Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2020
Al-Risala May 2020

بڑھاپے کا پلس پوائنٹ

Urdu · 2 min read

ایک بار میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کولمبو گیا۔ وہاں ہوٹل کے گراؤنڈ فلور پر کھلی جگہ تھی، جہاں لوگ بیٹھا کرتے تھے۔ میں بھی وہاں بیٹھتا تھا۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ ہوٹل کے اسٹاف کا ایک نوجوان آدمی میرے پاس آیا، اور بہت دیر تک میرے پاس بیٹھا رہا۔ اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ البتہ وہ برابر مجھ کو دیکھتا رہا۔ آخر میں اس نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر مجھے اپنے دادا جی یاد آتے ہیں۔ کیوں کہ میرے داد ا بھی دیکھنے میں آپ ہی جیسے تھے۔

زیادہ عمر ہونے کے بعد مجھے بار بار اس طرح کے تجربات ہوئے ہیں۔ جب آدمی کی عمر زیادہ ہوتی ہے، اس کے بال سفید ہوجاتے ہیں، اور اس کا حلیہ بزرگ آدمی کا حلیہ بن جاتا ہےتو اس کے اندر لوگوں کے لیے ایک خاص اہمیت پیدا ہوجاتی ہے۔ زیادہ عمر کے آدمی کا مطلب ہے بزرگ (senior)آدمی۔ بزرگ آدمی کا مطلب ہے زیادہ تجربہ کار آدمی، بزرگ آدمی کا مطلب ہے زیادہ ہمدرد آدمی، بزرگ آدمی کا مطلب ہے زیادہ باخبر آدمی۔ یہ چیز بزرگ آدمی کو لوگوں کی نظروں میں زیادہ قابلِ توجہ آدمی بنا دیتی ہے۔

زیادہ عمر کا آدمی سماج کے لیے زیادہ کار آمد آدمی ہوتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ لوگوںکی نظر وں میں ایک مشفق آدمی بن جائے۔ وہ سخت کلامی کو بالکل چھوڑ دے۔ وہ صرف یہ کرے کہ وہ نرمی کے انداز میں کوئی نصیحت کی بات کہہ دے، وہ لوگوں کے سروں پر ہاتھ رکھے، وہ ان کے لیے دعا کے الفاظ بولے۔زیادہ عمر کا آدمی سماج کے لیے ایک سرمایہ (asset) ہے۔ بشرطیکہ زیادہ عمر کا آدمی اپنے اس پہلو کو جانے، اور اس کوسمجھداری کے ساتھ استعمال کرے۔

زیادہ عمر کا آدمی پورے سماج کا ایک بزرگ ممبر (senior member) ہوتا ہے، گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی۔ بزرگ آدمی کو چاہیے کہ وہ محبت کے ساتھ دوسروں کو اپنی زندگی کے تجربات بتائے۔ وہ اپنی پختگی (maturity) کو اگلی نسلوں تک منتقل کرے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.