← Al-Risala May 2020Al-Risala May 2020
ایک خط
Urdu · 4 min read
برادر محترم جناب فاروق مضطر صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ
فون کے ذریعہ مفتی ریاض احمد ڈار(پیدائش 1982) سے معلوم ہوا کہ آپ کے والد عبد العزیز وانی صاحب کا تقریباً 110 سال کی عمر میں 8فروری 2020 کو انتقال ہوگیا۔ إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے ،اور پس ماندگان کے لیے حُسنِ تلافی کا سامان فرمائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مفتی ریاض احمد ڈار سے میرے ساتھی نے پوچھا کہ مرحوم کی کوئی خاص بات بتائیں تو انھوں نے کہا کہ مرحوم خطہ پیر پنچال ( جموں)کے بہت ہی فعال ٹیچر تھے۔ تعلیمی میدان میں انھوں نے کافی خدمات انجام دی ہیں— تعلیم و تعلم کا میدان بلاشبہ بہت ہی عمدہ میدان ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مرحوم بلا شبہ ایک مخلص انسان تھے۔ مرحوم مثبت ذہن کے حامل تھے، اور تعمیری و اصلاحی مزاج رکھتے تھے۔ ہمالین ایجوکیشن مشن (راجوری، جموں)کے تحت جاری تعلیمی، ثقافتی ، سماجی تعمیر ، وغیرہ مثبت سرگرمیاں ان کی یادگار ہیں ۔وہ راجوری ہمالین ایجوکیشن مشن کےسر پرستِ اعلیٰ تھے۔ اس مناسبت سے میری ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں ۔ مثلاً 1978 اور 1979 کی ملاقات۔ ان کی سرپرستی میں ہمالین برادری (جس میں ان کے عزیز واقارب اور بہت سے دوسرے رفقا شامل ہیں) نے الرسالہ دعوہ مشن کو پھیلانے میں بہت زیادہ کام کیا۔ اِس معاملے میں ہمالین ایجوکیشن برادری کی جدوجہد بےمثال ہے۔
جب میں یہ سب باتیں سوچ رہا تھا تو مجھے یاد آیا کہ زندگی میں بار بار ناخوش گوار واقعات پیش آتے ہیں۔ مثلاً بیماری، حادثہ ، بڑھاپا اور موت، وغیرہ۔ اس قسم کی باتیں زندگی کا لازمی حصہ ہیں، وہ زندگی سے کبھی جدا نہیں ہوتیں۔میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے۔ اس میں خدا کی کون سی مصلحت کام کررہی ہے۔ غور کرنے کے بعد سمجھ میں آیا کہ یہ خدا کی ایک رحمت (blessing) ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ خالق کے پیدا کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ خالق ہر انسان کو مختلف قسم کی صلاحیتیں دے کر دنیا میں بھیجتا ہے۔تاکہ وہ اپنا مطلوب رول اعلیٰ درجے میں ادا کرسکے۔ ہر انسان پر لازماً موت آتی ہے۔ موت کے بعد ہر انسان اپنے خالق کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔ہر عورت اور مرد کو اسی سوچ کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو اپنے بارے میں یہ دریافت کرنا ہے کہ وہ کون سا رول ادا کرنے کے لیے اس دنیا میں بھیجا گیا ہے، اور کیا وہ اس رول کو دنیا میں ادا کررہا ہے یا نہیں۔ یہی ہر انسان کا امتحان ہے۔ جو اس امتحان میں پورا اترے، وہ کامیاب ہے، اور جو اس امتحان میں پورا نہ اترے، وہ ناکام ہے۔
پھر مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185) ۔ یعنی ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ذائقہ سے مراد موت کا تجربہ ہے ۔ موت کا تجربہ ہرآدمی کے لیے ایک سبق ہے۔ اس دنیا کے لیے صرف بقدرِ ضرورت حاصل کرو، اور ساری کوشش اُس دنیا کی تعمیر کے لیے کرو، جہاں تم کو ہمیشہ کے لیے رہنا ہے۔ موت کی یاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے عمل کا محرک (incentive) ختم ہوجاتا ہے۔ جو لوگ صرف قبل از موت زندگی کو مانتے ہوں، ان کے لیے یہ بات درست ہوسکتی ہے، لیکن جو لوگ اس حقیقت کو مانیں کہ موت کے بعد بھی زندگی ہے، اور وہ ابدی زندگی ہے، ان کے لیے عمل کا محرک بڑھ جاتا ہے، اتنا زیادہ کہ کسی اور چیز سے اتنا زیادہ بڑھنے والا نہیں۔ اگر آدمی اس حقیقت کو دریافت کرلے کہ موت کے بعد انسان کی ابدی زندگی شروع ہوتی ہےتو وہ یقینا ًچاہے گا کہ وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی کو کامیاب بنائے، اور یہ ماننا بلاشبہ عمل کے محرک کو بے شمار گنا زیادہ کردیتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ میری دعا ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ مرحوم کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آپ کے گھر میں ان کے جانے سے جو کمی واقع ہوئی ہے، خدا اس کی بھرپور تلافی فرمائے۔ آمین
نئی دہلی 13 فروری 2020 دعا گو