Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2020
Al-Risala May 2020

صحیح آغاز

Urdu · 2 min read

اسلامی عمل کا صحیح آغاز یہ ہے کہ اس کا آغاز اللہ رب العالمین کی دریافت سے کیا جائے۔ جب کسی انسان کا حال یہ ہو کہ وہ سچائی کی تلاش میں سرگرداں ہو، اور پھر اس کو سچائی مل جائے تو اس کا کیس یہ ہوتا ہے کہ گویا وہ تاریکی سے روشنی میں آگیا۔ اس کو اپنے کام کےابتدا میں کام کے آغاز کا سرا (starting point) مل گیا۔

ایسا آدمی بھٹکنے والا انسان نہیں ہوگا، بلکہ وہ پانے والا انسان ہوگا۔ اس کا ہر قدم منزل کی طرف اٹھے گا، نہ کہ بے فائدہ بھٹکاؤ کی طرف۔ ایسے آدمی کا آغاز یقین سے ہوگا، نہ کہ شکوک و شبہات کے جنگل سے۔ ایسا آدمی ایک زند ہ انسان ہے۔ ایسا آدمی تخلیقی ذہن (creative mind) کا حامل ہے۔ اس کی ہر صبح امید کی صبح ہوگی، اور اس کی ہر شام نئے نئے سبق لے کر آئے گی۔

خالق کی دریافت ایک مائنڈ باگلنگ (mind boggling) دریافت ہے۔ جس آدمی کو خالق کی دریافت ہوجائے، اس کا ذہن آخری حد تک جاگ اٹھے گا۔ وہ ہر اس چیز کو پالے گا، جس کو پانا چاہیے، اور ہر اس چیز میں الجھنے سے بچ جائے گا، جس میں الجھنے سے بچنا چاہیے۔ اللہ رب العالمین کو پانا، حقیقت کے سرے کو پانا ہے۔ وہ ہر معاملے کا نقطۂ آغاز (starting point) ہے۔ جس آدمی کو اسٹارٹنگ پوائنٹ نہ ملے، اس کا کیس بھٹکنے کا کیس ہے۔ جو آدمی اپنے رب کو پالے، اس نے یقین کے سرچشمے کو پالیا۔ جس آدمی نے اپنے رب کو نہیں پایا۔ اس نے گویا سب سے زیادہ پانے والی چیز ہی کو نہیں پایا۔ ایسے آدمی کے حصے میں اندھیرے میں بھٹکنے کے سوا اور کچھ نہیں۔

خدا کی دریافت کا موقع تمام عورت اور مرد کو ہر لمحہ ملتا رہتا ہے۔ مثلاً ہرصبح جب سورج نکلتا ہے تو وہ انسان کے لیے نئی امیدوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ ہر صبح انسان کے لیے اس طرح آتی ہے کہ وہ سوئے ہوئے انسان کو جگائے، وہ اندھیرے میں بھٹکنے والے انسان کو دوبارہ روشنی کے دروازے پر لاکر کھڑا کردے۔ اگر انسان سنجیدہ ہو تو اس میں وہ اپنے خالق کو دریافت کرے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.