انسان موجودہ دنیا میں پیدا ہوتاہے۔ یہاں وہ اپنے صبح وشام گزارتا ہے۔ مختلف تجربات کے دوران یہاں اس کی زندگی کا سفر جاری رہتا ہے۔ ان تجربات کے ذریعے شعوری یا غیر شعوری طورپر انسان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ یہی موجودہ دنیا حقیقی دنیا ہے۔ اس کے مقابلے میں اس کو محسوس ہوتاہے کہ آخرت کی دنیا غیر حقیقی دنیا ہے۔دونوں دنیاؤں کے درمیان بہ ظاہر اس فرق کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا تفکیری عمل (thinking process) موجودہ دنیا کے لیول پر جاری ہوجاتاہے۔ اس کی سوچ اور اس کی منصوبہ بندی میں عملاً آخرت کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔
یہ انسان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وسیع تر انجام کے اعتبار سے صحیح یہ ہے کہ انسان کے اندر آخرت رخی سوچ (Akhirat-oriented thinking)بنے، نہ کہ دنیا رخی سوچ۔ انسان کو اس معاملے میں بے راہ روی سے بچانے کے لیے فطرت نے یہ انتظام کیا ہے کہ موجودہ دنیا کو دار الکبد (البلد، 90:4)بنا دیا، یعنی مسائل و مشکلات کی دنیا۔ یہ مسائل انسان کے لیے اسپیڈ بریکر (speed breaker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مسائل اس لیے ہیں کہ انسان موجودہ دنیا کو حقیقی دنیا نہ سمجھے، بلکہ آخرت کے اعتبار سےاپنی زندگی کی تعمیر کرے۔
حدیث میں آیا ہے کہ جب بھی کوئی بیمار ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے لیے کہتے تھے:لاَ بَأْسَ، طَہُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّہُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3616) ۔یعنی کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو پُر اسرار طورپر وہ ایک پاکیزہ انسان بن جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ کوئی آدمی اگر بیمار ی یا حادثہ ،وغیرہ کا تجربہ نہ کرے،وہ مکمل طورپر صحت مند ہو،زندگی میں اس کو کسی نقصان کا تجربہ نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس کے اندر شعوری یا غیر شعوری طورپر فخر و ناز کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اُس کاسینہ تواضع کے احساسات سے خالی ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک بے حس انسان بن کر رہ جاتا ہے۔
لیکن جب ایک سچا انسان بیماری یا نقصان میںمبتلا ہوتا ہے تو وہ اپنے عجز کو دریافت کرتاہے۔ اُس کے اندر دردمندی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے بندہ ہونے کی حقیقت کا تجربہ کرتا ہے۔ اس طرح بیماری اُس کو دوسری چیزوں سے دور کرکے اللہ سے قریب کردیتی ہے۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتاہے۔ وہ اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے۔ اُس کے دل سے دعائیں اور التجائیں نکلنے لگتی ہیں۔ بیماری اُس کے لیے اللہ سے قربت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔اس طرح بیماری ایک سنجیدہ انسان کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا معاملہ بن جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کا تمام معاملہ سوچ پر مبنی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کبھی بیماری یا مصیبت پیش آنے پر شکایت یا مایوسی کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو۔ بلکہ جب بھی کوئی ناخوشگوار صورتِ حال پیش آئے تو وہ معتدل ذہن کے ساتھ اس پر غور کرے۔ وہ منفی واقعے میں مثبت واقعہ کو دریافت کرنے کی کو شش کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کو قانونِ فطرت کی تائید حاصل ہوگی۔ وہ منفی واقعے میں مثبت پہلو کو دریافت کرلے گا، اور اس طرح وہ اپنے آپ کو مایوسی سے بچانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مایوسی ایک غیر فطری چیز ہے، وہ کوئی فطری چیز نہیں۔
مثلاً بیماری بظاہر ایک انسان کے لیے غیر مطلوب چیز ہے۔ لیکن اگر ربانی ذہن ہو تو جسمانی بیماری آدمی کے لیے روحانی صحت کا ذریعہ بن جائے گی۔اس دنیا میںاصل اہمیت ذہنی بیداری کی ہے۔ بیدارذہن ہی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ واقعات سے سبق لے، اور ذہن کو بیدار کرنے والی سب سے بڑی چیز اس دنیا میںصرف ایک ہے، اور وہ مشکل حالات ہیں۔
زندگی کی اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیاہے:(ترجمہ) ُہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پیداوار کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو ۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں، اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں، اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔ (2:155-157)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔