کے بغیر عیادت صرف ایک بے روح رسم۔ (5 ستمبر 2011)
عصری تقاضے— چند قابلِ غور پہلو
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إنّ اللہ یبعث لہذہ الأمّۃ علیٰ رأس کلّ مائۃ سَنۃ، مَن یجدّد لہا دینہا(سننن أبی داؤد، کتاب الملاحم، باب ما یُذکر في قرن المائۃ) یعنی اللہ اِس امت کے لیے ہر سو سال کے سرے پرایک شخص کو اٹھائے گا جو اُس کے لیے اُس کے دین کی تجدید کرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ کوئی پُراسرار بات نہیں۔ یہ فطری قانون کے تحت پیش آنے والا ایک معاملہ ہے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کی عمر بہت محدود ہے۔وہ سو سال سے پہلے ہی مرجاتا ہے۔ اِس طرح ہمیشہ ایک کے بعد دوسری نسل آتی رہتی ہے۔ ایک تیار شدہ نسل ختم ہوجاتی ہے، اس کے بعد ایک غیر تیار شدہ نسل پیدا ہوکر اس کی جگہ لے لیتی ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ جس طرح پہلی نسل کو تیار کیاگیاتھا، اُسی طرح دوبارہ اگلی نسلوں کو تیار کیا جائے۔ زوال کا مذکورہ عمل ایک مسلسل عمل ہے، اور اِسی کو انحطاط (degeneration) کہاجاتاہے۔ تجدید اِسی صورتِ حال کی اصلاح کا نام ہے۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس فطری پراسس کے معاملے میں امتِ محمدی کا کوئی استثنا نہیں۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت پر جب زوال کا دور آیا، تو باربار مجددینِ اسلام پیدا ہوتے رہے۔ مثلاً عمر بن عبد العزیز اُموی (وفات 720 ء)، ابن تیمیہ الحرّانی (وفات 1328 ء)، شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات 1762 ء)، وغیرہ۔ یہ لوگ مسلّمہ طورپر مجدد تھے، اور انھوں نے اپنے زمانے کے لحاظ سے تجدید کا کام کیا۔
دو دور
امتِ مسلمہ کے ثابت شدہ طورپر دو دور ہیں— روایتی دور (traditional period) ، اور سائنسی دور (scientific period)۔ تاریخی ترتیب کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پچھلی صدیوں میں جو مجددینِ اسلام پیدا ہوئے، وہ سب روایتی دور میں پیدا ہوئے۔ انھوںنے روایتی ڈھانچے میں دین کو ازسرِ نو منقّح کرکے پیش کیا۔ اب امتِ مسلمہ سائنسی دور میں پہنچ چکی ہے۔ اِس دور کے حالات مکمل طورپر پچھلے دور سے مختلف ہیں۔ اِس فرق کو سامنے رکھتے ہوئے ایک مسلم اسکالر نے کہا تھا کہ
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Quran has to be re-revealed today.
مگراصل یہ ہے کہ یہ کہاجائے کہ — ضرورت ہے کہ آج قرآن کی دوبارہ توضیح کی جائے
Quran has to be re-defined today.
تجدید دین دراصل اِسی توضیح ثانی (re-defination) کا نام ہے۔ مجدد وہ ہے جو بدلے ہوئے حالات کو سمجھے اور نئے حالات میں دین کو دوبارہ واضح کرے۔ یہ کام اپنی حقیقت کے اعتبار سے تجدید (revival) کا کام ہے۔ یہ اصلِ دین کا دوبارہ احیا ہے۔ اس کا کوئی تعلق اُس عمل سے نہیں جس کو موجودہ زمانے میں اصلاح (reformation) یا نظرثانی (revision) کہاجاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ سائنسی دور میں تجدید کا یہ کام پوری شدت کے ساتھ مطلوب ہوچکا ہے۔ اب جب کہ سائنسی تحقیقات کے مطابق، سائنس داں یہ اعلان کررہے ہیں کہ انسانی تاریخ اپنے خاتمہ (end) پر پہنچنے والی ہے۔ جس زِلزالِ شدید (99:1)کا ذکر قرآن میں کیاگیا ہے، اس کے آثار عملاً شروع ہوچکے ہیں۔ یہاں تک کہ اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ — قیامت اب زیادہ دور نہیں
Doomsday is not far.
ایسی حالت میں اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس کو متعین کیاجائے کہ جدید دورِ سائنس کی نسبت سے تجدید واحیاکا جو کام مطلوب ہے، وہ کیا ہے۔ اور وہ کام کیا ہے جس کو جدیدحالات کی نسبت سے تجدیدواحیا کا کام کہا جائے گا۔ قرآن اور حدیث کے حوالے سے اِس کام کی نوعیت کو پوری طرح معلوم کیا جاسکتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آفاق اور انفس میں ظاہر ہونے والی نشانیاں
قرآن میںواضح طورپر یہ پیشین گوئی موجود ہے کہ بعد کے دور میں فطرت کی چھپی ہوئی نشانیاں (signs) ظاہر ہوںگی، اور یہ ضرورت ہوگی کہ اِن نشانیوں کی روشنی میں دینِ خداوندی کو از سرِ نو مدلّل کیا جائے۔ یہ ضرورت قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے
عن قریب مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھلائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر یہ پوری طرح کھُل جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے (41: 53) ۔
Qur'anQuotes the Qur'an
آفاق اور انفس میں جن نشانیوں کے ظہور کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ واضح طورپر موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میںسامنے آچکی ہیں۔ مثال کے طورپر قرآن میں بتایا گیا تھا کہ حضرت موسیٰ کے معاصر فرعون کا جسم خدا نے محفوظ کردیا ہے، اور وہ بعد کے زمانے میں ظاہر ہوگا (10: 92) ۔ اِس آیت کے نزول کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک یہ واقعہ لوگوں کے لیے غیر معلوم رہا۔ انیسویں صدی کے آخر میں پہلی بار سائنسی ذرائع سے یہ ممکن ہوا کہ فرعون کے اِس جسم کو دریافت کیا جاسکے اور اس کی معاصر تاریخ کا تعین کیا جاسکے۔ اِس طرح کے بہت سے نئے حقائق ہیں، جو قرآن کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ دورِ جدید کے تجدیدی کام کا ایک حصہ ہے، یعنی اِن نئی دریافتوں کو قرآن کی صداقت کی حیثیت سے پیش کرنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لسانِ قوم میں دعوت
قرآن کی سورہ ابراہیم میں پیغمبروں کے بارے میں بتایا گیا ہے وما أرسلنا مِن رسول إلاّ بلسانہ قومہ (14: 4)یعنی خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھی آیا، وہ اپنی مخاطب قوم کی زبان میں کلام کرتا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں ’لسان‘ سے مراد صرف زبان (language) نہیں ہے، بلکہ اُس میں کلام کا اسلوب (idiom) بھی شامل ہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی زبان میں کلام کیا۔ یہ آپ کے لیے قوم کی زبان (لسانِ قوم) میں بولنا تھا۔ حضرت ابراہیم نے زمین اور آسمان کے ملکوت (6: 76)سے استدلال کرتے ہوئے مدعو کے سامنے اپنے بات پیش کی۔ اور حضرت مسیح نے تمثیل (metaphor) کے انداز میں اپنی بات کہی۔ یہ دونوں اسلوب کی مثالیں ہیں، جو اپنے زمانے کے لحاظ سے استعمال کی گئیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں دعوتی کلام وہ ہے جو وقت کی زبان میں ہو۔ وقت کی زبان کا ایک مطلب داعی کے اپنے علاقے کی زبان ہے۔ پھر یہ کہ موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ اِس لحاظ سے ضروری ہے کہ داعی آج کی انٹرنیشنل زبان میں کلام کرے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، آج کی انٹرنیشنل زبان صرف ایک ہے، اور وہ انگریزی زبان ہے۔
’’لسان‘‘ کے مسئلے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ معاصر مخاطبین کے اسلوب میں ہو۔ آج کا اسٹینڈرڈ اسلوب وہ ہے جس کو سائنٹفک اسلوب کہاجاتا ہے۔ اگر آج کے انسان کو مخاطب کرنا ہے تو ضروری ہے کہ داعی کا کلام وقت کے اسلوب میں ہو، ورنہ یہ حال ہوگا کہ داعی بظاہر بولے گا، لیکن مدعو کا مائنڈ اس سے ایڈریس نہیں ہوگا۔ ایسے کلام کو دعوتی کلام نہیں کہاجاسکتا۔
سائنٹفک اسلوب کیا ہے اور قدیم روایتی اسلوب کیا تھا۔ قدیم روایتی اسلوب وہ تھا جس میں شعر، ادب، خطابت، رومانیت، تمثیل اور مبالغہ آرائی کی زبان میں کسی بات کے کہنے کو بھی کہنا سمجھا جاتا تھا۔ جذباتی طورپر پُرکشش الفاظ بولنے والے لوگ بھی داد کے مستحق قرار پاتے تھے۔ موجودہ زمانے میں اِس قسم کا اسلوب پوری طرح متروک ہوچکا ہے۔
موجودہ زمانے کا اسٹینڈرڈ اسلوب سائنٹفک اسلوب ہے۔ سائنٹفک اسلوب وہ ہے جو مبنی بر حقیقت اسلوب ہو۔ جس کے الفاظ اور معنی میں کامل مطابقت پائی جائے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ سائنٹفک اسلوب وہ ہے جو پورے معنوں میں علمی اور منطقی (rational) اسلوب ہو۔ موجودہ زمانے میں وہی لٹریچر دعوتی لٹریچر ہے جو اِس سائنٹفک اسلوب میں لکھا گیا ہو— یہی سائنٹفک اسلوب قرآن کا اسلوب ہے۔
تعلقاتِ انسانی کا اصول
انسانوں کے درمیان تعلقات قائم کرنے کے لیے ہمیشہ ایک جامع اصول درکار ہوتا ہے۔ ایک ایسا اصول جو اپنے ا ور غیر کے درمیان مساوات (equation) کے قیام کی بنیاد بن سکے۔ یہ ایک ایسی ضرورت ہے جس کے بغیر انسانی سماج کو منظّم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
اسلام کی تاریخ میںابتدائی اور معیاری زمانہ وہ ہے جس کو عہدِ رسالت کہاجاتا ہے۔ اِس زمانے میں انسانی تعلقات کی بنیاد جس اصول پر قائم کی گئی تھی، وہ شاہد اور مشہود (85: 3) کی بنیاد تھی۔ یہ دونوں لفظ شہادت (گواہی) سے اخذ کئے گئے ہیں۔ شاہد کا مطلب ہے گواہ (witness) ، اور مشہود کامطلب ہے وہ جس پر گواہی دی جائے(witnessed) ۔ شہادت سے مراد دعوت ہے اور شاہد اور مشہود سے مراد وہی چیز ہے جس کے لیے داعی اور مدعو کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔
مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان شاہد اور مشہود کی یہ مساوات (equation) عہدِ رسالت اور عہد صحابہ میں قائم رہی۔ اِس کے بعد عباسی سلطنت کا زمانہ آیا، جب کہ دنیا کے بڑے حصے میں ایک مسلم ایمپائر قائم ہوگیا۔ اب شاہد اور مشہود کی یہ سابق مساوات ٹوٹ گئی اور نئی مساوات، حاکم اور محکوم کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ یہی وہ زمانہ ہے، جب کہ مسلم فقہاء نے دار الکفر اور دار الاسلام کی اصطلاحیں وضع کیں۔ اِس مساوات کے تحت، دنیا کو دو حصوں میں بانٹ دیاگیا۔ مسلم اکثریت کے علاقے دار السلام بن گئے۔ اور اس کے مقابلے میں غیر مسلم علاقے دار الکفر قرارپائے۔
انیسویں صدی عیسوی میںیورپ کی نوآبادیاتی طاقتوں (colonial powers)کے ظہور کے بعد یہ مساوات (equation) دوبارہ ٹوٹ گئی۔ اب مغربی تہذیب کے غلبہ کے تحت، دنیا میں جمہوریت (democracy) کا زمانہ آیا۔ سیاست کے جمہوری تصور کے تحت، حاکم اور محکوم کی مساوات بے معنیٰ قرار پائی۔ اُس نے اپنے حق میں فکری اساس کھو دی۔
مسلمانوں اور مغربی قوموں کے درمیان بارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگیں (crusades) پیش آئیں۔ اِن جنگوں میںمغربی قوموں کو شکست ہوئی، لیکن اِس شکست نے مغربی قوموں کے اندر ایک مثبت نتیجہ پیدا کیا۔ یہ لوگ علم کے میدان میںسرگرم ہوگئے، یہاں تک کہ مغربی یورپ میں پندرھویں اور سولھویں صدی میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو یورپ کی نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کہاجاتا ہے۔
اِس کے بعد مغربی دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا۔ مغربی قوموں نے تجارت اور صنعت کے نئے طریقے دریافت کیے، یہاںتک کہ عمومی پیمانے پر ایک نئی مساوات (equation) قائم ہوگئی۔ یہ تاجر اور خریدار (trader and costomer) کی مساوات تھی۔ اِس مساوات کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے ایک نیا کلچر وجود میں آیا جو خریدار دوست کلچر (customer-friendly culture) کے اصول پر مبنی تھا۔ یہی کلچر آج کی دنیا میں ابھی تک باقی ہے۔
اِس نازک وقت میں مسلمانوں کے ساتھ ایک المیہ (tragedy) پیش آیا۔ مسلمان حاکم اور محکوم کی سابقہ سوچ سے باہر نہ آسکے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان جدید اقتصادیات کی مین اسٹریم میں شامل نہ ہوسکے۔ اِس پچھڑے پن کی قیمت مسلمانوں کو یہ دینی پڑی کہ وہ موجودہ زمانے میں دہرا نقصان کا شکار ہوگئے۔
جدید حالات سے ہم آہنگ نہ ہونے کی بنا پر ایک طرف یہ ہوا کہ وہ اقتصادیات میں دوسری قوموں سے پیچھے ہوگئے۔ دوسرا اِس سے بھی بڑا نقصان یہ تھا کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر ڈبل اسٹینڈرڈ (double standard) کا کیس بن گئے۔ ذہنی طور پر وہ دوسری قوموں کے بارے میں منفی خیالات رکھتے تھے، لیکن ان کا یہ منفی فکر قابلِ عمل نہیں ہوسکتا تھا۔ اپنی مادّی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اُن کو اِنھیں قوموں سے مل کر کام کرنا تھا۔ داخلی طورپر وہ اِن قوموں کے بارے میں منفی ذہن رکھتے ہوئے، خارجی زندگی میںاُنھیں ان قوموں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا۔
اِس طرح مسلم تاریخ میں پہلی بار ایک سنگین بُرائی پیدا ہوئی، یعنی داخلی طورپر منفی رائے رکھتے ہوئے، خارجی معاملات میں دوسروں کے ساتھ سمجھوتہ کرکے اپنی مادّی زندگی کی تعمیر کرنا۔ یہ دو عملی یا ڈبل اسٹینڈرڈ کی عمومی حالت تھی۔ اِس قسم کی عمومی دو عملی مسلمانوں کی تاریخ میں اِس سے پہلے کبھی پیش نہیں آئی۔
اِس برائی سے بچنے کا واحد طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے دورِ اوّل کی طرف فکری واپسی، یعنی دورِ اول کی طرح دوبارہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کی مساوات (equation) قائم کرنا۔ داعی اور مدعو کی مساوات ہی اسلام کے مطابق، صحیح مساوات ہے۔ اِس مساوات کو دوبارہ قائم کرکے مسلمان موجودہ دو عملی کی بُرائی سے بچ سکتے ہیں اور اِسی کے ساتھ امتِ مسلمہ ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی عمومی ذمے داری کو ادا رسکتے ہیں، یعنی دعوت الی اللہ کی ذمے داری۔
آئڈیالوجی آف دعوہ
حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت عملاً زندہ نہ رہے اور پھر کوئی شخص اس کو اپنی کوششوں سے زندہ کرے، تو اِس عمل پر اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے من أحیا سنۃ من سنتی قد أمتیت بعدي فإن لہ من الأجر مثل من عمل بہا۔ (الترمذي، رقم الحدیث2677 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیث کوسامنے رکھا جائے اور غور کیا جائے کہ موجودہ زمانے میں وہ کون سی سنت رسول ہے جو آج زندہ نہیں ہے تو بلاشبہہ وہ صرف ایک سنت ہوگی، اور وہ دعوت الی اللہ کی سنت ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو دیکھئے تو ان کے درمیان نماز اور روزہ اور حج اور زکاۃ جیسے دینی اعمال بہت بڑے پیمانے پر انجام دیے جارہے ہیں، لیکن صرف ایک ہی بڑی سنت ہے جو آج عملاً زندہ نہیں، اور وہ دعوت الی اللہ کی سنت ہے۔ اِس معاملے میں مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ وہ ملّی خدمت یا اصلاح المسلمین کا کام کریں گے اور وہ اس کو دعوت الی اللہ کا نام دے دیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کے رشتے کو زندہ کرنا، اِس معاملے میں سنتِ رسول کو زندہ کرنا ہے۔ لیکن یہ کوئی سادہ کام نہیں۔ یہ بلا شبہہ ایک عظیم ترین کام ہے۔ دعوت کی اِسی اہمیت کی بنا پر قرآن میں اُس کو جہادِ کبیر (25: 52)کہاگیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلمانوں کے درمیان دعوت الی اللہ کی سنت کو حقیقی معنوں میں زندہ کرنے کے لیے ایک مکمل دعوہ آئڈیا لوجی(ideology of dawah) درکار ہے، ایک ایسی آئڈیا لوجی جو دعوت کی اہمیت کو جدید علمی اصول پر مدلّل کرے، جو اُن سوالات کا تشفی بخش جواب دے جو دعوت کے راستے میں ذہنی رکاوٹ (intellectual obstacle) کی حیثیت رکھتے ہیں۔
دعوت کا کام ایک ایسے ماحول کا طالب ہے، جہاں داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور تشدد کا مکمل خاتمہ کردیا گیا ہو۔ واضح رہے کہ یہ خاتمہ فریقِ ثانی کی طرف سے کبھی نہیں کیا جائے گا۔ یہ خاتمہ جب بھی ہوگا، وہ داعی گروہ کی طرف سے یک طرفہ طورپر کیا جائے گا، اِسی لیے قرآن میں دعوت کا حکم دیتے ہوئے پیغمبر اسلام سے فرمایا گیا ولربّک فاصبر(74: 3)یعنی مدعو کی طرف سے تمام زیادتیوں پر یک طرفہ صبرکرو اور پوری طرح مثبت انداز میں دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جدید نظریات
موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے نظریات سامنے آئے ہیں جو بظاہر اسلام کے روایتی موقف سے ٹکراتے ہیں۔اِس ظاہری ٹکراؤ نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو اِن جدید نظریات کے بارے میں منفی ذہن میں مبتلا کردیاہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ اِن نظریات کی ایسی توضیح کی جائے جو اس معاملے میں مسلمانوں کے منفی ذہن کا خاتمہ کرسکے۔ بصورتِ دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان وہ نارمل تعلقات قائم نہیں ہوں گے جو دعوت کے مثبت عمل کے لیے ضروری ہیں۔
مثلاً موجودہ زمانے میں شتمِ رسول کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے ایک حساس مسئلہ بن گیا ہے۔ مسلمان جب بھی کوئی ایسی تحریر پڑھتے ہیں یا تقریر سنتے ہیں، جو اُن کے نزدیک شتمِ رسول کے ہم معنیٰ ہو، تو وہ فوراً مشتعل ہوجاتے ہیں اور تشدد کا عمل شروع کردیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہایت سنگین طورپر دعوتی عمل کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
اِس کا سبب یہ ہے کہ جدید تہذیب کے زیر اثر آج تمام غیر مسلم قوموں میں یہ مان لیاگیا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی مطلق معنوں میں انسان کا ایک حق ہے، کسی بھی عذر کی بناپر اس کو ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے ماحول میں مسلمان جب بطورِ خود شتم کے واقعے کو لے کر ہنگامہ شروع کرتے ہیں اور وہ میڈیا کے ذریعے فوراً لوگوں کے علم میں آجاتا ہے، تو لوگ یہ تصور قائم کرلیتے ہیں کہ اسلام آزادیٔ رائے کے خلاف ہے۔ اِس بنا پر اسلام اِس قابل نہیں کہ وہ جدید انسان کا مذہب بن سکے۔
میں ذاتی طورپر شتمِ رسول کو ایک ایسا معاملہ سمجھتا ہوں جس پر مسلمان صرف دو قسم کے رویّے کا حق رکھتے ہیں۔ یا تو وہ اس سے اعراض کرتے ہوئے خاموش رہیں، یا دلیل کی زبان میں پُرامن طورپر وہ اس کا جواب دیں۔ اِس موضوع پر میںنے ’’شتمِ رسول‘‘ کا مسئلہ کے نام سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جو 191صفحات پر مشتمل ہے اور 1997 میں نئی دہلی سے شائع ہوچکی ہے۔
تاہم بالفرض اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ شتمِ رسول ایک قابلِ گردن زدنی معاملہ ہے، اور شتم کا کیس یُقتل حدًّا کا کیس ہے، تب بھی اس کو اِس معاملے میںاجتہاد کرنا چاہیے۔ دعوت الی اللہ کی مصلحت کا تقاضا ہے کہ ایسا شخض اِس معاملے کو الضّرورات تبیح المحظورات کے خانے میں ڈالے، اور قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت، اس کو موجودہ زمانے میں ساقط قرار دے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں مسلمانوں کا منفی ذہن بدستور باقی رہے گا اور وہ دعوت جیسے مثبت عمل کے لیے نا اہل (incompetent) قرار پائیں گے۔
اوپر جن مسائل کا بیان ہوا، وہ براہِ راست طورپر دعوت الی اللہ کی تجدید سے تعلق رکھتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو نئے حالات پیدا ہوئے ہیں، ان کے ریفرنس میں دعوت کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کرنا ہے۔ نئے حالات میں جو نئے موانع (obstacles) پیدا ہوئے ہیں، ان کااِس طرح جواب دینا ہے جو دعوت کے راستے کو دوبارہ کھولنے والا ہو۔ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کی بات کرنا دراصل اِنھیں سوالات کو ایڈریس کرنے کا نام ہے۔ اِس سے کم تر درجے کا کوئی عمل موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کے راستے کو ہموار کرنے والا نہیں۔
اِن مسائل سے صرفِ نظر کرکے اگر کوئی کام کیا جائے اور بطور خود اس کو دعوت الی اللہ کا نام دیا جائے، تو یہ قرآن کے الفاظ میں یحبّون أن یُحمدوا بما لم یفعلوا (3: 188)کا مصداق ہوگا، یعنی ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا جس کو آدمی نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام اور عصرِ حاضر
خالق کی طرف سے انسان کو جو نعمتیں دی گئی ہیں، ان میں سے ایک عظیم نعمت قرآن ہے۔ قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے کہ اِس میں تمام باتوں کا بیان ہے (16: 89)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ہمارے لیے معاملاتِ زندگی کو سمجھنے کے لیے ایک مستند کتابِ حوالہ (book of reference) کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن کے ذریعے ہم خالق کے تخلیقی پلان (creation plan) کو سمجھ سکتے ہیں، اور زندگی کی منصوبہ بندی کے لیے صحیح نقطۂ آغاز (starting point) کو پاسکتے ہیں۔ اِسی طرح دعوت الی اللہ کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے بھی قرآن ایک مستند کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتِ حق کے دودور ہیں۔ ایک ہے پیغمبروں کا زمانہ، اور دوسرا ہے بعد کو آنے والا زمانہ۔ پیغمبروں کے زمانے میں خدا نے آیاتِ وحی کے ذریعے حق کا اظہار فرمایا، اور اس کی مزید تائید کے لیے پیغمبروں کو معجزے دے، یعنی ایسی نشانیاں (signs)جن کا انکار کرنا کسی انسان کے لیے ممکن نہ ہو۔
بعد کے زمانے میں پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا، لیکن دعوت کا عمل بدستور جاری رہا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں، آفاق اور انفس میں ایسی آیات ظاہر ہوں گی جو حق کی تبیین کرنے والی ہوں (41: 53)۔ اِس قرآنی وضاحت کے مطابق، تبیینِ حق کے دو دور ہیں۔ ایک ہے تبیین بذریعہ آیاتِ وحی، اور دوسری ہے تبیین بذریعہ آیاتِ فطرت۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دعوت کے پہلے دور میں تبیینِ حق کا کام پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا۔ دعوت کے دوسرے دورمیں، قرآن کے مطابق، تبیینِ حق کا کام آیاتِ فطرت کے ذریعے انجام پائے گا۔ دوسرے دور میں تبیینِ حق کی پیشگی خبر قرآن کی سورہ حم السجدہ کی مذکورہ آیت نمبر 53میں دی گئی ہے۔دورِ اوّل میں تبیینِ حق کا کام خدا کے پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا، اور دورِ ثانی میں تبیین حق کا کام علمائِ اسلام کے ذریعے انجام پائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے العلماء ورثۃ الانبیاء (سنن أبي داؤد، کتاب العلم، باب الحث علی طلب العلم) یعنی امتِ محمدی کے علماء نبیوں کے وارث ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دعوت کے پہلے دو رمیں تبیینِ حق کاکام جن پیغمبروں نے انجام دیا، انھوں نے اپنے کام کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں(إني رسول اللہ إلیکم)۔ اِس اعلان کا حق انھیں اِس لیے تھا کہ فرشتہ جبریل کے ذریعے اُنھیں براہِ راست طورپر یہ علم دیاگیا تھا۔لیکن بعد کے دور میں جو عالم، یا علماء کا جو گروہ تبیین حق کے کام کو انجام دے، اس کو مذکورہ قسم کے پیغمبرانہ اعلان یا دعویٰ (claim) کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کرنے کا حق نہیں۔
بعد کے زمانے میں تبیینِ حق کا کام کرنے والے علماء کی شناخت ان کے ذاتی اعلان کے ذریعے نہ ہوگی، بلکہ ان کے کام کے ذریعے ہوگی، یعنی جو علماء بعد کے دور میں ظاہر ہونے والی آیاتِ فطرت (signs of nature) کا گہرا علم حاصل کریں اور ان کو دعوتِ حق کی حمایت میں درست طورپر اور موثر طورپر استعمال کریں، وہ اِس آیت میں کی گئی پیشین گوئی کا مصداق ٹھیریں گے۔ ایسے علماء کو صرف ان کے کام کو دیکھ کر پہچانا جاسکتاہے، نہ کہ ان کے اعلان کے ذریعے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ایک یادگار دن
29 فروری 1955 میری زندگی کا وہ دن تھا جس کو میں اپنے لیے ایک بریک تھرو (break through) سے تعبیر کرتا ہوں۔ اُس دن لکھنؤ کے امین الدولہ پارک میں جماعت اسلامی ہند کے زیرِ اہتمام ایک عمومی اجتماع ہوا۔ اِس موقع پر اسلام کے عقلی اثبات پر راقم الحروف کی ایک تقریر ہوئی۔ بعد کو جب اعلان کیا گیا کہ یہ تقریر چھپی ہوئی صورت میں یہاں بک اسٹال پر موجود ہے، تو لوگوں کا ہجوم اس کو لینے کے لیے بک اسٹال پر ٹوٹ پڑا۔ تقریر کے تمام مطبوعہ نسخے اُسی وقت فروخت ہوگئے۔ یہ تقریر پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوئی۔ اردو میںاس کا نام تھا ’’نئے عہد کے دروازے پر‘‘، ہندی میں ’’نو یُگ کے پرویش دوار پر‘‘ اور انگریزی میں
On the Threshold of A New Era
اِس تقریر کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں اسلام کی دعوت کو عصری اسلوب میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ میری زندگی میں ایک انقلابی واقعہ تھا۔ اِس واقعے نے میری آئندہ زندگی کا رخ متعین کردیا۔ اب میں نے شعوری طورپر یہ طے کرلیا کہ مجھے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرنا ہے۔ اس کے بعد میں نے مذکورہ موضوع کا زیادہ گہرائی کے ساتھ مطالعہ شروع کردیا۔ اِس درمیان میں مقالہ یا پمفلٹ کی صورت میں بعض تحریریں شائع ہوئیں۔ مثلاً حقیقت کی تلاش‘‘۔ یہ مقالہ 6ستمبر 1958 کو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے یونین ہال میں پڑھا گیا،اور اس کے بعد وہ پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوا۔
اِس موضوع پر میرے مطالعے کا ایک نتیجہ وہ تھا جو باقاعدہ کتاب کی صورت میں ظاہر ہوا۔یہ کتاب جو پہلی بار 1966 میں مجلس تحقیقات ونشریاتِ اسلام (ندوۃ العلماء، لکھنؤ) سے شائع ہوئی۔ اِس کتاب کا اردو ٹائٹل ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ تھا۔ بعد کو اِس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے کیا۔ یہ عربی ترجمہ پہلی بار 1969 میں کویت اور بیروت اور قاہرہ سے ’’الاسلام یتحدّیٰ‘‘ کے نام سے چھپا۔ اِس کتاب کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر فریدہ خانم نے کیا، جو پہلی بار 1985میں گاڈ ارائزز (God Arises) کے نام سے شائع ہوا۔
مذہب اور جدید چیلنج 1964 میں لکھ کر تیار ہوئی۔ میں نے اس کا مسوّدہ (manuscript) مجلس تحقیقات ونشریاتِ اسلام (لکھنؤ) کے ذمے داروں کو برائے اشاعت دیا۔ چوں کہ اِس کتاب میں بہت زیادہ سائنسی حوالے تھے، مجلس کے ذمے داروں نے چاہا کہ اشاعت سے پہلے وہ کسی ایکسپرٹ (expert) سے ا س کی تصدیق حاصل کرلیں۔ اِس مقصد کے لیے کتاب کے مسوّدے کو لکھنؤ کے ایک مسلم آئی اے ایس افسر کو دیاگیا۔ انھوں نے کتاب کے مسوّدے کو پڑھنے کے بعد مجلس کے نام ایک تحریر بھیجی۔ اِس تحریر میں کتاب کے بارے میں منفی رائے دیتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ ایسی ایک کتاب لکھنے کے لیے مصنف کا کریڈنشیل (credential) کیاہے۔
مذکورہ مسلم افسر کی یہ تحریر مجھے دی گئی۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے تحریری صورت میں اس کا جواب دیا۔ میں نے اپنے جواب میں یہ لکھا کہ — اس کتاب کے مصنف کا کریڈنشیل یہ ہے کہ اِ س موضوع پر پوری مسلم دنیا میں اب تک کوئی ایک کتاب بھی لکھی یا چھاپی نہیں گئی ہے۔ جدید تاریخ میں میں پہلا شخص ہوں جس نے اسلام اور جدید علمی چیلنج کے موضوع پر باقاعدہ مطالعہ کیا اور اس پرایک مکمل کتاب تیار کی۔ اگر آپ کے خیال کے مطابق، اِس موضوع پر کوئی دوسری کتاب پائی جاتی ہے، تو آپ مجھے اُس کا نام بتائیں۔ میرے اِس جواب کے بعد لوگ خاموش ہوگئے اور میری کتاب کو 1966 میں مجلس تحقیقات ونشریات اسلام سے شائع کردیا گیا، جو اِس کتاب کا پہلا ایڈیشن تھا۔اِس کے بعد میری زندگی مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔ یہاںتک کہ میں نے 1970 میں دہلی میں اسلامی مرکز کے نام سے ایک دعوتی ادارہ قائم کیا، اور 1976 میں ’الرسالہ‘ کے نام سے ایک دعوتی ماہ نامہ جاری کیا، جو اب تک پابندی کے ساتھ نکل رہا ہے۔
اِس ادارہ (اسلامی مرکز) کے تحت، میں نے باقاعدہ طورپر کتابیں شائع کرنا شروع کیا۔ اِن کتابوں کا موضوع براہِ راست یا بالواسطہ طورپر صرف ایک ہوتا تھا، اور وہ ہے — جدید علمی چیلنج کے مقابلے میں اسلام کا مدلّل تعارف پیش کرنا۔ ماہ نامہ الرسالہ میں اِن کتابوں کا اشتہار جس عنوان کے تحت چھپتا تھا، وہ عنوان یہ تھا— عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جدید تہذیب کے ظہور اور پرنٹنگ پریس کے زمانے میں پوری مسلم دنیا میں مختلف زبانوں میں کثرت سے کتابیں چھاپی گئیں، لیکن میرے علم کے مطابق، اِن کتابوں کے تعارف کے لیے کسی نے بھی ’’عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، اب بھی کو ئی مسلم ادارہ ایسا نہیں ہے جو اپنی مطبوعات کے تعارف کے لیے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کا لفظ استعمال کرتاہو۔ گویا کہ یہ ٹائٹل غیر متنازعہ طورپر صرف ہمارے مشن کے تحت شائع شدہ کتابوں پر منطبق ہوتا ہے۔ کوئی دوسرا شخص یا ادارہ اِس معاملے میں، دعوے دار کے درجے میں بھی اس میں شریک نہیں۔
جدید تہذیب کی طرف سے جو فکری چیلنج پیدا ہوا، اس کا تعلق تمام مذاہب سے تھا۔ اِس صورتِ حال کے پیدا ہونے کے بعد دورِ جدید میں کچھ نمایاں افراد پیدا ہوئے جنھوں نے اپنے عقیدہ یا اپنے مذہب کو ماڈرن معیار پر پیش کرنے کا کام کیا۔
مثال کے طور پر ڈاکٹر رادھا کرشنن (وفات1975 ) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ وہ ہندوازم (Hinduism)پر گہرا عقیدہ رکھتے تھے۔ انھوں نے ہندو ازم کو جدید معیار پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اِس سلسلے میں ان کی دو کتابوں کے نام یہ ہیں
1. A Source Book in Indian Philosophy, 1957
2. Recovery of Faith, 1956
ڈاکٹر رادھا کرشنن موجودہ زمانے کے نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے، تاہم یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنے مقصد میں زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوںنے جس مقدمے کی پیروی کی، وہ مقدمہ اپنے آپ میں کم زور تھا۔ اور جو مقدمہ اپنے آپ میں کمزور ہو، کوئی بڑے سے بڑا وکیل بھی اس کو مضبوط نہیں بنا سکتا۔
1938 سے 1947 تک دس سال کا زمانہ میری زندگی میں بہت اہم زمانہ تھا۔اِس زمانے میں میرا دماغ افکار ونظریات کے اعتبار سے گویا کہ ایک میلٹنگ پاٹ (melting pot) بنا ہوا تھا۔ اُس زمانے میں پورے عالم اسلام میں مسلمانوں کے حال اور مستقبل کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی تھی۔ ہرتحریر اور ہر تقریر میں اِسی کا چرچا ہوتا تھا۔ فطری طورپر میرا ذہن مختلف خیالات کی آماج گاہ بنا ہوا تھا۔
انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اوّل میں پوری مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر فکری سرگرمیاں جاری تھیں۔ بہ ظاہر اِن سرگرمیوں کے مختلف دھارے تھے، لیکن ایک چیز سب میں مشترک تھی، وہ یہ کہ یہ مختلف قسم کی سرگرمیاں اصلاً ردّ عمل کے تحت پیدا ہوئیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، اِس زمانے میں مغربی قوموں نے جدید ذرائع کے بل پر پوری مسلم دنیا میں سیاسی اور تہذیبی غلبہ حاصل کرلیا تھا۔ یہ صورت حال مسلم رہنماؤں کے لیے ناقابلِ قبول تھی۔ چناں چہ ہر ایک اِحیاء (revival) کے نام پر اٹھ کھڑا ہوا۔ اِن سب کا مشترک نشانہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے قدیم دورِ عروج کو دوبارہ جدید تاریخ میں واپس لایا جائے۔
مسلمانوںکے اندر اگر یہ سرگرمیاں مثبت ذہن کے تحت پیدا ہوئی ہوتیں، تو ان کا ماڈل زمانۂ رسالت ہوتا۔ اِس ابتدائی ماڈل کی پیروی میں وہ دعوت الی اللہ کو اپنا نشانہ بناتے۔ لیکن اِن سرگرمیوں کا سرچشمہ چوں کی منفی رد عمل تھا، اِس لیے عملاً بعد کو قائم ہونے والا دورِ تاریخ لو گوں کا ماڈل بن گیا۔ لوگ عباسی سلطنت، اور عثمانی سلطنت، اور مغل سلطنت کے زمانے کو دوبارہ واپس لانے کے نشانے کے تحت، سرگرمِ عمل ہوگئے۔ اِن سرگرمیوں کے دو بڑے دھارے تھے— احیائِ خلافت، اور احیائِ جہاد۔
اِن دونوں دھاروں کے تحت بیسویں صدی عیسوی میں غیر معمولی کوششیں کی گئیں، لیکن اپنے مطلوب نشانے کے اعتبار سے یہ کوششیں مکمل طورپر ناکام رہیں۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ یہ لوگ صرف دورِ قدیم کی مسلم تاریخ کو جانتے تھے، اور اِسی قدیم ماڈل کو دوبارہ واپس لانے کے لیے وہ سرگرمِ عمل ہوگئے۔ وہ اِس حقیقت سے بے خبر تھے کہ کامیابی کے لیے دوسری ضروری چیز جو مطلوب ہے، وہ رعایت زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں کام کے طریقے پوری طرح بدل چکے تھے۔ یہ لوگ اپنی بے خبری کی بنا پر اِس تبدیلی کی رعایت نہ کرسکے، اِس لیے وہ اپنے مطلوب نشانے کو حاصل کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہے۔
دوسرا فکری دھاراوہ تھا جس کا کہنا یہ تھا کہ اسلام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ اسلام کواس کی مطلوب اہمیت حاصل نہ ہوسکے گی۔ اِس نقطۂ نظر کے حامل ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے لکھا تھا کہ — آج ضرورت ہے کہ قرآن دوبارہ نازل ہو
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The Quran has to be re-revealed today.
اِس دوسرے فکری دھارے کو امت میں قبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ یہ لوگ صرف ایک قسم کا مبتدعانہ گروہ بن کر رہ گئے۔ اِس کا سبب میرے نزدیک یہ ہے کہ جن افراد نے اِس دوسرے دھارے کی نمائندگی کی، وہ اپنے مشن کے لیے پوری طرح اہل (competent) نہ تھے۔ اُن کامدعا اصلاً غلط نہ تھا، لیکن وہ طاقت ور انداز میں اس کی درست نمائندگی نہ کرسکے۔ اِس بنا پر وہ اپنے اصل مقصد، دورِ جدید کے اعتبار سے امت کو رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔
راقم الحروف نے اللہ کی توفیق سے، اسلام کی دعوت کو اپنا موضوع بنایا۔ اِس سلسلے میں میں نے وسیع مطالعے کے ذریعے اسلام اور جدید تحدّیات (modern challenges) کو سمجھنے کی کوشش کی۔ میں نے پایا کہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں میں عام تاثر یہ ہے کہ اسلام جدید دور میں غیر متعلق (irrelevant) ہوگیا ہے۔ اسلام کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ جدید ذہن کو ایڈریس کرسکے۔ موجودہ زمانے میں مسلم مصنفین نے جو کتابیں لکھی ہیں، وہ تقریباً سب کی سب قدیم روایتی اسلوب میں ہیں۔ اِس قسم کی کتابیں جدید تحدیات کا جواب نہیں بن سکتیں۔ یہ کتابیں آج کے ذہن کو اسلام کی صداقت پر مطمئن کرنے کے لیے یقینی طور پر ناکافی ہیں۔
اِس معاملے کا موضوعی مطالعہ (objective study) کرنے کے بعد میں نے یہ پایا کہ جدید دور کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ روایتی ذہنی فریم ورک اب ٹوٹ گیا ہے۔ آج کے انسان کا ذہنی فریم ورک اُس سے بالکل مختلف ہے جو قدیم زمانے کے انسان کا ہوا کرتا تھا۔ ماڈرن افکار کو سمجھنے کے لیے میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ اِن میں سے کچھ کتابوں کے نام یہ ہیں
1. Thomas Paine, The Age of Reason (1994)
2. J.F. West, The Great Intellectual Revolution (1965)
3. Julian Huxley, Religion without Revelation (1927)
4. A.A.A. Faizi, A Modern Approach to Islam (1963)
5. Philip Hodgkiss, The Making of the Modern Mind (2001)
6. John Herman Randall, The Making of the Modern Mind (1926)
7. Brinton Corone, The Shaping of the Modern Mind (1953)
8. W. T. Stace, Religion and the Modern Mind (1952)
کامیاب دعوت وہ ہے جو مخاطب کے مائنڈ کو ایڈریس کرے۔ موجودہ زمانے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ قدیم روایتی لٹریچر جدید ذہن کو ایڈریس کرنے میں کامیاب نہیں ہورہا ہے۔ گویا کہ آج داعی اور مدعو کے درمیان ایک فکری بُعد(intellectual gap) پیدا ہوگیا ہے۔ اِس لیے اسلامی دعوت کے سلسلے میں پہلا ضروری کام یہ ہے کہ اِس فکری بُعد کو ختم کیا جائے تاکہ اسلام آج کے انسان کے لیے قابلِ فہم (understandable) اور قابلِ قبول (acceptable) بن سکے۔
اِس معاملے میں، میں نے اپنے مطالعے کے ذریعے جانا کہ اِس اعتبار سے جو مسئلہ پیدا ہوا ہے، وہ بنیادی طورپر یہ ہے کہ لمبے فکری عمل کے بعد آج کے انسان کا ذہنی شاکلہ (framework) بدل گیاہے۔ یہ تبدیلی بنیادی طور پر دو چیزوں میں ہوئی ہے
1 - روایتی معیار کی جگہ سائنسی معیار کا ظہور میں آنا۔
2 - حاکمانہ معیار کے بجائے جمہوری معیار کا رواج۔
میں نے اپنے مطالعے کے د وران پایا کہ موجودہ زمانے میں مسلم مصنفین کا پیدا کردہ جو لٹریچر ہے، وہ جدید سائنٹفک معیار پر پورا نہیں اترتا۔ موجودہ دست یاب لٹریچر روایتی زبان میں لکھا گیا ہے۔ وہ اُس سائنٹفک زبان میں نہیں لکھا گیا ہے جو موجودہ زمانے میں قبولیت کا درجہ حاصل کئے ہوئے ہے۔ اِس طرح، کتاب اور قاری کے درمیان جو ذہنی بُعد (intellectual gap) پیدا ہوگیا ہے، اس کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ لٹریچر جدید ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا۔
یہی معاملہ دوسرے پہلو کا ہے۔ مسلمانوں کا موجودہ ذہن، قدیم بادشاہی نظام کے تحت بنا ہے، اِس لیے وہ اسلام کو جمہوری انداز میں پیش کرنے سے عاجز رہ گئے۔ چناں چہ اِن مسلمانوں کی باتیں اُس جدید ذہن کو اپیل نہیں کرتیں جو چیزوں کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہے، جب کہ وہ جمہوری انداز میں پیش کی گئی ہوں۔ مثلاً خلافت کا روایتی تصور قدیم شاہی ذہن کے لیے تو قابلِ تصور تھا، لیکن جدید جمہوری ذہن کے لیے وہ قابل فہم نہیں۔ اِسی طرح توہینِ اسلام کے نام پر قتل کی سزا دینا جدید ذہن کے لیے ناقابلِ فہم ہے، کیوں کہ جدید ذہن اِس طرح کی ’’گستاخی‘‘ کے تصور سے نا آشنا ہے۔ وہ صرف یہ جانتاہے کہ اظہارِ خیال کی آزادی (freedom of expression) انسان کا ایک ایسا حق ہے جس کو کسی بھی عذر کی بنا پر منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔
یہی معاملہ مسلّح جہاد (armed struggle) کا ہے۔ موجودہ زمانے میں صرف پُرامن جدوجہد (peaceful struggle) کو قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔حق کے حصول کے لیے پُرامن جدوجہد پوری طرح درست ہے، لیکن مسلح جدوجہد کسی بھی حال میں درست نہیں۔اِن اسباب کی بنا پر آج کے انسان کو وہ لٹریچر اپیل نہیں کرتا جو جمہوریت کی شرطوں پر پورا نہ اترتا ہو۔
لٹریچر کے اعتبار سے اسلامی تاریخ کے تین بڑے دور ہیں۔ پہلا دور، رسالت اور صحابہ کا دور ہے۔ یہ دور ساتویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس دور میں اسلام کا مستند (authentic)یا کلاسکل لٹریچر (classical literature) وجود میں آیا۔ یہ لٹریچر عربی زبان میں ہے، اور قرآن اور حدیث اور سیرتِ رسول اور سیرتِ صحابہ پر مشتمل ہے۔
دوسرا دور وہ ہے جو عباسی سلطنت کے زمانے میں شروع ہوا اور عثمانی سلطنت اور مغل سلطنت کے زمانے تک جاری رہا۔ یہ دور آٹھویں صدی عیسوی سے لے کر اٹھارھویں صدی عیسوی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہی وہ دور ہے جس میں اسلام کے مختلف پہلوؤں پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئیں، جو آج اسلامی کتب خانے کا تاریخی حصہ ہیں۔ یہ تمام کتابیں قبل از سائنس دور (pre-scientific era) میں لکھی گئیں۔ چناں چہ یہ کتابیں قدیم روایتی اسلوب میں ہیں، نہ کہ جدید سائنسی اسلوب میں۔
تیسرا دور وہ ہے جو مغرب کے نو آبادیاتی نظام کے زمانے میں ظہور میںآیا۔ یہ دور انیسویں صدی عیسوی اور بیسویں صدی عیسوی کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس تیسرے دور میں پرنٹنگ پریس وجود میں آچکا تھا اور کاغذ سازی کی جدید صنعت قائم ہوچکی تھی۔ چناں چہ اِس زمانے میں ہزاروں کی تعداد میں اسلامی تعلیمات کے بارے میں کتابیں لکھی اور چھاپی گئیں۔ یہ کتابیں عربی کے علاوہ دوسری مختلف زبانوں میں تھیں۔
مگر تیسرے دور کی کتابیں بھی عملاً دوسرے دور کی کتابوں کا امتداد (extention)بن گئیں، یعنی تحریر اور استدلال کا جو روایتی اسلوب دوسرے دور میں قائم ہوا، وہی بڑی حد تک، تیسرے دور میں بھی جاری رہا۔ تیسرا دور تحریر اور استدلال کے اسلوب کے اعتبار سے وہ دور تھا جس کو سائنسی دور کہاجاتا ہے، مگر تیسرے دور کی کتابیں بھی عملاً دوسرے دور کی کتابوں میں اضافے کے ہم معنی بن گئیں۔ صرف اِس فرق کے ساتھ کہ دوسرے دور میں تیار کی ہوئی کتابیں قلمی کتابیں ہوا کرتی تھیں، جب کہ تیسرے دور کی کتابیں مطبوعہ کتابوں کی صورت میں سامنے آئیں۔
شاہ ولی اللہ دہلوی اٹھارھویں صدی عیسوی کے مشہور عالم ہیں۔ ان کی وفات 1762 میں ہوئی۔ اسلامی عقلیات کے موضوع پر ان کی کتاب ’حجۃ اللہ البالغۃ‘ایک اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حجۃ اللہ البالغہ تیسرے دور کے آغاز میں لکھی گئی، مگر وہ پوری طرح روایتی فریم ورک کے مطابق لکھی گئی۔ اِس اعتبار سے وہ دوسرے دور ہی کی ایک تکرار تھی۔
موجودہ زمانے میں اِس موضوع پر جو کتابیں لکھی گئیں، اُن میں سے ایک کتاب الجزائری عالم شیخ محمد حسین الجِسر (وفات1909 ) کی کتاب الرّسالۃ الحمیدیۃ في حقیقۃ الدّیانۃ الإسلامیۃہے۔ اِس کتاب کو مزید اضافے کے ساتھ ان کے صاحب زادے شیخ ندیم حسین الجسر (وفات1980 ) نے شائع کیا ہے۔ اِس دوسری کتاب کا نام یہ ہے قصۃ الإیمان بین الفلسفۃ والعلم والقرآن (1961) ۔ یہ کتاب پوری کی پوری فلسفیانہ پیٹرن پر لکھی گئی ہے، نہ کہ سائنٹفک پیٹرن پر۔ اِس لیے وہ عصرِ حاضر میں اسلام کی ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔
اِس موضوع پر ایک اور کتاب ڈاکٹر محمد اقبال (وفات 1938 ) کی ہے۔ یہ کتاب مصنف کے مختلف خطبات پر مشتمل ہے۔ وہ پہلی بار 1930 میں چھپی تھی۔ اِس کتاب کا نام یہ ہے
The Reconstruction of Religious thought in Islam.
ڈاکٹر اقبال کی یہ کتاب بھی فلسفیانہ پیٹرن پر لکھی گئی ہے،اِس لیے اس کا معاملہ بھی سابقہ کتاب جیسا ہے۔وہ عصرِ حاضر میں اسلام کی دعوتی ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔
میرے علم کے مطابق، غالباً صرف ایک کتاب ہے جو براہِ راست طورپر اِس موضوع سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ کتاب اصلاً فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اِس کتاب کے مصنف فرانس کے ڈاکٹر موریس بکائی (Maurice Bucaille) ہیں۔ یہ کتاب پہلی بار 1975 میں شائع ہوئی۔ اِس کتاب کا نام یہ ہے
The Bible, the Quran, and Science
مگر یہ کتاب بھی اصل ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔ اِس کتاب میں قرآن کے صرف ایک پہلو پر کچھ شواہد پیش کئے گئے ہیں۔ وہ دین اسلام کا سائنسی تعارف نہیں۔ اِس اعتبار سے اِس کتاب کو زیادہ سے زیادہ اسلام کی ایک جُزئی خدمت کہاجاسکتا ہے۔
جیسا کہ عرض کیاگیا، راقم الحروف نے عصری اسلوب میں اسلام کے تعارف کواپنا خصوصی موضوع بنایا۔ میری تمام کتابیں، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، اِسی موضوع سے متعلق ہیں۔ میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی پوری زندگی اسی کا م پر وقف کردی۔ میرے نزدیک اِس موضوع کے بنیادی طورپر دو پہلو ہیں— سائنسی اسلوب میں اسلامی تعلیمات کی تبیین، جدید علمی دریافتوں کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کو مدلّل انداز میں پیش کرنا۔
مثال کے طورپر، ’تذکیر القرآن‘ اور ’مطالعۂ سیرت‘ پہلی قسم کی کتب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور ’مذہب اور جدید چیلنج‘ اور ’عقلیات اسلام‘ کو دوسری نوعیت کی کتابوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ میری تقریباً تمام کتابیں براہِ راست یا بالواسطہ طورپر اِنھیں دونوں پہلوؤں کی مثالیں ہیں۔
سائنٹفک اسلوب کیا ہے، اس کو ایک لفظ میں، مبنی برحقیقت اسلوب کہا جاسکتا ہے، یعنی حقیقت نگاری کا اسلوب۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں تصنیف وتالیف کا رواج بہت زیادہ بڑھا اور کثیر تعداد میں کتابیں شائع ہوئیں، لیکن یہ تمام کتابیں قدیم روایتی اسلوب میں تھیں۔ قدیم روایتی اسلوب میں مسجّع اورمقفّیٰ (rhymed)عبارتیں، تمثیلی استدلال، خطیبانہ نثر، انشائیہ اسلوب، شاعرانہ اندازِ تحریر اور ادبی طرزِ نگارش کا رواج تھا۔ یہی اسلوب موجودہ زمانے میں بھی کم وبیش جاری رہا۔
جدید دور میں سائنس کے زیر اثر مذکورہ اسالیب متروک ہوگئے۔ جدید سائنس، حقائق کے مطالعے کا نام تھی، اِس لیے یہی اسلوب دیگر تصنیفی شعبوں میں بھی رائج ہوگیا۔ اِس اسلوب کو ترتیب حقائق (arrangement of facts) کہاجاسکتا ہے۔ مثال کے طورپر موجودہ زمانے میں برٹرینڈ رسل کی کتابیں اِسی سائنٹفک اسلوب کا ایک نمونہ ہیں۔ راقم الحروف نے اِسی اسلوب کو اسلام کے تعارف کے لیے اپنایا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جہاں تک سائنٹفک اسلوب کے دوسرے پہلو کی بات ہے، یعنی اسلام کی توضیح وتفہیم میں سائنسی دلائل کو استعمال کرنا، اس کو دوسرے لفظوں میں، اسلام کا جدید علم کلام (modern theology) بھی کہا جاسکتاہے۔ قدیم علم کلام، روایتی استدلال اور یونانی منطق پر قائم تھا۔ جدید علم کلام وہ ہے جو سائنسی استدلال پر قائم ہو۔ سائنسی استدلال سے مراد ہے— جدید دریافت شدہ حقائق کی روشنی میں اسلام کے عقائد کو مدلل کرنا۔
راقم الحروف نے اِس اعتبار سے متعدد کتابیں تیار کیں۔ اِن میں سے ایک کتاب وہ ہے جس کا اردو ٹائٹل ’مذہب اور جدید چیلنج‘ ہے۔ وہ مختلف ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں شائع ہوچکی ہے۔ عربی زبان میں اس کا ٹائٹل ’الاسلام یتحدّی ‘ہے۔ اور انگریزی زبان میں اس کا ٹائٹل گاڈ ارائز ز (God Arises) ہے۔
سائنس کی جدید دریافتوں کی بنیاد پر کلامیاتی استدلال کی ایک مثال وہ ہے جس کو ضابطۂ ناکارگی (Law of entropy) کہاجاتا ہے۔ اِس دریافت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادّی کائنات ازلی نہیں ہوسکتی۔ قدیم یونانی فلاسفہ مادّہ (matter) کو قدیم مانتے تھے۔ اس کے زیر اثر مسلم فلسفی ابن رُشد (وفات1198 ء) نے مادّہ کو قدیم مان لیا۔ مگر مادّہ کی قدامت کانظریہ اسلامی عقیدے سے ٹکراتا ہے۔ کیوں کہ اِس کے مطابق، خدا اور مادّہ دونوں قدیم ہوجاتے ہیں، جب کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق، خدا قدیم اور ازلی ہے، اور مادّہ بعد کی تخلیق۔ یہ جدید دریافت اسلامی عقیدے کے حق میں سائنسی تصدیق (scientific affirmation) کی حیثیت رکھتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ضابطۂ ناکارگی کے قانون کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’مذہب اور جدید چیلنج‘ کے باب ’’کائنات میں خدا کی گواہی‘‘ کے تحت دیکھا جاسکتا ہے۔ (صفحہ 55 ) ۔
اوپر کی بات نظریاتی اعتبار سے ذہنی فریم ورک سے تعلق رکھتی ہے۔ اب اِس معاملے کے دوسرے پہلو کو لیجئے، یعنی وہ مسئلہ جس کو عملی فریم ورک کہاجاسکتا ہے۔ اِس دوسرے معاملے میں مسلمان موجودہ زمانے میں اتنے اجنبی ہوگئے ہیں کہ موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ لوگوں کو وہ آج کی دنیا کے لیے ناموزوں (misfit) نظر آتے ہیں۔
اس کا سبب کیا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق، اِس کا سبب دوبارہ یہ ہے کہ اِس معاملے میں بھی دوسرے دور کا فریم ورک تیسرے دور میں بھی بدستور جاری رہا۔ حالاں کہ تیسرے دور میں ضرورت تھی کہ اِس پہلو سے قدیم ڈھانچے پر نظر ثانی کی جائے اور اس کو جدید مسلّم ڈھانچے کے مطابق بنایا جائے۔ اِس نظر ثانی کا تعلق عقائد میں نظر ثانی سے نہیں ہے، بلکہ منہاج (method) میں نظر ثانی سے ہے۔
عقائد ہمیشہ ابدی ہوتے ہیں، ان میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ مگر منہاج (method) کا تعلق حالات سے ہے۔ فقہ کا مسلّمہ اصول اسی منہاج کے پہلو سے ہے۔ وہ فقہی اصول یہ ہے کہ تتغیر الأحکام بتغیّر الزمان والمکان (زمان اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں)۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بار بار مخالف گروپ کی طرف سے قتال کا چیلنج پیش آیا، مگر آپ نے اس کے جواب میں مختلف رویہ اختیار کیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثال کے طورپر مکی حالات میں آپ نے ہجرت کا طریقہ اختیار فرمایا، یعنی ٹکراؤ کے مقام کو چھوڑ دینا۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر آپ نے خندق (trench) کا طریقہ اپنایا، یعنی اپنے اور مخالف کے درمیان ایک حاجز (buffer) قائم کردینا۔ اِسی طرح حدیبیہ کے موقع پر آپ نے ٹکراؤ سے اعراض کرنے کے لیے فریقِ مخالف کی یک طرفہ شرطوں کو قبول کرتے ہوئے اُن سے صلح کرلی، وغیرہ۔
جمہوریت (democracy)کا تعلق عملی معاملات سے ہے۔ اور اجتماعی نوعیت کے مشترک معاملات میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ اِس طرح کے معاملات میں جو صورتِ حال پیش آتی ہے، وہ نہ خیرِ مطلق ہوتی ہے اور نہ شرِ مطلق، بلکہ اُن میں دونوں قسم کے پہلو شامل رہتے ہیں۔ اِس لیے اِس طرح کے کسی معاملے کو آئڈیل کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے، بلکہ عملی افادیت کے نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ اِس طرح کے کسی معاملے میں بہترین اصول یہ ہے کہ — مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو
Ignore the problems, avail the opportunities.
موجودہ زمانے میں مسلم رہنماؤں نے قربانی کی حد تک غیر معمولی سرگرمیاں دکھائیں، لیکن اِن سرگرمیوں کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیںہوا۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ رہنما اپنی سرگرمیوں میں مذکورہ حکمت کو ملحوظ نہ رکھ سکے۔ وہ ہر جگہ مسائل سے ٹکراتے رہے، اور مبنی بر مواقع منصوبہ بندی (opportunity-based planning) کا طریقہ اختیار کرنے میں ناکام رہے۔
پچھلے دو سوسال کے درمیان مسلم دنیا میں جو سرگرمیاں جاری رہی ہیں، ان کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ اِس پوری مدت میں مسلم رہنما ٹکراؤ کے اصول پر عمل کرتے رہے۔ ہر مقام پر انھوں نے ایک مسئلہ (problem) دریافت کیا اور اِس پرابلم سے ٹکرانے میں اپنی ساری طاقت صرف کردی۔ اُن کی سوچ یہ تھی کہ جب تک یہ پرابلم ختم نہ ہو، اُس وقت تک کوئی مثبت کام نہیں کیا جاسکتا— کہیں یہودی پرابلم، کہیں برٹش پرابلم، کہیں امریکن پرابلم، کہیں نو آبادیاتی پرابلم، کہیں ہندو پرابلم، کہیں ظالم حکومت کا پرابلم، کہیں کوئی اور پرابلم، یہی ہر جگہ مسلم رہنماؤں کا نشانۂ عمل بنا رہا۔
اس طریقِ کار کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ وہ خدا کے تخلیقی نقشے کے خلاف تھا۔ خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، موجودہ دنیا میںانسان کو مکمل آزادی عطا فر مائی ہے۔ انسان کو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرنے کا بھی اختیار ہے، اور اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ اپنی خداداد آزادی کو غلط طورپر استعمال کرے۔ انسان کی اِس آزادی کو صرف قیامت منسوخ کرے گی۔ اِس سے پہلے کوئی شخص اس کو منسوخ کرنے کی طاقت نہیںرکھتا۔ موجودہ دنیا کے تمام مسائل اسی انسانی آزادی کے غلط استعمال سے پیدا ہوتے ہیں۔ چوں کہ ہم انسان کی آزادی کو منسوخ نہیں کرسکتے، اِس لیے ہم یہ بھی نہیں کرسکتے کہ اُن چیزوں کو دنیا سے ختم کردیں جن کو ہم اپنے لیے قومی یا سیاسی مسئلہ سمجھتے ہیں۔
خدا کے قائم کردہ اِس تخلیقی نقشے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس دنیا میں ہمارے لیے جو انتخاب (choice) ہے، وہ صحیح (right) اور غلط (wrong) کے درمیان نہیںہے، بلکہ یہ انتخاب چھوٹے شر (lesser evil) اور بڑے شر (greater evil) کے درمیان ہے۔ کسی صورتِ حال میں ہمارے عمل کی منصوبہ بندی اِس تصور کے تحت نہیں ہوسکتی کہ ہم یہ دیکھیں کہ اصولی اعتبار سے درست کیا ہے اور نادرست کیا، اور پھر جو چیز ہمیں اصولی طورپر درست نظر آئے، اس کو حاصل کرنے کے لیے ہم پُرشور جدوجہد شروع کردیں۔ اِس کے بجائے یہ ہونا چاہیے کہ ہم یہ دیکھیں کہ عملی اعتبار سے جو دو انتخاب ہمارے لیے ممکن ہیں، اُن میں سے کون سا انتخاب اَہوَن (easier) ہے اور کون سا غیر اہون (non-easier)۔ اِسی اصول کو فقہ میں اہون البلیّتین کہاجاتا ہے، یعنی دو مصیبتوں میں سے آسان (easier) مصیبت۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ فطرت کا اصول ہے۔ اِس اصول کو اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہر صورت حال میں آدمی کو بلاتاخیر اپنے عمل کے لیے ایک نتیجہ خیز نقطۂ آغاز (starting point) مل جاتا ہے، اور کسی صورتِ حال میں حقیقی نقطۂ آغاز کا ملنا کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ اِس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کسی مزید نقصان میں مبتلا ہوئے بغیر نتیجہ خیز عمل شروع کردیتا ہے اور آخر کار وہ اپنے مطلوب تک پہنچ جاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں حالات مکمل طورپر بدل چکے ہیں۔ اِس لیے ضروری ہے کہ منہاج کے معاملے میں نئے ماڈل کو اختیار کیا جائے۔ یہ ماڈل اصولی طورپر نتیجہ (result) کی بنیاد پر ہوگا، یعنی جو ماڈل اسلام کے لیے بہ اعتبار نتیجہ مفید ہو، اس کو اختیار کرنا اور اُس ماڈل کو چھوڑ دینا جو نتیجے کے اعتبار سے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہونے والا ہو۔
اِس اعتبار سے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ جدید جمہوری ماڈل کو اختیار نہ کرسکے۔ وہ جدید جمہوری نظام میں بھی قدیم حاکمانہ ماڈل پر قائم رہنا چاہتے ہیں، حالاں کہ جدید حالات میں عملاً یہ ممکن ہی نہیں۔ اِس قسم کے اصرار کا نتیجہ صرف دو صورتوں میں برآمد ہوگا۔ یا تو مسلمان ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کریں جو بلاشبہہ خود کشی کے ہم معنیٰ ہے، یا پھر وہ منافق بن جائیں، یعنی اپنی ذہنی سوچ کے اعتبار سے وہ حاکمانہ ماڈل کو اپنائے ہوئے ہوں اور عملی اعتبار سے مصلحت کا انداز اختیار کرکے وہ اپنے مادی مفاد کو بچانے کی کوشش کریں۔
اِس معاملے میں تفصیلی مطالعے کے بعد میں نے کئی کتابیں لکھیں۔ میں نے اپنی کتابوں میں بتایا کہ جمہوری ماڈل اگرچہ بہ ظاہر ایک نیا ماڈل ہے، لیکن اُس میں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ ہم اپنی اسلامی حیثیت کو پوری طرح باقی رکھتے ہوئے جمہوری نظام میں اپنے آپ کو شامل کرسکتے ہیں۔ یہاں میں چند مثالوں کی روشنی میں اس کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔
موجودہ زمانے میں جن چیزوں کی بناپر اسلام کے بارے میں یہ عالمی تاثر قائم ہوگیا ہے کہ اسلام جدید حالات کا ساتھ نہیں دیتا، اسلام جدید دور کے لیے ایک غیر متعلقمذہب ہے۔ یہ تاثر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی قومی روش کی بنا پر قائم ہوا ہے، نہ کہ اسلام کی اصل تعلیمات کی بنا پر۔
1 - مثال کے طورپر موجودہ زمانے کے مسلمانوںکا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے رسول کی شان میں ’’گستاخی‘‘ کو برداشت نہیں کرسکتے۔ اپنے مذہبی عقیدے کی بنا پر ان کے اوپر فرض ہے کہ وہ ایسے انسان کو قتل کرڈالیں۔ مسلمانوں کا یہ نظریہ دورِ جدید کے تصورات سے ٹکراتاہے۔ کیوں کہ موجودہ زمانے کا یہ مسلّمہ ہے کہ ہر شخص کو پُرامن اظہار رائے کی آزادی ہے۔ اِس آزادی کو کسی بھی حال میں ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ مگر یہ ٹکراؤ جدید دور اور مسلم تصورات کے درمیان ہے، نہ کہ جدید دور اور اصل اسلامی تعلیمات کے درمیان۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں بھی اظہارِ خیال کی آزادی اُسی کامل درجے میں دی گئی ہے جس کو جدید دور کی طرف منسوب کیاجاتا ہے۔اِس معاملے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’شتمِ رسول کا مسئلہ‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2 - یہی معاملہ سیکولر ازم کا ہے۔ موجودہ زمانے میں سیکولرازم کو اسٹیٹ پالیسی کا معیاری ماڈل سمجھاجاتاہے۔ مگر موجودہ زمانے کے اسلام پسند مسلم رہ نماؤں نے یہ اعلان کیا کہ سیکولر ازم، اسلام کے سراسر خلاف ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم سیکولر نظام کے خلاف لڑکر اس کا خاتمہ کریں۔ لیکن یہ ٹکراؤ بھی جدید دوراور مسلمانوں کے درمیان ہے، نہ کہ جدید دور اور اسلام کے درمیان۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام خود بھی مشترک سماج کے لیے اُسی طرح سیکولر پالیسی کا حامی ہے، جس طرح جدید دور میں سمجھا جاتاہے۔ اِس مسئلے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’دینِ کامل‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
اسی طرح کا ایک معاملہ وہ ہے جو جمہوریت (democracy) سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ زمانے کے اسلام پسند مسلم لیڈروں نے اعلان کیا کہ جمہوریت ایک غیر اسلامی نظریہ ہے، اِس لیے وہ مسلمانوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف، جدید تعلیم یافتہ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ جمہوریت کا ماڈل سب سے بہتر سیاسی ماڈل ہے۔ مگر یہ ٹکراؤ بھی جدید ذہن اور موجودہ مسلمانوں کے درمیان ہے، نہ کہ جدید ذہن اور اصل اسلام کے درمیان۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام خود بھی سیاسی تنظیم کے لیے جمہوری طریقے کا حامی ہے۔ اسلام میں تھیاکریٹک اسٹیٹ (theocratic state) کا تصور نہیں۔ اسلام مکمل طورپر جمہوری نظام کا قائل ہے، یعنی عوام کی رائے کے مطابق، سیاسی نظام کی تشکیل۔
اِس موضوع کی وضاحت میں نے اپنی مختلف کتابوں میںکی ہے۔ مثلاً ’فکرِ اسلامی‘ اور ’مسائل اجتہاد‘ وغیرہ۔ اِس کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک عقیدہ اور عبادت کا تعلق ہے، اِس معاملے میں اسلام کی تعلیمات مطلق حکم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن جہاں تک اجتماعی نظام کا معاملہ ہے، اس کا کوئی مطلق معیار نہیں۔ اجتماعی نظام کا معاملہ عوام کی اجتماعی صورتِ حال پر منحصر ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ کما تکونون کذلک یؤمّر علیکم (البیہقي، رقم الحدیث6896 ) یعنی جیسے تم ہوگے، ویسے ہی تمھارا حکومتی نظام ہوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اجتماعی نظام کے معاملے میں اسلام کا اصول اِس پر مبنی ہے کہ عوام یا معاشرہ کی استعدادِ قبولیت کس درجے کی ہے۔ عوام کے اندر جن اجتماعی احکام کی قبولیت کی استعداد ہوگی، اُن کو آغاز میں نافذ کیا جائے گا، لیکن جن احکام کی قبولیت کی استعداد عوام کے اندر موجود نہ ہوگی، اُن احکام کی تنفیذ کا آغاز خود قانون کے نفاذ سے نہ ہوگا، بلکہ ذہن سازی کے عمل سے ہوگا۔ اسلام کے اِس اصول کو تدریج کا اصول کہہ سکتے ہیں، یعنی عوام کی استعداد کے مطابق، احکام کا تدریجی نفاذ، نہ کہ ان کا بہ یک وقت نفاذ۔
موجودہ دنیا چوں کہ امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے، اِس لیے یہاںانسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ یہ آزادی خود خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہے، اِس لیے کوئی بھی طاقت اس کو منسوخ نہیں کرسکتی۔ تجربہ ہے کہ انسان زیادہ تر اِس آزادی کا غلط استعمال کرتاہے۔ اِسی بنا پر ایسا ہوا کہ تاریخ میں کبھی معیاری نظام نہ بن سکا، اور نہ آئندہ اِس کا کوئی امکان ہے۔ مومن اور غیر مومن دونوں مجبور ہیں کہ اِس غیر معیاری دنیا میں وہ اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں۔ اِسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ — اِس دنیا میں معیار کبھی حاصل نہیں ہوسکتا
The Ideal can not be achieved in this world.
اِس صورتِ حال کی بنا پر اسلام کا اصول یہ ہے کہ معیار کے حصول کے لیے جنگ نہ کی جائے، بلکہ کسی صورتِ حال میں عملی طور پر جو ممکن ہو، اس کو مان کر اپنی زندگی کا نقشہ بنایا جائے۔ اِس اصول کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو ہر صورتِ حال میں فوراً ہی ایک نقطۂ آغاز (starting point) مل جاتا ہے۔ ہرصورتِ حال میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی فوری طور پر اپنے عمل کا نقشہ بنائے، تاکہ جو کچھ آج قابلِ حصول نہ تھا، وہ مستقبل میں قابلِ حصول ہوجائے۔
راستہ بند ہے
ایک مرتبہ میں بذریعہ روڈ سفر کررہا تھا۔ ہماری گاڑی تیز چلتی ہوئی ایک مقام پر پہنچی تو وہاں سڑک کے بیچ میںایک بورڈ لگا ہوا تھا — راستہ بند ہے
Road Closed
ہماری گاڑی اچانک رک گئی۔ ڈرائیور نے نہایت اطمینان کے ساتھ کہا کہ راستہ آگے کی طرف بند ہے، لیکن پیچھے کی طرف تو راستہ کھلا ہوا ہے۔ ڈرائیور نے صورتِ حال کے خلاف، شکایت یا احتجاج میں ایک منٹ بھی ضائع نہیں کیا۔ اس نے فوراً گاڑی کو موڑا اور دوبارہ پیچھے کی طرف سفر کرنا شروع کردیا۔ کچھ د ور چلنے کے بعد ایک اور سڑک مل گئی۔ ڈرائیور گاڑی کو اِس روڈ پر لے آیا۔ اب ہماری گاڑی دوبارہ تیزی کے ساتھ آگے کی طرف دوڑنے لگی۔ یہاں تک کہ ہم لوگ اپنی منزل پر پہنچ گئے۔
یہی زندگی کے سفر کا معاملہ ہے۔ زندگی کے سفر میں بار بار ایساہوتا ہے کہ کسی مقام پر ایسی رکاوٹ پیش آجاتی ہے، جب کہ آگے کے لیے ہموار سفر ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے موقع پر درست طریقہ صرف ایک ہوتا ہے، وہ یہ کہ آدمی آگے بڑھنے کے لیے اصرار نہ کرے، بلکہ وہ پیچھے کی طرف لوٹ جائے۔ وہ اِس واپسی کو مزید تیاری کے لیے استعمال کرے۔
There is always room at the top.
یہی معاملہ انسانی سفر کا بھی ہے۔ انسانی سفر میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ پیچھے کی طرف راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے
There is always a way back.
اِس طرح ہر لمحہ فرد یا قوم کی دانش مندی کا امتحان ہوتا ہے۔ جولوگ اِس دانش مندی میں پورے اتریں، وہی لوگ اِس دنیا میں بڑی کامیابی حاصل کریں گے۔
شکایت کے بجائے اصلاح
ایک مسلمان تاجر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ہندستانی مسلمانوں کے پچھڑے پن کی شکایت کی۔ میں نے پوچھا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اِس کا سبب امتیاز (discrimination)ہے۔ انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ ہر شعبے میں امتیاز برتا جاتا ہے، اِسی لیے وہ ابھی تک ترقی نہ کرسکے۔ میں نے پوچھا کہ آپ ایک تاجر ہیں، لیکن آپ کے یہاں جتنے کارکُن ہیں، وہ سب ہندو ہیں، مسلمان نہیں۔ میںنے پوچھا کہ پھر آپ خود مسلمانوں کے ساتھ کیوں امتیاز برتتے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ اِس کا سبب یہ ہے کہ ہندوؤں میں پروفیشنل ازم (professionalism) ہے، جب کہ مسلمانوں کے اندر پروفیشنل ازم نہیں ہے۔ میںنے کہا کہ مسلمانوں کی جس کمی کی بنا پر، آپ مسلمانوں کے ساتھ ’’امتیاز‘‘ برتتے ہیں، اُسی کمی کی بنا پر اگر دوسرے لوگ مسلمانوں کے ساتھ امتیاز برتیں تو آپ کو شکایت کا کیا حق۔
میں نے کہا کہ آپ دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے یہ کیجئے کہ مسلمانوں کی خود اپنی کمی کو دور کیجئے، اِس کے بعد یہ مسئلہ اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔ انھوںنے کہا کہ اِس کی صورت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سوچ کو درست کرنے کا معاملہ ہے۔ آپ صرف یہ کیجئے کہ تعمیر فکر کے موضوع پر ہماری پانچ کتابیں بڑی تعداد میں خرید کر مسلمانوں میں پھیلادیجئے۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ ان شاء اللہ مسلمانوں کی حالت بدل گئی ہے۔ وہ پانچ کتابیں یہ ہیں— رازِ حیات، رہنمائے حیات، تعمیر ِ حیات، حکمتِ اسلام، کتابِ زندگی۔
مقابلے کی اِس دنیا میں کامیابی اور ناکامی دونوں کا تعلق آدمی کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ لیاقت (competance) کا ثبوت دینے والا آدمی اِس دنیا میں کامیاب ہوتا ہے۔ مگر جو شخص لیاقت کا ثبوت نہ دے سکے، اس کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ اِس دنیا میں ناکام ہو کر رہ جائے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہیے کہ وہ شکایتِ غیر میں وقت ضائع نہ کرے، بلکہ وہ ہمہ تن تعمیر ِ خویش میں لگ جائے۔
گھر آگے، میں پیچھے
ایک صاحب کے پاس پہلے رہنے کے لیے چھوٹا گھر تھا۔ بعد کو ان کے حالات بہتر ہوئے اور انھوں نے شہر میں ایک بڑا گھر خرید لیا۔ یہ گھر سڑک کے کنارے تھا اور اپنی تعمیر کے اعتبار سے شان دار دکھائی دیتا تھا۔ اُسی زمانے میں ایک پروگرام کے تحت میں اُس شہر میں گیا۔ مذکورہ صاحب مجھے اپنے گھر لے گئے۔ گھر کے اندر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب سے میں نے یہ بڑا گھر لیا ہے، یہ گھر میرے آگے چلتا ہے اور میں اُ س کے پیچھے چلتا ہوں۔ اب جو شخص بھی یہاں آتا ہے، وہ صرف گھر کے بارے میں بات کرتا رہتا ہے۔ اب آنے والا کوئی شخص مجھ سے کسی اور موضوع پر بات نہیں کرتا۔
یہ صرف ایک گھر کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ اِس قسم کے ہر معاملے کی بات ہے۔ کوئی مشن، جب معمولی مکان میں ہو تو اُس وقت لوگ صرف مشن کی بات کرتے ہیں اور جب اس کی شان دار بلڈنگ بن جائے تو بلڈنگ اولین (primary) اہمیت حاصل کرلیتی ہے اور مشن کی حیثیت ثانوی (secondary) ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایک سادہ مسجد ہو تو لوگ اس کے اندر متقیانہ نماز پڑھتے ہیں، اور جب ایک شاندار قسم کی ائرکنڈیشنڈ مسجد بن جائے تو وہاں تقویٰ کا ماحول ختم ہوجاتا ہے۔ اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر اقبال نے بجا طورپر کہا تھا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں ناخوش وبے زار ہوں مرمر کی سِلوں سے میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو
مجھے ایک مدرسے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ پہلے یہ مدرسہ ایک معمولی عمارت میں قائم تھا۔ اب اس کے رقبے میں کافی توسیع ہوئی ہے اور وہاں بڑی بڑی پختہ عمارتیں بن گئی ہیں۔ میں نے وہاں کے ایک سینئر استاذ سے کہا کہ آپ کے مدرسے نے ماشاء اللہ کافی ترقی کی ہے۔ انھوں نے جواب دیا ہاں، مادّی ترقی تو ہوئی ہے، لیکن پہلے یہاں جو معنویت نظر آتی ہے، اب اس کا خاتمہ ہوگیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی وجہ کہ اسلام میں سادگی پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ سادگی اور اسلام دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جہاں سادگی ہے، وہاں اسلام ہے اور جہاں سادگی نہیں، وہاں اسلام بھی نہیں۔
سوال وجواب
دعوتی کام کے دوران بعض لوگوں کی طرف سے مختلف قسم کے سوالات آتے ہیں۔ یہاں اِس طرح کے چند سوالات درج کئے جاتے ہیں۔ براہِ کرم، ان کا جواب دے کر ممنون فرمائیں (حافظ ابوالحکم محمد دانیال، بی ایس سی، پٹنہ، بہار)
سوال دعوت الی اللہ کے کام کی موثر انجام دہی کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں۔ قولی شہادت اور عملی شہادت، یعنی دعوت کے نکات کا نظری بیان (theoratical statement) اور دعوت کے نکات کا عملی مظاہرہ(practical demonstration) ۔ کسی دعوتی مہم میں جب تک ایسا نہ کیا جائے کہ قولی شہادت کے ساتھ عملی شہادت کو جمع کردیا جائے، اُس وقت تک وہ دعوت مکمل دعوت نہ ہوگی اور اُس سے اتمامِ حجت کا فائدہ حاصل نہ ہوسکے گا۔
جواب قرآن کے مطابق، دعوت الی اللہ کا کام اصلاً انذار وتبشیر (4: 165) کا کام ہے۔ انذار وتبشیر کا یہ کام ہمیشہ قول کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ تمام انبیا، بشمول خاتم الانبیا نے قول کی سطح پر دعوت کا کام انجام دیا اور اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دعوت الی اللہ کے نکات کیا ہیں۔ وہ نکات ہیں— توحید، وحی، ملائکہ، محاسبۂ آخرت، جنت، دوزخ، وغیرہ۔ یہی دعوت کے اصل نکات ہیں، اور یہ سب کے سب امورِ غیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان نکات کو مشہود بنانا یا اُن کا عملی مظاہرہ (practical demonstration) کرنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ ایسی حالت میں عملی شہادت کو دعوت کا جز بنانا تکلیف مالا یطاق کے ہم معنی ہے، یعنی داعی پر ایک ایسے کام کی ذمہ داری ڈالنا جو عملاً اس کے لیے ممکن ہی نہیں۔
سوال حدیث میں آتا ہے کہ الأئمۃ من قریش(مصنف ابن أبی شیبۃ، رقم 31710 ) یعنی امام قریش میں سے ہوں گے۔ اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیادت کا کام قریش کا کام ہے۔ اِس میں دعوت الی اللہ کے کام کا استثنا نہیں۔ اِس حدیث کے مطابق، ہمارا پہلا کام یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے کام کو انجام دینے کے لیے ہم ایک قریشی گائڈ مقرر کریں اور اس کی ماتحتی میں دعوت الی اللہ کا کام کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جواب مذکورہ حدیث کا یہ مطلب لینا درست نہیں۔یہ حدیث ایک وقتی مصلحت کو بتاتی ہے، وہ کسی عمومی اسلامی حکم کا بیان نہیں۔حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا لا فضل لعربی علی عجمي، ولا لعجمي علی عربي، ولا لأحمر علی أسود، ولا لأسود علی أحمر، إلا بالتقویٰ (مسند أحمد، رقم الحدیث22872 )یعنی نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر اور نہ ہی کسی کالے کو گورے پرکوئی فضیلت ہے، سوا تقویٰ کے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
الأئمۃ من قریش کا اگر وہ مطلب لیا جائے جو سائل نے لیا ہے تو دونوں حدیثوں میں تضاد واقع ہوجائے گا۔ اِس لیے حدیث کا مذکورہ مفہوم لینا درست نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث صرف ایک وقتی مصلحت کو بتاتی ہے، نہ کہ شریعت کے کسی دائمی اصول کو۔ وہ مصلحت یہ ہے کہ سیاسی عہدے کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ایسے شخص کو عہدے دار بنایا جائے جس کے ساتھ قیادت کی روایات شامل ہوں۔ قدیم زمانے میں مخصوص اسباب کی بنا پر قبیلۂ قریش کو عرب میں قیادت کا درجہ مل گیا تھا۔ اُس زمانے کے اہلِ عرب صرف قر یش کی قیادت کو قبول کرسکتے تھے، کسی اور کی قیادت کو نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
الأئمۃ من قریش کی اِس تاویل کی تائید ایک اور روایت سے ہوتی ہے۔ اِس دوسری روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الناس تبع لقریش (صحیح مسلم، رقم الحدیث 1818 ) یعنی اہلِ عرب، قریش کے تابع ہیں۔ قریش کی قیادت کو وہ بہ آسانی قبول کرلیں گے، کسی اور کی قیادت کو قبول کرنا عربوں کے لیے عملاً ممکن نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سوال امت کے مختلف حلقے الگ الگ جو کام کررہے ہیں، اُن سب کو یکساں طور پر درست مانتے ہوئے ان کا اعتراف کرنا چاہئے۔ ہر حلقے کو صرف اپنا کام کرنا چاہیے۔ اُس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ دوسروں کے کام یا اُن کی فکر پر تنقید کرے۔
جواب ہر فرقے کو درست ماننا اور اُس پر تنقید نہ کرنا، یہ کوئی صحیح مسلک نہیں۔ اِس قسم کا مطالبہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ امت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حکم کو عملاً مستقل طورپر منسوخ کردیا جائے۔ صحیح مسلک یہ ہے کہ تنقید کو صرف دلائل پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ عیب جوئی اورالزام تراشی پر۔ جو چیز ممنوع ہے، وہ تشدد ہے۔ تنقیص (عیب جوئی) انفعالی تشدد (passive violence) ہے، اور جارحیت (agression) عملی تشدد (active violence)، اور یہ دونوں قسم کا تشدد اسلام میں حرام ہے۔ اگر تنقید (علمی تحلیل وتجزیہ) کو غلط قرار دیا جائے تو عمر بن عبد العزیز سے لے کر آج تک کے تمام علماء کو غلط قرار دینا پڑے گا، کیوں کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ علمائِ امت کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ جس چیز کو انھوں نے قرآن اور سنت کی روشنی میں غلط سمجھا، اُس کو انھوں نے کھل کر غلط قرار دیا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
سوال دعوت الی اللہ کا کام امت کو ساتھ لے کر ہی ہوسکتا ہے۔ داعی اگر امت کے درمیان خوش نام نہ رہے تو امت اس کا ساتھ نہیں دے گی، اور داعی کو اگر امت کی حمایت حاصل نہ رہے تو دعوت کا کام موثر طور پر انجام دینا ممکن نہیں، اِس لیے داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ امت کے مزاج کی رعایت کرتے ہوئے کام کرے۔ اگر کوئی داعی، امت کے درمیان نیک نام نہ رہے تو جو لوگ ایسے داعی کا ساتھ دیں گے، وہ بھی موثر دعوت کاکام کرنے میں ناکام رہیں گے۔
جواب اِس سوال کے جواب میں، میں دو باتیں کہوں گا — ایک، یہ کہ دعوت کاکام اللہ کا کام ہے۔ وہ صرف اللہ کی نصرت سے انجام پاتا ہے۔ نصرتِ الٰہی کے سوا کوئی اور چیز دعوت الی اللہ کے کام کو کامیابی تک پہنچانے والی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی حمایت پر بھروسہ کرنا اپنی نوعیت کے اعتبار سے شرک کا درجہ رکھتا ہے۔ قرآن میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ دعوت کا کام خدا کی توفیق پر چلتا ہے، نہ کہ کسی غیر خدا کی توفیق پر۔ اِس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کو سرے سے یہ طاقت ہی حاصل نہیں کہ وہ کسی کام کو کامیاب یا ناکام کرسکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کے مطابق، داعی کے اندر جو صفات مطلوب ہیں، وہ صرف دو ہیں— نُصح اور امانت (إني لکم ناصح أمین)۔ نصح کا مطلب یہ ہے کہ داعی کسی بھی قسم کے ذاتی یا قومی مفاد کے بجائے صرف مدعو کی خیر خواہی کے لیے کام کرے۔ امانت کا مطلب یہ ہے کہ داعی اپنی کوئی بات دعوت میں شامل نہ کرے، وہ صرف اُس چیز کا مبلغ بنے جو اللہ نے اپنی کتاب میں بتائی ہے۔ داعی کے لیے کسی اور مصلحت کا اعتبار کرنا، رکون (11: 113) ہے، اور رکون داعی کے لیے صرف ایک غیر مطلوب صفت ہے، وہ کوئی مطلوب صفت نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آج ہم امت کے ما بعد زمانے میں ہیں۔ امت کے ما بعد زمانے کے بارے میں کثرت سے حدیثیں آئی ہیں، جن میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ بعد کے زمانے میں امت عمومی طورپر دینی انحراف کا شکار ہوجائے گی۔ چناں چہ احادیث میں یہ حکم دیاگیا ہے کہ جب امت پر ایسا وقت آجائے تو اُس وقت ضرورت ہوگی کہ امت کے اندر اصلاح اور تجدید کا کام کیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حقیقت کو دوسرے الفاظ میں اِس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ بعد کے زمانے میں امت کی حیثیت بھی دوسرے مدعو گروہوں کی طرح ایک مدعو گروہ کی ہوجائے گی۔ اور یہ واضح ہے کہ جب امت خود ایک مدعو گروہ کی حیثیت اختیار کرلے تو اُس وقت اصل کام ا مت کی حمایت حاصل کرنا نہیں رہتا، بلکہ اصل کام یہ ہوتا ہے کہ امت کو دوبارہ اصل دینِ خداوندی پر لایا جائے۔ انحراف کے اِس مرحلے میں، امت کے مزاج کی رعایت کرنا، امت کی اصلاح کے کام کو معطل کرنے کے ہم معنی ہے جو یقینی طورپر درست نہیں۔
سوال دعوت الی اللہ یہ ہے کہ علمائِ متقدمین کی قدیم اسلامی کتابوں کو لوگوں تک پہنچایا جائے۔ قدیم کتابوں کے ترجمے دوسری زبانوں میں کئے جائیں۔ قدیم کتابیں پہلے بھی دین کی تبیین کے لیے کافی تھیں اور آج بھی وہ دین کی تبیین کے لیے کافی ہیں۔ دعوت الی اللہ کے کام کے لیے ہمیں کسی نئے دعوتی لٹریچر کی ضرورت نہیں۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
جواب دین کی خدمت کے لیے دو قسم کا لٹریچر مطلوب ہے۔ ایک، وہ کتاب جس میں دینی احکام کا بیان ہو۔ دوسری کتابیں وہ ہیں جن کو داعی اپنے معاصر ذہن کو خطاب کرنے کے لیے استعمال کرے۔ جہاں تک پہلی ضرورت کا تعلق ہے، اُس کے لیے قدیم کتب مفید ہیں۔ دین کی اساسی تعلیمات کو جاننے کے لیے علمائِ متقدمین کی کتابیں بلا شبہہ پہلے ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اِس معاملے میں دوسرا کوئی بھی لٹریچر اِن کتابوں کا بدل نہیں بن سکتا۔
مگر دعوت الی اللہ کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ دعوت کے عمل میں صرف یہ مطلوب نہیں ہوتا کہ احکام دین کو اپنی ابتدائی شکل میں بیان کردیا جائے، بلکہ اِس مقصد کے لیے لازمی طور پر یہ ضروری ہوتا ہے کہ مدعو کے ذہن کو سمجھا جائے اور مدعو کے قابلِ فہم اسلوب میں اس کو بیان کیا جائے۔ یہی وہ دعوتی ضرورت ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بتایا گیا ہے وقل لہم فی أنفسہم قولاً بلیغاً (4: 63) یعنی تم اُن سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اتر جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثال کے طورپر مدعو اگر عقلی اور منطقی اسلوب میں بات کو سمجھنا چاہتا ہو تو اس کے لیے تمثیلی اسلوب غیر موثر ہوگا۔ اِس طرح کے کیس میں داعی کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ تمثیلی اسلوب کے بجائے عقلی اور منطقی اسلوب میںاپنی بات کہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ مکمل طورپر ایک بدلا ہوا زمانہ ہے۔ قدیم دور اگر روایتی اسلوب کا دور تھا تو جدید دور سائنٹفک اسلوب کا دور ہے۔ ایسی حالت میں، آج کے انسان کے سامنے موثر طور پر دین کا پیغام پہنچانے کے لیے یقینی طورپر ضروری ہے کہ جدید ذہن کی رعایت سے مثبت لٹریچر تیار کیا جائے ۔ اور اگر کسی نے اِس طرح کالٹریچر تیار کیا ہے تو اُس کو کسی تعصب کے بغیر استعمال کیاجائے۔ اِس معاملے میں اِن دو کے سوا کوئی تیسری صورت ممکن نہیں۔
خبرنامہ اسلامی مرکز— 213
1 - دار المصنفین شبلی اکیڈمی (اعظم گڑھ، یوپی) کی لائبریری کے لیے جون 2011 کے آخری ہفتے میں بذریعہ ڈاک صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ بھیجا گیاہے۔ یہ سیٹ سی پی ایس کی طرف سے، دار المصنفین کے موجودہ صدر ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی کے ایما پر روانہ کیا گیا۔
2 - نئی دہلی کے لودھی گارڈن میں 30 جولائی 2011 کی شام کو اسپریچول آؤٹنگ (Spiritual Outing) کا ایک پروگرام ہوا۔ اس میں سی پی ایس (نئی دہلی) کے علاوہ، کچھ دوسرے مقامات کے لوگ بھی شریک تھے۔ یہاں صدر اسلامی مرکز نے ایک تربیتی تقریر کی۔ خاص طورپر شکر کی اہمیت بتائی گئی۔ مغرب کی باجماعت نماز پر یہ پروگرام ختم ہوا۔
3 - امریکا میں مقیم الرسالہ مشن کے ساتھیوں کے لیے صدر اسلامی مرکز کا ٹیلی فونی خطاب مسلسل جاری ہے۔اِس سلسلے میں 31 جولائی 2011 کو Unity and Dawah کے موضوع پر ایک خطاب ہوا۔ اِس کو ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے امریکا کے مختلف شہروں میں سناگیا۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔
4 - جموں وکشمیر میں جاری امرناتھ یاترا (جولائی، اگست 2011 ) کے دوران سی پی ایس (کشمیر) کی طرف سے یہاں آنے والے یاتریوں کو قرآن کا ہندی، انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر پر دیاگیا۔ نیز کشمیری مسلمانوں کو صدر اسلامی مرکز کا نیا پمفلٹ ’’شاہ ہمدان مشن‘‘ برائے مطالعہ دیاگیا۔
5 - مسٹر اے کے اوستھی (جیلر، سہارن پور) کی دعوت پر سی پی ایس (سہارن پور)کی ٹیم کے ممبران 5 اگست 2011 کو وہاں کی جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے لیے گیے۔ اِس موقع پر اِن لوگوں نے جیل کے اسٹاف اور وہاں کے قیدیوں کو اردو، ہندی اور انگریزی میں قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر برائے مطالعہ پیش کیا۔ مزید یہ کہ ان لوگوں نے جیل میں قیدیوں کے ٹیچر مسٹر انل کمار یادو کے پاس دعوتی میٹریل رکھ دیا، تاکہ وہاں سے مزید لوگوں کو دیاجاسکے۔ مسٹر یادو نے ان کتابوں کو پڑھنے کے بعد ڈاکٹر محمد اسلم خان کو فون کیا۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ ہم جیل میں قیدیوں کی اصلاح کے لیے وقتاً فوقتاً آپ لوگوں کا پروگرام رکھیں گے، اِس سے ہم کو بہت مدد ملے گی۔
6 - انڈونیشین ایمبسی (نئی دہلی) میں دوپروگرام ہوئے — ایک 9 اگست 2011 کو اور دوسرا 18 اگست 2011 کو انڈونیشیا کے نیشنل ڈے کے موقع پر۔ ایمبسی کی دعوت پر سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کے ممبران اِس میں شریک ہوئے۔ اِن پروگراموں میں دنیا کے تمام مسلم اور غیر مسلم ممالک کے ایمبیسڈر اور اعلیٰ سرکاری افسران شامل تھے۔ اِن تمام لوگوں کو سی پی ایس کی طرف سے قرآن کا انگریزی اور دعوتی لٹریچر دیاگیا۔ لوگوں نے اِس کو بہت شوق سے لیا۔ یہاں انڈونیشیا کے ایمبسڈر مسٹر غالب خود اپنے ہاتھ سے مہمانوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ پیش کررہے تھے۔
7 - رمضان 1432 ہجری (اگست 2011 ) میں دہلی اور دہلی سے باہر کے مختلف مقامات پر مسجدوں میں ختمِ قرآن کے موقع پر لوگوںکو قرآن کا اردو اور انگریزی ترجمہ بطور ہدیہ دیاگیا۔ لوگوں نے اِس کو بہت شوق سے لیا۔ اِس سلسلے میں 21 اگست 2011 کو نظام الدین ویسٹ (D-16) کی مسجد میں ختمِ قرآن کے موقع پر مسجد کے متولی مسٹر شکیل احمد اور امام مولانامکرم حسین قاسمی کے تعاون سے کالونی کے لوگوں کو قرآن کا ترجمہ دیاگیا۔ رمضان میں افطار پارٹی اور ختمِ قرآن کا موقع زیادہ سے زیادہ لوگوں تک قرآن پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ہمارے مشن کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اِس موقع کو بھر پور طور استعمال کریں۔ وہ مسجدوں میں جاکر لوگوں کو آمادہ کریں کہ وہ غیر مسلموں کے درمیان قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ پھیلائیں اور مسلمانوں کے درمیان قرآن کا اردو ترجمہ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
8 - نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) کے کمیونٹی سنٹر کی جانب سے اس کے ہال میں 21 اگست 2011 کو افطار پارٹی کا ایک پروگرام ہوا۔ اِس میں نظام الدین ویسٹ کا لونی کے ہندو اور مسلم حضرات شریک ہوئے۔ اِس موقع پر مولانا محمد ذکوان ندوی نے روزہ کی اہمیت پر ایک مختصر تقریر کی۔ یہاں گڈروڈ بکس کی طرف سے حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا۔اس کو کالونی کے لوگوں نے بہت شوق سے لیا۔
9 - دہلی سے امریکا کے لیے صدر اسلامی مرکز کا ایک ٹیلی فونی خطاب 21 اگست 2011 (20 رمضان 1432 ہجری) کی شام کو ہوا۔ یہ آدھ گھنٹے کا خطاب تھا۔ اس کا موضوع تھا— Islam and Peace
خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ یہ پورا پروگرام ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے امریکا کے مختلف شہروں میں سناگیا۔خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔
10 - نئی دہلی کے پرگتی میدان میں 27 اگست تا 4 ستمبر 2011 کے درمیان دلی بک فیر تھا۔ اِس میں گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) نے بھی اپنا اسٹال لگایا۔ یہاں سے لوگوں نے بڑی تعداد میں اسلامی کتابیں اور دعوتی لٹریچر حاصل کیا۔
11 - جموں وکشمیر کے کلا کیندر میں 3-9 ستمبر 2011 کے درمیان نیشنل بک ٹرسٹ کی طرف سے ایک بک فیر لگایا گیا۔ اِس میں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا اسٹال لگایا۔ یہاں یہ واحد اسلامی بک اسٹال تھا۔ اِس کا انتظام گڈورڈ بکس کی طرف سے شاہ عمران حسن نے سنبھالا۔
12 - سی پی ایس (سہارن پور) کی ٹیم کی طرف سے 28 اگست 2011 کو پیس ہال میں افطار کا ایک پروگرام ہوا۔ اِس میں مسلمانوں کے علاوہ، بڑی تعداد میں غیر مسلم حضرات نے شرکت کی۔ مثلاً سوامی دیوانند (ہری دوار)، سوامی بلدیو مہاراج (ہریانہ)، سوامی انل شاشتری (گنگوہ)، ڈاکٹر علم چند (نوئڈا)، وغیرہ۔ افطار سے پہلے ان لوگوں نے روحانیت کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آخر میں ڈاکٹر محمد اسلم خان نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، روزہ اور روحانیت کے موضوع پر خطاب کیا۔ اِس موقع پر تمام حاضرین کو قرآن کے ترجمے اور دعوتی لٹریچر دیاگیا۔
13 - امریکا کے لیے 4 ستمبر2011 کی شام کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ٹیلی فونی خطاب ہوا۔ اِس کو امریکا کے مختلف شہروں میں الرسالہ مشن سے وابستہ افراد نے سنا۔ اس کا موضوع یہ تھا
Spirit of Roza
آدھ گھنٹے کے اِس خطاب میں بتایا گیا کہ روزہ ترکِ طعام نہیں ہے، بلکہ وہ تقلیلِ طعام ہے۔ طعام یہاں علامتی لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہے— تقلیلِ حاجات ، یعنی مادی ضرورتوں میں کمی کرنا، تاکہ ذہنی اور روحانی ارتقا کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت مل سکے۔
14 - ورلڈ اسپریچول پارلیامنٹ (نئی دہلی) کے تحت 5 ستمبر 2011 کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) کے آڈی ٹوریم میں ایک سیمنار ہوا۔ اِس میں سی پی ایس کی ایک ممبر مز عائشہ کو اسپریچول ٹیچر کا نیشنل ایوارڈ دیا گیا۔ اِس موقع پر سی پی ایس کی طرف سے حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی میٹریل دیاگیا۔
15 - سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کے تحت 5 ستمبر 2011 کی شام کو C-29 نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) میں ایک خصوصی تربیتی پروگرام ہوا۔ اِس میں دہلی کے علاوہ، سی پی ایس (بنگلور) کی ٹیم کے ممبران بھی موجود تھے۔ اِس موقع پر صدر اسلامی مرکز نے دعوت الی اللہ کی اہمیت کے موضوع پر 45 منٹ کی ایک تقریر کی۔ اِس تقریر میں ایک بات یہ کہی گئی کہ بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ صدر اسلامی مرکز کے بعد کون سی پی ایس کے دعوتی کام کے تسلسل کو جاری رکھے گا۔ اِس کی وضاحت کرتے ہوئے صدر اسلامی مرکز نے بتایا کہ سی پی ایس اور الرسالہ مشن کی پشت پر ایک طاقت ور لٹریچر موجود ہے۔ میرے بعد ان شاء اللہ یہی دعوتی لٹریچر میری نمائندگی کرے گا۔ خطاب کے بعد مغرب کی نماز ادا کی گئی۔ نماز کے بعد ساتھیوں نے باہم مشورہ کیا۔ اس کے بعد عشا کی نماز باجماعت پر پروگرام ختم ہوا۔
16 - کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو ایک مسیحی تنظیم ہے۔ اس کا صدر دفتر روم (اٹلی) میں ہے۔ اس کے تحت میونک (جرمنی) میں 11-13 ستمبر 2011 کو ایک انٹرنیشنل سیمنار ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا
Bound to Live Together: Religions and Cultures in Dialogue
صدر اسلامی مرکز کو اس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ 6آدمی کے سفر کے انتظامات ہوچکے تھے، لیکن بعض وجوہ سے یہ سفر ممکن نہ ہوسکا۔ منتظمین کی فرمائش کے مطابق، موضوع سے متعلق ایک پیپر بذریعہ ای میل ان کو بھیج دیا گیا۔
17 - پنجاب ہوٹل (سہارن پور) میں 16 ستمبر 2011 کو سی پی ایس سہارن پور کی طرف سے ہوٹل میں ٹھہرنے والے تمام لوگوں کو قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ دیاگیا۔ ہوٹل کے منیجر مسٹر روندر داس گپتا نے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اِس سے لوگوں کے اندر پازیٹیو تھنکنگ پیدا ہوگی اور ان کی سوچ بدلے گی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
18 - امریکا کے لیے 19 ستمبر2011 کی شام کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ٹیلی فونی خطاب ہوا۔ اِس کو امریکا کے مختلف شہروں میں الرسالہ مشن سے وابستہ افراد نے سنا۔ اس کا موضوع یہ تھا
Role of Islam in Building a Peaceful Personality
19 - استنبول (ترکی) میںآنے والے غیر مسلم ٹورسٹس (tourists) کو گڈورڈ بکس (نئی دہلی) اور امام اسماعیل کراکیلے (امام مسجد رستم پاشا، استنبول) کے تعاون سے بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا جارہا ہے۔ آنے والے زائرین اِس کو بہت شوق سے قبول کرتے ہیں۔جو لوگ اس دعوتی کام میں حصہ لینا چاہتے ہیں، وہ براہِ کرم مولانا محمد ذکوان ندوی سے رابطہ قائم کریں 098994 30625
20 - سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کی ٹیم کے ذریعے دہلی اور اطراف دہلی میں دعوت کا کام جاری ہے۔ ستمبر 2011 کے پہلے ہفتے سے ٹیم کے لوگوں نے مسٹر خرم قریشی (پائلٹ ائر انڈیا) کے ساتھ مل کر منظم طورپر عمومی دعوت کا کام شروع کیا ہے۔ ہر ہفتے یہ لوگ کسی مخصوص اجتماعی مقام مثلاً مال (شاپنگ سنٹر)، وغیرہ پر جاتے ہیں اور وہاں لوگوں سے انٹریکشن کے دوران ان کو مطالعے کے لیے دعوتی مٹیریل، خاص طور پر، Creation Plan of God ، Reality of Life اور قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ دیتے ہیں۔
21 - ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) اور انگریزی کے دیگر اخبار اور میگزین میں مسلسل صدر اسلامی مرکز کے مضامین شائع ہورہے ہیں۔ یہ تمام مضامین سی پی ایس انٹرنیشنل کے ویب سائٹ (www.cpsglobal.org) پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہاں ٹائمس آف انڈیا (24 مئی 2011) میں صدر اسلامی مرکز کے شائع شدہ مضمون (Depression As Blessing) پر قارئین کے چند تاثرات نقل کئے جاتے ہیں
ک This is something that has motivated me, also after eons!
(Diwakar Sharma)
ک Thank you so much for publishing this article. I read it in the TOI. It has been really helpful in giving me a ray of hope in life.
(Soujy Sharma)
ک It is very nice. The positive aspect of depression was completely unknown to me. (Soumyadip Roy)
ک Clearly a beautiful perception: that depression can be used as a tool for going towards success. (Arvind Selvam)
other sourceWords of another person or source
ک This article has been very inspiring, especially for me, because I was going through a dark time in my mind. The thoughts here are well explained, rational and have a lot of clarity. (Swaha Pattanaik)
other sourceWords of another person or source
ک Thanks for such a great article. It gives a new dimension to depression. It will certainly help a person cope better with depression. (Sachin Jain)
other sourceWords of another person or source
ک This is certainly an informative write-up, I must say! You have made it clear that the concept of depression should be regarded as a part of success. The unpleasant memories and discontentment do play their part in making one stronger in his decisions; as told, failures are nothing but just mere steps to success. This article is informative and encouraging. (Suhasini Srihari)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ک This article is very clear and very informative for everyone. Persons who are going through a depressed state of mind can learn what to do through this article and how to overcome it. After reading this article they will get mental peace. The writer says that a person can develop better decision making during a depressed state. (Nitesh Bhadauria)
22 - قرآن کے انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر کے متعلق قارئین کے چند تاثرات ملاحظہ ہوں
ک It is the need of the hour to understand the law of the nature & settle for the second best in order to make life peaceful & joyful. During such a period where every one is preaching fundamentalism, it is always surprising for me to hear such a moderate & liberal thought of an Islamic scholar. (A.M.P.Sinha, Roorki, Uttara Khand)
other sourceWords of another person or source
ک I am living in Canada for the last 10 years. Few years back during a visit to Pakistan, I purchase lot of your books and many year wise compilation of Alrisala. I read all those books and Alrisala of the past many years. Your literature has changed my life. The “sabr” and “e‘raaz” has save me from so many big loses that I can imagine. Once I got a chance to have a meeting with a high Canadian official, he was much worried about the Muslim fundamentalist and approach of the entire Muslim world. He asked me about my suggestions I told him that I have only one solution is that Maulana Wahiduddin Khan’s literature may be translated and distributed on large scale both in the Muslim and none Muslim world. Its result will especially will be having great positive effects on the Muslim world. (Jan Muhammad, Vancouver, Canada)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ک Just read some verses in the beginning of Al-Baqarah in PDF format, I felt enlightened with the translation and commentary by Maulana Wahidudin Khan. I will very happy if you would like to send me more than 1 copy, so I will be able to share the Quran with some enthusiast young Muslims, individuals or educational institution, in studying Quran, here in Indonesia. (Rahmad Saleh, Jawa Tengah, Indonesia)
ک I very much appreciate the books by Maulana Wahiduddin Khan that you gave me. They look very good and will be important additions to the collection of books we are gathering in our Center for Interfaith Engagement. Thank you for introducing me to the work and vision of Maulana Wahiduddin Khan. (Ed Martin, Director Center for Interfaith Engagement, Eastern Mennonite University Harrisonburg, Virginia, USA)
ک I have received the books from you. I am out of words - but all I can say is that May Allah bless you with vast rewards with every letter read in every page of every book as long as the books survive and beyond that! Other than that, I do not know what to say to such people like you, people of Janna. (Maggie Amin, Islamic Library, Toronto)
other sourceWords of another person or source
ک To date thanks to Goodword, we have distributed the English Qurans to prisons, to non muslims , and intellectuals and the list goes on. I have many response how this unique publications has benefited the person who came in contact with the Quran.Through our purchased stocks from you we sold thousands of copies through our bookstore at CII Stores. (Ashraf Ali Seedaat, Johannesburg, S. Africa)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ک Dr Gurcharan Singh (Banglore), after going through the pages of “The Reality of Life”, said with moist eyes “Nobody, except one who has experienced highest level of spirituality can express in such a way. This is a great contribution to spirituality. (Dr. Syed Shad Husain, Kashmir)
other sourceWords of another person or source