زندگی کیا ہے۔ زندگی موت کا انتظار ہے۔ پیدا ہوتے ہی انسان کی عمر کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوجاتا ہے۔ کوئی نہیں جانتاکہ کاؤنٹ ڈاؤن کی یہ گنتی کب ختم ہوجائے، اور انسان پر اچانک وہ وقت آجائے جب کہ وہ موجودہ دنیا کو چھوڑ کر ایک اور دنیا میں چلا جائے۔ جہاں ایک طرف وہ ہوگا، اور دوسری طرف اس کا خالق۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:یَوْمَ یَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ (83:6)۔ یعنی جس دن تمام لوگ خداوند ِعالم کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ آج آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا فیصلہ اس کے اپنے اختیار میں ہے۔ لیکن موت کے بعد آنے والی دنیا میں اچانک وہ دریافت کرے گا کہ اس کی زندگی کا فیصلہ اس کے خالق کے اختیار میں ہے۔
ہر انسان کی زندگی کا سب سے زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ آج اس کو کیا کرنا چاہیے کہ کل کے دن جب وہ اپنے آپ کو خالق کے سامنے پائے تو اس کا خالق اس کو ردً (reject) نہ کرے، بلکہ وہ اس کو اپنے پسندیدہ انسان کی حیثیت سے قبول کرلے۔ کامیاب لوگ وہ ہیں، جو موت کے بعد آخرت میں پہنچے تو ان کا حال وہ ہو جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَرَضُوا عَنْہُ (98:8) ۔ یعنی اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہ کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے خالق کے تخلیقی منصوبے (creation plan) کو جانا، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کی۔ اس مقصد کے لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار خدا کی کتاب، قرآن کو پوری یکسوئی کے ساتھ سمجھ کر پڑھے، اور اس مطالعے کے ذریعے وہ اپنی زندگی کےلیے خالق کا مطلوب نقشہ دریافت کرے، اوراس پر اپنے آپ کو ڈھال لے۔ یہی انسان کی کامیابی کا واحد راز ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہُ (98:8)سےبیان کیا گیا ہے۔ یعنی وہ شخص جواپنے آپ کو خالق کے سامنے جواب دہ (accountable)سمجھے۔اس کی زندگی اس احساس کے ساتھ گزرے کہ کل اس کو خالق کے سامنے پیش ہونا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔