شرعی احکام میں ایک اصول وہ ہے، جس کورخصت (concession) کا اصول کہا جاتا ہے، یعنی کسی حکم کی تعمیل میں تخفیف کردینا۔ یہ اصول شریعت کے تمام احکام میں ہیں۔رخصت کا لفظی مطلب ہے نرمی اور سہولت۔ جب کوئی شرعی عذر واقع ہوتو اس وقت رخصت پر عمل کرناچاہیے۔مثلاً اگر کسی آدمی کے لیےپانی کے استعمال سے بیماری کا ڈر ہو تواس وقت پانی سے وضو کرکے نماز پڑھنے کے بجائے تیمم کرکے نماز پڑھنا، وغیرہ۔
آسانی کا یہ اصول صرف مریض کے لیے نہیں ہے، بلکہ زیادہ عمر والوں کے لیے بھی ہے۔ تخفیف (convenience)کا یہ اصول صرف رعایت کے طور پر نہیں ہے، بلکہ اس کی ایک اہم مصلحت ہے، اور وہ مصلحت ہے- زیادہ عمر والوں کو یہ موقع دینا کہ وہ عمر کے اعتبار سے معذور ہونے کے باوجود زیادہ مدت تک لوگوں کے لیے مفید بنے رہیں۔
زیادہ عمر کا مطلب پختگی (maturity) ہے، اس کا مطلب ناکارگی نہیں ہے۔ زیادہ عمر والا آدمی جسمانی اعتبار سے بلاشبہ کمزور ہوجاتاہے، لیکن فہم و فراست کے اعتبار سے وہ دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے۔اس میں استثنا صرف اس وقت ہوتا ہے، جب کہ بڑھاپے کے ساتھ بیماری کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہو۔ ایک انسان جب پختگی کی عمر تک پہنچتا ہےتو وہ زیادہ تجربے والا بن جاتا ہے۔ اب اس کی سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
مثلا ًایک مقرر اگر بوڑھا ہوجائے تو وہ کھڑے ہوکر بولنے سے معذور ہوسکتا ہے، لیکن وہ بدستور بیٹھ کر بول سکتا ہے۔ حتی کہ عبادت کے معاملے میں ایسا ہوسکتا ہے کہ بوڑھا آدمی ارکان کی ادائیگی میں رخصت پر عمل کرے، لیکن روحِ عبادت کے معاملے میں وہ دوسروں سے زیادہ بامعنی عبادت کرے۔ کسی کام کی ادائیگی میں وہ زیادہ پلاننگ کے ساتھ کسی کام کو انجام دے ۔ اسی طرح یہ ممکن ہے کہ بوڑھے آدمی کے پاس دوسروں کو بتانے کے لیے زیادہ معنی خیز باتیں ہوں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.